Baaghi TV

Tag: مخصوص نشستیں

  • پی ٹی آئی کی رکاوٹیں ناکام : مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری آج شام کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کی رکاوٹیں ناکام : مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری آج شام کرنے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری آج شام کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا-

    تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری آج شام گورنر ہاؤس میں ہونے جارہی ہے، حلف برداری کی تقریب شام 6 بجے گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا منتخب ارکان سے حلف لیں گے تقریب کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مدعو ارکان اور صحافیوں کو تقریب میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے آج شام اجلاس بھی طلب کرلیا، پی ٹی آئی کی مزاحمت کے باوجود آئین و قانون نے راستہ نکال لیا، حلف برداری کا باضابطہ اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے، آج شام گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا کا سیاسی منظرنامہ بدلنے والا ہے پی ٹی آئی کی رکاوٹیں ناکام ہوگئی ہے، اپوزیشن جماعتوں آج شام حلف برداری کو جمہوریت کی جیت، آئینی عمل کی فتح قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لیے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو نامزد کردیا،جس کے بعد فیصل کریم کنڈی ان اراکین سے آج شام حلف لیں گے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دوبارہ میٹنگ جاری ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور مشاورتی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی زیرصدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباد اللہ اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی بھی شریک ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سینیٹ الیکشن سے متعلق 6/5 فارمولے کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ناراض سینیٹ امیدواروں کے کاغذات واپس نہ لینے پر بھی مشاورت جاری ہے۔

  • مخصوص نشستیں:نظرثانی کیس چھوٹا بینچ بھی سن سکتا ہے،  جسٹس امین الدین

    مخصوص نشستیں:نظرثانی کیس چھوٹا بینچ بھی سن سکتا ہے، جسٹس امین الدین

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس امین الدین نے کہا کہ نظرثانی کیس چھوٹا بنچ بھی سن سکتا ہے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ نے اس اہم آئینی معاملے کی سماعت کی، سماعت کے دوران سینئر وکلاء حامد خان اور فیصل صدیقی عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر حامد خان نے کہا کہ انہوں نے متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست ہمیں ابھی نہیں ملی اور انہیں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سے پتہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    اس موقع پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ان کی تین متفرق درخواستیں بینچ کے سامنے موجود ہیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ انہوں نے اس بنچ کی تشکیل پر آئینی بنیادوں پر اعتراض اٹھایا ہے کہ نظرثانی سے متعلق ایک آئینی اصول طے شدہ ہے کہ جتنے رکنی بنچ نے فیصلہ دیا ہو، اتنے ہی ارکان پر مشتمل بنچ کو نظرثانی کیس سننا چاہیے۔

    جسٹس امین الدین نے اس موقع پر کہا کہ یہاں 2 ارکان نے درخواستیں خارج کہہ کر خود بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا، فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے اور وہ عدالت کی معاونت کریں گے،اس موقع پر فیصل صدیقی نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی جج کی ذات پر نہیں بلکہ یہ ایک خالصتاً آئینی اعتراض ہے۔

    جسٹس امین الدین نے مزید کہا کہ 13 رکنی بینچ میں سے 2 ججز نے خود کو علیحدہ کر لیا، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ دونوں ججوں نے نوٹس نہ دینے کا خود فیصلہ کیا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ججز کے اپنے اعتراض کے بعد کیا باقی رہ جاتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ وہ دونوں جج اپنا فیصلہ دے چکے ہیں، اب بیٹھ کر کیا کریں گے؟-

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا،بجٹ مذاکرات کا دوسرا دور شروع

    فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی ہمیشہ مرکزی کیس سننے والا بینچ ہی سنتا ہے اور چونکہ مرکزی کیس 13رکنی بینچ نے سنا تھا، لہٰذا نظرثانی بھی اسی بینچ کو سننا چاہیےجسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نظرثانی کیس اب چھوٹا بنچ بھی سن سکتا ہے،ترمیم کے بعد 13 رکنی بنچ کا فیصلہ اب 8 یا 9 رکنی آئینی بنچ بھی سن سکتا ہے۔

    سماعت کے دوران آئینی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر آئینی بینچ کی تشکیل سے متعلق آرٹیکل 3 پڑھا جائے تو سب کچھ واضح ہو جائے گا آئینی بینچ کا دائرہ اختیار کیسز کی حد تک طے شدہ ہے جسٹس امین الدین خان نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اعتراضات پر تفصیل سے دلائل دوں گا،کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر میں ایک سماعت اور لے لوں گا،میں کل بھی یہاں ہوں گا، کل دلائل دے دوں گا۔

    رومانیہ:صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار کو شکست

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ اعتراضات پر اتنے لمبے دلائل دے رہے ہیں، فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میرے لیے یہ کیس ضروری نہیں اور میرا موکل بھی ضروری نہیں ہے، میرے لیے عدالت کا نظرثانی دائرہ سماعت ضروری ہے، ایک بار طے ہو جانا چاہیے کہ نظرثانی کون سا بینچ سنے گا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئینی بینچ میں جو ججز میسر تھے سب اس بینچ میں شامل تھے،2ججز نے مرضی سے خود کو بینچ سے الگ کر لیا،اس کے بعد جو ججز میسرتھے وہ سب اب اس بینچ میں شامل ہیں-

    پریکٹس اینڈ پروسیجر جب چیلنج ہوا تھا اس میں فل کورٹ بیٹھی تھی، اس وقت سوال تھا کہ اگر یہ سب ججز سن رہے ہیں تو ان کیخلاف اپیل کون سنے گا،تو اس سے متعلق سب ججز نے اپنی اپنی رائے دی تھی،فرض کریں اگر آئینی بینچ میں 2 ججز مزید شامل ہو جائیں تو ٹوٹل آئینی بینچ ججز 15 اور اس بینچ میں 13 ججز ہو جائیں گے۔

    پاک بھارت کشیدگی: اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

    اگر دوبارہ ان 13 میں سے 2 ججز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا تو پھر باقی 11 ججز بچ جائیں گے پھر کیا کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ 11رکنی بینچ ان2 الگ ہونے والے ججز کی مرضی سے بنایا گیا ہے، آپ ہمیں صرف اعتراض نہیں اس کا حل بھی بتائیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس سماعت ملتوی کر کے کیس کو دوبارہ سے جوڈیشل کمیشن کو بھیج دیں،جوڈیشل کمیشن 2 ججز کو مزید آئینی بینچ میں شامل کر دے جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جو 2ججز اس درخواست کو ڈس مس کر چکے ہیں ان کا کیاا سٹیٹس ہوگا، کیا وہ ججز دوبارہ سے پھر بیٹھیں گے،اگر وہ2 ججز بیٹھیں گے تو کیا وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کرسکیں گے، وکیل نے جواب دیا کہ جی بالکل، اگر وہ 2 ججز دوبارہ سے بیٹھیں گے تو وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرسکیں گے۔

    بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

    شیخ مجیب کی بائیوپک میں حسینہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ گرفتار

  • سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کے لیے نیا 11 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے جاری شیڈول کے مطابق جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

    جسٹس امین الدین 11 رکنی بینچ کے سربراہ ہوں گے جبکہ بینچ میں شامل دیگر ججز میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس کی سماعت سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق محض ایک فریق کا عدم اطمینان نظرثانی کی بنیاد نہیں ہوسکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے نظرثانی کے اسکوپ پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی آرٹیکل 188 اور رولز کے تحت ہی ہو سکتی ہے، نظرثانی کے لیے فیصلے میں کسی واضح غلطی کی نشاندہی لازم ہے۔

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: مخصوص نشستوں کے کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اقلیتی فیصلے میں اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصلے میں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض ہے، توقع ہے کہ اکثریتی ججز اپنی غلطیوں پرغور کرکے انہیں درست کریں گے پاکستان کا آئین تحریری ہے اور آسان زبان میں ہے، امید کرتا ہوں اکثریتی ججز اپنی غلطیوں کی تصیح کریں گے، بردار ججز یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا نظام آئین کے تحت چلے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اکثریتی مختصر فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوسکی،میرے ساتھی ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے اس کے خلاف ووٹ دیا ، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی فیصلہ دینے والے اپنی غلطیوں کا تدا ر ک کریں گے، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی ججز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کے مطابق پاکستان کو چلائیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس منیب اختر میری رائے کے خلاف گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکثریتی ججز کی رائے پر بھی سوالات اٹھائے، چیف جسٹس نے لکھا کہ آٹھ اکثریتی ججز کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، آٹھ اکثریتی ججز نے مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلیں نمٹائی نہیں، جب اپیلیں نمٹائی نہیں گئیں تو کیس زیرِ التوا سمجھا جائے گا، آٹھ ججز نے اپیلیں زیرالتوا رکھ کر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کونئی درخواستیں دائرکرنے کا کہا، حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس لیے اکثریتی فیصلے پرعملدرآمد نہ کرنے سے توہین عدالت نہیں لگے گی۔

    چیف جسٹس نے لکھا کہ اکثریتی ججز نے وضاحت کی درخواستوں کی گنجائش باقی رکھی، کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا اس پر عمل درآمد ضروری نہیں، آٹھ ججز نے چیف جسٹس سمیت دیگر بنچ کے ممبران کو آگاہ کیے بغیر وضاحت جاری کی، چیف جسٹس پاکستان کی اجا زت کےبغیر وضاحت ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی،نہیں معلوم پی ٹی آئی اورالیکشن کمیشن کی وضاحتی درخواستوں پر سماعت کہاں ہوئی، اکثریتی ججزمیں سے متعدد دستیاب نہیں تھے تو چیمبر میں سماعت کیسے ہوئی، ججز کی عدم دستیابی کے باوجود وضاحتی فیصلہ جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا13 رکنی فل کورٹ بینچ کے 5-8 کی اکثریت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتی نشستوں کی حقدار ہے، انتخابی نشان نہ ملنے سے کسی سیاسی جماعت کا انتخابات میں حصہ لینے کا حق ختم نہیں ہوتا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی 15 دن میں مخصوص نشستوں کیلئے اپنی فہرست جمع کرائے، 80 میں سے 39 ایم این ایز پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کر چکے ہیں، باقی 41 ارکان 15 دن میں پارٹی وابستگی کا حلف نامہ دیں،سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ن لیگ اور ارکان اسمبلی نے نظرثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، بعدازاں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے 2 بار اپنے فیصلے کی وضاحت جاری کی۔

  • مخصوص نشستیں،آٹھ اکثریتی ججز کی ایک اور وضاحت جاری

    مخصوص نشستیں،آٹھ اکثریتی ججز کی ایک اور وضاحت جاری

    سپریم کورٹ کے 8 ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن اور تحریک انصاف کی فیصلہ کی وضاحت کی دوسری درخواست پر وضاحت جاری کردی ہے

    اکثریتی آٹھ ججز کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے 12 جولائی کا فیصلہ غیر موثر نہیں ہو سکتا،الیکشن کمیشن 12 جولائی کے فیصلے پر عمل درآمد کا پابند ہے،الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا ماضی سے اطلاق سپریم کورٹ پر نہیں ہوسکتا،اکثریتی ججز نےاپنی وضاحت الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ کے وضاحتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی دونوں نے دوسری وضاحت طلب کی ہے، ہم سادہ طور پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں اور قانون کی اس دیرینہ تشریح کو دہرانا چاہتے ہیں کہ انتخابات ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم ہمارے فیصلے کو ماضی کے اثرات کے ساتھ منسوخ نہیں کر سکتی۔ عدالت نے مختصر حکم میں عوام کے حق کو نافذ کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے ذریعے مخصوص نشستوں پر متناسب نمائندگی دینے کا حکم دیا تھا، جو کہ آئین کے آرٹیکل 51 کی شق (6) کی ذیلی شق (d) اور (e) اور آرٹیکل 106 کی شق (3) کی ذیلی شق (c) کے تحت ہے۔ لہذا، ہمارے مختصر حکم کے بعد انتخابات ایکٹ میں کی گئی ترامیم کا کوئی اثر نہیں ہوگا، اور کمیشن سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے کا پابند ہے، اور اسے مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے

    آٹھ اکثریتی ججز نے وضاحت میں کہا کہ مختصرحکمنامے میں انتخاب کنندگان کے حق کو سیاسی جماعتوں کے ذریعے نافذ کرنےکے لیے ریلیف دیا، الیکشن ایکٹ میں کی جانےوالی ترمیم کا اثر ہمارے فیصلےکو ماضی میں لاگو کرنے کی اجازت نہیں دیتا، رجوع کا حق اس لیے دیا تھا کہ مختصر حکمنامے پر عملدرآمد میں کوئی پریشانی نہ ہو، اب تفصیلی فیصلہ جاری ہو چکا ہے، لہٰذا اب کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہی، تفصیلی فیصلے میں تمام تر قانونی و آئینی نکات کا احاطہ کردیا گیا ہے،ہم تفصیلی وجوہات جاری کرنے سے پہلے وضاحت جاری کر چکے ہیں، مختصر حکمنامے کے مطابق جاری پہلی وضاحت کو بھی ہماری تفصیلی وجوہات میں شامل کر لیا گیا تھا، مختصر حکمنامے میں وضاحت طلب کرنےکا اختیار عبوری سہولت تھی، جب تک تفصیلی وجوہات نہ دی جائیں، تفصیلی وجوہات پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں، فریقین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام قانونی اور آئینی معاملات کو جامع طور پر نمٹا دیا گیا ہے، جوابات دیے گئے ہیں، لہٰذا مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، عدالت کے فیصلے کا آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت لازم نفاذ ہے اور اسے نافذ کیا جانا چاہیے تھا

    مخصوص نشستیں،سپیکر کے خط کے بعد الیکشن کمیشن نے کی رائے طلب

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    الیکشن کمیشن جلد از جلد مخصوص نشستوں کا اعلان کرے،بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

  • مخصوص نشستیں،الیکشن کمیشن میں اہم اجلاس،قانونی ٹیم نے رائے دے دی

    مخصوص نشستیں،الیکشن کمیشن میں اہم اجلاس،قانونی ٹیم نے رائے دے دی

    مخصوص نشستوں بارے بالآخر الیکشن کمیشن نے کئی اجلاس کے بعد فیصلہ کر لیا

    الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستوں بارے اجلاس ہوا، باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن میں دوران اجلاس قانونی ٹیم نے مخصوص نشستوں پر معطل ارکان کی بحالی کی تجویز دے دی، قانونی ٹیم نے الیکشن ایکٹ پر عمل کرنے کی تجویز دی،اجلاس کے دوران قانونی ٹیم نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین پر عملدرآمد ہر ادارے پر لازم ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم منظوری کے بعد سپریم کورٹ کا حکم غیر موثر ہو جاتا ہے

    قبل ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین الیکشن کمیشن پہنچے، سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین نے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید سے ملاقات کی،ملاقات میں مخصوص نشستوں سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ کی مزید وضاحت کے بعد الیکشن کمیشن مخمصے کا شکار
    الیکشن کمیشن اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،سپریم کورٹ کی مزید وضاحت کے بعد الیکشن کمیشن مخمصے کا شکار ہو گیا ، باخبرذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے وضاحتی فیصلے نے الیکشن کمیشن کو معطل اراکین کو بحال کرنے سے روک دیا،الیکشن کمیشن اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکا،الیکشن کمیشن کا اجلاس ایک گھنٹہ تیس منٹس تک جاری رہا،قانونی ٹیم نے الیکشن کمیشن حکام کو قانونی نکات متعلق بریف کیا،الیکشن کمیشن نےمشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،الیکشن کمیشن کا دوبارہ اجلاس کل پھر بلانے کا امکان ہے

    مخصوص نشستیں،سپیکر کے خط کے بعد الیکشن کمیشن نے کی رائے طلب

    واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماؤں کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو دوسرا خط لکھا تھا،اسپیکر قومی اسمبلی 19 ستمبر 2024 کو الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے ایک خط پہلے ہی ارسال کر چکے ہیں،خط میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ الیکشن ترمیمی بل2024 پاس ہو چکا ہے اب الیکشن کمیشن جلد سے جلد خواتین اور غیر مسلم اراکین کی نشستوں کے حوالے سے فیصلہ کرے،سیٹوں کے جلد فیصلے سے اس حوالے سے ابہام ختم ہو جائے گا اور پارلیمان مکمل فعال ہو کر عوامی فلاح و بہبود کے لیّے بہتر طور پر اقدامات کر سکے گی،علاوہ ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ای سی پی کو دوسرا خط لکھا گیا، جس میں انہوں نے زور دیا کہ اس اہم قانون کی عمل درآمد میں مزید تاخیر جمہوریت اور عوامی خواہشات کے منافی ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں پارلیمانی بالادستی کو جمہوریت کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر فوری عملدرآمد نہ ہونا عوام کی مرضی اور جمہوری نظام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    الیکشن کمیشن جلد از جلد مخصوص نشستوں کا اعلان کرے،بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر ن لیگی اراکین نے کی نظرثانی اپیل

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر ن لیگی اراکین نے کی نظرثانی اپیل

    ن لیگی راکین نے مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پرنظرثانی اپیل دائر کر دی

    ن لیگی تین اراکین اسمبلی کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی گئی ہے،نظرثانی اپیل ہما اختر چغتائی، ماہ جبین عباسی اور سیدہ آمنہ بتول کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،ن لیگی اراکین کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کا مخصوص نشستوں کے لیے فہرست جمع نہ کرانا تسلیم شدہ حقیقت ہے، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے، پورا کیس سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق تھا، اپنی مرضی سے سنی اتحاد کونسل میں جانے والے 41 ارکان کو پارٹی تبدیل کرنے کے لیے 15 دن دینا آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے، قانون میں طے کردہ اصول سے ہٹ کر نیا طریقہ نہیں اپنایا جا سکتا، 12 جولائی کے مختصر اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے، سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ آئین کے تحت نہیں ہے،متاثرہ فریق ن لیگ کی مخصوص نشستوں پر ممبرانِ اسمبلی نامزد ہوئیں اور حلف بھی لیا، متاثرہ فریق درخواست گزار نہیں تھیں پھر بھی عدالتی حکم سے متاثر ہوئیں، متاثرہ اراکین کو سپریم کورٹ میں دوران سماعت نہیں سنا گیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    مخصوص سیٹوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کا ردعمل سامنے آیا ہے،تحریک انصاف نے فیصلے کو خؤش آئند قرار دیا ہے تو وہیں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، اے این پی ،ایم کیو ایم نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے

    فیصلے سے آئین، قانون اور جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ،مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے آئین، قانون اور جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ ملک کی جمہوریت، آئین وقانون کی بالا دستی کے مطابق نہیں ہوا،سنی اتحاد کونسل کے سربراہ اپنی پارٹی سے الیکشن ہی نہیں لڑے سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن کو فہرست ہی جمع نہیں کرائی۔

    ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔اسد قیصر
    تحریک انصاف انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن فارم 47 سے متعلق پٹیشنز پر جلد فیصلہ دے،سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے،آج جمہوریت کی فتح اور آئین و قانون کی بالادستی قائم ہوئی، فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام ، 8 فروری کے انتخابات پر ہمارے تحفظات آج بھی برقرار ہیں،اے این پی
    اے این پی کے مرکزی ترجمان احسان اللّٰہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے ساتھ وہ ریلیف دیا گیا جو مانگا ہی نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، 8 فروری کے انتخابات پر ہمارے تحفظات آج بھی برقرار ہیں، یہ تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی زدہ اور متنازع انتخابات تھے،الیکشن کمیشن اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے، مخصوص نشستوں سے متعلق بھی الیکشن کمیشن نے ڈرامہ کیا، آئینی ماہرین اس پر روشنی ڈالیں کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں تھا ہی نہیں، اس پر فیصلہ کیسے کیا گیا؟ آئین کی بالا دستی کے لیے عدلیہ میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے، مخصوص نشستیں ان کا حق ہے جن کے اراکین اسمبلیوں میں ہیں۔

    میرے خیال میں آئین کو دوبارہ لکھا گیا ہے، آئین اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔فیصل واوڈا
    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا نقصان پی ٹی آئی کو ہوگا، چند دنوں میں اپوزیشن کے مزید ٹکڑے ہوجائیں گے کہ اِنہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، پی ٹی آئی مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی، اس کیس میں جو استدعا کی ہی نہیں گئی اس پر بھی فیصلہ آ گیا ہے،میرے خیال میں آئین کو دوبارہ لکھا گیا ہے، آئین اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔

    تحریک انصاف کی قیادت اس فتح کوسیاسی مکالمے کےآغاز سےمنائیں،عشرت العباد
    سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کےفیصلے نے آئین کی پاسداری کی توثیق کی ہے، مضبوط جمہوریت کی بنیاد آزاد عدلیہ،جمہوری پارلیمنٹ،قابل انتظامیہ پرقائم ہوتی ہے،جمہوری اصولوں کےحقیقی نفاذ کیلئے تمام سیاسی جماعتیں بامقصد بات چیت کریں،سیاسی جماعتیں عوام کو ریلیف کیلئے کام کریں اور قومی مفاد میں نظم و ضبط بحال کریں، تحریک انصاف کی قیادت اس فتح کوسیاسی مکالمے کےآغاز سےمنائیں، پی ٹی آئی قیادت استحکام کا مضبوط ستون بنے۔

    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ 11/2 کا فیصلہ ہے، 11 ججز نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک پارٹی تھی اور ہے، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، الیکشن کمیشن جوجرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے گھر جائے گا،

    ایسے فیصلوں سے معاشی عدم استحکام بڑھتا ہے،طلال چودھری
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے پاکستان کے سیاسی استحکام کو نقصان دیتے ہیں اور ایسے فیصلوں سے معاشی عدم استحکام بڑھتا ہے، اس فیصلے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، الیکشن کمیشن کو ڈکٹیٹ نہیں کرنا چاہیے، انہیں ان کا کام کرنے دینا چاہیے، ہر دفعہ الیکشن کمیشن ہی کیوں غلط ہوتا ہے ، الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کیوں کی جاتی ہے، تمام اداروں کو الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو سپورٹ کرنا چاہیے، ان کے ساتھ چلنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ پاکستان میں ایسا ماحول بننا چاہیے جس سے سیاسی اور معاشی استحکام آئے۔

    ماہرِ قانون اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے قانونی ابہام دور ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے،کیس تو سارا سنی اتحاد کونسل کا تھا، مخصوص نشستوں پر دعویٰ بھی ان ہی کا تھا، عدالت کے سامنے پی ٹی آئی کا کیس ہی نہیں تھا،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قانونی ابہام دور ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے، معاملہ پارلیمنٹ کی طرف جانا چاہیے تھا، عدالتی فیصلے سے حکومتی اتحاد کو کوئی فرق نہیں پڑے گا

    طاقتور ستون جو پہلے ساس کے کنٹرول میں تھا ، ٹرکوں کے زیر اثر تھا اب “ڈیجیٹل دہشت گردوں “کے قابو آ چکا،وقار ستی
    صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ تلخ حقائق !!!جمہوریت کا تماشا بنانے یا اس کا گلہ دبانے میں کس ادارے کا کیا کردار ہے آج واضع ہوگیا۔افسوسناک صورتحال ہے کہ ریاست کا ایک سب سے طاقتور ستون جو پہلے ساس کے کنٹرول میں تھا ، ٹرکوں کے زیر اثر تھا اب “ڈیجیٹل دہشت گردوں “کے قابو آ چکاہے۔ کیا ریاست کے لیے اس سے بڑا خطرہ کوئی ہوسکتا ہے ؟ ایسے حالات اور ایسا ماحول پیدا کرنا ملک کو انارکی ، مارا ماری بےیقینی اور افراتفری کی طرف لے کر جانے کے مترادف ہے۔یہ حالات ملک کو عدم استحکام کی طرگ دھکیل رہے ہیں ۔ سیاسی تعلق سے بالاتر ہوکر سوچئیے کیا یہ ماحول پاکستان کے مفاد میں ہے یا اس کے نقصان میں۔ ؟؟

    صحافی نصر اللہ ملک کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے معاملہ مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ آرٹیکل 51 کی شق ڈی بالکل واضح ہے کہ خواتین اور اقلیتی نشستیں صرف ان جماعتوں کو دی جاسکتی ہیں جو فہرست میں شامل ہیں اور جنہوں نے ای سی پی کو فہرستیں فراہم کی ہیں۔پی ٹی آئی نے نہ تو دفعہ 104 کے تحت مخصوص نشستوں کے لیے درخواست دی تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی نے ای سی پی میں مخصوص نشستوں کے لیے چیلنج کیا تھا۔ پی ٹی آئی کا بنیادی معاملہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ایس آئی سی میں شامل ہو چکے ہیں اور اب ایس آئی سی کے حقدار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ لکھا۔اگر ایس آئی سی میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی امیدوار مستقبل میں دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں تو مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیا گیا جس کا اس نے دعویٰ بھی نہیں کیا۔ سپریم کورٹ جب 185 کے تحت کسی بھی چیز کا جائزہ لیتی ہے، تو یہ عام طور پر ان درخواستوں تک محدود ہوتا ہے جو نچلی عدالت سے سپریم کورٹ تک پہنچتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے دیگر جماعتوں کو دی گئی مخصوص نشستوں کے اراکین کو سنے بغیر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا۔ عدالت میں جن 80 ارکان کا ذکر کیا گیا وہ نہ تو عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔فیصلہ آئین کے مطابق نہیں ہے۔ یہ پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔ اسے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ یہ ایک منفرد فیصلہ ہے جو آئین سے بالاتر ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر قبول کر لیا ہے جبکہ اس کے اراکین نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نشان پر الیکشن لڑنے والی سیاسی جماعتوں کی قدر ختم ہو جائے گی۔ آزاد امیدوار اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹیاں تبدیل کر سکیں گے۔ اس قسم کے فیصلے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایک ایسا نیا سسٹم سامنے آئے گا جس کی قانون اور آئین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بدقسمتی سے فیصلے آئین و قانون کے مطابق دینے کی بجائے سیاسی جماعتوں اور انکی سوشل میڈیا ٹیموں کو دیکھ کر دئیےجا رہے ہیں.

    صحافی و اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کچھ بھی کہیں لیکن تحریک انصاف سے اسکا انتخابی نشان تو انہوں نے ہی چھینا تھا اب وہ کہتے ہیں میرے فیصلے کی غلط تشریح ہوئی لیکن طاقتور حلقوں کے کچھ ترجمان تو بہت پہلے سے کہہ رہے تھے کہ تحریک انصاف کو بلا نہیں ملے گا انہیں کیسے پتہ تھا؟ قاضی صاحب کا فیصلہ تو بہت بعد میں آیا یہ سب کیا تھا؟

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

  • سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا
    مخصوص نشستوں کے کیس کا تحریری مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے ،فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست بھی شامل ہے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار م ، پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل، بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،آزاد ارکان قرار دئیے گئے ارکان میں علی محمد خان، شہریار آفریدی ،انیقہ مہدی شامل ہیں،احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز ، عمیر خان نیازی ، ثناء اللہ خان مستی خیل بھی آزاد ارکان قرار پائے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرا ر دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ حمزہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان ، وقاص اکرم شیخ ، بھی آزار ارکان قرار دیئے گئے،میاں محمد اظہر ، سید رضا علی گیلانی ، جمشید دستی ، خواجہ شیراز آزاد ارکان قرار دیئے گئے

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کےاختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی یا اس کے کسی رہنما نے آزاد رکن قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا،تاہم اس حقیقت کے پیش نظر درخواستیں انتخابی کاروائی کا تسلسل ہے اس لیے عدالت کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،آئین کا آرٹیکل 51(1)(ڈی) خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ضامن ہے،جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے دن تک کوئی اور ڈیکلیریشن جمع نہیں کرایا وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں،لہٰذا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شامل کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،ایسے امیدوار جنہوں نے 24 دسمبر 2023 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور انہوں نے خود کو آزاد یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوں گے،سنی اتحاد کونسل ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آزاد ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں سکیں، جن لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اپنی رضامندی سے سنی اتحاد میں شامل ہوئے،

    تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 8/5 کی اکثریت سے ہے، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے وہ فیصلہ سنائیں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان کے چھینے سے کسی سیاسی جماعت کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا ،تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، پی ٹی آئی کو عورتوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملیں گی،دیگر جماعتوں کو ملنے والی مخصوص نشستیں واپس لے لی گئیں ہیں جن 39 امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی دکھائی وہ پی ٹی آئی کے ہی ہیں ،تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، وہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو لسٹ جمع کرائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی۔ نشستیں صرف پاکستان تحریک انصاف کو ملیں گی،پی ٹی آئی 15 روز میں مخصوص نشستوں کی فہرست دے،الیکشن کمیشن نے 80 ارکان کی فہرست پیش کی ہے ،80 میں سے 39 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا ،باقی 41 ارکان آئندہ 15 دنوں میں اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ کس جماعت کا حصہ ہیں

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بطور پی ٹی آئی قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں مسترد کر دیں،عدالت نے کہا کہ دیگر 41 امیدوار بھی 14 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں کہ وہ سنی اتحادکونسل کے امیدوار تھے، سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت نے اکثریتی فیصلہ سنایا۔

    فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست کی مسترد
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے درخواستوں کی مخالفت کی جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے قانون کے مطابق پروسیس مکمل نہیں کیا درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کا یکم مارچ کا آرڈر برقرار رہے گا،

    الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان کو نکال کر فیصلہ دیا، اس بنیاد پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن نے غلط طور پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کیا، پی ٹی آئی نے آزاد قرار دیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے، اب پی ٹی آئی کے منتخب ارکان یا خود کو آزاد یا پی ٹی آئی ڈیکلیئر کریں، پی ٹی آئی ارکان پر کسی قسم کا دباو نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں مصنوعی الفاظ کا اضافہ نہیں کر سکتی، آئین کی تشریح کے ذریعے نئے الفاظ کا اضافہ کرنا آئین پاکستان کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کےفیصلے کی غلط تشریح کی،

    جسٹس امین الدین خان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد کرتے ہیں، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ میں بھی جسٹس امین الدین خان کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں ،چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی ایک نشست بھی نا جیت سکی، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی، آئین نے متناسب نمائندگی کا تصور دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے فیصلہ سنایا، اس موقع پر سپریم کورٹ کےباہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں موجود تھی، پولیس الرٹ تھی،سپریم کورٹ کی جانب جانے والے راستے بند اور عام شہریوں کا داخلہ بند کردیا گیا تھا، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان،سردار لطیف کھوسہ اور کنول شوذب بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر علی خان, شبیر قریشی اور ثناءاللہ مستی خیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہِ عدالت وکلاء، رہنماؤں اور صحافیوں کی بڑی تعداد سے بھر گیاتھا،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو دن فل کورٹ مشاورتی اجلاس بلایا تھا جس کے بعد گزشتہ روز پہلے کہا گیا تھا کہ تین رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا پھر کاز لسٹ جاری کی گئی کہ فل کورٹ فیصلہ سنائے گی،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    جمعہ کا دن،کئی عدالتی فیصلے،ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا
    پاکستان کی ملکی سیاست میں جمعہ کا دن انتہائی اہم رہا، جمعہ کے دن کئی عدالتی فیصلے ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلایا،20 جولائی 2007 جمعہ کے روز سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ہوئی تھی،31 جولائی 2009 بروز جمعہ ،ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا،28 جولائی 2017 بروز جمعہ،پانامہ لیکس کیس میں‌سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا،15 دسمبر 2017 بروز جمعہ، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا،13 اپریل 2018 بروز جمعہ، نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا،6 جولائی 2018،ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نواز شریف، مریم نواز،کیپٹن ر صفدر کو سزا سنائی گئی تھی،

    شریف برادران اور مسلم لیگ ن کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے، پانامہ کیس کے فیصلے سے تاحیات نااہلی کے فیصلے تک سب جمعہ کو سنائے گئے، پانچ مئی 2017 بروزجمعہ پاناما جے آئی ٹی بنی۔ اٹھائیس جولائی بروز جمعہ نواز شریف نااہل ہوئے۔ پندرہ ستمبر بروز جمعہ نظر ثانی کی درخواست خارج ہوئی۔ تیرہ اپریل کو نواز شریف تاحیات نا اہل ہوئے .ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جمعہ چھ جولائی دوہزار اٹھارہ کو سنایا گیا جب عدالت نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن قید کی سزا کا حکم سنایا۔ا س سے پہلے اصغر خان کیس میں نوازشریف اور دیگر کیخلاف تحقیقات کا حکم بھی انیس اکتوبر 2012 بروز جمعے کو ہی جاری ہوا تھا.

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

  • انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے،  جسٹس اطہر من اللہ

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس، جسٹس اطہر من اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ لکھ دیا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ بڑی جماعت کو سُپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نااہل کیا، بادی النظر میں فیصلہ کسی کو نااہل قرار دینے کیلئے نہیں تھا، عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے نکالا گیا، ووٹر کو بنیادی حق سے محروم کیا گیا، وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل کے بعد ووٹرز کی اہمیت اور حقوق پر اثرات سے متعلق سوالات اٹھ گئے، انتخابی عمل کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات جڑے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت سپریم کورٹ فیصلےکی تشریح کی بنیاد پر نااہل ہوئی، بادی النظر میں سپریم کورٹ فیصلے کی تشریح غلط ہوئی، سپریم کورٹ فیصلے کا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنا نہیں تھا۔

    الیکشن کمیشن تحریری بیان دے کہ کیا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قانونی عمل تھا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ انتخابات سے قبل، دوران اور بعد میں کیا کیا شکایات تھیں؟ الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے۔یہ مخصوص نشستوں کا کیس صرف نشستوں کا نہیں، یہ اصل اسٹیک ہولڈرز یعنی ووٹرز کے بنیادی آئینی حقوق کا کیس ہے،الیکشن کمیشن مطمئن کرے کہ عام انتخابات میں سب کو یکساں مواقع دے کر اپنی آئینی ذمے داری پوری کی، ‏مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ اکیلے میں محض تکنیکی نقطے نکال کر نہیں کیا جاسکتا، مخصوص نشستوں کا فیصلہ 8 فروری کے انتخابات کے تناظر میں کیا جاسکتا ہے، الیکشن کمیشن تحریری بیان دے کہ کیا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قانونی عمل تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا سپریم کورٹ فیصلے پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں اور واضح ہیں،بادی النظر میں صورتحال غیر معمولی تھی، نااہل ہونے والی سیاسی جماعت کے امیدوار اپنی حیثیت رکھنا چاہتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت دینے کا فیصلہ آر اوز پر ڈالنے کی کوشش کی، وکیل کے دلائل نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں، الیکشن کمیشن کی غلط تشریح کا اثر سیاسی جماعت، ووٹرز اور مخصوص نشستوں سے محروم رکھنے پر پڑا، گورننس، پالیسیاں، قانون سازی اور عوام کا اعتماد کا انحصار انتخابی عمل پر ہوتا ہے

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ