Baaghi TV

Tag: محکمہ جنگلات

  • پنجاب: یومیہ اجرت پر جنگلوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارف

    پنجاب: یومیہ اجرت پر جنگلوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارف

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے محکمہ جنگلات میں اجرتوں کی ادائیگی میں شفافیت کے لیے جدید برانچ لیس بینکاری نظام نافذ کر دیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے 100 سالہ پرانا نظام ختم کر کے یومیہ اُجرت پر جنگلوں میں کام کرنے والے محنتی مزدوروں کے لیے جدید، محفوظ اور باعزت ادائیگی نظام متعارف کروا دیا،یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو اب اجرت براہ راست موبائل بینکنگ اکاؤنٹ میں ملے گی جبکہ تصدیق ایس ایم ایس اور بائیو میٹرک کے ذریعے ہوگی۔

    سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شفافیت وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشن ہے، محکمہ جنگلات کا اقدام اس وژن کی عملی تعبیر ہے، ہر سرکاری ادائیگی کے نظام میں شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے گی نقدی نظام میں موجود بدعنوانی، تاخیر اور کٹوتی جیسے مسائل اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔

    اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری آپریشن کا فیصلہ

    محکمہ جنگلات اور پنجاب بینک کے باہمی اشتراک سے برانچ لیس بینکاری کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں محکمہ جنگلات کا یہ منفرد قدم عالمی معیار کی گڈ گورننس اور مالی شفافیت کی جانب انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے،یہ نظام مزدور طبقے کا اعتماد بحال کرے گا اور انہیں مالی تحفظ فراہم کرے گا، ہم ہر شعبے میں ٹیکنالوجی، شفافیت اور عوامی بھلائی کو ترجیح دے رہے ہیں ، محکمہ جنگلات نے ایک مثال قائم کر دی۔

    ملک کے مختلف حصوں میں آندھی ، بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

  • ضلع خیبر میں شجر کاری مہم جاری

    ضلع خیبر میں شجر کاری مہم جاری

    خیبر پختونخوا ضلع خیبر وادی تیرہ میں پاک آرمی ،ایف سی اور محکمہ جنگلات کے تعاون سے شجر کاری مہم جاری ہے جس میں آٹھ سو سے زائد گھروں میں پھل دار پودوں سمیت ایک لاکھ پچھتر ہزار پودے تقسیم کئے گئے ہے،آرمی، ایف سی اور محکمہ جنگلات کی جانب سے جاری شجر کاری مہم میں سال 2022 میں 18000 پھل دار درخت جبکہ ایک لاکھ پچھتر ہزار دوسرے پودے تقسیم کے تھے اسی طرح اس سال 2023 میں 2 لاکھ تک پودے تقسیم کئے جائنگے،ضلع خیبر کے عوام شجر کاری کے س مہم میں بھر پور حصہ لے رہے اور انہوں نے پاک آرمی اور ایف سی سمیت محکمہ جنگلات کا بھی بھر پور شکر یہ ادا کیا ہے،

  • سال 22ء کے دوران 102 ملین شجرکاری،35 ملین پودے تقسیم کئے گئے، محکمہ جنگلات

    سال 22ء کے دوران 102 ملین شجرکاری،35 ملین پودے تقسیم کئے گئے، محکمہ جنگلات

    سال 22ء کے دوران 102 ملین شجرکاری، 35 ملین پودے تقسیم کئے گئے۔ محکمہ جنگلات

    محکمہ جنگلات نے سال 2022 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے دسمبر تک پنجاب بھر میں 102 ملین شجرکاری کی گئی۔ سب سے زیادہ شجرکاری بہاولپور میں 2 ملین ہوئی۔ دوسری جانب ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت ہونے والی شجرکاری کے مجموعی اعداد و شمار 31 کروڑ ہو چکے ہیں۔

    محکمہ جنگلات کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق رواں سال پنجاب بھر میں 2614 آگاہی پروگرامات منعقد کئے گئے جبکہ شجرکاری کی ترغیب دینے سے متعلق دیگر آگاہی سرگرمیوں کی تعداد 3159 رہی۔ محکمہ جنگلات نے سال 2022ء میں 34 ملین ہدف کے مقابلے میں 35 ملین پودے لوگوں میں مفت تقسیم کئے جبکہ اس سال 23 نئی سرکاری نرسریوں کا بھی اضافہ ہوا جس سے پنجاب بھر میں نرسریوں کی مجموعی تعداد 460 ہوگئی۔ ترجمان محکمہ جنگلات کے مطابق رواں سال نرسریوں میں مختلف اقسام کے 58 ملین پودے تیار کئے گئے جبکہ محکمہ جنگلات کی 556 ایکڑ سے زائد قبضہ شدہ زمین واگزار کروائی گئی۔ اسی طرح درخت کاٹنے کے واقعات کے خلاف محکمہ جنگلات کی مدعیت میں 228 ایف آئی آر درج ہوئیں اور ہزاروں من لکڑیاں برآمد کی گئیں۔

    محکمہ جنگلات سے موصولہ تفصیلات کے مطابق رواں برس 803 ملین کی لاگت سے 3 ترقیاتی سکیمیں مکمل کی گئیں جن میں بھکر فاریسٹ پارک، فاریسٹ اکیڈمی اور فاریسٹ کمپلیکس کی توسیع و تزئین و آرائش شامل پے۔ دوسری جانب جانوروں کی بریڈنگ کے نتیجے میں سفاری زو میں 381 اور چڑیا گھر میں 287 جانوروں اور پرندوں کا اضافہ ہوا۔

    پشاور: خیبر پختونخوا میں جنگلات کو جان بوجھ کر آگ لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے-

    آزاد کشمیرکے علاقے میرپورمیں نامعلوم افراد نے جنگلات میں آگ لگادی

    آگ پر قابو پانے کی کوشش جاری،چلغوزے کے جنگلات کو نقصان پہنچا ہے،وزیراعلیٰ

    پاکستانی جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کیلئے ایران کا اسپیشل فائرفائٹنگ ٹینکر طیارہ بھیجنے کا فیصلہ

    وزیر جنگلات سید عباس علی شاہ اور سیکرٹری جنگلات شاہد زمان نے کارکردگی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سال 22ء کے دوران فاریسٹ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی کارکردگی میں بہتری جبکہ شجرکاری اور جانوروں کے تحفظ بارے شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے خصوصی اقدامات بروئے کار لائے گئے۔ انہوں نے 2023ء میں اسی ویژن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال میں شجرکاری اہداف کی تکمیل، جانوروں کی بریڈنگ بڑھانے اور وائلڈ لائف کی بقا اور تحفظ کیلئے چڑیا گھروں اور سفاری پارکوں کی ری ماڈلنگ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزیر جنگلات اور سیکرٹری جنگلات نے محکمہ کے افسران کی سال 2022ء میں کارکردگی کو بھی سراہا ہے۔

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • چھانگا مانگا جنگل کے نایاب پرندوں اور جانوروں کا شکار عروج پر ، افسران کی ملی بھگت

    چھانگا مانگا جنگل کے نایاب پرندوں اور جانوروں کا شکار عروج پر ، افسران کی ملی بھگت

    قصور :-

    چھانگا مانگا جنگل میں غیر قانونی شکار کا سلسلہ جاری ہے۔محکمہ وائلڈ لائف اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چھانگا مانگا دنیا کا دوسرا بڑا ہاتھ سے لگایا گیا جنگل ہے جس میں مختلف جنگلی جانور بھی پاۓ جاتے ہیں۔
    چھانگا مانگا جنگل کے سفاری پارک میں مبینہ طور پر نایاب ہرنوں اور نایاب تیتروں کا شکار کیا جا رہا ہے۔ ان جانوروں کے شکار پر پابندی کے باوجود بھی قیمتی اور نایاب ہرن کے شکار میں وائلڈ لائف اہلکار کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ چھانگا مانگا جنگل میں ہرنوں کے ساتھ دوسرے نایاب پرندوں اور جانوروں کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ افسران کی ملی بھگت سے جنگلی جانوروں کی حیات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اس اقدام سے جنگلی حیات کے ناپید ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
    تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا جنگل کے سفاری پارک میں 300 سے زائد ہرن موجود تھے جن کی تعداد اب 200 سے بھی کم ہو گئی ہے۔
    ضلع قصور کی عوام نے ان شکاریوں کے خلاف سخت ترین ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔