Baaghi TV

Tag: محترمہ فاطمہ جناحؒ

  • آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی منائی جا رہی ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی منائی جا رہی ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی منائی جا رہی ہے-

    مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کی قومی، سیاسی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاطمہ جناح کی جدوجہد اور قیادت ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہے گی ، قوم ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے۔

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح پاکستان کی تاریخ کے نازک اور فیصلہ کن ادوار میں استقامت کی علامت بن کر سامنے آئیں انہوں نے اپنے دور کی سماجی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے برصغیر کی خواتین کو تحریکِ آزادی میں متحرک کیا اور انہیں ایک مؤثر قومی قوت میں تبدیل کیا-

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری قوم مادرِ ملت کی برسی پر ان کی قومی و سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ محترمہ فاطمہ جناح کی انتھک جدوجہد، بے خوف کردار اور مثالی جذبہ تحریکِ پاکستان کا قابلِ فخر باب ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مادرِ ملت نوجوان نسل، بالخصوص خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے ثابت کیا کہ خواتین ہر قومی مقصد میں مؤثر اور تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں،قیامِ پاکستان کے بعد بھی فاطمہ جناح ملک کی سماجی و سیاسی ترقی، قومی یکجہتی اور مثبت اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم رہیں۔

  • محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    بانی پاکستان کی ہمشیرہ و مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہےتاہم اس حوالے سےملک بھر میں مختلف سیاسی و سما جی تنظیموں کے زیراہتمام تقاریب کا ناعقاد کیا جا رہا ہے جن میں مادرملت کی زندگی، ملک وملت کیلیے عظیم خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ 30جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم محمد علی جناح کے بہن بھائیوں میں ان کے سب سے زیادہ قریب تھیں 1919 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے انہوں نے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی میں باقاعدہ پریکٹس کی ان کی شادی 1918 میں ہوئی تھی۔ لیکن جب 1929 میں ان کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنا نجی کلینک بند کرکے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں۔

    بھائی محمد علی جناح کے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی محمدعلی جناح کیساتھ ملکر آزادی تحریک میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح آزاد وطن کے حصول کیلئے پیش پیش رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران نہ صرف مسلم خواتین کی رہنمائی کی بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی بھرپور اخلاقی مدد کرتے ہوئے نئے وطن کے حصول کے مشن میں‌ عملی طور پر ان کے ساتھ رہیں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کر کے حصول پاکستان کی منزل کو آسان بنایا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ رہ کر ان کا حوصلہ بڑھاتیں اور سیاسی معاملات میں انھیں قابل عمل مشورے دیتیں۔ ان کی ذات میں بھی وہی اصول اور قائدانہ صلاحیت تھی جو قدرت نے ان کے بھائی کو ودیعت کر رکھی تھی-

    انھوں نے 1965 میں متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے منصب صدارت کیلیے ایوب خان کا مقابلہ کیا لیکن کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں، محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 کو انتقال کر گئیں۔

  • مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا یوم وفات

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا یوم وفات

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی 54 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ 30جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم محمد علی جناح کے بہن بھائیوں میں ان کے سب سے زیادہ قریب تھیں 1919 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے انہوں نے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی میں باقاعدہ پریکٹس کی ان کی شادی 1918 میں ہوئی تھی۔ لیکن جب 1929 میں ان کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنا نجی کلینک بند کرکے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں۔

    بھائی محمد علی جناح کے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی محمدعلی جناح کیساتھ ملکر آزادی تحریک میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح آزاد وطن کے حصول کیلئے پیش پیش رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران نہ صرف مسلم خواتین کی رہنمائی کی بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی بھرپور اخلاقی مدد کرتے ہوئے نئے وطن کے حصول کے مشن میں‌ عملی طور پر ان کے ساتھ رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کر کے حصول پاکستان کی منزل کو آسان بنایا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ رہ کر ان کا حوصلہ بڑھاتیں اور سیاسی معاملات میں انھیں قابل عمل مشورے دیتیں۔ ان کی ذات میں بھی وہی اصول اور قائدانہ صلاحیت تھی جو قدرت نے ان کے بھائی کو ودیعت کر رکھی تھی-

    پاکستان بننے کے بعد بھی اپنے بھائی کی طرح محترمہ میدان عمل میں متحرک رہیں۔ قائداعظم کی وفات کے بعد قوم کو مایوسی کی کیفیت نے گھیرا تو آپ نے اہل وطن کی رہنمائی کی۔ قوم کو دوبارہ سے قائد کا پیغام یاد کروایا اور اپنی تقاریر سے ان میں نئی روح پھونک دی۔ بانی پاکستان کے انتقال کے بعد فاطمہ جناح، عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں، مگر 1964 میں جب جمہوریت کے بجائے ملک میں آمریت کی جڑیں پھیلنے لگیں تو وہ ایک مرتبہ پھر عملی طور پر میدان میں اتر آئیں۔

    جنرل ایوب خان نے جب 1965 میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو فاطمہ جناح کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کیا آپ نے 1964 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، 9 جولائی 1967 کو 73 برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئیں، وصیت کے مطابق آ پ کو بھائی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پہلو میں دفن کیا گیا-