Baaghi TV

Tag: محکمہ آبپاشی

  • محکمہ آبپاشی کا نہروں کی بندش کا  فیصلہ

    محکمہ آبپاشی کا نہروں کی بندش کا فیصلہ

    دریائے سندھ کے کوٹری بیراج سے نکلنے والی کے بی فیڈر نہر کو 25 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    چیف انجینئر محکمہ ایری گیشن کوٹری بیراج نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نہر کی بندش 20 دسمبر سے 15 جنوری تک جاری رہے گی، نہر کی یہ عارضی بندش کراچی کے کے فور پراجیکٹ کی تکمیل کے سلسلے میں ضروری کاموں کے سبب کی جارہی ہے، تاکہ آئندہ برس شہر کو زیادہ اور معیاری پانی فراہم کیا جاسکے۔

    محکمہ آبپاشی کے مطابق کلری بگھار فیڈر کینال پراہم مرمتی اور توسیعی کام تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ ان کاموں کے باعث نہر کے بہاؤ میں عارضی تعطل رہے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مستقبل میں کراچی کو پانی کی مسلسل اور بہتر فراہمی کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔

    ایری گیشن حکام کا کہنا ہے کہ کام کی رفتار بڑھانے کیلئے خصوصی انجینئرنگ ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں جبکہ نہر کی بندش کے دوران متبادل انتظامات پر بھی غور کیا جارہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو،منصوبے کے بعد نہر کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور کراچی کے بڑے حصے کو پانی کی فراہمی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت محکمہ آبپاشی اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کا اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت محکمہ آبپاشی اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کا اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہائوس میں محکمہ آبپاشی اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں صوبے بھر میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی سندھ نے محکمہ ورکس کو جامشورو پھاٹک(ریلوے کراسنگ)سے حیدر آباد براستہ کوٹری بیراج تک دو رویہ سڑک کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں صوبائی وزرا ناصر شاہ، جام خان شورو، علی حسن زرداری، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ،وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکرٹری ورکس محمد علی کھوسو، سیکرٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، پی اینڈ ڈی کے زبیر چنا اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔کے فور واٹر سپلائی کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے KBفیڈر اور کینجھر جھیل کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔

    یہ 39.9 بلین روپے کا منصوبہ ہے جس میں وفاقی حکومت کا شیئر 19.4بلین روپے ہے۔ اس منصوبے پر اب تک 4 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے حکام پر زور دیا کہ وہ کام کی رفتار تیز کریں۔سندھ کی ترقی کے لیے انفراسٹرکچر اور پانی کے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ صوبے بھر میں عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی موثر اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کو محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے تحت جاری 799ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی جن کی مجموعی لاگت166بلین روپے ہے۔مراد علی شاہ نے اعلیٰ معیار اوربروقت تکمیل پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلی سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال کے اختتام سے قبل ہی تمام جاری منصوبوں کو حتمی شکل دیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ مالی سال 25-2024 کے لئے حکومت نے کوئی نئی اسکیم متعارف نہیں کروائی ہے البتہ موجودہ منصوبوں کو مکمل کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔اس سال 55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 37 بلین پہلے ہی استعمال ہو چکے ہیں جبکہ تھرو فارورڈ لائبییلٹی 111 بلین روپے ہے۔

    میجرانفراسٹرکچر اور واٹر پروجیکٹس:

    مراد علی شاہ نے لفٹ بینک آٹ فال ڈرین (LBOD) سسٹم کا بھی جائزہ لیا، فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت اس منصوبہ پر ابتدائی لاگت کا تخمینہ 115.4 بلین روپے تھا لیکن نظرثانی رپورٹ کے بعد اب اسے 172 ابلین روپے کردیا گیا ہے۔
    انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی)سے پراجیکٹ کی منظوری حاصل کریں ۔ اس منصوبے پر اب تک کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی ہے جبکہ رواں سال اس منصوبے پر 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کوٹری بیراج تک جامشورو پھاٹک روڈ کو دو رویہ کرنے کی ہدایت کی اور اسے انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا لازمی جز قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے حیدرآباد شہر میں ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔ کوسٹل ہائی وی:اجلاس میں کوسٹل ہائی وے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ کوسٹل ہائی وے کی 36 کلو میٹر توسیع سے لاگت میں اضافے کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ16.2 بلین روپے لگایا گیا تھا مگر نظر ثانی کے بعد یہ لاگت بڑھ کر 29.9 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    رواں سال منصوبے کے لیی3 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 1 بلین پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔ تاہم منصوبے کی نگرانی کرنے والی اسٹیئرنگ کمیٹی نے بولی لگانے کے عمل کے ساتھ مسائل سے بھی آگاہ کیا ۔سندھ حکومت بڑھتی ہوئی لاگت یعنی 6.85 بلین روپے کی ادائیگی کرے گی اور اس حوالے سے 6.5 ملین روپے پہلے ہی میچنگ گرانٹ کی صورت میں موجود ہے۔ اسٹیئرنگ کمیٹی نے محکمہ ورکس کو بولی کے عمل کو حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ بقایا جات کامسئلہ حل کرکے کام دوبارہ شروع کریں۔

    واٹس ایپ گروپ سے کیوں نکالا؟ ایڈمن کو گولی مار دی گئی

    افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کیلئے 31 مارچ تک کی مہلت

    پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی ہو رہی ؟

    بلاول سے امریکی ناظم الامور،فرانسیسی سفیر،برطانوی ہائی کمشنرکی ملاقات

  • دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ، درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ، درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی :بھارت کی آبی جارحیت کے بعد پاکستانی دریاؤں میں پانی کا اضافہ ہونے لگا محکمہ آبپاشی کے اطلاعاتی نظام کے مطابق دریائی علاقے میں سیلابی صورتحال میں مزید اضافہ ہوگیا ہے پانی کےبہاؤ میں مزید اضافے سے سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 83570 کیوسک ہے،سیلاب کےممکنہ خطرے کے پیش نظرریلیف اورمتاثرین کے انخلا کیلئے کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں۔

    بہاولنگر، چشتیاں اور سلیمانکی کے متعدد مقامات پر ریلیف کیمپس قائم کردیئےگئے ہیں بہاولپور کور کے فوجی دستے اضافی سازوسامان کےساتھ مختلف مقامات پرموجود ہیں۔

    پوٹھوہار، کشمیر، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع

    ادھربالائی علاقوں سے بارشوں کا پانی سندھ میں داخل ہونے سے بیراجوں پر پانی کی صورتحال نارمل ہوگئی ہے، سیلابی ریلہ 6 سے 7 روز میں سکھر بیراج پہنچےگا لیکن سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے، جب کہ کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    جھنگ میں دریائی پٹی کے ساتھ کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں، دریائے چناب میں جھنگ کے مقام پر سیلابی ریلے کے بہاؤ میں کمی آنے لگی، دریائے راوی میں نارووال سے سیلابی ریلہ گزرگیا جب کہ پانی کے بہاؤ میں کمی جاری ہے۔

    قبل ازیں دریائے ستلج میں پاکپتن کے مقام پر بھی درمیانی سطح کے سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کیا گیا تھا ، دریا میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث قریبی آبادیاں خالی کرا لی گئیں تھیں-

    چئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف مبینہ کرپشن کےمقدمات پرعوام نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے ممکنہ اقدامات کیلئے ریلیف کیمپ قائم کر دیئے ہیں، مشینری اور بوٹس کے ساتھ ریسکیو عملہ موجود ہے، متعلقہ محکموں کو 24 گھنٹے ڈیوٹی پر الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔