Baaghi TV

Tag: محکمہ سوشل سیکیورٹی

  • محکمہ سوشل سیکیورٹی قصور میں کرپشن کا انکشاف،نوٹس کی اپیل

    محکمہ سوشل سیکیورٹی قصور میں کرپشن کا انکشاف،نوٹس کی اپیل

    قصور میں محکمہ سوشل سکیورٹی کی مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں پر سوالات، سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے ماہانہ نقصان پہنچنے کا انکشاف
    ضلع قصور میں پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی ادارے کے بعض افسران اور اہلکاروں کی مبینہ کرپشن، بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سوشل سکیورٹی میں مبینہ طور پر بڑے صنعتی یونٹس، فیکٹریوں اور کاروباری اداروں کے مالکان سے ملی بھگت کے ذریعے ورکرز کی اصل تعداد کو کم ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے متعدد صنعتی اداروں میں سینکڑوں ورکرز کام کر رہے ہیں لیکن ریکارڈ میں ان کی تعداد کم درج کی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر اس عمل کے ذریعے فیکٹری مالکان کو سوشل سکیورٹی کنٹریبیوشن کی مد میں مالی فائدہ پہنچایا جاتا ہے جبکہ بعض متعلقہ اہلکار اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر تمام یونٹس کا غیر جانبدارانہ آڈٹ اور فزیکل انسپیکشن کروائی جائے تو بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آسکتی ہیں۔
    شہری، مزدور تنظیمیں اور سماجی حلقے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوشل سکیورٹی فنڈ دراصل مزدوروں کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ، مالی معاونت اور دیگر سہولیات کے لیے مختص ہے، لیکن اگر کنٹریبیوشن کی وصولی میں ہی مبینہ خردبرد اور بے قاعدگیاں ہوں تو محنت کش طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔
    متاثرہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ورکرز کی اصل تعداد چھپانے کے باعث نہ صرف ادارے کی آمدن متاثر ہو رہی ہے بلکہ ہزاروں مزدور سوشل سکیورٹی کی رجسٹریشن، علاج معالجہ اور دیگر سرکاری سہولیات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر کی مبینہ ملی بھگت کے باعث قانون کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے جس کی فوری تحقیقات ناگزیر ہیں۔
    شہریوں اور مزدور نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری لیبر پنجاب اور کمشنر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ قصور میں محکمہ سوشل سکیورٹی کے معاملات کا اعلیٰ سطحی اور شفاف انکوائری کے ذریعے جائزہ لیا جائے، تمام رجسٹرڈ صنعتی یونٹس کا خصوصی آڈٹ کروایا جائے اور اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف بے ضابطگی یا کرپشن ثابت ہو تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حقوق اور سرکاری خزانے کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا احتساب ممکن ہو سکے اور سوشل سکیورٹی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو