Baaghi TV

Tag: مخصوص سیٹیں

  • مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    قومی اسمبلی کے اسپیکر، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے بعد سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے بھی الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا خط لکھ دیا۔

    اسپیکر سندھ اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سندھ اسمبلی کی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے ،پارلیمانی نظام کی سالمیت اور آزادی برقرار رکھنا ضروری ہے ،ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ نافذ العمل ہے، پارلیمنٹ کی قانون سازی کااحترام کرناالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،سندھ اسمبلی کی خود مختاری برقراررکھتے ہوئے مخصوص نشستوں کافیصلہ کرے ،الیکشن کمیشن جمہوریت اورپارلیمانی بالادستی کےاصولوں کوبرقراررکھے

    قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ، جن میں مخصوص نشستوں کی تقسیم پر اپنے تحفظات اور تجاویز کا اظہار کیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک نے پنجاب اسمبلی کی خود مختاری برقرار رکھنے اور مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا۔ ملک احمد خان نے خط میں کہا کہ پارلیمانی نظام کی سالمیت اور آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ نافذ العمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے۔

    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھی الیکشن کمشنر کو خط لکھا جا چکا ہے ،یہ خطوط اس وقت لکھے گئے ہیں جب مخصوص نشستوں کی تقسیم اور پارلیمنٹ کی خود مختاری پر بحث جاری ہے۔ اسپیکروں کی طرف سے خطوط لکھنے کا مقصد الیکشن کمیشن کو یہ باور کرانا ہے کہ پارلیمانی نظام کی بنیادیں مضبوط رکھی جائیں اور مخصوص نشستوں کی تقسیم میں قانونی اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔یہ پیشرفت ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے پارلیمانی خود مختاری اور الیکشن کمیشن کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑنے کا امکان ہے۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص سیٹوں پر پارلیمان کی قانون سازی پر عوامی رائے سامنے آئی ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کو ری رائیٹ کرتی ہے، بار بار، پہلے پنجاب میں کیا، سپریم کورٹ کو اس سے باز آنا چاہئے ،جس کی چیز ہے ہی نہیں اس کو دے رہے ہیں،کل کو میری گاڑی اٹھا کر کسی کو دے دیں،میں دے دوں گا؟پتہ نہیں سپریم کورٹ کیا کرنے جا رہی ہے، کوئٹہ کے ایک شہری کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ کی مخصوص نشستوں پر پارلیمانی کمیٹی بنی،یہ اچھی بات ہے کم از کم ملک میں آئین تو ہو، عدلیہ کے فیصلے سے ملک میں بحران پیدا ہوا ہے، ملتان کے ایک شہری کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ کا جوکام ہے پارلیمنٹ بخوبی جانتی ہے،کسی غیر متعلقہ ادارے کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، وہ بہتر جانتے ہیں کہ کیا کیا قانون سازی کرنی ہے، پشاور کے ایک شہری کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہمارے قانون کے مطابق حل ہونا چاہئے،قانون سازی ہو جائے تو اچھا ہے، اسلام آباد ے ایک شہری کا کہناتھا کہ ہم امید کرتے ہیں بہتر ہو گا، پاکستان کے پارلیمنٹ کو قانون سازی کے لئے وسیع تر اختیارات حاصل ہیں، ہم حمایت کرتے ہیں.عدلیہ کی اور بھی ذمہ داریاں ہیں وہ ان پر فوکس کرے، پارلیمنٹ کو اپنا کام کرنے دے، پارلیمان اپنے اختیارات کا استعمال کرے،

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے، بل کے حق میں 8 مخالفت میں 4 اور جے یو آئی کے رکن نے نہ بل کے حق میں نہ مخالفت میں حصہ لیا، قومی اسمبلی اجلاس میں بلال اظہر کیانی نے انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بل پیش کیا تھا،انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بل” انتخابات دوسری ترمیم بل”کے نکات سامنے آ گئے ہیں، بل کے مطابق کامیاب آزاد امیدوار کی جانب سے سیاسی جماعت میں شمولیت کی رضامندی ناقابل تنسیخ ہوگی،اگر کوئی جماعت مجوزہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لئے فہرست جمع کرانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ نشستوں کی کوٹے کے لئے اہل نہیں ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 میں 2 ترامیم متعارف کرائی جارہی ہیں، پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے، پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا،دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں،ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 51، 63 ، 106 کو معطل کرنا ہو گا،اختلافی فیصلہ

    پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 51، 63 ، 106 کو معطل کرنا ہو گا،اختلافی فیصلہ

    پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں ملنے کا معاملہ ،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

    جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم افغان نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا،دونوں ججز کا اختلافی فیصلہ 29 صفحات پر مشتمل ہے،اختلافی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے بطور سیاسی جماعت عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بھی آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا،

    دو ججز نے اختلافی فیصلے میں اکثریتی فیصلہ تاحال جاری نہ ہونے پر سوالات اٹھا دیے،فیصلے میں کہا گیا کہ مختصر فیصلہ سنانے کے بعد 15 دنوں کا دورانیہ ختم ہونے کے باوجود اکثریتی فیصلہ جاری نہ ہو سکا،پی ٹی اس کیس میں فریق نہیں تھی، پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آرٹیکل 175 اور 185 میں تفویض دائرہ اختیار سے باہر جانا ہو گا، پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 51، آرٹیکل 63 اور آرٹیکل 106 کو معطل کرنا ہو گا،

    مخصوص نشستوں کا کیس، اختلافی فیصلے نے اکثریتی فیصلے کی جانبداری کو کیا بے نقاب
    سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے حوالہ سے اختلافی فیصلے کا یہ نوٹ نہ صرف اکثریتی فیصلے کی جانبداری کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے اندر سیاست، بدعنوانی اور غیر اخلاقی کے بڑے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ریاست فیصلہ کن اور مضبوطی سے کام کرے جو قانونی اور صحیح ہے اسے نافذ کرے۔اگر اس ضمن میں قانون سازی کرنی پڑی تو پارلیمنٹ میں کرنی چاہئے.

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں نہیں دیں، سنی اتحاد کونسل کاکیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، گزشتہ روز سماعت ہوئی، آج پھر ہونی ہے، سنی اتحا د کونسل نے نہ تو الیکشن لڑا اور نہ ہی مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو جمع کروائی تھی جس کی وجہ سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں ملی تھیں، تحریک انصاف بضد ہے کہ وہ مخصوص سیٹ سنی اتحاد کونسل کو ہی ملنی چاہئے، مخصوص سیٹوں کے کیس بارے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھی تبصرہ کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جلد ہمارے پاس سپریم کورٹ کا فیصلہ آ جائے گا، تحریک انصاف شاید مخصوص نشستیں حاصل نہیں کر پائے گی کیونکہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کے لئے درخواست نہیں دی تھی،سپریم کورٹ کا متوقع فیصلہ متفقہ نہیں بلکہ اختلافی ہو سکتا ہے پھر بھی سنی اتحاد کونسل کے حق میں نہیں جیسا کہ اس وقت نظر آرہا ہے۔ اس ملک میں ہر گھنٹے میں حالات بدلتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ ٹویٹ دو دن میں ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • بار بار قانون توڑا جا رہا ،آخری حد تک جائیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بار بار قانون توڑا جا رہا ،آخری حد تک جائیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں بار بار قانون کو توڑا جا رہا ہے، ہم سے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمیں اگر مخصوص نشستوں سے محروم کیا جا رہا ہے، کسی اور کو کیسے دی جا رہی ہیں ،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ وی ول فائٹ، اللیگل لوگوں کو یہاں نہیں چھوڑیں گے،آج پارلیمانی پارٹی میں اس اشو پر بات ہو گی،عوام ہمیں قانون سازی اور آئین کے تحفظ کیلئے ووٹ دیتے ہیں،آئین کا تحفظ صرف حکمران نہیں بلکہ ہر شہری پر فرض ہے،پہلے مرکز اور کے پی میں حکومت توڑی گئی،آئین کے تحت 90 روز میں انتخابات کرانے تھے،واضح طور پر کہہ رہا ہوں ہم آخری حد تک جائیں گے،مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان نے غیر قانونی طور پر الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی،پارٹی چیئرمین نے ایک بات سکھائی کہ ہم لڑیں گے۔

    قبل ازیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب ملتوی کر دیئے گئے،صوبائی الیکشن کمشنر نے انتخاب ملتوی کرنے کا اعلان کیا،الیکشن کمیشن کا عملہ سامان سمیت اسمبلی سے روانہ ہو گیا، ترجمان کا کہنا ہے کہ انتخاب ملتوی کرنے کا اعلامیہ بعد میں جاری کیا جائیگا،

    پی ٹی آئی کا سندھ میں سینیٹ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان

    گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے صوبے میں سینیٹرز بلامقابلہ منتخب کرنے کا مطالبہ دیا

    بلوچستان، سینیٹ کی تمام 11 خالی سیٹوں‌پر امیدوار بلامقابلہ منتخب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    الیکشن کمیشن کا دوہرا معیار عدالت جائیں گے، اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا دوہرا معیار وزیر اعظم اور صدر کا الیکشن بغیر مخصوص نشستوں کے ہو سکتا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں ہماری مخصوص نشستوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی حلف برداری کے بغیر سینیٹ الیکشن نہیں ہو سکتا ۔ جمہوری اصولوں کے منافی اس آئین شکن چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور ہائی کورٹ میں اس کو چیلنج کریں گے۔

    ہم تو آزاد امیدوار تھے ہی نہیں،باقاعدہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے تھے۔بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کے پی میں سینیٹ الیکشن ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا،پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم آزاد امیدوار نہیں ہیں، ہم باقائدہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود اسپیکر کا یہ اعلان کرنا کہ ہم آزاد ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔ 720 صفحات کی دستاویزات میں نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی تھی، مخصوص نشستوں پر جو پارٹی اسٹرکچر دیا تھا اس میں سنی اتحاد کونسل کا نام تھا، اسپیکر کا یہ قرار دینا کہ ہم آزاد ہیں مناسب نہیں ہے،کے پی پی میں سینیٹ الیکشن ملتوی نہیں ہونے چاہئے تھے، اپوزیشن کی 17 سیٹیں ہیں وہ 30 سیٹیں اور مانگ رہے جو انکی ہیں ہی نہیں،ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے،

  • کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟  عدالت کا استفسار

    کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار

    پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں

    کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟

    سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں

    مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کو بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی۔

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل اور دیگر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا. فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی سمیت تمام پارلیمانی پارٹیوں کو دینے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی،سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی کسی نشست پر الیکشن نہیں لڑا،چئیرمین سنی اتحاد کونسل نے بھی اپنا انتخابی نشان ہونے کے باوجود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا،الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت فیصلہ سنایا،چیف الیکشن کمشنر،ممبر سندھ،پنجاب اور بلوچستان نے نشستیں اکثریتی فیصلے کی حمایت کی،ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔نوٹ میں کہا کہ "معزز ممبران کے ساتھ اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ نہیں کی جاسکتیں، یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تک خالی رکھنی چاہئیں ".

    8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے تھے، بلے کا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے اور جیت کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کی تھی جس پر باقی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص سیٹوں کے لئے فہرست جمع نہیں کروائی جس کی بنیاد پر انہیں سیٹیں نہیں دی جا سکتیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو بھی اس کیس میں سنا تھا، اور فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ،صدارتی ،سینیٹ انتخاب ملتوی کیے جائیں،علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل سامنے آیا ہے، علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ افسوس ناک ہے، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرے گی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں،الیکشن کمیشن کافیصلہ غیرآئینی ہے،صدارتی انتخاب اورسینیٹ الیکشن میں ہمیں نقصان ہوگا،الیکشن کمیشن نےہمیں مخصوص نشستوں کےحق سےمحروم کیاہےہماری جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے تک صدارتی الیکشن اور سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوسکتے،صدارتی اور سینٹ کے الیکشن ملتوی کیے جائیں ،پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اگر صدارتی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات ہوئے تو ہم اس کو قبول نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن جانبدار ہے، اپنی ذمہ داریاں آئینی طریقے سے پوری نہیں کی، وہ فوری مستعفی ہو اور ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے، ہم مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ جائیں گے اور وہاں سے فیصلہ آنے تک وزیراعظم، سینیٹ اور صدارتی انتخاب قابل قبول نہیں۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ وزیر اعظم کے الیکشن سے پہلے جاری نہیں کیا،پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑسکی، آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، لوگ کنفیوژ نہیں ہوئے ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ووٹ دیا ،آئین کہتا ہے فری اینڈ فیئر الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آج ہاوس کے سامنے مطالبہ ہے کہ پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو،

    الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ ،چیلنج کریں گے،شعیب شاہین
    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے،
    امید ہے ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا ، سپریم کورٹ جانے کا حق رکھتے ہیں ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے ، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کیخلاف ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے رابطے شروع کردیئے، پی ٹی آئی نے سینئر قیادت کا اجلاس طلب کرلیا، تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب نے اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے گفتگو کی جائے گی،پی ٹی آئی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی،اجلاس میں فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوگی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی تھی،بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

  • مخصوص نشستیں،سنی اتحاد کونسل کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر

    مخصوص نشستیں،سنی اتحاد کونسل کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے آج کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نےسنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں میں تمام جماعتوں کونوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے، الیکشن کمیشن نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس دیا جائے،پیپلزپارٹی کی فریق بننے کی درخواست منظور کر لی گئی،الیکشن کمیشن نےتمام درخواستوں کو یکجا کردیا، الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا،الیکشن کمیشن کل دوبارہ سماعت کریگا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ مخصوص نشستوں کے معاملہ پر آئین قانون و رولز پر تشریح درکار ہے،

    سنی اتحاد کونسل کی جانب مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نوٹس جاری کر دیئے ،سنی اتحاد کونسل کی درخواست کل الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،ایم کیو ایم، مسلم لیگ نون، اور پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقررکر دی گئیں،جمعیت علمائے اسلام پاکستان، جی ڈی اے، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،الیکشن کمیشن کا فل بینچ کل درخواستوں پر سماعت کرے گا،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کل تک ملتوی
    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں سنی اتحاد کو نسل کو مخصوص نشستیں دینے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ میں ان کو نہیں جانتا کہ ان کو تکلیف کیا ہے یہ پہلے بتائیں ۔اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ سیاسی جماعتیں بھی اس کیس میں آجائیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ہم اپنی جماعت کی طرف سے آئے ہیں ذاتی حیثیت میں نہیں آیا ۔فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ کیا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتیں لینے کے قابل ہے کہ نہیں۔ علی ظفر نے کہا کہ پہلے ان کو مخصوص نشتیں لینےکا دعویٰ کرنا ہوگا اس کے بعد ہی یہ پارٹی بن سکتے ہیں، اعظم نذیر تارڑ پارٹی نہیں ہے ان کی پٹیشن قبول نہیں ہوئی ہے مخصوص نشستیں جو لے نہیں سکتے وہ کیس نہیں کرسکتے ۔ پہلے یہ دعوی کریں کہ یہ مخصوص نشستیں ہماری ہیں ۔کوئی دوسرے کا حق نہیں لے سکتا ہے ۔ اگر کل کوئی کہا کہ میں صدر بنانا چاہتا ہوں اور کمیشن میں آجائے کہ مجھے صدر بناؤ کیا بن جائے گا ۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج ہمارا کیس نہیں لگا ہے۔ اعظم نزیر نے کہاکہ ایسی جماعت لےکر آئیں گے جو ایک جماعت جیت کر نہیں آئی ہے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری درخواست میں 86 ایم این ایز ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں لینے کے قابل ہے کہ نہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس کیس میں سب پارلیمانی جماعتوں کو کمیشن بلائے ۔کیس کو کل تک ملتوی کردیا گیا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    پنجاب اسمبلی کا سیشن غیر قانونی تھا،ہمیں مخصوص سیٹیں دی جائیں، بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشست دینے کا کیس لگا تھا چھ کیس لگے تھے ان میں چھ لوگوں نے چیلنج کیا ہے مگر سنی اتحاد کونسل کا کیس نہیں لگا ہوا تھا ۔جنرل الیکشن میں سازش کرکے ہمیں الگ کیا گیا ہم سے بلا لیا گیا ۔ہمارے امیدواروں کو بلا نہیں دیا انہوں نے آزاد لڑ کر دوتہائی اکثریت حاصل کی ہے پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے حمایت امیدوار 86 ہیں انہون نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ہے ،ہم نے درخواست کی کہ ہمیں مخصوص نشستیں دی جائیں ۔3دن کے اندر ہمارے امیدوارسنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ۔الیکشن کمیشن عوام کی امنگوں کا خیال رکھے گا ان سیٹوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق ہے ،الیکشن کمیشن سے التجا ہے کہ مخصوص نشستوں کے مکمل کئے بغیر سیشن نہ ہو۔اگر ہوگا تو غیر قانونی ہوگا۔
    پنجاب اسمبلی کا سیشن غیر قانونی تھا .

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے کہاکہ ہم تحریک انصاف کے اتحادی ہیں ہماری درخواست نہیں لگائی گئی مگر ہمارے مخالف درخواستوں کولگا یا گیا یہ بنارسی ٹھگ ہیں ۔ان میں کچھ شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے وہ ان میں نہیں ہے ۔ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،ہم تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں.

    ویمن اور مینارٹیز کی سیٹ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے، علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بڑا افسوس ہوا کچھ دن سے میڈیا پر باتیں ہورہی ہیں، آئین میں لکھا ہے مخصوص نشستیں قوانین کے مطابق ملیں گی،ویمن اور مینارٹیز کی سیٹ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کا دعوی کررہی ہیں، ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں جماعتوں جمہوریت کے منافی اقدام کررہے ہیں، اگر ایسا کیا گیا تو یہ آئین اور قانون کے خلاف ہوگا،

    سنی اتحاد کونسل پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں موجود ہی نہیں،عطا تارڑ
    الیکشن کمیشن کے باہرمسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشتوں پر پارلیمان میں موجود جماعتوں کا حق بنتا ہے،سنی اتحاد کونسل پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں موجود ہی نہیں ، سربراہ سنی اتحاد کونسل حامد رضا نے خود آزاد حثیت میں الیکشن میں حصہ لیا ، آپ نے کوئی کاغذات جمع نہیں کرائے ، یہ تو ایسا ہے کہ کوئی جرم ہوا ہی نہیں اور ایف آئی آر ہو ، یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے امید ہے انصاف ہو گا،

    مخصوص سیٹیں،فیصلہ کسی کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں ہو گا ،اعظم نذیر تارڑ
    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ رولز میں واضح ہے کہ جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں انھیں نشستیں دی جائیں ،جنہوں نے الیکشن کے دوران کاغذات جمع کرائے اور ان کی پارلیمان میں موجودگی ہو ان کا حق ہے ، یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ کس کو کتنی سیٹیں ملیں گی ،جو بھی فیصلہ ہو گا قانون کے مطابق ہو گا ،ہم نے کل الیکشن کمیشن کے سامنے دلائل رکھنے ہیں ، فیصلہ کسی کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں ہو گا ، پی ایم ایل این کے 9 اراکین پنجاب اور قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ،وہ نشستیں چھوڑ کر قومی اسمبلی میں آئیں گے،