Baaghi TV

Tag: مخصوص نشستیں

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات پوچھے، ابھی دلائل دوں یا جواب الجواب میں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چھوٹے دلائل ہیں تو ابھی دےدیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں چیئرمین کی سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر ہوتی، سنی اتحاد کونسل کا نشان نہ ملنے پر چیئرمین نے بطور آزادامیدوار انتخابات لڑے، جمیعت علمائے ف میں بھی اقلیتیوں کو ممبر شپ نہیں دی جاتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہوا میں بات کی، ایسے بیان نہیں دے سکتے، آپ دستاویزات دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دستاویزات بھی دوں گا، الیکشن کمیشن بھی کنفرم کردےگا، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا کاغذات نامزدگی کیساتھ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا گیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے حامد رضا کو روکا جا رہا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کہہ رہے حامدرضانے سنی اتحاد کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیاگیا، سنی اتحاد کا نشان گھوڑاہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامدرضا کو گھوڑے کا نشان کیوں نہیں ملا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے زبردستی آزاد امیدوار کا نشان الاٹ کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب اگر آپ نے کاغذات فائل کئے ہونگے تو سوالات نہیں پوچھنے پڑتے، کاغذات کے بغیر آپ کو بات نہیں کرنے دیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا،

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کے کاغذات نامزدگی پیش کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ حامد رضا کے کاغذات نامزدگی کی کاپیاں کروا کر تمام ججز کو دیں،

    سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ جسٹس منصور علی شاہ
    مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا، مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن پروگرام الیکشن ایکٹ کے تحت جاری کیاگیا، کاغذات نامزدگی تاریخ سے قبل جمع کروانا ضروری ہوتا، تاریخ میں توسیع بھی کی گئی،24 دسمبر تک مخصوص نشستوں کی لسٹ کی تاریخ جاری کی گئی،الیکشن کمیشن کنفرم کرےگا، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب الیکشن کمیشن بہتر دے سکتا ہے، سپریم کورٹ نے حکم امتناع دیا تو اضافی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی رکنیت معطل ہوگئی،انتخابات سے پہلے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے والے ہی بعد میں دعویٰ کر سکتے ہیں،الیکشن ایکٹ سیکشن 206 کے مطابق سیاسی جماعتوں کو شفاف طریقہ کار سے نشستوں کے لیے لسٹ دینی ہوتی، سنی اتحاد کی طرف سے کسی امیدوار نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سے خواتین کی لسٹ موجود نہیں اور جمع نہیں کرائی گئی،جمع کروائی گئی لسٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی، الیکشن کمیشن کنفرم کردےگا،پانچ رکنی پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے دونوں کیسز میں سنی اتحاد کے خلاف فیصلہ دیا، سنی اتحاد نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ آزادامیدوار شامل ہوئے ہیں

    حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا،جسٹس عائشہ ملک
    وکیل مخدوم علی خان نے الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز کا حوالہ دیااور کہا کہ مخصوص نشستیں حاصل کی گئی جنرل سیٹوں پر انحصار کرتی ہیں،آزادامیدوار تین دنوں کے اندر کسی جماعت میں شامل ہوں تو مخصوص نشستوں کے لیے گنا جائےگا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں حامد رضا نے سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر کی، اگر یہ بات درست ہوئی تو یہ سنی اتحاد کونسل کی پارلیمان میں جنرل نشست ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وابستگی کیلئے پارٹی ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فی الوقت صاحبزادہ حامد رضا کا خط ریکارڈ پر موجود ہے کہ انکے نشان پر کوئی الیکشن نہیں لڑا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان کا پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے سے تعلق نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا، الیکشن کمیشن اس معاملے کی تصدیق کرے تو کیس نیا رخ اختیار کر سکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان موجود تھا لیکن کسی نے اس پر الیکشن نہیں لڑا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اپیلوں میں یہ نکتہ بھی نہیں اٹھایا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جو نکات اپیلوں میں اٹھائے گئے ہیں انہی تک محدود رہیں گے، ججز کا کام کسی فریق کا کیس بنانا یا بگاڑنا نہیں ہوتا،

    اپنے موقف پر قائم ہوں پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل

    جسٹس عرفا ن سعادت نے کہا کہ تحریک انصاف اور تحریک انصاف نظریاتی میں کیا فرق ہے،کبھی تحریک انصاف ہوجاتی ہے کبھی تحریک انصاف نظریاتی ان میں فرق بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف نظرثانی سیاسی جماعت ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابی نشان بلے باز ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا تحریک انصاف نے ایسا کیوں کیا؟ اپنی پارٹی میں رہنا چاہیے تھا، سنی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم نے تو نہیں کہا کہ سنی اتحاد میں شامل ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انتخابات کو سپریم کورٹ میں دیکھا جارہا، الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیسے ظاہرکیا؟ کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ الیکشن کے حوالے سے بات کررہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے موقف پر قائم ہوں کہ پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سارا معاملہ شروع ہی سیاسی جماعت کے امیدواروں کو آزاد قرار دینے سے ہوا، کیسے ممکن ہے کہ اس بنیادی سوال کو چھوڑ دیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل اپنا کیس جیتے یا ہارے، دوسری جماعتوں کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر ہی مل سکتی ہیں،متناسب نمائندگی کے اصول سے ہٹ کر نشستیں نہیں دی جا سکتیں، اضافی نشستیں لینے والے بتائیں کہ ان کا موقف کیا ہے؟ دیگر جماعتوں کو چھوڑیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہمیں آئین دوبارہ لکھنا شروع کر دینا چاہیے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین میں پہلے سے درج متناسب نمائندگی کا فارمولہ سمجھائیں! فارمولا کیا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سنی اتحاد نے انتخابات میں حصہ لیا نا مخصوص نشستوں کی لسٹ فراہم کی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسے کیا متناسب سیٹیں دیگر سیاسی جماعتوں کو مل جائیں گی؟فرض کریں سنی اتحاد کو نہیں ملتیں مخصوص نشستیں لیکن آپ کو کیسے ملنی چاہیے ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں فرضی سوالات کے جوابات نہیں دوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر کوئی ممبر استعفیٰ دےدے یا انتقال کرجائے تو ایسا تو نہیں پارلیمنٹ کام کرنا چھوڑ دےگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی جج ریٹائر ہوجائے تو سپریم کورٹ کام کرنا تھوڑی چھوڑ دےگی؟ اگر کوئی ممبر نہیں یا نشست خالی ہے تو ضمنی انتخابات ہو جائیں گے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات میں پارلیمنٹ مکمل کرنے کیلئے مخصوص نشستیں دی گئیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسا کیس کبھی نہیں آیا کہ کسی پارٹی نے انتخابات لڑے نہیں اور مخصوص نشستیں مانگ رہی ہو،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی رہ سکتی ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آمر آئے سب ساتھ مل جاتے ہیں منسٹر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں،جب جمہوریت آئے چھریاں نکال کر آجاتے ہیں،اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں،آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے،

    سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈکٹیٹر کے اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں،میں نے مشرف دور میں وکالت چھوڑ دی تھی،ڈکٹیٹر کے وقت منسٹر بھی بن جائیں پھر اصول کی بات کریں؟ تاریخ کی بات کر رہے ہیں تو مکمل تاریخ کی بات کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتہائی احترام سے کہہ رہا ہوں آج آئین کی پاسداری نہیں ہو رہی، ہم آج ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ہوں گے،ہم بطور سپریم کورٹ آنکھیں بند نہیں کر سکتے،ہم نے بطور سپریم کورٹ سر ریت میں دبا لئے ہیں، لاپتہ افراد کے کیسز ہیں، بنیادی حقوق کی پامالیاں ہیں، یہ سب سیاسی مقدمات نہیں انسانی حقوق کا معاملہ ہے،ہم سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، میری نظر میں آج بھی سب سے اہم درخواست اس عدالت میں 8 فروری الیکشن میں دھاندلی کی ہے،

    سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاریخ بہترین استاد ہے ورنہ بار بار غلطیاں کی جاتی ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں کبھی نہیں کہوں گا کہ میں نے غلطیاں نہیں کیں، سنی اتحاد نے جس طرح کیس کو عدالت میں پیش کیا ویسے ہی اسے دیکھنا چاہیے، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا ہوتیں،جو سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہیں ان پر مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا لازم نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ انتخابات کو سیکرٹ بیلٹ کے تحت ہونا چاہئے سیکرٹ بیلٹ کہاں ہے؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ووٹرز کو معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ دینے والی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ کیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم ججز اور الیکشن کمیشن بھی آئین کی پاسداری کا حلف لیتا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی نہیں کہتاکہ ووٹرز سے ان کا حق چھین لیا جائےگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا،اقلیتوں اور خواتین کو نمائندگی دینا اصل مقصد ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آئین میں الیکشن میں منتخب ہونے کا لفظ لکھا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ صدر اور سینٹ انتخابات کیلئے الگ الیکٹوریٹ دیا ہوتا ہے،کیس میں لگ رہا جیسے انتخابات ہوہی نہیں رہے لیکن آپ کہہ رہے کہ الیکشن ہورہا ہے،آپ مجھے دکھا دیں کہ کوئی الیکشن ہورہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسی باتوں میں پھنس گئے تو دیگر کو سن نہیں پائیں گے آج کیس مکمل کرنا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی جماعت اگر خواتین یا اقلیتی نشستوں کے لیے لسٹ نہیں دیتی تو کیا پارلیمنٹ میں سیٹ خالی رکھی جائےگی، انتخابات میں سیاسی جماعت ہی صرف سیٹ جیٹ سکتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سیاسی جماعت کون ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ دینے والی سیاسی جماعت کہلاتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یعنی جو لسٹ نہیں دیتی اسے سیاسی جماعت نہیں کہیں گے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت سیٹیں جیتے تو انتخابات میں جیت کا معلوم ہوتا ہے،جیتنے والی سیاسی جماعتوں میں آزاد امیدوار شامل ہوتے ہیں،جس سیاسی جماعت کے پاس سیٹ ہی نہیں اس میں آزاد امیدوار شامل نہیں ہوسکتے، جس سیاسی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ ہی نہیں تو الیکٹوریٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اثرات تو ہوں گے،اگر پرائز بانڈ خریدا ہی نہیں تو پرائز بانڈ نکل کیسے آئے گا خریدنا تو ضروری ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کے حقوق کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی،ہمیں درخواستگزاروں نے بتایا کہ اہم درخواستیں زیرالتوا ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ درخواستیں کیوں زیرالتوا ہیں اس کا جواب عدالت دے وکیل تو نہیں دے سکتا،اگر سیاسی جماعت نے انتخابات سے قبل لسٹ نہیں دی اور بعد میں دے تو مزید غیر جمہوری ہوگا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں آزاد امیدواروں نے دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت سیٹیں زیادہ جیتیں،مسئلہ یہ ہے کہ کس حساب سے سیٹیں بانٹی جائینگی،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 17 اور بعد میں مزید 10 مخصوص نشستیں دی گئیں، آپ کہہ رہے اگرسنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت رہتی تو 17 سیٹیں ہوتیں، اب جب نہیں تو 27 سیٹیں ن لیگ کی ہوگئیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو طریقہ کار سے سیٹیں تقسیم گئی ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آزادامیدوار نے ایسی سیاسی جماعت شامل ہونا ہوتا جس نے کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صرف یہی ضروری ہے کہ سیٹیں زیادہ ہوں یا انتخابات میں خواتین، اقلیتوں کی نمائندگی پر بات کرنا ضروری ہے، اقلیتی، خواتین کسی سیاسی جماعت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کی نمائندگی کو محفوظ کرنا ہے،تاریخ پر بات کرنی چاہیے اور تاریخ سے سیکھنا چاہیے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر دو سیاسی جماعت ہیں تو انہی پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے انتخابات کا رزلٹ آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا، دو سیاسی جماعتیں ہیں تو کیا انہیں پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مخصوص نشستیں بانٹنے کا طریقہ ہر انتخابات میں تبدیل ہوتا رہتاہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھنے کا نہیں کہہ رہا، آئین کہہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھیں،

    ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جسٹس اطہرمن اللہ
    حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،وکیل مخدوم علی خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ اقلیتی بھی آپ کی سیاسی جماعت میں اکر بیٹھیں، اگر سیاسی حریف نہیں پسند تو سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ دونوں حریف ساتھ بیٹھیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اقلیتی، خواتین کو ضرور پارلیمنٹ میں نمائندگی ملنی چاہیے،ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جیسا 2018 میں ہوا اب بھی ویسا ہی ہورہاہے، متاثرہ ایک ہی سیاسی جماعت رہی، ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، ابھی تو ہم موجودہ درخواستوں پر کرلیں گے بات لیکن مستقبل میں ایسا وقت ضرور آئےگا جب سپریم کورٹ دوبارہ افسوس کرےگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2 فروری 2024 والا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کی غلط تشریح پر ہے، کیا ہمیں الیکشن کمیشن کے غلط تشریح پر مبنی فیصلہ نہیں دیکھنا چاہیے یا نظر انداز کردینا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایک سیاسی جماعت ہے جو بہت مشہور ہے لیکن انتخابات سے بایئکاٹ کرلیتی ہے، کیا عوام کی سپورٹ کے باوجود بائیکاٹ کرنے والی پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں گی؟ مخصوص نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا شیڈول ایک اہم دستاویز ہوتا جس میں مخصوص اور جنرل سیٹیں شامل ہوتی ہیں،جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کے لیے ایک تاریخ دی جاتی،مخصوص نشستوں کابھی نوٹیفکیشن ہوتاہے، فارم 33 جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے ہوتاہے،ریٹرننگ افسران مخصوص، جنرل نشستوں کے فارم 33 کی اسکروٹنی کرتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن فیصلہ کرےگا کہ امیدوار کی کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارم66 مخصوص نشستوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی لسٹ ہوتی،
    جنرل اور مخصوص نشستوں کی لسٹ کا طریقہ کار بلکل ایک طرح کا ہے،کاغذات نامزدگی پہلی اسٹیج ہوتی ہے، خواتین، اقلیتوں کی سیٹوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی جنرل نشستوں کی ہے،خواتین کی مخصوص نشست وزیراعظم کے لیے بھی امیدوار ہوسکتا،

    انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈکلیئر کر دیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کیسے کی ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب انتحابی نشان واپس ہوگیا تو پی ٹی آئی نے وقت پر نئے انتخابی نشان کیلئے درخواست نہیں دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق بلے کے نشان کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے معذرت اگر ایسا سمجھا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو کم از کم پڑھ لیں فیصلہ نہیں بلکہ یہ قانون ہے،آج انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے تو کل ہو سکتے ہیں، میں حیران تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرا رہی،الیکشن کمیشن کے وکیل سوالات نوٹ کر کے آخر میں جواب دیں،ہزاروں کیسز پڑے ہیں اس ایک ہی کیس کو تو نہیں سنیں گے،تین بجے تک سماعت میں وقفہ کرتے ہیں،آج ہم ججز کا کھانا ہے وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،کیس کی سماعت میں تین بجے تک وقفہ کر دیا گیا

    سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے،جسٹس یحیی آفریدی کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل کی جسٹس اطہر من اللہ سے تلخ کلامی ہوئی،متعدد بار روکنے کے باوجود سکندر بشیر بولتے رہے۔جسٹس عائشہ ملک بھی الیکشن کمیشن کے وکیل کے رویئے پر برہم ہو گئیں ،ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ جواب دینے کا غیر مناسب طریقہ ہے۔

    پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں اسکاجواب نہیں دوں گا،مائی لارڈ میں نے پریس کانفرنس دیکھی ہی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یعنی آپ کامطلب ہےکہ الیکشن کمیشن کسی بےقاعدگی کی ذمہ داری لینےکو تیارنہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات سے قبل اور بعد کی جمع ہونے والی شکایت بھی دے دیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاحبزادہ حامد رضا کو قانون کے مطابق ان کی پارٹی کا نشان کیوں نہیں دیا؟آپ نے اسے شٹل کا ک کا نشان کیوں دیا.یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی کہ پارٹی کو انکا نشان نہیں دیا گیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد نے کبھی مخصوص نشستوں سے متعلق اپنی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ نہیں دی،صوبائی، قومی میں اقلیتی، خواتین کی الگ الگ لسٹیں بنتیں، کُل 13 لسٹیں بنتیں ہیں، سنی اتحاد نے ایک بھی نہیں دی،

    بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز پر برہم ہو گئے،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب میں سپریم کورٹ فیصلے پر کسی کو ریمارکس نہیں دینے دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بلے کے نشان پر فیصلے سے کنفیوژ کررہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہرمن اللہ کو روک دیا، اور کہا کہ بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے نشان کا فیصلہ کہنے میں فرق ہے، ایک طرف ریویو کررہے اور دوسری طرف تبصرہ کررہے، کسی اور بینچ کا فیصلے پر ریمارکس دینا درست نہیں ، آگے چلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کوئی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھا رہا،کیا الیکشن کمیشن نے بتایاکہ اگر بلا نہیں ہوگا تو تمام امیدوار ایک نشان پر انتخابات کیسے لڑیں گے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تھا اس کے اثرات ہوسکتے تھے، جمہوریت کی ضرور بات کرنی ہے لیکن انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروانا، ہمارا کام یہ دیکھنا نہیں کہ کون کس کو منتخب کرتا ہے، 91 پوسٹس تھیں تحریک انصاف کے سب عہدیدار بلامقابلہ منتخب ہوئے، بطور وزیراعظم الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے ایک سال دے دیں، اب تو شاید وہ الیکشن کمیشن کے دشمن ہوگئے، مجھے نہیں سمجھ آتی کیوں اپنی سیاسی جماعت میں انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرواتے کیا یہی جمہوریت ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل ریکارڈ صیحح طرح سے سپریم کورٹ میں پیش کرنے میں ناکام ہو گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے میرے خیال سے الیکشن کمیشن کو آج ریکارڈ دے دینا چاہئے تھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 6 بجے دفتر پہنچا،جسٹس منصور علی شاہ ریکارڈ ڈھونڈتے رہے،سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی مدد کو آگئے، ریکارڈ پیش کرنا چاہا تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا شکریہ،الیکشن کمیشن وکیل صیحح طرح سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر معذرت کرتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن صفحے بدلتے رہے، مدد لیتے رہے،ججز ایک دوسرے کے صفحے دیکھتے رہے اور پوچھتے رہے، کنفیوژن ہوگئی

    سُپریم کورٹ میں سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کی صبح 11:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے سماعت کی،جسٹس مسرت ہلالی طبیعت ناسازی کے باعث فل کورٹ کا حصہ نہیں ہیں ،سلمان اکرم راجہ اور فیصل صدیقی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آگئے ، فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی تنازع نہیں، کیونکہ وہاں ہماری کوئی نمائندگی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا 2 اپیلیں فائل کی گئی ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی دو اپیلیں ہم نے فائل کی ہیں، ایک میری اور دوسری خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے فائل کی گئی ،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا ایک کیس عدالتوں میں زیر التوا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کیس ہے تو ایڈووکیٹ جنرل استغاثہ بنتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کی کارروائی چلتی ہے تو کیا موقف ہوگا؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک درخواست پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر نے دائر کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اس پر کیا فیصلہ آئے گا وہ دیکھیں گے، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے کوئی نشست جیتی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی نہیں، سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں جیتی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں اور میرے ساتھی ججز کے سوال نوٹ کر لیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ پارٹی کسی کو نامزد کرے، سرٹیفکیٹ دے اور امیدوار کی بھی خواہش ہے کہ میں اس پارٹی سے آؤں اور الیکشن کمیشن اسے آزاد ڈیکلیئر کر دے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کس کو فریق بنایا گیا تھا اور فائدہ کس کو پہنچا، کس جماعت کو کتنی اضافی نشستیں ملیں وہ بتائیں، یہ بتائیں کہ یہ نشستیں کس کو گئیں؟ واضح ہے نشستیں سیاسی مخالفین کو گئی ہوں گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں، تفصیل دے دیں؟ فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں،سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ ، ایک پیپلزپارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں

    مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی مخالفت ،ن لیگ پیپلز پارٹی کی حمایت کر دی
    جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دستاویز کو درخواست میں لگایا ہواہے ،
    آپ کو پارٹی تسلیم کیا گیا وہ آ پ کا تیار کردہ دستاویز ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ دستاویز الیکشن کمیشن کا سرٹیفائیڈ ہے، عدالت نے کہا کہ کیا وہ سرٹیفائیڈ فہرست تھی جو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنی فہرست دی تھی لیکن اس کو مانا نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کی نمائندگی یہاں موجود ہے ؟ پیپلزپارٹی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،جے یو آئی کی جانب سے کامران مرتضٰی عدالت میں پیش ہوئے،خصوصی نشستوں سے متعلق کیس میں جے یو آئی نے اپنے وکیل سینٹر کامران مرتضی کے زریعے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے درخواست گزار یعنی پی ٹی آئی کے موقف کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی جماعت جے یو آئی پاکستان ہے یا ف؟کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایف نکل جائے تو کیا حیثیت ہو گی،کامران مرتضیٰ نے کہا کہ کسی بھی پارٹی سے کوئی بھی لیڈر نکل جائے تو حیثیت نہیں ہو گی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتادی،مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے سیاسی جماعتیں اضافی مخصوص نشستیں رکھنا چاہتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت آئین کے تحت اضافی مخصوص نشست نہیں لے سکتی،

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت بجلی چلی گئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو اب لاٸٹ بھی چلی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بجلی چلی گٸی تو پھر یہ جنریٹر سے کیوں نہیں آئی؟یہ ٹی وی اور لاٸٹس تو چل رہی ہے،

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خطاب نہ کریں، یہ نہ کریں، درخواست دینی ہے تو دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بولنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ”الیکشن کمیشن نے ان ممبران کو آزاد ڈیکلیئر نہیں کیا بلکہ سنی اتحاد کونسل کا ممبر نوٹیفائی کیا ہے” چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ "کیا دیگر جماعتیں آپکی تائیدکرتی ہیں؟”- وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مائی لارڈ ان کو مال غنیمت ملا ہے وہ کیوں ہماری تایئد کریں گے،15دسمبر کو الیکشن شیڈول جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لیا، پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی،کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں 2 دن کا اضافہ کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے بلے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہوگئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کرسکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے سیاسی جماعت ختم ہوگئی اور جنازہ نکل گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے بطور سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لیا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 218(3) پر فوکس بہت زیادہ رہتا ہے،کیا 17 فروری تک تمام جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا تھا، 2فروری کو الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دینے کیلئے درخواست جمع کرائی، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا، سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا گیا لیکن مخصوص نشستیں دینے سے انکار کردیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ درجنوں سیاسی جماعتوں نے کبھی جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے کوئی غلطی بھی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن کو درست کرنا چاہیے تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی،الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن کہتا ہے سنی اتحاد الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہوچکی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن نے منطق کے بغیر فیصلہ دیا،ایک سیاسی جماعت الیکشن لڑ رہی ہو تو اس سے مخصوص نشستیں کیسے واپس لے سکتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی خود جماعت ہے تو کیس ختم ہوگیا،پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں پھر سنی اتحاد کونسل کیسے لے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،یہ سارا معاملہ عوام کا ہے،عوام سے ان کا حق نہیں لیا جاسکتا،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں، لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کو چھوڑیں اپنے طریقے سے جواب دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شکر ہے ابھی آپ نے سوال نہیں پوچھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کیخلاف جا سکتا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 218 تین کا حوالہ دینا بہت پسند ہے،

    دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ عوام کا ہے، ٹیکنکلٹی کے ذریعے عوام کا حق نہیں لیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کو یہ غلطی خود درست کرنی چاہئے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل سے کہا کہ کہ آپ مزید بحث کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کیس پر بحث کریں، میں آپ کو ریسکیو کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ ریسکیو ہونا نہیں چاہتے، دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں،آپ آگے بڑھیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے،فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے، اس قسم کا بیان تسلیم نہیں کیا جاسکتا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا،

    ،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،جسٹس جمال مندو خیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ پی ٹی آئی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ کچھ دیر تک جمع کرا دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن غیر قانونی کام کرے تو کیا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے مطابق تین روز میں آزاد امیدوار کوئی جماعت چن سکتے ہیں، ہوسکتا ہے چار روز بعد پی ٹی آئی سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئی ہو،شمیولیت صرف آزاد ارکان کر سکتے ہیں،کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے آزاد امیدوار تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ آزاد امیدوار کے طور پر ہی نوٹیفائی ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی نکات کی بنیاد پر عوام کو ڈس فرنچائز نہیں کیا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اب غلطی تسلیم کرتے ہوئے آزاد ارکان کو دوبارہ تین دن کا وقت دیدے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلے کے نشان کو اتنا ہوا بنایا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ گمراہ ہوگئے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا، یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی نشست نہیں تھی،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،آپکے مطابق سنی اتحاد کی کوئی جنرل نشست تھی نہ ہی پی ٹی آئی کی،بلے کے نشان والے فیصلے کو نہ کسی نے پڑھا نہ ہی سمجھا،

    جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے ، میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، آپ نے آدھے گھنٹے سے کچھ بھی نہیں لکھوایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں پہلے حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں،آپ کا قلم سوکھنے نہیں دونگا،

    قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ دکھا دیں کس روز پی ٹی آئی نے درخواست کی اور سنی اتحاد کونسل نے منظور کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا تمام ریکارڈ دے دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک کاغذکے ٹکڑے سے کیسے مان لیں کہ سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہوگئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہوجائیں تو مخصوص نشستیں دی جانی ہیں ماضی میں ایک قانون آیا تھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن لڑنا اور پانچ فیصد ووٹ لینا لازم ہے ، وہ قانون بعد میں ختم کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا حقیقی پوزیشن یہی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی سارا تنازعہ یہی ہے،الیکشن کمیشن اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نشست حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکشن میں جیتنا ضروری ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت سے بھی نشستیں لی جا سکتی ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں گیا وہاں ایک گھنٹے میں وکیل دلائل مکمل کرتے ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں بھی ججز سوال پوچھ رہے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وقت مقرر کر دیں تو وکلاء اس کے اندر دلائل مکمل کر دینگے، یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے، بیگم جو وقت مقرر کرتی ہے میں اس سے آگے نہیں جاتا،

    غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ نشستیں خالی چھوڑ دیں نہ آپکو ملیں نہ کسی اور کو،آرٹیکل 51 کے مطابق نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی اور کو دینے سے نشستیں خالی چھوڑنا ہی بہتر ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایسی جماعت جو الیکشن نہ لڑے سیاسی جماعت کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہی نہیں تھی تو اس میں شمولیت کیسے ہوسکتی؟سنی اتحاد میں شمولیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ ضروری ہوگا کہ آرٹیکل 51 کی تشریح کیلئے ووٹرز کا حق بھی مدنظر رکھا جائے،اصل حق تو ووٹرز کا ہے باقی تو سب بعد کی باتیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ساری بحث سیاسی جماعتوں کے سیاق و سباق میں ہو رہی ہے،کیا الیکشن کمیشن ووٹرز کے حق کو متاثر کر سکتا ہے؟ غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلا واپس لیکر کہا بیٹنگ کرو،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ
    بلا جماعت سے لیا تھا بلے بازوں سے نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ امیدوار خود بلے کا نشان مانگ سکتے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اس نکتے پر لازمی سنیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں ہماری بلے کے بغیر بھی بلے بلے ہوگئی ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی،

    ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایک ٹیکس کیس میں بھی لارجر بنچ بنا ہوا ہے وہ منسوخ کر رہے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کیوں بنائی تھی،پیپلز پارٹی اور تلوار چھین لیے گئے تھے، مسلم لیگ ن کیساتھ بھی یہی ہوا ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، ایسی صورتحال میں قانون کی تشریح اسی تناظر میں ہی کرنی چاہیے سب کچھ سامنے بھی ہوتا ہے نظر بھی آ رہا ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حق دار کو اس کا حق واپس کرکے انہیں نشستوں کا دعویٰ کرنے دیا جائے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے لیکن ہر چیز یہاں آتی ہے،کوئی یہاں سے خوش اور کوئی ناراض جاتا ہے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد   اضافی مخصوص نشستوں کے اراکین کی رکنیت معطل

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اضافی مخصوص نشستوں کے اراکین کی رکنیت معطل

    الیکشن کمیشن نے اسمبلیوں کی اضافی مخصوص نشستیں معطل کر دیں، اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے،

    الیکشن کمیشن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مجموعی طور پر 77 ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کے نوٹیفکیشن معطل کیے گئے،الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں خواتین کی 19، اقلیتوں کی 3، خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی 21، اقلیتوں کی 4 نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل کر دی ہے، پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24، اقلیتوں کی 3 نشستوں جبکہ سندھ اسمبلی میں خواتین کی 2، اقلیتوں کی ایک نشست پر ارکان کی رکنیت معطل کردی ہے،یہ مخصوص نشستیں اضافی طور پر ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں،مخصوص نشستوں سے اراکین کی معطلی کے بعد اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کے اراکین کے نمبرز تبدیل ہو گئے ہیں.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی نشستیں 119 سے کم ہو کر 105 ہو گئی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی نشستیں 72 سے کم ہو کر 67 ،جے یو آئی کی نشستیں 10 سے کم ہو کر 7 ہو گئی ہیں ،قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کی 84 نشستیں اور ایم کیو ایم کی 21 نشستیں برقرار ہیں، قومی اسمبلی میں ق لیگ کی پانچ اور استحکام پاکستان پارٹی کی چار نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں،ایم ڈبلیو ایم،بی این پی اور مسلم لیگ ضیا کی ایک ایک نشست برقرار ہے

    اسپیکر سندھ اسمبلی کو الیکشن کمیشن کا مراسلہ موصول ہو گیا،سندھ اسمبلی کے مخصوص نشستوں پر کامیاب تین ارکان کی رکنیت معطل ہونگی ،اعلی عدالت کے حکم بعد الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی حصے میں آنے والی مخصوص نشستوں پر کامیاب کی معطلی کا حکم نامہ جاری کر دیا،سندھ اسمبلی میں مخصوص نشست پر کامیاب پی پی پی کی سمیتا افضال کی رکنیت معطل کی گئی،متحدہ قومی موومنٹ کی مسرت جبین کی رکنیت معطل کی گئی، مخصوص نشست پر کامیاب پی پی پی کے سریندر ولاسائی کی رکنیت بھی معطل کی گئی،الیکشن کمیشن نے معطلی کا نوٹفکیشن جاری کردیا

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کا معاملہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری

    مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کا معاملہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری

    پشاور:عدالت نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر ممبران سے حلف نہ لینے کے معاملے پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت کی۔

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عدالت نے مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لینے کا حکم دیا، عدالتی حکم کے باوجود ممبران سے حلف نہیں لیا گیا، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے عدالت احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، ان دونوں خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،جس پر عدالت نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو نوٹس جاری کرکے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

    تائیوان کا معاملہ چین اور امریکا کے تعلقات میں کراس نہیں ہونا چاہئے،چینی صدر کی …

    ’گمراہ کن‘ اشتہارات بند نہ کیے تو سخت کارروائی ہو گی،بھارتی سپریم کورٹ …

    بانی پی ٹی آئی کیلئے7 سیل مختص، 14سکیورٹی اہلکار ،کھانا ایک اسپیشل کچن سے جاتا …

  • سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    با ی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے 5 رکنی لاجر بینچ نے 14 مارچ کو مختصر فیصلہ سنایا تھا تاہم اب ہائیکورٹ کے جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ آرٹیکل 51 کے مطابق ہے اور ہائیکورٹ کے پاس صوبے تک مخصوص نشستوں کے کیسز سننےکا اختیار ہے،سنی اتحاد کونسل خواتین مخصوص نشست کی حق دار نہیں ہے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ مخصوص نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں میں تقسیم نہیں ہوسکتیں، سنی اتحاد کونسل خواتین کی مخصوص نشستوں کی حق دار نہیں، مقررہ وقت گزرنےکے بعدمخصوص نشست کی لسٹ جمع نہیں کرائی جاسکتی، اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔

    صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس،اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ …

    فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعت کا مخصوص نشستوں پرحق ہوتا ہے لیکن جنرل الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والی جماعت مخصوص نشستوں کی اہل نہیں، یہ دلیل کہ مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو نہیں دی جاسکتیں غیرآئینی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کو آئینی طریقے سے تقسیم کیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی

  • پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی

    پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی

    پشاور: خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے عدالت سے رجوع کر لیا-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف کیلئے رٹ دائر کردی،ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کی جانب سے رٹ دائر کی گئی ۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں پر ممبران سے حلف نہ لینا بدنیتی ہے،مخصوص نشستو ں پر منتخب ممبران سے حلف لیا جائے، ممبران سے حلف لیا جائے تاکہ سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں،حلف نہ لینے کی صورت میں سینیٹ انتخابات کو ملتوی کیا جائے، پشاور ہائیکورٹ بھی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ کرچکی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔

    علی امین گنڈا پور نے خواب میں ٹرین چلائی ہو گی، کیپٹن (ر) صفدر

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے خواتین کیلئے 20 مخصوص اور3 اقلیتی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے سے انکارکیا تھا، 7 مارچ کو پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیخلاف دائر درخواست پر منتخب ارکان کو حلف اٹھانے سے روکنے کے حکم میں 13 مارچ تک توسیع کردی تھی، 14 مارچ کو ہائیکورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف درخواست مسترد کردی تھی۔

    خاتون بازیابی کیس:لاہور ہائیکورٹ کی پولیس کو مہلت

  • اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ،خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں توسیع

    اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ،خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں توسیع

    پشاور: اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی کے باعث پشاور ہائیکورٹ نے خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں 13 مارچ تک توسیع کردی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لاجر بینچ نے مخصوص نشست نہ ملنے کے معاملے پر سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت کی، لارجر بینچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل تھے۔

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بابر اعوان اور قاضی انور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر کیس ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی، قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس میں سوال اسٹے آرڈر کا ہے اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو رہا ہے۔

    بیوی کے جہاز میں نہ پہنچنے پر فلائٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے …

    بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ صدارتی الیکشن ہو رہا ہے اور 93 سیٹوں والی پارٹی کو مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں، جس کا صوبے میں ایک اسمبلی ممبر ہے اسے 2 مخصوص نشستیں ملی ہیں،الیکشن کمیشن نے گفٹ میں ان پارٹیوں کو مخصوص نشستیں دی ہیں۔

    اعظم سواتی کے خلاف مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس کی مکمل سماعت کے بعد ہی عدالت کوئی فیصلہ جاری کرے گی، انٹرم آرڈر کو تھوڑا موڈیفائی کر دیں، منتخب خواتین کا بھی حق ہے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر پیش ہوں، حکم امتناع بدھ کے دن تک ہوگی، بدھ کے دن اس کیس کو دوبارہ سنیں گے، بعدازاں پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں 13 مارچ تک توسیع کردی۔

    پاکستان کا غزہ میں رمضان المبارک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

  • عام انتخابات،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی حتمی فہرست، پی ٹی آئی "فارغ”

    عام انتخابات،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی حتمی فہرست، پی ٹی آئی "فارغ”

    آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کا معاملہ،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست باغی ٹی وی کوموصول ہو گئی

    مسلم لیگ ن کے 10،ٹی ایل پی کے 2،جے یو آئی کے 5 امیدواروں کے نام حتمی فہرست میں شامل ہیں، جماعت اسلامی کے 4،پیپلزپارٹی کے 7،ایم کیو ایم کے 3 جبکہ پی ٹی آئی کے کسی امیدوار کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے.جی ڈی اے، اے این پی، آئی پی پی کا بھی ایک ایک نام مخصوص فہرست میں شامل ہے،بی این پی اور این پی کا بھی ایک ایک امیدوار فہرست میں شامل ہے،

    عدلیہ کیخلاف گھٹیا اور غلیط مہم چلانے پر سینکڑوں اکاؤنٹ بند کیے،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی پی 23 میں تحریک انصاف کا غلط فیصلہ،

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

    چاہت فتح علی خان الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچ گئے

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان

    دوسری جانب عام انتخابات 2024میں ایسے پولنگ اسٹیشنز کاانکشاف ہواہے کہ اگر وہاں 50گھنٹے مسلسل ووٹ ڈالے جائیں پھر بھی سو فیصد ووٹ کاسٹ نہیں ہوسکتے ہیں،الیکشن کمشین نے 6978ووٹر پر مشتمل پولنگ سٹیشن بنادیا ہے –الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ اسٹیشنز بنانے کے لیے12سو ووٹرز کا قانون یکسر نظر انداز کردیا،جب کہ پولنگ بوتھ 300ووٹرز پر بنانےکا قانون ہے اور الیکشن کمیشن نے17سو سے بھی زائد ووٹرز پر ایک پولنگ بوتھ بنادیا ایک گھنٹے میں ایک پولنگ بوتھ پر زیادہ سے زیادہ 40ووٹ مثالی حالات میں ڈالے جاسکتے ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کو سوالات بھیجنے اور رابطہ کرنے کے باوجود موقف نہیں دیا.

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

  • کیا قانون میں ایسی چیز ہے کہ مریم اورنگزیب وزیر نہیں بن سکتیں؟ عدالت

    کیا قانون میں ایسی چیز ہے کہ مریم اورنگزیب وزیر نہیں بن سکتیں؟ عدالت

    مخصوص نشستوں پر بننے والے ممبران قومی اسمبلی کو وفاقی وزیر بنانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، وکیل نے عدالت میں کہا کہ مریم اورنگزیب مخصوص نشست پر ممبر قومی اسمبلی بنی ہیں انہیں وزیر بنایا گیا ، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا قانون میں ایسی چیز ہے کہ مریم اورنگزیب وزیر نہیں بن سکتیں؟ وکیل نے کہا کہ انتخاب جیت کر آنے والوں کو وزیر بنایا جائے تاکہ علاقوں میں ترقیاتی کام ہومیرے علاقے میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے،وہ کافی عرصہ سے وزیر بنتی آ رہی ہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون دیکھ لیتے ہیں کہ کیا کہتا ہے

    عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

  • الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے لیے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے لیے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے لیے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، تمام ارکان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے دو اقلیتی اور تین خواتین اراکین کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔اعلامیے کے مطابق اقلیتی نشست پر حبکوک رفیق بابو اور سیموئیل یعقوب رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

    اسی طرح خواتین کی مخصوص نشستوں پر بتول زین، سائرہ رضا اور فوزیہ عباس نسیم پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے تمام ارکان کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔

    دوسری طرف منحرفین کےخلاف گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے اوریہ کہ اس وقت یہ کیس پاکستان کی عدالت عظمیٰ کےپاس پہنچ چکا ہے،اطلاعات ہیں کہ اس حوالےسے پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی کیخلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہیں۔

    یہ جتنی بھی کوشش کر لیں الیکشن نہیں جیت سکتے،عمران خان

    میڈیا رپورٹ کے مطابق منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیوں پر جسٹس عمرعطابندیال نے 3 رکنی بینچ تشکیل دیدیا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 19 جولائی کو پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کرے گا۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے مقدمے کے فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔

     

    پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

     

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ریفرنس خارج کردیا تھا، پی ٹی آئی نے الیکشن کمشین کے فیصلے کیخلاف ارکان اسمبلی کی ڈی سیٹنگ کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے درخواست وکیل فیصل چوہدری کے توسط سے دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 11 مئی کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنسز کو خارج کیا، جو کہ غیر آئینی فیصلہ ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تمام ثبوت موجود تھے، پھر بھی عدم شواہد کی بنیاد پر ریفرنسز خارج ہوئے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کی بقا کے لیے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کے خلاف فیصلہ دینا چاہیے تھا۔عمران خان نے درخواست میں الیکشن کمیشن اور راجا ریاض کو فریق بنایا ہے۔