Baaghi TV

Tag: محسن بیگ

  • فیض  حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے پروگرام کھرا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔

    365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن بیگ کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایم آئی کے ایک افسر کو بھیجا اور میں نے معیز خان کے بھائی سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ معیز خان نے کوئی جرم کیا تھا تو اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ اسلام آباد پولیس معیز خان پر کیے جانے والے تشدد کی وجہ سے اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید چاہتے تھے کہ معیز اپنے بھائی کے نام پر ٹاپ سٹی کے شیئرز پر دستخط کرے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی ٹیم معیز کے گھر کے سی سی ٹی وی اپنے ساتھ لے گئی لیکن وہ فوٹیج پہلے ہی بیک اپ کمپیوٹرز میں محفوظ ہو چکی تھی جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس غلطی نے انہیں بے نقاب کر دیا،

    میں نے ڈیڑھ برس قبل فیض حمید کے احتساب کا مطالبہ کیا تو لوگ کہتے تھے ایسا نہیں ہوتا، مبشر لقمان
    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پروگرام کھراسچ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فیض حمید اور انکے حواریوں کے حوالہ سے اہم پیشرفت ہو رہی ہے،لوگوں نے اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائی ہوئی ہیں کسی کو یقین نہیں آ ریا، ڈیڑھ برس قبل جب پروگرام کھرا سچ میں میں نے مطالبہ کیا تھا کہ فیض حمید کا احتساب ہونا چاہئے تو لوگ کہتے تھے جنونی ہے، ایسا نہیں ہوتا،لیکن قانون سب سے بڑا ہوتا ہے، قانون اور آئین افضل ہوتے ہیں، جب کوئی ماورائے آئین کام کرے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کے بے شمار کارنامے ہیں، کیا کیا بتائیں،انکا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے.

    پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے خاتون صحافی و اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ فوج میں ادارے کے اندر خود احتسابی کے معاملات چلتے رہتے ہیں، فیض حمید پچھلے کچھ سالوں میں 2014 سے لے کر اب تک اتنا گونجتا رہا ہے کہ جو پتھر اٹھائیں اس کا نام نکلتا رہا، شوکت صدیقی کی طرف سے بھی الزامات لگائے جاتے رہے، ن لیگ کی جانب سے الزامات لگائے جاتے رہے، فیض حمید کے دور میں کیا کچھ ہو رہا تھا سب سامنے آ رہا تھا، ٹاپ سٹی کا معاملہ سامنے آیاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کاروائی ہو گی مدعی کو عدالتوں کی جانب سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ فورم پر جائیں،

    جنرل باجوہ کو جنرل فیض کی سرگرمیوں کا بتایا تو۔۔مبشر لقمان نے آرمی آڈیٹوریم کی کہانی بتا دی
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر پاک فوج نے عمل کیا،اس کیس میں سپریم کورٹ کی بڑی کلیئر ہدایات ہیں جو وہ فالو کر رہے ہیں،اطہر کاظمی نے کہا کہ وزیر دفاع ٹی وی پر بتارہے ہیں کہ فیض حمید ہمیں حکومت آفر کرتے رہے، وہ کس کیسپٹی میں کرتے رہے اس پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے، دوران سروس فیض حمید پر بہت سے الزامات لگے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے خود الزام لگائے فیض حمید جب حاضر سروس تھے، اینکر موجود تھے، ارشد شریف مرحوم بھی موجود تھے،حامدمیر،کاشف عباسی،ندیم ملک موجود تھے، جب جنرل باجوہ نے بات کی تو میں نے کہا کہ عمران خان بات نہیں سنتا تو آپ ہماری بات نہیں سنتے، فیض حمید کو نہیں بدلتے، یہ بات آرمی آڈیٹوریم میں ہوئی، سب کے سامنے ہوئی،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • چیئرمین پی ٹی آئی اور محسن بیگ دونوں کی وکالت کررہا ہوں ،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی اور محسن بیگ دونوں کی وکالت کررہا ہوں ،لطیف کھوسہ

    سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر چیز آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میں چیئرمین پی ٹی آئی اور محسن بیگ دونوں کی وکالت کررہا ہوں جس کے ساتھ ظلم ہو گا میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں گا ،میں پاکستان کا وکیل ہوں کسی سیاسی جماعت کا وکیل نہیں، میں نواز شریف کا بھی وکیل رہا ہوں ,بطور وکیل ہمیشہ مظلوم کےساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔المیہ یہ ہے ہر کوئی کوئی جمہوریت کی بات کرتا ہے۔ آئین کے مطابق ریاست عوام ہے آرٹیکل پانچ کے مطابق وفادار عوام کی اور تابداری آئین کی ہے میں آج بھی پیپلزپارٹی کا حصہ ہوں۔ مجھے کس نے پارٹی سے نکالا؟ جس نے بھی ملکی دولت لوٹی ہے۔ اسکو حساب دینا چاہیے۔ایسے قوانین جو مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بن رہے ہیں۔یہ قوانین نہ ملک کے مفاد میں ہیں۔ نہ عوام کے مفاد میں ہیں

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں نواز شریف کو سزا دینے سے متعلق حامد خان کے دعویٰ سے اتفاق نہیں کرتا، یہ جامع کیس تھا،ارشد شریف کی اس پر بہت ریسرچ تھی، ہماری نظر میں یہ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    اسلام آباد:ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے،اطلاعات کےمطابق معروف صحافی محس بیگ نے اپنے ٹویٹرپیج پرٹویٹ کی ہیں اور ساتھ ہی کہا ہے کہ اس کے پیچھے پی ٹی آئی کے سرگرم کارکنان ملوث ہیں‌

    محسن بیگ کہتےہیں کہ فارن فنڈڈ پارٹی کی ملک اور فوج دشمنی بھی واضح ہوگئی لسبیلا ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف سرگرمِ بھی تحریک انصاف کے یوتھیے نکلے جنھیں اداروں نے گرفتار بھی کرلیا ان کا اعتراف خود اس وڈیو میں دیکھ لیں

    محسن بیگ نے اپنے ٹویٹر پیج سے ٹویٹ کرتے ہوئے کچھ ثبوت بھی شیئر کیے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ ہےکہ یہ پی ٹی آئی کے سرگرم کارکنان تھے ، محسن بیگ کہتےہیں‌کہ لسبیلا ہیلی کاپٹرحادثے کے حوالے سے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کرنے والے پی تی آئی کے کارکنان تھے ، جس کے خلاف موثر کارروائی ہونی چاہیے

    جس منیب نامی نوجوان نے یہ پوسٹ کرنے کی غلطی تسلیم کی ہے اس نے ویڈیو پیغام دیتے ہوئے کہا ہےکہ وہ بعض سوشل میڈیا ایکٹویسٹ سے متاثر ہوگیا تھا اورپھربغیر تحقیق کے منفی پوسٹ کردی جس سے ادارے کو بھی دُکھ پہنچا ہے اور شہدا کے ورثا کو بھی وہ اپنے اس رویے کی معذرت کرتے ہیں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کروں گا، اس لڑکے کے باپ نے بھی اپنی سستی تسلیم کی ہے اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی اس قسم کی منفی حرکات کو مانیٹر نہ کرسکا جس کیوجہ سے آج یہ شرمندگی اٹھانی پڑی

    یاد رہے کہ ایک طرف قوم اپنے محسنوں کو خراج تحسین پیش کررہی ہے تو دوسری طرف شرپسند عناصرپاک فوج کے شہدا کے بارے میں پراپیگنڈہ کررہے ہیں ، اس پراپییگنڈہ پر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے پاک فوج کی طرف سے اپنے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک وملت کواپنےشہدا پرفخرہے،شرپسند عناصرگمراہی پھیلانےسےبازرہیں:ترجمان پاک فوج نے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کرنے والوں کو وارننگ دے دی ،

    اطلاعات کےمطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے سوشل میڈیا پیجز پر پاک فوج کےشہدا کے بارے میں گمراہ کن پراپیگنڈہ کرنے والوں کو احساس ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا ہےکہ ہمیشہ سےملک وقوم کو اپنے شہدا پرفخررہا ہے اور یہ شہدا قوم کے احیا کی ضمانت ہوتے ہیں ، پاک فوج کے شہدا کی ایک طویل فہرست ہے ، پاک فوج کے جوانوں اور شاہینوں نے اپنی جانیں نچھاور کرتے ہوئےاس ملک کی سرحد کی حفاظت کی ،

    پاک فوج کے ان شہدا نے دہشت گردوں اور ملک وقوم کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا،

    پاک فوج کے ترجمان ادارے کی طرف سے توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چند دن قبل یعنی یکم اگست کو پاک فوج کے اعلیٰ افسران سیلاب متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے بلوچستان کے دوردراز علاقوں تک پہنچتےرہے ، اس اثنا میں بدقسمتی سے ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے افسران شہید ہوگئے،اس قومی سانحے پر پوری قوم گہرے غم میں مبتلاہے مگرسوشل میڈیا پرپاک فوج کے ان شہدا کے بارے میں پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے ،

     

    یہ پر اپیگنڈہ مہم شہدا کے خاندانوں اور مسلح افواج کے رینک اینڈ فائل میں گہرے غم اور پریشانی کا باعث بنی ہے۔ جبکہ پوری قوم اس مشکل وقت میں ادارے کے ساتھ کھڑی ہے، بعض بے حس حلقوں نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور تضحیک آمیز تبصروں کا سہارا لیا جو ناقابل قبول اور انتہائی قابل مذمت ہے۔

  • محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج

    محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج

    اے ٹی سی اسلام آباد، صحافی محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج کر دی گئیں

    انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد کے جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس سیشن عدالت کو منتقل کر دیا ،محسن بیگ کی جانب سے لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ دہشت گری کا کیس نہیں بنتا نہ ہی دہشت گری دفعات لگتی ہیں ،اے ٹی سی اسلام آباد نے ملزمان کو 24 جون کو سیشن جج کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دنوں میں محسن بیگ کے گھر میں سول کپڑوں میں چھاپہ مارا گیا تھا ، محسن بیگ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور تھانے میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا بعد ازاں محسن بیگ پر ہی دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، آج عدالت نے محسن بیگ کیس سے دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی ہیں

    محسن بیگ کی گرفتاری کے بعد پولیس نے محسن بیگ کے گھر پر بعد میں بھی چھاپے مارے تھے، حکومتی وزرا نے محسن بیگ کو ایک دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد سمیت ملک بھر کی صحافی برادری محسن بیگ کے ساتھ کھڑی رہی اور حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا،

    محسن بیگ کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا،گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے اور تشدد کی فریش انکوائری کا حکم دیا تھا

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

  • محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے اورتشدد پر دوبارہ انکوائری کا حکم

    محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے اورتشدد پر دوبارہ انکوائری کا حکم

    محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے اورتشدد پر دوبارہ انکوائری کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے اور تشدد کی فریش انکوائری کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایک ماہ میں انکوائری کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تھانے کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، پتہ نہیں عام لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے، وہ تو عدالت نہیں آ سکتے،آپ کو یہ اندازہ ہے کہ آپ کے پاس کیا اختیار ہے؟ آپ کسی بھی جرم میں گرفتاری کر سکتے ہیں، یہ اختیار شہریوں کی حفاظت کے لیے دیا گیا ہے،ایف آئی اے نے تو پرچہ نہیں کیا تھا، کون لوگ تھے جو تھانے میں گئے؟ پولیس کی کسٹڈی میں ملزم سے ایف آئی اے کو تفتیش کی اجازت کیسے دی؟پولیس کسٹڈی میں مبینہ تشدد بھی کیا گیا،جس ایس ایچ او نے یہ کام کیا اسے تو سروس میں نہیں ہونا چاہیے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی رپورٹ میں اس سے متعلق کیا لکھا ہے؟کیا یہ کورٹ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرے؟اگر ملزم نے کوئی غلطی کی تھی تو کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے تھی، اس صورت میں بھی اختیار کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    واضح رہےکہ محسن بیگ کو پولیس نے گھر سے گرفتار کیا تھا محسن بیگ کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا، محسن بیگ کیخلاف درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں بعد ازاں گرفتاری کے بعد ناجائز اسلحہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا،محسن بیگ کی عدالت نےضمانت منظور کر لی تھی جس کے بعد محسن بیگ کو رہا کر دیا گیا تھا

    محسن بیگ کو جب گھر سے اٹھایا گیا تھا اسکے بعد ان پر تھانے کے اندر بہیمانہ تشدد کیا تھا، گرفتاری کے بعد پولیس نے محسن بیگ کے گھر پر بعد میں بھی چھاپے مارے تھے، حکومتی وزرا نے محسن بیگ کو ایک دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد سمیت ملک بھر کی صحافی برادری محسن بیگ کے ساتھ کھڑی رہی اور حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا،

  • محسن بیگ نے میری ساکھ کو نقصان پہنچایا مراد سعید عدالت پہنچ گئے

    محسن بیگ نے میری ساکھ کو نقصان پہنچایا مراد سعید عدالت پہنچ گئے

    محسن بیگ نے میری ساکھ کو نقصان پہنچایا مراد سعید عدالت پہنچ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محسن بیگ نے میری ساکھ کو نقصان پہنچایا مراد سعید ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے محسن بیگ کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کوٹ اپیل دائر کی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق مراسد سعید نے صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ کے خلاف سائبر کرائم ونگ میں اخراج مقدمہ کا سنگل بینچ کا فیصلہ چیلنج کیا ہے

    مراد سعید نے سنگل بینچ کے 8 اپریل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ میں اپیل دائرکی ہے جس میں مراد سعید کی جانب سے محسن بیگ اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں وکیل کے توسط سے کہا گیا ہے کہ محسن بیگ کے ریمارکس نے مراد سعید کی ساکھ کو نقصان پہنچایا سنگل رکنی بینچ نے اخراج مقدمہ کا حکم دیا سنگل رکنی بینچ نے مراد سعید کو نوٹس جاری کرکے موقف بھی نہیں سنا سنگل رکنی بینچ نے سنے بغیر ایف آئی آر خارج کی آٹھ اپریل کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے

    واضح رہے کہ محسن بیگ کو گھر سے گرفتار کیا گیا تھا تا ہم بعد میں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا، رہائی کے بعد محسن بیگ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان بدید نہیں کم ظرف ہے، دوستی کے رشتے میں کم ظرفی نہیں ہوتی، کسی سے ناراض ہو جائیں تو خواتین اور بچوں تک نہیں جاتے، مجھے تو اس شخص کو دوست کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جس کے ساتھ بھی اسکی دوستی تھی اس سب کے خاندان پر پرچہ کٹوایا، علیم خان، جہانگیر ترین، میں بچا ہوا تھا میرے بیٹے کو بھی اس کیس میں ڈال دیا، میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس طرح یہ کر سکتا ہے، کورٹ نے ثابت کر دیا کہ نہ وارنٹ تھا نہ ایف آئی آر درج تھی، یہ مسنگ پرسن بنا کر مجھے اٹھانا چاہتے تھے، بعد میں جو کیس انہوں نے بنایا اس میں دو گھنٹوں میں ضمانت ہونی تھی، سولین کپڑوں میں یہ میرے گھر میں آئے، اسلحہ کا لائسنس مجھے ریاست پاکستان نے دیا، لائسنس اور ہتھیار گھر خاندان کے دفاع کے لئے ہے، میں نے کسی سرکاری دفتر جا کر فائرنگ نہیں کی، کئی صحافی زخمی ہوئے، فوت ہوئے ،کئی مسنگ ہیں، میں فیملی گھر کا دفاع کروں گا

    محسن بیگ کا مزید کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے کوئی ذاتی ایشو نہیں، ہم سپورٹ کر رہے تھے، ایک نظریے پر ساتھ تھے، میں نے ڈھائی برس پہلے انکو ایک میسج کیا اور پھر نمبر بلاک کر دیا، اسکے بعد نمبر نہیں کھولا، نیا نمبر بھی بعد میں مجھے بھیجا میں نے وہ بھی بلاک کر دیا، میرا ذاتی ایشو آج بھی کوئی نہیں لیکن جن نظریات پر کھڑے تھے وہ کہاں ہیں،میں نے کوئی لڑائی نہیں کی، نمبر بلاک کیا اور سائڈ پر ہو گیا، میں انکا ذاتی ملازم نہیں ، انہوں نے ہمارا مال کھایا،ہم نے انکا نہیں کھایا،

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

  • محسن بیگ کے گھر چھاپے اور پولیس اسٹیشن میں تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم

    محسن بیگ کے گھر چھاپے اور پولیس اسٹیشن میں تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم

    محسن بیگ کے گھر چھاپے اور پولیس اسٹیشن میں تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم

    سینئر صحافی محسن بیگ کے گھر غیر قانونی چھاپہ مارنے پر ایف آئی اہلکاروں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے محسن بیگ کے گھر چھاپے اور پولیس ا سٹیشن میں تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا،ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے روکنے کے حکم میں دو ہفتے کی توسیع کر دی گئی ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ یہ کیس وزیراعظم اور مراد سعید سے شروع ہوا،

    محسن بیگ کو گھر سے گرفتار کیا گیا تھا تا ہم بعد میں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا، رہائی کے بعد محسن بیگ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان بدید نہیں کم ظرف ہے، دوستی کے رشتے میں کم ظرفی نہیں ہوتی، کسی سے ناراض ہو جائیں تو خواتین اور بچوں تک نہیں جاتے، مجھے تو اس شخص کو دوست کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جس کے ساتھ بھی اسکی دوستی تھی اس سب کے خاندان پر پرچہ کٹوایا، علیم خان، جہانگیر ترین، میں بچا ہوا تھا میرے بیٹے کو بھی اس کیس میں ڈال دیا، میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس طرح یہ کر سکتا ہے، کورٹ نے ثابت کر دیا کہ نہ وارنٹ تھا نہ ایف آئی آر درج تھی، یہ مسنگ پرسن بنا کر مجھے اٹھانا چاہتے تھے، بعد میں جو کیس انہوں نے بنایا اس میں دو گھنٹوں میں ضمانت ہونی تھی، سولین کپڑوں میں یہ میرے گھر میں آئے، اسلحہ کا لائسنس مجھے ریاست پاکستان نے دیا، لائسنس اور ہتھیار گھر خاندان کے دفاع کے لئے ہے، میں نے کسی سرکاری دفتر جا کر فائرنگ نہیں کی، کئی صحافی زخمی ہوئے، فوت ہوئے ،کئی مسنگ ہیں، میں فیملی گھر کا دفاع کروں گا

    محسن بیگ کا مزید کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے کوئی ذاتی ایشو نہیں، ہم سپورٹ کر رہے تھے، ایک نظریے پر ساتھ تھے، میں نے ڈھائی برس پہلے انکو ایک میسج کیا اور پھر نمبر بلاک کر دیا، اسکے بعد نمبر نہیں کھولا، نیا نمبر بھی بعد میں مجھے بھیجا میں نے وہ بھی بلاک کر دیا، میرا ذاتی ایشو آج بھی کوئی نہیں لیکن جن نظریات پر کھڑے تھے وہ کہاں ہیں،میں نے کوئی لڑائی نہیں کی، نمبر بلاک کیا اور سائڈ پر ہو گیا، میں انکا ذاتی ملازم نہیں ، انہوں نے ہمارا مال کھایا،ہم نے انکا نہیں کھایا،

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

  • خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،عدالت کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کس تاریخ کو یہ آرڈینس جاری ہوا ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ آرڈینس 18 فروری کو جاری ہوا آفیشل گزٹ میں 19 فروری کو آیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے کسی ہاؤس کے سامنے پیش کیا گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈیننس ابھی تک پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایگزیکٹو کا اختیار نہیں ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے سامنے نہ رکھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی ایک ٹائم لائن ہے اس دوران ہی رکھا جانا ہے، جب تک رولز موجود ہیں تو ایگزیکٹو نے انہیں کو اختیار کرنا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے سے یہ تاثر مل رہا ہے ایگزیکٹو کی بدنیتی شامل ہے،قومی اسمبلی یا سینیٹ کسی بھی وقت آرڈیننس کو مسترد کر سکتے ہیں،آئین پابند بناتا ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا،اگر آج آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوتا تو کیوں نہ عدالت ایگزیکٹو کی بدنیتی قرار دے،آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے، ایگزیکٹو یہ نہیں کر سکتی کہ جس ایوان میں اکثریت ہو وہاں پیش کر دیں ،اگر ایگزیکٹو نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی ہے تو اسکے نتائج کیا ہونگے، کیا ایگزیکٹو پارلیمنٹ کو آرڈیننس منظور یا مسترد کرنے کے اختیار سے روک سکتا ہے؟ آئین کہتا ہے آرڈیننس جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش ہو گا، پارلیمنٹ سپریم ہے وہ آرڈیننس کو مسترد کر سکتی ہے، اگر ایگزیکٹو جان بوجھ کر اپنے فرض کو پورا نہیں کر رہی تو اسکے نتائج کیا ہونگے،ایگزیکٹو کے پاس آئین کی خلاف ورزی کا کوئی اختیار نہیں ہے، اگر پارلیمنٹ کا کوئی بھی ایوان آرڈیننس کو مسترد نہیں کرتا تو پھر وہ بل کے طور پر پیش کیا جائے گا،ایگزیکٹو پارلیمنٹ کو آرڈیننس کا جائزہ لینے کے حق سے محروم رکھ رہی ہے،اگر پارلیمنٹ کا ایک ایوان آرڈیننس کو مسترد کر دیتا ہے تو وہ ختم ہو جائے گا،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت تو اس کیس کو پس پشت نہیں ڈال سکتی نا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے، کسی درخواست میں بھی پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کو چیلنج نہیں کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی درخواست موجود ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعات کو بھی چیلنج کیا گیا، سیکشن 20 میں گرفتاری کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے، کیوں نہ عدالت پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کو کالعدم قرار دے، اس عدالت نے کبھی نہیں کہا کہ کوئی تہمت لگائے لیکن اسکا الگ قانون موجود ہے، ایک صحافی نے کتاب کا حوالہ دیا جو پبلش ہو چکی، وہ غلط کیسے ہو گیا جو ایف آئی اے نے نوٹس بھیجا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے کہا کہ پیکا کا سیکشن 20 قابل ضمانت ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قابل ضمانت ہے تو پھر محسن بیگ کو کس طرح گرفتار کر رہے تھے، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہا کہ محسن بیگ کو اس مقدمہ میں گرفتار نہیں کیا گیا،عدالت نے کہاکہ محسن بیگ کو گرفتار کرنے گئے تھے اسی لئے وہ وقوعہ بنا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں مزید ناقابل ضمانت دفعات بھی موجود تھیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیگر جو دفعات لگائی گئی تھیں وہ بالکل درست نہیں تھیں،خود کو اور شکایت کنندہ (مراد سعید) کو شرمندہ نہ کریں،کیا شکایت کنندہ (مراد سعید) کی شکایت لاہور میں موصول ہوئی تھی؟ اگر درخواست موصول ہوئی تو کس سورس کے ذریعے ہوئی، کیا ٹی سی ایس سے ہوئی، کیا ایف آئی اے صرف حکومت کی خدمت کیلئے ہے؟ ایف آئی اے عوام کی خدمت کیلئے موجود ہے، جن درخواستوں پر ایف آئی اے نے کارروائی کی ان میں سے زیادہ تر پبلک آفس ہولڈرز کی ہیں،ایف آئی اے نے درخواستوں پر کارروئی صحافیوں، اختلاف رائے اور تنقیدی آوازیں دبانے کیلئے کی، ایف آئی اے نے اپنے اختیارات کا بہت غلط استعمال کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی اقدار بہت خراب ہو چکی ہیں، کیا سب کو جیل بھیج دیں معاشرے کی ان اقدار کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں، اگر کوئی سچی گواہی نہیں دیتا تو پراسیکیوٹر کو کسی کو بھی سزا دینے کی اجازت دے دی جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد کوئی اور حکومت آ جائے گی تو ایف آئی اے پھر بھی یہی کریگی؟ حکومت نے آرڈیننس میں سیکشن 20 ناقابل ضمانت بنا دیا ہے؟ ناقابل ضمانت بنایا گیا تاکہ اسکے مزید خطرناک نتائج سامنے آ سکیں؟ کیا نیچرل پرسن کی تعریف بھی تبدیل کر دی گئی ہے؟ آپ نے اداروں اور کمپنیوں کو بھی اس میں شامل کر دیا ہے، کل پی ٹی سی ایل پر کوئی تنقید کرتا ہے تو ایف آئی اے اس پر بھی کارروائی کریگی،کل کوئی ڈیفالٹر کمپنی شکایت کرتی ہے تو ایف آئی اے کارروائی کریگی،دنیا کی ایک مثال دے دیں جہاں اداروں کی ساکھ کا اس طرح تحفظ کیا جاتا ہو،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے،ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ایف آئی اے پر تنقید کرے تو ایف آئی اے خود ہی اسے گرفتار کر لے گا؟آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں، کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

  • محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ نے سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں شرکت کی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جسدن محسن بیگ کے ساتھ یہ ہوا اس دن ٹی وی پر بتا رہا تھا کہ کس طرح ہم بنی گالہ گئے تھے پہاڑیوں سے ہو کراور واپس آ کر میڈیا کو سب بتاتے تھے، عمران خان تو بے دید نکلا

    جس کے جواب میں محسن بیگ کا کہناتھا کہ عمران خان بدید نہیں کم ظرف ہے، دوستی کے رشتے میں کم ظرفی نہیں ہوتی، کسی سے ناراض ہو جائیں تو خواتین اور بچوں تک نہیں جاتے، مجھے تو اس شخص کو دوست کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جس کے ساتھ بھی اسکی دوستی تھی اس سب کے خاندان پر پرچہ کٹوایا، علیم خان، جہانگیر ترین، میں بچا ہوا تھا میرے بیٹے کو بھی اس کیس میں ڈال دیا، میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس طرح یہ کر سکتا ہے، کورٹ نے ثابت کر دیا کہ نہ وارنٹ تھا نہ ایف آئی آر درج تھی، یہ مسنگ پرسن بنا کر مجھے اٹھانا چاہتے تھے، بعد میں جو کیس انہوں نے بنایا اس میں دو گھنٹوں میں ضمانت ہونی تھی، سولین کپڑوں میں یہ میرے گھر میں آئے، اسلحہ کا لائسنس مجھے ریاست پاکستان نے دیا، لائسنس اور ہتھیار گھر خاندان کے دفاع کے لئے ہے، میں نے کسی سرکاری دفتر جا کر فائرنگ نہیں کی، کئی صحافی زخمی ہوئے، فوت ہوئے ،کئی مسنگ ہیں، میں فیملی گھر کا دفاع کروں گا

    محسن بیگ کا مزید کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے کوئی ذاتی ایشو نہیں، ہم سپورٹ کر رہے تھے، ایک نظریے پر ساتھ تھے، میں نے ڈھائی برس پہلے انکو ایک میسج کیا اور پھر نمبر بلاک کر دیا، اسکے بعد نمبر نہیں کھولا، نیا نمبر بھی بعد میں مجھے بھیجا میں نے وہ بھی بلاک کر دیا، میرا ذاتی ایشو آج بھی کوئی نہیں لیکن جن نظریات پر کھڑے تھے وہ کہاں ہیں،میں نے کوئی لڑائی نہیں کی، نمبر بلاک کیا اور سائڈ پر ہو گیا، میں انکا ذاتی ملازم نہیں ، انہوں نے ہمارا مال کھایا،ہم نے انکا نہیں کھایا،

    کھرا سچ میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہمیں نے عمران خان کا نمبر بلاک کرکے ڈیلیٹ کیا، تو دوبارہ انہوں نے نیا نمبر مجھے بھیجا تو وہ بھی میں نے بلاک کردیا،میں پہلے سویا ہوا تھا اب کوئی آئے میرے گھر کی طرف ایسا سبق سکھاوں گا 14 طبق روشن کردوں گا، وزیراعظم اپنی تقریر میں بتا چکے کہ انکو مراد سعید کی کارکردگی پر یقین نہیں،

    بلوچ رہنما اور دو روز قبل اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب زیادہ خوش نہ ہوں ق لیگ ابھی بھی اپوزیشن کا ساتھ دے گی،شہباز شریف اگلے وزیر اعظم ہوں گے یا نہیں یہ تو زرداری صاحب بہتر بتاسکتے ہیں،عمران خان کو وزیراعظم سیٹ سے ہٹا دیا جائے یہ اپوزیشن کی نہیں عوام کی خواہش ہے

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

  • محسن بیگ کو رہائی مبارک وزیراعظم ہاوس سے نیا کیس بنانے کی کوشش کا انکشاف:سلیم صافی

    محسن بیگ کو رہائی مبارک وزیراعظم ہاوس سے نیا کیس بنانے کی کوشش کا انکشاف:سلیم صافی

    اسلام آباد: محسن بیگ کو رہائی مبارک وزیراعظم ہاوس سے نیا کیس بنانے کی کوشش کا انکشاف:اطلاعات کے مطابق معروف صحافی سلیم صافی نے ایک بار پھرباتوں باتوں میں اپنے جزبات کا کھل کراظہار کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ محسن بیگ رہا ہوچکے ہیں مگراس کے باوجود محسن بیگ کے خلاف ابھی گھیرا تنگ ہے

    سلیم صافی کہتے ہیں کہ حکومت کے کسی دور میں بڑے حامی اپنے زیراحسان حکومت کے ہاتھوں زیرعتاب بننے والے نڈر صحافی محسن بیگ کو رہائی مبارک ہو ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل ضمانت ہوجانے بعد بھی وزیراعظم ہاوس سے براہ راست مداخلت ہوتی رہی کہ نیا کیس بنا کر انہیں اندر رکھا جائے لیکن الحمدللہ ہائی کورٹ کی برکت سے یہ عمرانی حربہ بھی ناکام ہوا۔

     

    سلیم صافی نے حسب روایت اپنے جارحانہ انداز میں حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان پرتنقید کے سخت تیر برسائے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ محسن بیگ کو عدالت نے رہا کردکھایا مگراب سُننے میں آرہا ہے کہ وزیراعظم محسن بیگ کے خلاف ابھی ٹھنڈے نہیں ہوئے بلکہ چاہتے ہیں کہ محسن بیگ ابھی بھی جیل میں رہے

    یاد رہے کہ سلیم صافی نے پچھلے دنوں محسن بیگ کی گرفتاری کے خلاف بھی آواز بلند کی تھی اور اس وقت بھی حکومت آڑے ہاتھوں لیا تھا اور اس سارے معاملے کا ذمہ دارحکومت کو ٹھہرایا گیا تھا اور اب پھرسلیم صافی کی طرف سے حکومت پر ہی شک کے تیر برسائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں حکومت محسن بیگ کو پھرکسی کیس میں گرفتار نہ کروا دے