Baaghi TV

Tag: مدارس بل

  • مدارس بل کی منظوری پر جے یو آئی حکومت سے خوش

    مدارس بل کی منظوری پر جے یو آئی حکومت سے خوش

    رہنما جے یو آئی ف اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مدارس بل کی منظوری پر حکومت سے خوش ہیں ،حکومت اور ایوان صدر نے بہت ساتھ دیا ،ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا 26ویں ترامیم میں مدارس بل حکومت نے ہی بنایا تھا،یہ نیا بل پی ڈی ایم حکومت میں بنا تھا،بل پر امریکی دباؤ سے متعلق ہم نے نہیں صدر کی جانب سے کہا گیا تھا۔حکومتیں اگر بیرونی دباؤ قبول کریں گی تو ہم اپنے ملک کا دفاع بھی نہیں کرسکتے،امریکا کے حوالے سے حکومت ہی بتا سکتی ہے،حکومت نے خوش اسلوبی سے معاملات حل کئے ہیں۔حکمران پریشان ہیں اور اپوزیشن بھی ،صاف شفاف انتخابات تک ملک کےمسائل حل نہیں ہوں گے،ہم بلا وجہ حکومت کے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے،ہم اصولوں پر احتجاج کریں گے اور بھرپور اپوزیشن کا کرداراداکریں گے،حکومت اور تحریک انصاف کو کھلے دل سے آگے بڑھنا چاہیے۔میں ایاز صادق کا مشکور ہوں جس نے سب سے پہلے میرے مؤقف کی تائید کی،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی باقاعدہ دعوت آئے گی تو دیکھیں گے،ہم دیکھیں گے کہ اس کے ٹی او آر کیا ہیں ، جانے کا مقصد کیا ہے۔

    سکھر: اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں حادثات کا سبب، روڈ سیفٹی سیمینار منعقد

    پہلا ٹیسٹ:جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دیدی

  • مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے  تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: رہنما جے یو آئی حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ مدارس بل پر حکومت جلد فیصلہ کرلے تو بہتر ہے، یہ نا ہو کہ دیر ہو جائے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ مدارس بل کے معاملے میں حکومت سیاسی، اخلاقی، قانونی طورپر ہارچکی ہے، تنظیمات مدارس اور جے یو آئی کو مدارس رجسٹریشن بل میں کوئی ترمیم قبول نہیں ہے مدارس رجسٹریشن بل ایکٹ بن چکا ہے لہٰذا اس کاگزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، یہی جے یو آئی اور تنظیمات مدارس کا حکومت سے مطالبہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کا منظورکردہ بل تسلیم کیا جائے، گیند اب حکومت کی کورٹ میں ہے، اب بھی وقت ہےحکومت فیصلہ کرے ورنہ دیر ہو جائے گی، پارلیمنٹ کے فیصلے فیٹف کے حوالے نہ کریں یا پھر قوم کو بتادیں ایوان میں فیصلےعوام کی نہیں فیٹف کی مرضی سےہوں گے۔

    قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اب ہم کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے اور یہ بات نہ مانی گئی تو پھر ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا، ہمارا مؤقف ہے کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اور اب اگر بل کو ایکٹ تسلیم کیے بغیر دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی، سابق صدر عارف علوی نے ایک بل پر دستخط نہیں کیا تو بل ایکٹ بن گیا، یہ ایک نظیر بن چکی ہے اب صدر کو اختیار حاصل نہیں، اگر صدر 10 دن کے اندر دستخط نہیں کرتے تو قانون بن جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے 26 ویں ترمیم میں مدارس سے متعلق جے یو آئی کا تجویز کردہ بل منظور کیا تھا مگر بعد ازاں صدر نے بل پر اعتراض کر کے اسے واپس بھیج دیا تھا۔

  • مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمٰن، مفتی تقی عثمانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کی سپریم کونسل کا اجلاس جامعہ عثمانیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے بعد مندرجہ ذیل قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی، قرار داد کا متن ہے کہ سوسائٹیز رجسٹرین ایکٹ کے تحت ایکٹ ترمیمی سوسائٹیز بل مورخہ 20-21 اکتوبر 2024 کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دستخط سے حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر کو ارسال کر دیا گیا۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 28 اکتوبر 2024 کو صدر کی جانب سے غلطی کی نشاندہی کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین و قانون کے تحت اسے قلمی غلطی گرادانتے ہوئے تصیح کردی اور تصیح شدہ ترمیمی بل مورخہ یکم نومبر 2024 کو ایوان صدر ارسال کر دیا۔ اسے صدر نے قبول کرتے ہوئے اس پر زور نہیں دیا، بعد ازاں صدر کی طرف سے 10 دن کے اندر مذکورہ ترمیمی بل پر کوئی اعتراض نہیں ہوا، البتہ 13 نومبر 2024 کو نئے اعتراضات لگادیے گئے جو کہ میعاد گزرنے کی وجہ سے غیر مؤثر تھے، نیز ایکٹ کے بعد دوبارہ اعتراض بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا، لہذا یہ بل اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حوالے کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی نظیر موجود ہے، نیز اسپیکر نے اس بات کا اعتراض کیا ہے ان کے نزدیک یہ باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے اور انہیں صرف ایک ہی اعتراض موصول ہوا تھا، ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزیٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شریعت کا حکم ہے کہ حسن ظن سے کام لیا جائے، جو لوگ اقتدار و اختیار کے مالک ہوتے ہیں، ان سے ہمیشہ معقولیت، انصاف اور توازن کی امید کی جاتی ہے، لہٰذا اس وقت تک ہماری پوری سپریم کونسل کی رائے ہے کہ حکومت وقت ہماری اس قرداد کو معقول گردانتے ہوئے اسے تسلیم کرے گی اور اس پر عملدرآمد کرے گی۔مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ اگر اس کے برعکس کوئی صورتحال پیش آئی تو ہم بلاتاخیر مل بیٹھیں گے اور اس کے بعد کا لائحہ عمل اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر بات چیت میں جس بل پر ہمارا اختلاف نہیں ہے، اسے بھی منظور کیا جائے، انہوں نے وعدہ کیا اس کو پاس کیا جائے گا اور وہ پاس ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر بل میں کوئی تبدیلی لائی گئی ہے، ہم نے تو نہیں لائے، تبدیلی بھی اسی حکومت نے لائی ہو گی، ظاہر ہے ہمارے لیے اس میں کوئی تنازع والی بات نہیں ہے، کیا انہوں نے اس بل کے پاس ہونے کے بعد کوئی اعتراض کیا؟مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کیا انہوں نے کوئی سوال اٹھایا؟ کوئی سوال نہیں اٹھایا بلکہ بل پاس ہونے کے ایک ہفتے کے اندر مجھے مبارکباد دینے کے لیے آنا چاہتے تھے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی، آج ڈیڑھ مہینے کے بعد سوال اٹھا رہے ہیں، ہم ان سے کوئی جھگڑا نہیں کررہے وہ ہمارے بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی سوال کرتے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے، لیکن ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جیسے یہ بل بڑا متنازع ہے، بل اتفاق رائے کے ساتھ پاس ہوا ہے۔ اس وقت اس کی آئینی و قانونی پوزیشن ہے کہ ہماری نظر میں وہ بل ایکٹ بن چکا ہے، اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے، ہمارے مدعے کو سمجھا جائے، ہم کسی کے مقابلے میں نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم ایوان صدر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے خلاف قانون اقدامات کیوں کیے، گزٹ کیوں نہیں کرایا؟ حکومت سے ہماری شکایت ہے کہ اس کا نوٹی فکیشن کیوں نہیں کرر ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانونی، آئینی راستے سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، ہم منفی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔واضح رہے کہ آج پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے دعویٰ کیا تھا کہ مدارس بل پر معاملات طے پا چکے ہیں اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • مدارس بل پر علماء کرام کی مختلف تجاویز ہیں،گورنر پنجاب

    مدارس بل پر علماء کرام کی مختلف تجاویز ہیں،گورنر پنجاب

    لاہور:گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے بل پر صدر آصف علی زرداری نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

    باغی ٹی وی: چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان ںے کہا کہ مدارس بل پر علماء کرام کی مختلف تجاویز ہیں جس کو ایک پیج پر لانا ہے، مولانا فضل الرحمان سمیت تمام علماء کرام کو ایک پیج پر لانا ہےمدارس بل کی رجسٹریشن کا ایسا بل لانا ہے جو تمام مدارس والے قبول کریں، تینوں صوبوں میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں صرف پنجاب باقی ہے، اب وقت ہے پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرے-

    دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہےکہ مدارس رجسٹریشن بل پر صدر کے اعتراضات سے بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے عتراضات سے ثابت ہوا کہ اصل مقصد مدارس کوفیٹف کے کہنے پر فیٹف کے حوالے کرنا ہے ، یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پارلیمنٹ پاکستان کا نہیں فیٹف کا پارلیمنٹ ہے، قوم پر واضح ہوگیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پارلیمنٹ قانون سازی میں آج بھی آزاد نہیں ہے، ایوان صدر کے بابوؤں نے سوسائٹیز ایکٹ پڑھا ہی نہیں ہے ورنہ اعتراضات اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔

  • حکومت بل کی آڑ میں علما کوآپس میں لڑوا ناچاہتی ہے، حافظ حمداللہ

    حکومت بل کی آڑ میں علما کوآپس میں لڑوا ناچاہتی ہے، حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمداللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت بل کی آڑ میں علما کوآپس میں لڑوانا چاہتی ہے-

    باغی ٹی وی : جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ مدارس بل سینیٹ اوراسمبلی نے پاس کیا، مدارس بل پرسب نے اتفاق کیا تو اعترا ض کیا ہے پیپلزپارٹی نے بھی اس بل کو ایوان میں سپورٹ کیا تھا، سوال یہ ہے کہ بل کو مسترد کیوں کیا گیا، بل کی آڑ میں علما کوآپس میں لڑوانے کی کوشش ہو رہی ہے، حکومت کیوں علما کو اکٹھا کرکےفساد پھیلانا چاہ رہی ہے۔

    دوسری جانب چار سدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان ںے کہا کہ مدارس کے بل پر نواز شریف، آصف زرداری، سینیٹ، قومی اسمبلی سب متفق ہوگئے تھے، بل سینیٹ میں پیش ہوا، اسمبلی نے بل پاس مگر صدر نے دستخط کیے، اگر صدر دیگر بلز پر دستخط کرسکتا ہے تو اس مدرسہ بل کو اعتراضات کے ساتھ واپس کیوں بھیجا؟-

    انہوں ںے کہا کہ آج نیا شوشا چھوڑا ہے کہ مدارس تو پہلے وزارت تعلیم کے ساتھ وابستہ تھے، بتانا چاہوں گا کہ اس مدارس بل میں ہم نے تمام مدارس کو مکمل آزادی دی ہے کہ وہ کسی بھی وفاقی ادارے کے ساتھ الحاق چاہیں تو کرلیں چاہے وہ 1860ء ایکٹ کے تحت ہو یا وزارت تعلیم، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہر مدرسہ آزاد ہے تو اعتراض کیسا؟

    انہوں نے کہا کہ علما کو علما کے مقابل لایا جارہا ہے مدارس میں کوئی اختلاف نہیں ہے مدراس بل پر تمام علما و مدارس کا اتفاق ہے، نئے شوشے نہ چھوڑیں، علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، آج ہم ایک حتمی اعلان کرنے جارہے تھے کہ مفتی تقی عثمانی اور صدر وفاق المدارس کی جانب سے اطلاع آئی کہ انہوں ںے 17دسمبر کو اہم اجلاس طلب کرلیا ہے ہم اپنے فیصلے و اعلان کو اس اجلاس تک روکتے ہیں اس اجلاس کے بعد متفقہ طور پر فیصلے کیے جائیں گے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سیاسی اکھاڑا نہ بنائے ہم قانون کی بات کررہے ہیں جب کہ وہ مدارس کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں جب کہ مدارس کو قانون کے تحت ریگولرائزڈ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن مدارس کی آزادی و خودمختاری کو اپنی جگہ قائم رکھنا چاہتے ہیں، ہم نے جب وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ ہو کر ان کی بات مانی تو انہوں نے ہم پر ایگز یکٹو آرڈر کے ذریعے ایک ڈائریکٹوریٹ مسلط کردیا یعنی وہ ہمیں ماتحت کرنا چاہتے ہیں جبکہ مدارس ان کے ماتحت ہونے کو تیار نہیں۔

    انہوں ںے کہا کہ مدارس بل پر تو پاکستانی کے خفیہ ادارے بھی متفق تھے ان کے اتفاق رائے سے سارے معاملات طے ہوئے اگرچہ وہ نظر نہیں آتے مگر وہ موجود ہوتے ہیں رابطے میں رہتے ہیں ہمارا سوال یہی ہے کہ جب سب کچھ اتفاق رائے سے طے ہوا تو اب کیا ہوگیا؟ یہ ہے وہ بدنیتی، ہم جیت چکے ہیں پارلیمنٹ اس بل کو پاس کرچکی ہے، جو چیز طے ہوچکی ہے اسے مستحکم کرنا چاہتے ہیں ہمیں اس وقت تک حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں اگر انہوں ںے ہمیں اس میں ترمیم کرنے کے لیے کچھ دیا تو ان کی تجویز قبول کرنا تو دور کی بات ان کے مسودے کو چمٹے سے بھی پکڑنے کے لیے تیار نہیں۔

  • مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین کا مدارس رجسٹریشن سے متعلق کہنا ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے-

    باغی ٹی وی : چوہدری سالک حسین کیجانب سےجاری بیان میں کہا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن ایک دیرینہ ضرورت ہےجس کے لئے مختلف ادوار میں مدارس کی انتظامیہ،جید علماء کرام اور سیاسی رہنماؤں سےمشاورت ہوتی رہی ہےحکومت نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات مانتے ہوئے پارلیمان سے بل منظور کروایا اور اپنی کمٹمنٹ پوری کی، چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے، اس کا ہر گز مقصد نہیں کہ اس کو بنیاد بنا کر مدارس رجسٹریشن کا پورا عمل ہی رول بیک کر دیا جائے۔

    وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں جو صرف وزارت تعلیم کے تحت ہی آتے ہیں، مدارس انتظامیہ کو رجسٹریشن کے لئے قانونی پیچیدگیوں اور طویل عمل کا سامنا تھا، سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم، وزارت تعلیم کے تحت ون ونڈو نظام مرتب کیا گیا، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے تحت 18 ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں۔

    چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے مطالبہ کی وجہ سے تمام عمل دوبارہ شروع ہوا تو پہلے سے کی گئی تمام محنت ضائع ہو جائے گی، مدارس تعلیمی ادارے ہیں نہ کہ صنعتی ادارے، اس مطالبے کو ماننے کا مطلب یہ ہوگا کہ آئندہ کوئی بھی کسی پیشہ کو کسی بھی وجہ سے کسی دوسری وزارت کے تحت کرنے کا مطالبہ کر دے۔

    وفاقی وزیر مذہبی امور نےکہا کہ ملک کا نظام مروجہ اصولوں اور ضوابط کے ماتحت ہوتا ہےنہ کہ خواہشات پر مبنی، وزارت تعلیم اور ڈائر یکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم رجسٹریشن کےعمل کو مدارس کیلئے آسان اورسہل بنا چکے ہیں، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم میں مدارس کی رجسٹریشن کا انتہائی آسان ون ونڈو آپریشن موجود ہے۔