Baaghi TV

Tag: محکمہ تعلیم سندھ

  • سندھ بھر میں تعلیمی ادارے 15 اگست کو بند رہیں گے

    سندھ بھر میں تعلیمی ادارے 15 اگست کو بند رہیں گے

    محکمہ تعلیم سندھ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق 15 اگست کو چہلم امام حسینؓ کے موقع پر صوبے کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعطیل پورے سندھ میں یکساں طور پر لاگو ہوگی۔اس موقع پر سندھ سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر ضیاء لنجار کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل ایوان میں تمام جماعتوں کی حمایت سے منظور ہوا۔

    اس کے ساتھ ہی ضیاء لنجار نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترامیم پر مبنی اینٹی ٹیرارزم سندھ ترمیمی بل 2025 بھی اسمبلی میں پیش کیا، جو ایوان نے بغیر کسی مخالفت کے منظور کرلی

    دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب، پی ڈی ایم اے پنجاب کا الرٹ جاری

    غزہ پر اسرائیلی فوجی کنٹرول کے منصوبے پر چین کا شدید ردعمل

    روس میں دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ بند، ساحلوں سے شہریوں کا انخلاء

    علیمہ خان اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹ ہے، شیر افضل مروت کا الزام

  • محکمہ تعلیم سندھ کا درسی کتب کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    محکمہ تعلیم سندھ کا درسی کتب کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے ہدایت دی ہے کہ تعلیمی سال 26-2025 کے لیے درسی کتب کا جدید ضروریات کے مطابق جائزہ لیا جائے اور اس ضمن میں ٹیکسٹ ڈیولپمنٹ کے لیے تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے افراد کی بھی مدد لینے کے ساتھ درسی کتب میں موجود کسی قسم کے نفرت پھیلانے والے مواد کی نشاندہی بھی کی جائے تا کہ ایسی چیزوں کو درسی کتب سے نکالا جا سکے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو میں منعقد ہونے والے اجلاس میں چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ پرویز احمد بلوچ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ٹیکسٹ ڈیولپمنٹ کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ سندھ (DCAR) کے کردار کو بڑھایا جائے تا کہ جامع ترقی کے اصولوں کے تحت طلبہ کی ذہنی، جسمانی، جذباتی اور سماجی ترقی کی ضرورت کے مطابق درسی کتب ترتیب دی جا سکیں، صوبائی وزیر نے کا کہا کہ تعلیم صرف معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے طلبہ کو مثبت اور باشعور انسان بنانے میں مدد مل سکے۔صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے فریم ورک کو تبدیل کرنا ضروری ہے ٹیکسٹ بک بورڈ کا کام صرف کتب کی چھپائی اور ترسیل تک ہی محدود ہونا چاہیے، ٹیکسٹ بک بورڈ کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اسے کمپنی ایکٹ میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے، انہوں نے کہا کہ درسی کتب میں ایسے اسباق شامل کیے جائیں جو تخلیقی سوچ کو فروغ دیں جبکہ ہم نفرت پھیلانے والی کسی بھی بات کو اپنے کتب میں باقی نہیں رکھ سکتے، اب ہمیں نفرتوں کے سبق کو چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی دھرتی کی تاریخ اپنے ہیروز اور تاریخی شخصیات بشمول اس زمین سے وابستہ لوگوں کے بارے میں نہ پڑھائیں، ہمیں اپنے بچوں کو یہ پڑھانا بھی ضروری ہے کہ تاریخ میں اس خطے کا تعارف امن رواداری، اتحاد اور ایک دوسرے کا احترام کرنے والوں میں سے ہے، اپنے بچوں کو ہمیں ایک ایسی کتابیں دینا ہے جو اسے تمام مذاہب کا احترام بھی سکھائے۔ صوبائی وزیر نے ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمیں کو ہدایت کی کہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے کتب کی چھپائی کے مر حلے کو آگے بڑھتے جلد شروع کیا جائے ۔

    جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ میچ ،بابراعظم کوٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ

    بینظیر بھٹو کی برسی، خیرپور سے ہزاروں کارکنوں کا قافلہ روانگی کے لیے تیار

    قومی انتخابات 2024، فافن کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں ، جماعت اسلامی

    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    بلاول بھٹو کی مسیحی کمیونٹی کو کرسمس مبارک باد

  • سندھ میں درسی کتب کی اشاعت میں تاخیر،کالجوں میں لیبس کا عمل متاثر

    سندھ میں درسی کتب کی اشاعت میں تاخیر،کالجوں میں لیبس کا عمل متاثر

    سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب کی اشاعت میں تاخیر کی روایت اب بھی برقرار ہے .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیشن کے آغاز میں رواں برس 4 ماہ کی تاخیر کے باوجود اب بھی کچھ سائنسی مضامین کی کتابیں ناپید ہیں اور کالج کے ہزاروں طلبہ کی دسترس سے باہر ہیں ان درسی کتابوں میں بوٹنی ، بیالوجی اور فزکس کے مضامین کی پریکٹیکل بکس سمیت کچھ اور مضامین کی پریکٹیکل بکس بھی شامل ہیں جبکہ ان ہی مضامین کی تھیوری کی درسی کتابیں بھی محدود تعداد میں بازار میں آئی تھیں جو اب بآسانی بازار میں موجود نہیں ہیں ادھر سرکاری کالجوں میں سیشن تو شروع ہوچکا ہے تاہم متعلقہ درسی کتب کی عدم دستیابی کے سبب کالجوں میں لیبس کے نام سے ہونے والی پریکٹیکل کلاسز شروع نہیں ہوپائی ہیں یا جن کالجوں میں لیبس کے نام پر پریکٹیکل کرائے جارہے ہیں وہاں پرانے نصاب سے ہی لیبس لی جاری ہیں جبکہ تھیوری کی کلاسز میں بھی تمام طلبہ کے پاس درسی کتب موجود نہیں ہیں۔سرکاری کالج کے شعبہ نباتیات کے ایک استاد نیاس ضمن میںبتایا کہ "کچھ روز قبل بوٹنی سرکل کے نام سے اساتذہ کے لیے ایک پریزینٹیشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں سیکنڈ ایئر کی تھیوری اور پریکٹیکل کا نصاب اس لیے ڈسکس نہیں ہوسکا تھا کہ نصاب کی تبدیلی کے بعد یہ کتابیں مارکیٹ میں موجود نہیں ہیں "ایک اور کالج ٹیچر جو سپلا کراچی ریجن کے رہنما بھی ہیں نے کہاکہ "تقریبا تمام مضامین کی پریکٹیکل بکس اس سال پرنٹ ہوکر نہیں آئیں تاہم تھیوری بکس کا مسئلہ کچھ حد تک حل ہوگیا ہے البتہ کالجوں میں پریکٹیکل ابھی شروع نہیں ہوسکے "اردو بازار ایسوسی ایشن کے صدر ساجد یوسف نے واضح کیا کہ اب کیمسٹری کی پریکٹیکل بکس تو آئیں ہیں لیکن فزکس اور بیالوجی کی کتابیں ہمیں فراہم نہیں کی گئی ان کا کہنا تھا کہ جو کتابیں فروخت کے لیے دی گئی ہیں وہ بھی ڈیمانڈ سے کم ہیں ان کا کہنا تھا ہمارے پاس طلبہ اور والدین آتے ہیں اور پوچھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ خود سندھ بک بورڈ اسکولوں اور کالجوں کے ڈائریکٹرز سمیت چیئرمین ایگزامینیشن بورڈز کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پریکٹیکل بکس پر مشتمل نئی درسی کتابوں کا ایک حوالہ جاری کرچکا ہے جس کے سبب کالجز میں بھی نئے اور پرانے پریکٹیکلز کے حوالے سے اس سلسلے میں ایک قسم کی کنفیوژن موجود ہے۔سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو کی جانب سے نصاب میں تبدیلی اور سائنسی مضامین کی نئی پریکٹیکل بکس کے حوالے سے 5 ستمبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں تمام ڈائریکٹر کالجز اور چیئرمین بورڈز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ بورڈ کی جانب سے نئے نصاب سے سیکنڈ ایئر فزکس ، سندھی لازمی فرسٹ اینڈ سیکنڈ ایئر پریکٹیکل جرنل کیمسٹری فرسٹ ایئر اور پریکٹیکل جرنل بائیولوجی سیکنڈ ایئر تیار اور پبلش کیا گیا ہے۔لہذا یہ ٹیکسٹ بک ہی تدریس اور امتحانات کے لیے اکیڈمک سیشن 2024/25 میں استعمال ہوں گی۔ جس کے بعد اگلے ہی روز 6 ستمبر کو اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے تمام سرکاری و نجی کالجوں کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں انھیں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مذکورہ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا سندھ ٹیکسٹ بک کے نوٹفکیشن کے تحت رواں سال تدریس و امتحانات مذکورہ درسی کتب سے ہوں گے۔
    قائم مقام ناظم امتحانات زرینہ راشد نے اس ضمن میں بتایاتاحال مذکورہ پریکٹیکل بکس دستیاب نہیں ہوسکی ہیں لہذا ان کی تدریس و پریکٹیکل بھی نہیں ہورہے ہیں ایسی صورت میں امتحانات کیسے ہوں گے جس پر ان کا کہنا تھا کہ” یہ بات ہمارے علم میں بھی ہے ہم اکتوبر کے آخر میں اپنی کریکولم کمیٹی کی میٹنگ کریں گے اگر اس وقت تک متعلقہ درسی کتب طلبہ تک نہیں پہنچ سکیں تو کریکولم کمیٹی پرانے نصاب سے ہی پریکٹیکل امتحانات لینے کا فیصلہ کرسکتی جس کے لئے ایک علیحدہ نوٹیفکیشن جاری ہوسکتا ہی”یاد رہے ہیں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے رجسٹرڈ پبلشرز میں سے کچھ آپس کے اختلافات کے سبب عدالت میں چلے گئے تھے اور کچھ کیسز تاحال عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جس کے باعث اس بار ایک نہیں تین بار ٹینڈر جاری کیے گئے اور کتابوں کی چھپائی کا عمل تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا اسی اثنا میں سیشن 2024/25 بھی 15 اپریل سے، پہلے یکم اگست اور ازاں بعد 15 اگست کیا گیا۔علاوہ ازیں اس سلسلے میں چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ علیم لاشاری نے کہا کہ” میری معلومات کے مطابق تمام پریکٹیکل بکس مارکیٹ کو دے دی گئی ہیں لیکن میں پھر بھی چیک کرکے صبح کو بتادوں گا صبح انھیں یاددہانی کے لیے واٹس ایپ کیا لیکن جواب موصول نہیں ہوا۔”

    پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے عالمگیر خان گرفتار

    کراچی میں انتہائی مطلوب 6 رکنی موٹرسائیکل لفٹنگ گروہ گرفتار

    کراچی میں پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران انتقال کرگیا

    مسلم امہ کی پستی دین سے دوری صف بندی کرنا ہوگی علامہ ابتسام الہی ظہیر

  • سندھ حکومت کا صوبے کے سکول اراکین اسمبلی کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا صوبے کے سکول اراکین اسمبلی کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے صوبے کے سکول اراکین اسمبلی کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کرلیا، جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان سندھ حکومت کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کے سندھ اسمبلی ممبران کو لکھے گئے خط پر مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں صوبائی وزیر تعلیم نے ارکان اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے حلقے کے سکول اڈاپٹ کرنے کی دعوت دی تھی، اس کے بعد ارکان اسمبلی کی طرف سے سکولز اڈاپٹ کرنے کے لیے تجاویز جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے، درخواست پر ضروری کارروائی کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری سکولوں کی نگرانی اور ان کو مزید فعال کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہے، ارکان سندھ اسمبلی کی طرف سے آنے والی تجاویز کے مطابق حلقے کے سکولوں کی نگرانی ان کے حوالے کردی گئی ہے، پہلے مرحلے میں کراچی 74 اسکولز کو 32 ارکان سندھ اسمبلی کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے سکول اڈاپٹ کرنے والوں میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے علاوہ ایم پی ایز میں سید محمد عثمان، معید انور، محمد عامر صدیقی، فیصل رفیق، محمد دانیال، محمد دلاور شامل ہیں، ایم پی اے ریحان، فہیم احمد، شیخ عبداللہ، نصیر احمد، سید اعجازالحق، ریحان اکرم، عبدالوسیم، عبدالباسط، عادل عسکری، محمد افتخار عالم نے بھی سکول کی ذمہ داری لی ہے، محمد معاذ محبوب، محمد مظاہر عامر، جمال احمد، شریف جمال، نجم مرزا، شوکت علی، ارسلان پرویز، فرحان انصاری نے سکولز کو اڈاپٹ کرلیا، مہیش کمار ہسیجا، انیل کمار، سمیتا افضال سید، سکندر خاتوں، فرح سہیل، قرت العین، بلقیس مختار بھی سکول سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ حیدرآباد سے 3 ارکان اسمبلی صابر حسین، محمد راشد خان اور ناصر حسین قریشی کو اڈاپٹیشن پروگرام کے تحت 11 سکولز کی نگرانی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، ٹھٹہ اور سجاول کے 9 سکولز کو 2 ایم پی ایز نے اپنی نگرانی میں سنبھال لیا ہے، ٹھٹہ اور سجاول سے ارکان اسمبلی سید ریاض حسین شاہ شیرازی اور ہیر سوہو کی درخواست پر سکول کی نگرانی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، ارکان اسمبلی کی طرف سے آنے والی درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے، ضروری کارروائی کے بعد سکول اڈاپٹیشن کے نوٹیفکیشن کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    نمبر گیم پوری،پی ٹی آئی اراکین اغوا،کیا عمران خان رہا ہوں گے؟

  • سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

    سندھ میں تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے حکومت سندھ نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے لیے نئی گریڈنگ پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    صوبے کے طلبہ کو پوزیشن کی دوڑ سے نکال دیا گیا، اب نمبر اور پوزیشن نہیں بلکہ طلبہ کو گریڈ ملیں گے۔ اس طرح ملک میں سندھ پہلا صوبہ ہو گیا جس نے گریڈنگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ میں نئی گریڈنگ پالیسی کا اطلاق 2025ء سے ہو گا جس کے تحت طلبہ کو نمبروں اور پوزیشنز کے بجائے گریڈ پوائنٹ ایوریج کی بنیاد پر نتائج ملیں گے۔سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی گریڈنگ پالیسی کے فارمولے کے مطابق پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنز ختم کر دی جائیں گی۔صوبہ پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے تعلیمی بورڈز تاحال نئی گریڈنگ پالسی کی منظوری نہیں دے سکے ہیں۔ آئی بی سی سی نے نئی گریڈنگ پالیسی کا جو فارمولا طے کیا ہے اس کے مطابق 95 یا زائد نمبرز کو A غیر معمولی گریڈ دیا جائے گا، 90 نمبر کو شاندار A دیا جائے گا، 85 نمبر کو بہترین A دیا جائے گا۔اس طرح 80 نمبر کو بہت اچھا B دیا جائے گا، 75 کو اچھا B گریڈ دیا جائے گا، 70 کو مناسب اچھا B دیا جائے، 60 کو اوسط سے اوپر C دیا جائے گا۔ڈاکٹر غلام علی ملاح کے مطابق آئندہ سال سے میٹرک اور انٹر کے پاسنگ مارکس 33 سے 40 کر دئیے جائیں گے، علاوہ ازیں 50 کو اوسط D گریڈ دیا جائے گا، 40 تا 49 نمبر کو اوسط سے نیچے E گریڈ دیا جائے گا اور 40 سے کم نمبر والوں کو غیر تسلی بخش U گریڈ دیا جائے گا۔

    وزیر داخلہ سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ، کال سینٹر 1102 کا افتتاح کیا

  • ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل پروفیسر عشرت ناز کا اچانک تبادلہ،اس فیصلے کے خلاف طالبات سراپا احتجاج بن گئیں.

    باغی ٹی وہ کی رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج شرافی گوٹھ کراچی جو 2018 سے ہے لیکن حکام بالا اور پچھلی پرنسپل کی عدم توجہ کی وجہ سے ویران تھا 2023 میں پروفیسر عشرت ناز نے بحیثیت پرنسپل کا چارج سنبھالا اور اپنے اس ایک سال کی انتھک محنت کی وجہ سے اس ویران کالج کی انرولمنٹ کو 500 سے زیادہ کرانے کے ساتھ ساتھ کالج میں کامرس کی فیکلٹی کو متعلقہ ممبر قومی اسمبلی عبد الحکیم بلوچ کی معاونت سے آغاز کرایا اور طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے کوششیں کیں اور مختصر اساتذہ ہوتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا یہی وجہ ہے کہ اس سال پری میڈیکل گروپ کی طالبعم نے A گریڈ سے اپنا امتحان پاس کیا۔کالج کی بہتری کے لئے متعلقہ اداروں کو خطوط بھی لکھے مگر بے حس افسران کی بھینٹ چڑھ گئیں اور اچانک تبادلہ ہوگیا جس کی وجہ سے طالبات میں شدید بیچینی پائی جاتی ہے یہی نہیں علاقے کے مکین بھی ان کے تبادلے سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں اس سلسلے میں آج 10.10.2024 کو کالج کی طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور پروفیسر عشرت ناز کے حق میں نعرہ بازی کی اور ان کو کالج میں دوبارہ تعینات کرنے تک اپنا احتجاج جاری رکھنا کا عندیہ دے دیااور یہاں تک کہ متعلقہ افسران کے آفس تک جانے اور گھیرا کرنے کا بھی عندیہ دے دیا۔

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار