Baaghi TV

Tag: مدارس

  • مدارس کو  کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    مدارس کو کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    راجہ بازار راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا اشرف علی کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت دی، آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت ہمارے دینی مدارس کر رہے ہیں، ایک طرف پی آئی اے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مدارس پر قبضے کی خواہش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علامہ شبیر عثمانی کو بھی انگریز نے اپنے سامنے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا،مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں،ہمیں اداروں پر اعتماد نہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا، مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء متفق ہیں۔ ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے، مگر کسی قسم کا دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    تقریب کے دوران نعرے بازی کرنے والے طلباء کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آپ نعرے لگانے کی بجائے کام کر رہے ہوتے تو پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں جیت جاتے لوگوں کو بتایا جائے کہ مدارس سیاست انبیا کی وراثت ہے اور ہم اس مسند کے حق دار ہیں۔

  • مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ  باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ استثنٰی کا مطالبہ تو نبی کریم نے معصوم ہونے کے باوجود نہیں کیا اور نہ ہی کسی خلیفہ راشد نے عدالت میں یا اپنے اقدامات کے لیے استثنیٰ مانگا ہے ہمارے حکمرانوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

    مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت مشاورتی علمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مدارس کے معاملہ میں جو باتیں پہلے سے طے شدہ ہیں انہیں بار بار نہ چھیڑا جائے بلکہ مدارس کے بارے میں جو اقدامات طے شدہ ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

    مدارس میں عصری علوم سے متعلق مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت بتائے کہ تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر کیسے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مدارس پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ اور محب وطن بنا رہے ہیں امارت اسلامیہ افغانستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ افغان علماء کی قرارداد کو حکومت کی پالیسی کا حصہ بنائیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    قبل ازیں مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دنیا کے کسی دستور میں کوئی مثال نہیں ملتی، 18 سال سے کم عمری کی شادی پر سزا خلاف اسلام ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی کوشش میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کریں گے۔

    مشاورتی اجتماع کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، قاری حنیف جالندھری نے نظامت کی اور کہا کہ مجلس اتحاد امت کا مقصد معاشرتی اور سماجی مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرنا ہے، امت کی رہنمائی کیلئے ایک فورم کی ضرورت تھی، جو قومی اور ملی مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں قوم اور حکومت کی رہنمائی کر سکے، مجلسِ اتحاد امت پاکستان کا قیام ان ہی مقاصد کے تحت وجود میں آیا، مجلس اتحاد امت کا مقصد امت کا اتحاد اور ملی و قومی مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرنا ہے۔

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

  • جیسے ہی ہم نے رجسٹر یشن شروع کی تو مدارس نے انکار کر دیا،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم

    جیسے ہی ہم نے رجسٹر یشن شروع کی تو مدارس نے انکار کر دیا،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم

    اسلام آباد: ڈائریکٹر مذہبی تعلیم ڈاکٹر عاظم الدین زاہد لکھوی کا کہنا ہے کہ ہمارا جن مدارس سے معاہدہ ہوا، انہوں نے بغیر کوئی وجہ بتائے رجسڑیشن سے انکار کر دیا-

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس ڈاکٹر عاظم الدین زاہد لکھوی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے دوران مدارس اصلاحات اور رجسٹریشن کا معاملہ زیر بحث آیا ڈائریکٹر مذہبی تعلیم کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ جیسے ہی ہم نے رجسٹر یشن شروع کی تو مدارس نے رجسٹریشن سے انکار کر دیا، مسٹر اور مولانا کا فرق ختم ہونا چاہیے۔

    ڈائریکٹر مذہبی تعلیم نے بتایا کہ ہمارا جن مدارس سے معاہدہ ہوا، انہوں نے بغیر کوئی وجہ بتائے رجسڑیشن سے انکار کر دیا، 598 مدارس میں ہم نے چیک لگایا ہے، مدارس کی رجسٹریشن کیلئے ہمیں بلوچستان اور کے پی کے میں سب سے زیادہ مسائل پیش آرہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مدارس رجسٹریشن نہیں کروانا چاہتے، مدارس کے درس نظامی یا ان کے نصاب میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے، ان مدارس کی رجسٹریشن ضروری تھی، آرڈنینس اگر پارلیمینٹ پاس کر دے تو ہمارے لیے رہنمائی ہوگی، بیرون ممالک کے طلبہ بھی مدارس میں زیر تعلیم ہیں، انہیں بھی دیکھنا ہے تاکہ وہ ہمارے سفیر بنیں۔

    ڈائریکٹر مذہبی تعلیم کا کہنا تھا کہ 1760 مدارس مختلف بورڈز سے الحاق کر چکے ہیں، 40 ہزار سے زائد مدارس ہیں، 18164 مدارس ملک بھر سے ڈائریکٹیوریٹ جنرل مذہبی تعلیم سے رجسٹر ہوچکے ہیں، 1608 بیرون ممالک کے طلبا مدارس میں تعلیم حاصل کرنے پاکستان میں آئے ہیں۔

    کمیٹی کے رکن اسلم گھمن نے سوال اٹھایا کہ افغانستان کے طلبہ کتنے ہمارے مدارس میں زیر تعلیم ہیں؟ ڈائریکٹر مذہبی تعلیم نے کہا میرے پاس ایسا کوئی ڈیٹا ابھی موجود نہیں ہے۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں دو اہم صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق، کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری دی۔

    کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی ہے ، وفاقی کابینہ نے مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی بھی منظوری دی ہے جس کے ذریعے بینکوں کے 70 ارب روپے کے اضافی منافع پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بینکوں کے منافع کے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ ان منافعوں پر اضافی ٹیکس لگایا جا سکے۔ اس آرڈیننس کا مقصد بینکوں سے اضافی آمدنی حاصل کرنا اور حکومت کی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ اور شہریت کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی،پاکستان میں پانچ سال قیام شہریت کیلئے ضروری قرار دے دئے گئے،بیرون ملک بھیک مانگنے والے کو 50 ہزار جرمانہ اور پاسپورٹ کی ضبطگی بھی ہوگی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ان دونوں آرڈیننسز کی منظوری کو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف مالیاتی سسٹم کی بہتری آئے گی بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو۔کابینہ کے دیگر فیصلے وفاقی کابینہ نے مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا اور دیگر فیصلے بھی کیے جن میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ شامل تھا۔

    انسانی سمگلنگ ،وزیراعظم کا ملوث تمام افراد کو حراست میں لینے کا حکم

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

  • وزیراعظم  سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، مدارس کی رجسٹریشن پر مثبت پیشرفت

    وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، مدارس کی رجسٹریشن پر مثبت پیشرفت

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات ہوئی جس میں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے تجاویز پر مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس اہم معاملے کو جلد حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزارت قانون کو آئین و قانون کے مطابق اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے علاوہ رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر کامران مرتضیٰ، رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے بات چیت کی گئی، جس میں حکومت کی جانب سے اصلاحات کے حوالے سے اقدامات پر زور دیا گیا تاکہ مدارس کے نظام کو باقاعدہ اور شفاف بنایا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی اس سمت میں اٹھائے جانے والے قدموں کو سراہا اور مختلف مسائل پر اپنی تجاویز پیش کیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کسی بھی ادارے کی رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور آئین کے مطابق کرے گی، تاکہ مدارس کے حوالے سے کسی بھی طرح کی بے چینی پیدا نہ ہو۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزارت قانون اس معاملے کی تکمیل کے لیے جلد اقدامات کرے گی اور تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

    یہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی اور اس میں مختلف سیاسی و حکومتی رہنماؤں نے شرکت کی، جس سے حکومت کے داخلی معاملات میں مزید ہم آہنگی اور تعاون کا اظہار ہوا۔یہ ملاقات ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے جس سے مدارس کے حوالے سے ہونے والے اقدامات میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔

    وزیراعظم نے اچھی نیت سے بات کی، امید ہے معاملہ حل ہوجائے گا، مولانا فضل الرحمان
    وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے درخواست کی آئین وقانون کے مطابق فوری طور پر عملی اقدامات کریں،امید ہے ہمارے مطالبے کے مطابق آئینی طور پر عملی اقدام ہوگا، وزیراعظم نے قابل اعتماد انداز میں بات کی ہے،آج ہماری گفتگو کا موضوع صرف مدارس بل ہی تھا،صدر نے دوسرا اعتراض آئینی مدت کے بعد بھیجا جس کا اختیار بھی نہیں، ہم نے اپنا موقف ملاقات میں دہرایا، ہم نے واضح کیا کہ دونوں ایوانوں سے بل منظور ہونے کے بعد ایکٹ بن چکا ہے، اگر صدر نے اعتراض کرنا ہے تو ایک اعتراض ہوچکا جس کا جواب اسپیکر نے دے دیا، صدر مملکت نے جو دوسرا اعتراض بھیجا وہ آئینی طور پر بنتا ہی نہیں،صدر مملکت نے اسپیکر کے جواب پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، دوسرا اعتراض آئینی مدت گزرنے کے بعد بھیجا گیا جو ابھی تک اسپیکر کے دفتر تک نہیں پہنچا، ہمارے موقف کا انتہائی مثبت جواب دیا گیا، وزیراعظم نے وزارت قانون کو فوری ہدایات کیں کہ قانون و آئین کے مطابق عملی اقدامات کریں، امید ہے آئین و قانون کے مطابق عملی اقدامات ہمارے مطالبات کے مطابق ہوں گے،وزیراعظم نے اچھی نیت سے بات کی، امید ہے معاملہ حل ہوجائے گا، شاید اس معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ضرورت نہ پڑے۔

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

    مدارس رجسٹریشن معاملہ: ایم کیو ایم نے مولانا کی حمایت کردی

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل پر علماء کرام کی مختلف تجاویز ہیں،گورنر پنجاب

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات  کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں

    پاکستان کے صدر مملکت، آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے اس بل کی مختلف شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں مدارس کی تعریف میں تضاد موجود ہے اور موجودہ قوانین کے تحت نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بل کی منظوری سے مدارس کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا پاکستان کے تعلیمی نظام اور بین الاقوامی شہرت پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    صدر زرداری نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قوانین میں مدارس کے لیے واضح ضوابط اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جس کی بنا پر نئے بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان موجودہ قوانین کو بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔صدر مملکت نے نئے بل میں مدارس کی تعریف کے حوالے سے تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں تعلیمی اداروں کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، یہ تضاد پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مدارس صرف تعلیمی مقصد کے لیے قائم ہیں یا ان کا کردار وسیع تر ہے، جس میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس تضاد کے باعث، بل کی منظوری سے مدارس کے تعلیمی کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرانے سے ان کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا، تو ان کا استعمال تعلیمی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے مدارس کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے دیگر سماجی، مذہبی یا سیاسی کردار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    صدر مملکت نے بل کی منظوری کے نتیجے میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف مدارس کو ایک ہی سوسائٹی کے تحت رجسٹر کیا جائے گا، تو ان مدارس میں اختلافات اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی میں مختلف مدارس کی موجودگی سے فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ جب مدارس مختلف تنظیموں یا افراد کی ملکیت بن جائیں گے، تو ان کے اندر مفادات کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مدارس کی انتظامیہ میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ نہ صرف مدارس کے اندر بلکہ مقامی کمیونٹی میں بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے بل کی منظوری کے عالمی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان کے حوالے سے عالمی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی تنظیموں کے ردعمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام اور مدارس کی رجسٹریشن پر منفی رائے قائم کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے نقصان ہو سکتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف مدارس کے تعلیمی نظام پر پڑے گا، بلکہ اس کا پاکستان کے داخلی امن و امان، فرقہ واریت، اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، مدارس کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ قوانین میں بہتری لانا اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا زیادہ مناسب حل ہو گا۔

    اس موقع پر صدر نے تجویز دی کہ حکومت اس بل کو دوبارہ نظرثانی کرے اور مدارس کے حوالے سے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ مدارس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بہتر بنایا جا سکے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • وزیرداخلہ   کی جامعہ اشر فیہ آمد، مولانا فضل رحیم اشرفی سے ملاقات

    وزیرداخلہ کی جامعہ اشر فیہ آمد، مولانا فضل رحیم اشرفی سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وفاق المدارس کے سرپرست اعلیٰ مولانا فضل رحیم اشرفی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیرداخلہ نے مولانا فضل رحیم اشرفی کی خیریت دریافت کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران وفاقی وزیرداخلہ نے دینی مدارس کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر مولانا فضل رحیم اشرفی نے کہا کہ دینی مدارس کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیشہ مدارس کے مسائل کو مثبت انداز میں حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ہم بھی اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔مولانا فضل رحیم اشرفی نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب میں بھی وفاقی حکومت کی طرز پر مدارس کو محکمہ تعلیم کے تحت ہونا چاہیے تاکہ ان کے معاملات کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت دینی مدارس کے حوالے سے مثبت اقدامات کرے گی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر مولانا فضل رحیم اشرفی نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کے لیے دعا کی اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا بھی کی گئی۔

  • مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس رجسٹریشن پر سیدھی نہیں ہوتی تو کل لائحہ عمل دیں گے،

    نوشہرہ میں‌مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اتفاق ہوا تھا کہ مدارس جس صوبے میں چاہیں رجسٹر ہو سکتے ہیں، اب ایوان صدر سے اعتراض آ رہے ہیں، آصف زرداری خود لاہور اجلاس میں موجود تھے جب بلاول کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا تھا،اب ان کے اعتراض کو میں ہاتھ لگانا تو کیا چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ہوں ،میرے مدرسے کا طالب علم کالج یونیورسٹی کے نصاب کا امتحان دیتا ہے، اسکی شرح نکالی جائے کہ ہمارا کتنا نوجوان عصری علوم حاصل کر رہا ہے، ہماری شرح بہت زیادہ ہے، اگر بیٹے کے لئے انگریزی پڑھانا مفید سمجھتا ہوں تو امت کے بچوں کے لئے کیوں مفید نہیں سمجھوں گا، کیا دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کا کبھی انکار کیا، تاریخ بھی تو پڑھیے گا، مدرسہ کیوں وجود میں آیا، جو مدرسہ برصغیر میں ہے وہ 1857 سے پہلے کیوں برصغیر میں نہ تھا، اس پر سوچنا چاہیے، اسلام ،علما ہر جگہ ہیں، آج بھی کہنا چاہتا ہوں میری بیوروکریسی جتنی بھی خوش نما، خوبصورت اور معصوم الفاظ میں ہمدردی کے الفاظ استعمال کریں کہ مدارس کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں، فضلا کو روزگار دلانا چاہتے ہیں ،یہ وہ زہر ہیں جو آپ ہمیں دینا چاہ رہے، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، یہ الیکشن دھاندلی کا الیکشن ہے اور یہ حکومت قانونی اور آئینی نہیں ہے، بس ایک زبردستی والی حکومت ہے، اگر خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی آئےگی تو ہم اس کا حصہ نہیں ہونگے،مدارس کو رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ریاست سے تصادم نہیں چاہتے ،دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں ،

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان