وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔
محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ زیادہ موزوں رہے گا پا کستا ن پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں “پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، یہ اقدام عالمی سرمایہ کاروں خصوصاً چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی فرا ہم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ افراطِ زر جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے، حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ ماضی کی طرح ادائیگیوں کے توازن کے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔
بلومبرگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو چکا تھا تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی نے اعتماد بحال کیا ہے، معاشی ماہرین بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح اشارہ ہے جو ملک کے لیے مالی استحکام فراہم کرے گی، پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کو چین کی سرمایہ مارکیٹ سے براہِ راست رسائی دے گا جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا برآمدات پر مبنی ترقی طویل مدتی فوائد لائے گی، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
دوسری جانب ڈیووس میں سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری نے پاکستان کی طویل عرصے سے رکی ہوئی نجکاری کی مہم میں نئی روح پھونک دی ہے، کیونکہ مقامی سرمایہ کاروں کی نمایاں دلچسپی نے غیر ملکی شراکت داروں کی توجہ حاصل کرنے اور ملک کو سرمایہ کاری میں مد د دی ہے-
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے انہوں نے دونوں ممالک کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیا ان دونوں ممالک نے نجکاری پروگرام کو سراہا ہےپاکستان کا نجکاری پروگرام، جو تقریباً ایک دہائی سے بڑی حد تک غیر فعال پڑا تھا، اب دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا مشکل رہتا ہےپی آئی اے کی حالیہ نجکاری نے کئی اہم اہداف پورے کیے ہیں، کیونکہ دو بڑے مقامی کاروباری گروپس کی شرکت نے عالمی سرمایہ کاروں کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے۔
گزشتہ ماہ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی خریداری کے لیے کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا انہوں نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی جمع کرائی، جو حکومت کی ابتدائی کم از کم قیمت 100 ارب روپے اور اس بنیادی قیمت 115 ارب روپے سے کہیں زیادہ تھی جس پر نیلامی کا آغاز ہوا تھا۔
دریں اثنا محمد اورنگزیب نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے اس نئے اعتماد سے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کان کنی سمیت اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے اور آنے والے وقت میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہےہم مزید بہت سی سرمایہ کاری پاکستان آتے ہوئے دیکھیں گے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی کا محور پاکستان کے بڑے معاشی شعبوں میں موجودہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنا اور اس کے ساتھ ممکنہ نئے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کرنا ہےاس سلسلے میں وزیراعظم آئی ٹی ، مصنوعی ذہانت ، کان کنی اور دیگر ترجیحی شعبوں سے وابستہ عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ گول میز ملاقاتیں کریں گے، جس میں حکومت کی جانب سے تعاون اور ہر ممکن امداد کی فراہمی کا اشارہ دیا جائے گاماضی میں درپیش بہت سے ڈھانچہ جاتی چیلنجز کو بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے اور اب پاکستان زیادہ فیصلہ کن اور وسیع پیمانے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہےپاکستان کاروبار کے لیے تیار ہے۔