Baaghi TV

Tag: محمود فیاض

  • وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    میری بیٹی کتابی ہے، یعنی bookish knowledge پر انحصار کرتی ہے، ریڈنگ سے رغبت ہے، دو تین روز میں کتاب ختم کر دیتی ہے۔ جبکہ بیٹا visual اور auditory ہے، یعنی سمعی اور بصری آلات پر انحصار کرتا ہے، مشاہدہ بہت تیز ہے۔ کتاب سے اُسے چڑ ہے۔ وہ یوٹیوب چینل Zem TV کی ویڈیوز دیکھتا رہتا ہے، نیز فیصل وڑائچ کے تینوں یوٹیوب چینلز اور جانے کیا سے کیا۔

    اگر زیادہ آگاہی اور زیادہ علم کی بات کروں تو بیٹا سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم، بیٹی کی اپنی سی دنیا ہے جہاں معتبر اور زیادہ لطف آگیں ذریعہِ علم بہرحال ریڈنگ ہے۔

    اگر آپ ایک کمرہِ جماعت میں موجود 30 عدد بچوں کو بہ نظرِ غائر دیکھیں، اُن کا مزاج جاننا چاہیں تو بمشکل چھ سات بچے کتابی مزاج کے حامل ہوں گے۔دیگر بچے auditory learners اور visual learners ہوں گے، بعض kinesthetic learners ہوں گے جو متحرّک رہ کر عملاً کچھ پرفارم کرتے ہوئے سیکھتے ہیں۔

    بعض بچے ان تینوں اقسام کا مرکّب ہوں گے تو بعض سمعی و بصری یعنی دو قسموں کا مرکّب۔

    یہ تجزیہ کیا جانا بہت ضروری ہے کہ کس بچے کا لرننگ سٹائل کیا ہے۔

    لیکن مروّجہ نظامِ تعلیم اس بات کا اسکوپ نہیں رکھتا کہ ایک استاد ایسی تحقیق میں عملاً دلچسپی لے، اور بچوں کو اُن کے مزاج کے باوصف متعلقہ ذرائع علم تک رسائی کا موقع اور ایکسپوژر دے۔ اس موضوع پر تربیتی ورکشاپس میں بات تو کی جاتی ہے، مگر عملاً اس کا اسکوپ تقریباً ناپید ہے۔

    دیکھا جائے تو وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے۔ نئی نسل کا مزاج مختلف ہے، یہ پردہِ سکرین اور کِی بورڈ سے جڑا ہے۔ سکرین اور کِی بورڈ کا استعمال آکسیجن یا ہوا کی طرح ہر سُو محیط ہو چکا۔

    اِس تناظر میں نہ صرف یہ کہ علم کی ڈیجی ٹائیزیشن کا عمل بہت ضروری ہے، بلکہ تحریری امتحان والے ٹرینڈ کو کم کر دینا بھی ضروری ہے۔

    یعنی ایک طرف بیشتر نصابی مواد کوکتاب کے دامن سے کھینچ کر اُسے ویڈیوز شکل میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ کمرہِ جماعت میں ویڈیوز چلا کر وقفے وقفے سے بات چیت کرنے اور سوالات پوچھنے والا فارمیٹ اپنا جائے۔ دوسری طرف، بچے کے ہاں مقدارِ علم و ہنر کی جانچ کے پیمانے بھی اب بدل دئیے جائیں۔

    ایک اور اہم مسئلہ سائنسز اور میتھ سے متعلق غیرضروری مواد کی کانٹ چھانٹ کا ہے۔ سیکنڈری سکول سطح پر فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، اور میتھ کی کتابوں میں غیرضروری مواد بھرا ہے۔ بہت بورنگ ہے یہ!

    اس سطح پر ایک تو یہ مواد کم کیا جائے۔ دوسرے، بیشتر مواد کو ویڈیوز اور کوئزز کی شکل میں پیش کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ اور آسان بنایا جائے۔

    تیسرے، اس میں سے نصف مواد کو تجربہ کے عمل سے جوڑ دیا جائے۔ بچے نویں اور دسویں جماعت میں ہر سال ایک سو چھوٹے بڑے تجربات کریں۔ اور آٹھ دس عدد پراجیکٹس بھی۔ پراجیکٹس میں بچوں کا تحرّک دیدنی ہوتا ہے۔ اُن کی ذہانت و صلاحیت کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اُن کی کارکردگی حیران کن ہوا کرتی ہے۔

    مگر بات یہ ہے کہ بات کس سے کی جائے؟

    کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

  • مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات ۔ ۔ ۔ بھکاری یا بادشاہ ۔ ۔ چوائس آپ کی اپنی ہے؟

    میں نے جب کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز ڈگری کے لیے کالج جوائن کیا تو شائد کلاس کا سب سے غریب لڑکا ہونگا۔ ۔ کالج میں متمول گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی ہو گئی ۔ ۔ ۔ جن کا کام تھا کہ ہر بریک میں کسی ایک کی گاڑی میں بیٹھ کر قریبی ریسٹورنٹ چلے جانا اور من مرضی کے اسنیکس کھانا۔ ۔ ۔ آئس کریم ، کافی، ڈرنکس وغیرہ ۔ ۔

    ان چار سالوں میں میں نے کیسے گزارا کیا، یہ اپنے ایک دوست کی زبانی بتاتا ہوں، جو کالج گریجوئشن کے بعد ایک روز ملنے گھر چلا آیا۔ ۔ یہ ان دوستوں میں سے ایک تھا جو انیس سو بانوے (ورلڈ کپ والا 🙂 ) میں گاڑی پر کالج آتے تھے ( اب تو نو دولتیے بہت ہو گئے ہیں) ۔ ۔ ۔ اس دوست نے جب میرا گھر دیکھا تو دوستوں والی بےتکلفی سے بولا، اوئے محمود تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم اس قدر غریب ہو ۔ ۔ ۔ میں نے شرمیلی ہنسی ہنسی ۔ ۔ بس یار ۔۔۔ یہی سب ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔۔۔

    (دھیان کیجیے، میں نے شرمیلی ہنسی کہا شرمندگی والی نہیں۔ ۔ کیونکہ ان چار سالوں میں نہ کبھی اپنی حیثیت چھپانے کی کوشش کی اور نہ بڑھا کر بتانے کی۔ یعنی نہ امیروں جیسا دکھنے کی جھوٹی کوشش کی، ۔ ۔ اور نہ اپنی غربت کو اشتہار بنایا۔ ۔ بس دوستوں کے ساتھ دوستی ہی نباہی۔ )

    دوست نے کہا، ۔ ۔ ۔ مگر ان تمام سالوں میں تم نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ۔ کہ تمہاری جیب میں پیسے نہیں رہے۔ تم اپنے پیسے خود دیتے تھے۔ ۔ اگر کبھی ہماری ٹریٹ ہوتی تھی، تو کبھی تمہاری ٹریٹ ہوتی تھی۔ ۔ ہمیں لگا ہی نہیں کبھی کوئی فرق۔ ۔

    دوستو، فرق تھا۔ ۔ ۔ بہت بڑا فرق تھا۔ ۔ انکے کپڑے جوتے ہر سیزن بدل۔جاتے تھے۔ فیشن کے مطابق ہوتے تھے۔ ۔ میرے کپڑے جوتے صاف تو ہوتے تھے مگر پرانے تھے۔ ۔ جوتا اوپر سے پالش ہوتا تھا مگر اسکا تلا اتنا پتلا تھا کہ گرمی میں سڑک کی گرمی اور سردی میں کنکریٹ کی ٹھنڈک پاؤں تک آتی تھی۔ ۔ ۔

    دوسرا فرق یہ تھا کہ جس روز میری جیب میں اپنے ڈرنک کافی کے پیسے نہیں ہوتے تھے، میں خاموشی سے کسی اسائنمنٹ کو پورا کرنے کے بہانے آئی ٹی لیب میں گھس جاتا تھا، ۔ ۔ اور وقت گزر جاتا تھا۔

    جانے یہ ہماری جنریشن تک تھا یا اب نوجوانوں میں بھی کچھ ایسے ہی خوددار نوجوان ہونگے جو جیب میں اپنے پیسوں کے علاوہ کسی سے امید یا لالچ نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ کیونکہ میں مسلسل مشاہدہ کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بھی اور عام میل جول میں بھی اکثر ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو دعوت دینے سے زیادہ دعوت کھانے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ تحفہ دینے کی بجائے مانگنے کا رواج چل پڑا ہے شائد۔ ۔ ۔ کالج گوئنگ کی اکثر بات چیت میں دوسرے سے پارٹی چھیننے کی پلاننگ ہوتی ہے، ۔ ۔

    اس سے زیادہ شرمندگی والا رویہ آنلائن سیلز کے اشتہار میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ڈھٹائی سے مفت مانگنے کا کام کرتے ہیں۔ کتاب کے اشتہار یا ریویو پر کتاب مفت مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ ۔ اور کوئی پوچھے تو اپنی تہی دستی، تنگ دامنی، غربت کا رونا رویا جاتا ہے۔

    مجھے لگتا ہے کہ بھکاری نفسیات ہماری اگلی جنریشنز میں بڑھتی جا رہی ہے، اور خود داری اور مہمانداری پرانے قصے ہوتے جا رہے ہیں۔ مادیت پرستی ہے، کردار و تربیت کی کمی ہے، یا گھٹیا تربیت جو کچھ قبائل سے اب مین اسٹریم میں داخل ہو رہی ہے، ۔ ۔ جو بھی ہے، اس سے ایسی سماجی روایت بن رہی ہے جس میں مفت بری کوئی عیب نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اللہ کی نعمتوں کا کفران ہے جب آپ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے محض ایک پیزے، ایک برگر، ایک بریانی، یا ایک کتاب کی خاطر اپنی جیب خالی ہونے کا رونا روتے ہو۔ ۔ ۔ خدا شکر کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ناشکری والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ انکا رزق یقینا سکڑ جاتا ہے۔

    میں نے اپنے دوست کو اپنے دادا جی کی نصیحت سنائی، جو وہ مجھے ہمیشہ کرتے تھے۔ کہ انسان اپنی جیب سے نہیں اپنے دل سے امیر ہوتا ہے۔ دل امیر ہو تو جیب میں چند روپے بھی پادشاہئ ہے، اور دل غریب ہے تو ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ بھی غریب ہے۔ ۔ ۔

    بس میں نے کالج کے ان سالوں میں دادا جی کی اس نصیحت پر عمل کیا اور کچھ نہیں۔ ۔ ۔ بادشاہ پیاسا بھی ہو تو وہ کتے کی مانند جوہڑ پر منہ نہیں جھکاتا۔ ۔

    اللہ ہمیں بھکاری نفسیات سے بچائے اور ہمارے بچوں کو بادشاہوں جیسا جینا سکھائے۔ آمین۔