Baaghi TV

Tag: مدارس

  • کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ ہڑتال کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا

    کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ ہڑتال کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا

    سینیٹ کا اجلاس پریزائڈنگ افسر سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت 10بج کر 35منٹ پر شروع ہوا۔

    سینیٹر مسرور نے جامعہ کراچی میں اساتذہ کی ہڑتال کے معاملے کو اٹھایا طلباء یونین پر پابندی ختم کی جائے کیوں کہ سیاسی کارکن وہاں سے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ پریزائڈنگ افسر نے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ معاملہ وزیر تعلیم کو بتادوں گا یونیورسٹی میں اور سٹافنگ کی گئی ہے جس کی وجہ سے مسائل ہیں ۔ طلباء یونین کے الیکشن صوبائی معاملہ ہے ۔

    ہنگری کے لیے تین سالوں میں 367طلباء کو سکالر شپ پر بھیجا گیا
    وقفہ سوالات کے دوران وزارت تعلیم کی طرف سے بتایا گیا کہ ہنگری کے لیے تین سالوں میں 367طلباء کو سکالر شپ پر بھیجا گیا ہے ۔ سوال قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزارت اوسیز نے سوالات کے جواب نہیں دیئے ہیں یہ سنجیدہ مسئلہ ہے ۔میری وزیر اورسیز سے بات ہوئی وہ بھی کہے رہے تھے کہ وزارت والے میری بات بھی نہیں سنتے ہیں ۔سینیٹر فلک ناز چترالی نے کورم کی نشاندہی کردی ایوان میں 13ارکان تھے جس پر گھنٹیاں بجائی گئیں. کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس 30منٹ تک ملتوی کردیا گیا ۔

    پاکستان میں کل 17ہزار 7سو 38مدارس،22 لاکھ 49 ہزار طلبا زیر تعلیم
    سینیٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے وزارت تعلیم نے بتایا کہ پاکستان میں کل 17ہزار 7سو 38مدارس ہیں جن میں سے 10ہزار 12پنجاب 2ہزار 4سو16سندھ 5سو 75بلوچستان 4ہزار5خیبر پختونخواہ 445آزاد کشمیر 199اسلام آباد اور 86جی بی میں ہیں جبکہ ان مدارس میں کل 22لاکھ 49ہزار 5سو 20 طلبہ پڑھ رہے ہیں جن میں پنجاب میں 6لاکھ 64ہزار 65 پنجاب میں 1لاکھ 88ہزار 183سندھ میں 71ہزار 8سو15 بلوچستان میں 12لاکھ 83ہزار 24خیبر پختونخواہ میں 26ہزار 7سو87آزاد کشمیر میں 11ہزار 3سو 1 اسلام آباد میں اور 4ہزار 3 سو46جی بی میں پڑھ رہے ہیں ۔مدارس کی براہ راست مالی اعانت نہیں کی جاتی ہے تاہم ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم ( ڈی جی آر ای)نے 598مدارس میں 1196اساتذہ فراہم کئے ہیں اور رجسٹرڈ مدارس میں 1لاکھ 54ہزار 8سو49طلباء کو عصری تعلیم فراہم کرنے کے لیے نصابی کتب فراہم کی ہیں۔

    وزارت مواصلات نے ایوان کو تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں 193ٹول پلازہ ہیں جن میں سے نیشنل ہائی وے پر 85پلازہ ہیں این ایچ اے کے زیر اہتمام موٹروے جن میں ایم 1،3،4،5،14اور ای 35 ہیں پر 70ٹول پلازہ ہیں جبکہ بی او ٹی ہے تحت چلنے والے موٹروے ایم 2،9اور 11پر 38ٹول پلازہ ہیں۔

    28اکتوبر کو روس فیڈریشن کے رکن ایوان سے خطاب کریں گے،سلیم مانڈوی والا
    11بج کر 36 پر اجلاس شروع ہوا کورم کی کی گنتی کے بجائے پلوشہ خان نے تقریر شروع کردی ۔جس پر فلک ناز نے احتجاج کیا تو دوبارہ کورم کی نشاندہی کردی جس پر دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایوان میں اعلان کیا کہ 28اکتوبر کو روس فیڈریشن کے رکن ایوان سے خطاب کریں گے۔ پریزائڈنگ افسر نے اجلاس کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر 28اکتوبر کو دوپہر 3بجے تک ملتوی کردیا گیا

    وزارت تعلیم نے سینیٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کل 157پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں اور ہائیر ایجوکیشن انسٹیٹیوشن ہیں جن میں سے 97 پر وی سی اور ریکٹر کام کررہے ہیں جبکہ 57قائمقام کے طور پر کام کررہے ہیں اور تین پوسٹیں خالی ہیں پاکستان کے 60پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر اور ریکٹر کے عہدے پر مستقل تعیناتی نہیں ہے جبکہ ایکٹنگ چارج پر کام کررہے ہیں اسلام آباد کے تمام 6کی چھ یونیورسٹیوں کی وائس چانسلر نہیں ہیں ۔ آزاد کشمیر میں ایک،بلوچستان میں 5،خیبرپختونخوا کے 22،پنجاب میں 22 اور سندھ میں 4 وائس چانسلر اور ریکٹر کی پوسٹیں خالی ہیں

    رپورٹ: محمد اویس، اسلام آباد

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • بچے سے بدفعلی کی کوشش،ملزم کی گرفتاری و رہائی،علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا مؤقف

    بچے سے بدفعلی کی کوشش،ملزم کی گرفتاری و رہائی،علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا مؤقف

    مدراس میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات نہ رک سکے، مولانا نے بچے کے ساتھ مبینہ طور پر بدفعلی کی کوشش کی تو دیگر علما نے گرفتار مولانا کو پولیس سے چھڑوا لیا، مولاناؤں کے دباؤ میں آ کر کمسن بچے کے والد نے صلح کر لی

    واقعہ کا مقدمہ کمسن بچے کے والد کی مدعیت میں تھانہ سٹی تاندلیانوالہ میں درج کیا گیا، درج ایف آئی آر کے مطابق سائل جناح کالونی کا رہائشی ہے، سائل کا بیٹا طیب جس کی عمر 12 سال ہے نماز مغرب ادا کرنے کے لئے مسجد قدس محلہ اسلام پورہ میں گیا کافی دیر تک واپس نہ آیا تو تشویش ہوئی، دیگر احباب کے ہمراہ مسجد گئے تو ساتھ والے مکان میں ابوبکر معاویہ جو مسلح تھا، اسکے پاس کلاشنکوف تھی، وہ شلوار اتار کر بیٹے سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا،ہمیں دیکھ کر انہوں‌نے شلوار پہن لی اور ہم پر اسلحہ تان لیا کہ اگر کوئی قریب آیا تو جان سے مار دوں گا،میرے بیٹے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کر کے سخت زیادتی کی گئی ہے.

    پولیس نے اندراج مقدمہ کے بعد ملزم ابوبکر معاویہ کو گرفتار کیا ، گرفتاری کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ، مولانا ابوبکر معاویہ کی گرفتاری کے بعد مذہبی رہنما متحرک ہو گئے اور متاثرہ بچے کے والد سے جا کر ملاقات کی اور صلح کروا دی جس کے بعد مولانا ابوبکر معاویہ کو رہا کر دیا گیا

    بدفعلی کی کوشش کے ملزم ابوبکر معاویہ کی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ ملزم کو رہا کیوں کیا گیا، ملزم کو سزا ملنی چاہئے تھی، ریاست اس مقدمے میں مدعی بنے، صلح کروانے پر علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس پر علامہ ابتسام الہیٰ ظہر نے اپنا مؤقف جاری کیا ہے

    fir

    علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا کہنا ہےکہ اسلام میں ہم جنسی پرستی کی سزا موت ہے۔ معاشرے کا کوئی بھی فرد چاہے مولوی ہو یا ڈاکٹر، انجینئر ہو یا پروفیسر اگر اس فعل شنیع کا ارتکاب کرے اسکو بلا تفریق قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ جسطرح ھم جنس پرستی ایک سنگین جرم ھے اسی طرح کسی شخص پر بلاثبوت بدفعلی کی تہمت لگانا بھی سنگین جرم ہے۔

    علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا کہ علماء کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والی لابی کو مولانا ابوبکر معاویہ کے بری ھونے پر بہت تکلیف ہے،ھمارا موقف پہلے دن سے واضح تھا کہ اگر مولانا مجرم ھوں تو انکا کڑا احتساب ھونا چاھیے اور اگر بے گناہ ھیں تو انکو باعزت بری ھونا چاھیے ،نہ تو ڈی این اے ٹیسٹ مولانا کے خلاف آیا اور نہ ھی واقعاتی شہادتیں مولانا کے خلاف تھیں،مولانا کے پاوں دبانے پر بچے کا والد غصے میں آیا بات تلخی سے ھوتی ھوئی جیل تک پہنچی بچے کے والد نے بھی اعلانیہ اقرار کیا کہ کیس جنسی زیادتی یا ہراسیت کا نہیں ،ھم ابھی بھی اپنی بات پر قائم ھیں کہ جنسی زیادتی ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے یا واقعاتی شہادت پیش کردیں مولانا کی سزائے موت کا مطالبہ کریں گے لیکن بلاثبوت کسی عالم کے ساتھ زیادتی کی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں یاد رھے کہ مولانا کا تعلق میری تنظیم سے نہیں نہ ھی میں بچے اور اسکے خاندان سے واقف ھوں ،مفت شور شرابے کا مقصد فقط دین اور علماء کو بدنام کرنا ھے جبکہ لبرل طبقے کے پاس مولانا کو مجرم ثابت کرنے کی کوئی دلیل نہیں ھے یاد رھے کہ جس طرح جنسی زیادتی ایک گھناونا جرم ھے اسی طرح بلاثبوت الزام تراشی بھی قابل نفرت جرم ھے

    علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کے بھائی حافظ ہشام الہیٰ ظہیر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے برادر اکبر ابتسام الہی ظہیر کے حوالے سے مجھے ٹیگ کیا ہے سب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ صلح صفائی ہمیشہ لڑائی جھگڑے کی ہوتی ہے بدکاری پر صلح کا اختیار باپ یا کسی کو نہیں ہوتا نا قانونا نا شرعا نا آئینی طور پر جو کوئی بدکاری کرے اسکی سزا اسلام میں موت ہی ہے آئیے اس سزا کو اپنائیں اس سزا پر ہم قائم ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے اسکی ابتدا اگر آپ بدکار مولویوں سے کرنا چاہیں تب بھی ہم آپ کے سو فی صد ساتھ ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ شور شرابا کر رہے ہیں وہ سارے زنا بالرضا ہم جنس پرستی پیڈوفیلیا کے قائل و فاعل ہیں اور رین بو فلیگ لہرانے والے موم بتی مافیا کے ایجنٹ ہیں ،میں کہتا ہوں اگر ابوبکر معاویہ نے برائی کا ارتکاب کیا ہے تو اسے سنگسار کر دیا جائے اور رتی برابر نرمی نا کی جائے اور اسکی کوئی معافی نہیں لیکن حقیقت کا سب کو علم ہے کہ یہ کس طرح سے برادر اکبر کے اوپر مہم جوئی کی جا رہی ہے اور اصل چڑ ابوبکر اور معاویہ کے نام سے ہے جو ظاہر کی جارہی ہے برادر اکبر نے صلح صفائی جھگڑے کی کروائی ہے نا کہ بدکاری معاف کروائی ہے نا ہی کوئی دنیا میں بدکاری معاف کر سکتا یہ صرف اللہ کا اختیار ہوتا ہے اور اس دنیا میں یہ جرم ثابت ہو تو اسے ٹانگ دیا جائے بات ختم آئیے اس بات پر اتفاق کریں،آخری بات یہ ہے جن لوگوں کی عقل اتنی ہے اور تحقیق بھی اتنی ہے کہ میرے میں اور برادر اکبر میں فرق تک نہیں جانتے وہ گھر بیٹھے بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانے کو تیار بیٹھے ہیں نوے فی صد موم بتی مافیا نے مجھے ٹیگ کیا ہوا ابتسام بھائی کی تصویر پر یہ انکی تحقیق کا معیار ہے ،مختصر نتیجہ یہ ہے آئیے جو کوئی مدرسے میں بدکاری کرے اسے بھی مینار پاکستان پر ٹانگ دیا جائے اور جو کوئی کسی پر جان بوجھ کر جھوٹا الزام لگائے اسے بھی ٹانگ دیا جائے میں یہ سب کے سامنے اعلانیہ کہتا ہوں کوئی غیر جانبدارانہ تحقیق سے ثابت کرے کہ اس مولوی نے بدکاری کی ہے جو کہ آج کے دور میں قطعا مشکل نہیں میں سب سے پہلے اسکو پھانسی کا مطالبہ کروں گا لوگوں میں اللہ کا خوف ہی نکل گیا ہے

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    چکوال،مدرسے کے دو اساتذہ کی 15 طلبا کے ساتھ بدفعلی

    معروف مدرسے کے مہتمم کی طالب علم کے ساتھ زیادتی 

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

  • یتیم خانے میں بھی بچے محفوظ نہ رہے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    یتیم خانے میں بھی بچے محفوظ نہ رہے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی، یتیم خانوں میں بھی بچے محفوظ نہ رہ سکے،

    پنجاب کے شہر چنیوٹ میں کمسن بچے کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، واقعہ کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پولیس حرکت میں آ گئی، پولیس نے ویڈیو بارے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ سیف اللہ ولد مظہر قوم کمہار، یتیم خانہ جھمرہ روڈ چنیوٹ میں بطور استاد ڈیوٹی دے رہا ہے،نے طالب علم ندیم جس کی عمر 13 چودہ برس ہے کے ساتھ نازیبا حرکات کی ہیں، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، مزید تحقیقات پر پتہ چلا کہ ویڈیو کم از کم چھ سات ماہ پہلے کی ہے، پولیس افسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    گرفتاری کے بعد جمشید دستی بھی ہو گئے بیمار، کونسی بیماری؟

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    fir

  • مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ انرجی اینڈ پاور کا اجلاس ہوا،

    مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں دینی مدرسوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو بندوبستی اور ضم اضلاع کے دینی مدارس کو سولرائزیشن منصوبے میں شامل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر کے 1000 سے 1500 رجسٹرڈ دینی مدرسوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے،اس منصوبے میں تمام اضلاع سے مدرسوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، مدرسوں میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء رہائش پذیر ہوتے ہیں، ان کی سہولیات کے لئے مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،

    متعلقہ حکام کی جانب سے محکمے کے ترقیاتی منصوبوں، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پیڈو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی جلد سے جلد عمل میں لائی جائے، پن بجلی کے جاری منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے، ان منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قبول نہیں، منصوبے مقررہ مدت تک مکمل نہ کرنے والے ٹھیکیداروں پر جرمانے عائد کئے جائیں، ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے ترجیحات کا تعین کیا جائے، صوبے کے لئے آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کی تکمیل کو پہلی ترجیح دی جائے،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

  • مدارس کے طلبا کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

    مدارس کے طلبا کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت بجٹ اجلاس جاری ہے

    بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں اراکین کی تعداد انتہائی کم،تاہم بجٹ پر بحث جاری ہے،رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مردم شُماری کے دوران ڈیوٹی نبھانے والے اساتذہ اور اہلکاروں کو محکمہ شماریات کی جانب سے اب تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، میرا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلباء کو لیپ ٹاپ سکیم میں شامل نہیں کیا گیا ان طلباء کو بھی سیکم میں شامل کیا جائے، ملک میں 40 لاکھ طلباء دینی مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، وفاق المدارس کے طلباء کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،

    کسان کو قرضے پر 2 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے، راؤ محمد اجمل
    رکن قومی اسمبلی راؤ محمد اجمل نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسان کو جو قرضہ دیا جاتا ہے، زرعی بینک کا ہو یا کمرشل بینک کا، اس پر لگنے والے 2 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے، ڈیزل، بجلی اور کھاد کسان کے لیے ضروری جزو ہیں، بجٹ میں ان تینوں چیزوں کے لیے ریلیف نہیں دیا گیا، اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    اس سال بچوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، شزہ فاطمہ
    شزہ فاطمہ ایس اے پی ایم برائے یوتھ افیئرز نے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچے اس ملک کا اثاثہ ہیں اور اسی بات کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا دوبارہ آغاز کیا ،وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے لیے 80 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے وزیراعظم نے پہلا حکم لیپ ٹاپ سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کا دیا ،اس سال بچوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، 50 ہزار سے زائد نوجوانوں میں 30 ارب روپے کے قرضوں کی تقسیم کی گئی ہے تاکہ وہ زراعت اور بزنس کے لیے ان پیسوں کو استعمال کر سکیں، وزیراعظم کے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ایک لاکھ بچوں کو اس سال ٹریننگ دی جائے گی جس میں سے 60 ہزار بچے پہلے ہی اس سے مستفید ہو چکے ہیں

    سوئی جہاں گیس کا پلانٹ لگا ہے وہاں ابھی تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، خالد مگسی
    رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں 1952 میں گیس نکلی اور 1985 میں کوئٹہ کو گیس ملی، سوئی شہر میں جہاں گیس کا پلانٹ لگا ہے وہاں ابھی تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، ہم مسئلے کے حل کے لئے درخواست کرتے ہیں مگر کوئی نہیں سنتا، میں نے وزیر اعظم سے بھی بات کی ہے، وزارت پیٹرولیم کو بلایا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    لوڈشیڈنگ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل
    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی تقسیم کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لائن لاسز کو کم کرکے نہ صرف لوڈشیڈنگ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے بلکہ قومی وسائل کی بچت بھی کی جا سکتی ہے جہاں تک پانی کی بات ہے تو پانی وافر مقدار میں موجود ہے مگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر کچھ علاقوں میں نہیں پہنچ پا رہا جن کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے

    رکن قومی اسمبلی سید حسین طارق نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بھی پیٹرولیم کے مسائل ہیں، سندھ کے مختلف علاقوں سے گیس نکالی جارہی ہے مگر ان علاقوں کو گیس نہیں مل رہی، پچھلے سالوں میں کسانوں کو قرضے ملے ہوئے تھے مگر سیلابی صورتحال کی وجہ سے کسان اپنے قرضے ادا نہیں کرسکے جس کی وجہ سے بینک ان کسانوں کی زمین کو فروخت کرنے کی کوشش کرہا ہے،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام

  • دینی مدارس کے بچوں کو  لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنانے کی ہدایت

    دینی مدارس کے بچوں کو لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنانے کی ہدایت

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امورنے فاٹا ہاؤس اسلام آباد پر وزارت داخلہ کے قبضے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو فاٹا ہاؤس اسلام آباد صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے کرنے کی ہدایت کردی۔

    کمیٹی نے ایچ ای سی کو وفاق المدارس کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے بچوں کو بھی لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنانے کی ہدایت کردی ۔ قائمہ کمیٹیوں میں ارکان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کورم کا سنگین مسائل پید اہونا شروع ہوگئے کورم نہ ہونے کی وجہ سے سیفران کمیٹی 45منٹ تاخیر سے شروع ہوئی ۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کے متاثرہ دکاندارروں کو معاضہ دینے کے لیے فنڈز ہی نہیں ہیں فنڈز ملیں گے تو تقسیم کردیں گے ۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار نے کہاکہ مدارس والے بھی ہمارے بچے ہیں ان کو مین سٹریم میں لانا چاہئے، ان کے لئے لیپ ٹاپ کے لیے اگلے مالی سال میں علیحدہ پراجیکٹ بناتے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور( سیفران) کااجلاس چیئرمین محمد جمال الدین کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس کے مقرہ وقت پر صرف ایک رکن محمدافضل کھوکھر اجلاس میں آئے ۔ کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس شروع کرنے میں 45منٹ کی تاخیر ہوئی ۔ اجلاس میں سیکرٹری سیفران، ای ڈی ایچ ای سی، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، کے پی کے حکام نے شرکت کی ۔پہلے ایجنڈے کے محرک محسن داوڑ کمیٹی میں آئے تو کورم نہیں تھا جس پر انہوں نے کہاکہ آدھی پارلیمنٹ باہر بیٹھی ہوئی ہے اور باقی آدھے وزیر بن گئے ہیں کمیٹی میں شرکت کے لیے کوئی نہیں بچا ہے۔ وفاقی سیکرٹری سیفران نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر سیفران عمرے پر گئے ہوئے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی جمال الدین نے کہا کہ عمرے کے پیسے ہمارے اوپر تقسیم کرتے تو زیادہ ثواب ہوتا۔اس دوران رکن آفرین خان کمیٹی میں آئے جس کے بعد 11 بج کر 15منٹ پر رکن نصیبہ چنا،چوہدری محمداشرف اور نوید عامر جیو آئے تو کورم مکمل ہوا اور اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی اس دوران اجلاس تاخیر سے شروع کرنے پر رکن کمیٹی محمدافضل کھوکھر کمیٹی سے چلے گئے ۔

    کمیٹی میں محسن داوڑ کا شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران متاثر ہونے والی تاجر برادری میں فنڈز کی تقسیم کا معاملہ زیر بحث آیا۔پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا حکام نے بتایا کہ دکانیں تباہ ہونے والوں کو معاوضہ دینے کے لیے 6.7 ارب روپے کی درخواست بھیجی ہوئی ہے،فاٹا کے لئے 17 ارب روپے سالانہ مختص ہوتے تھے، گزشتہ سال 17 ارب مختص ہوئے لیکن12 ارب ریلیز ہوئے، اس سال وہ پیسے مختص ہی نہیں ہوئے، تو کس طرح معاوضہ دے سکتے ہیں ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں اس لئے معاوضوں کی ادائیگی روکی ہوئی ہے۔ایجنڈے کے محرک محسن داوڑ نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا پیسوں کی تقسیم کے حوالے سے ہے اگر پیسے ہی نہیں تو تقسیم کے طریقہ کار پر بات کرنا وقت کا ضائع ہے اس لیے جب تک پیسے نہیں ملتے اس وقت تک یہ ایجنڈا موخر کیاجائے ۔ کمیٹی نے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ موخر کردیا۔

    اجلاس میں فاٹا ہاؤس اسلام آباد پر وزارت داخلہ کے قبضے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا ۔ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کوبتایاکہ فاٹا ہاوس میں ہمارے دفاتر بنے ہوئے ہیں وہاں کام ہورہا ہے ہم نے بھی فاٹا ہاوس میں 6 ملین روپے خرچ کئے ہیں فاٹا ہاوس کے حوالے سے جو کمیٹی فیصلہ کرے گی ہم اس کو مانیں گے،فاٹا ہاوس ہمارے زیر استعمال ہے ۔محسن داوڑ نے کہا کہ آپ نے 6ملین خرچ کرکے اربوں کی جائیداد پر قبضہ کرلیا ہے فاٹا کے پی کے میں ضم ہوگیا ہے تو فاٹا ہاؤس بھی کے پی کے کو دیا جانا چاہیے آپ نے بلڈنگ ہڑپ کر لی ہے، پوری بلڈنگ پر قبضہ کر لیا ہے، کس قانون کے تحت یہ عمارت آپ نے قبضے میں لی ہے کس نے لکھ کر دیا ہے کہ آپ نے اس پر قبضہ کرلیا ہے ۔صوبہ کے پی کے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فاٹا ہاوس کا قبضہ واپس لینے کے لیے ہم نے باقاعدہ خط لکھا ہے مگر ابھی تک اس کا جواب وزارت داخلہ نے نہیں دیاہے ۔ چیئرمین کمیٹی جمال الدین نے کہاکہ آپ فاٹا ہاؤس صوبے کو واپس کریں، اسے کے پے کے ہاؤس 2 ٹو کا نام دیا جائے، آدھا اسلام آباد انہی لوگوں کے پاس ہے، ہمیں فاٹا ہاؤس واپس کریں ۔محسن داوڑ نے کہاکہ کمیٹی کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک خط بھی بھیجا جائے،کہ فوری طورپر فاٹاہاؤس کو واپس کیاجائے ۔کمیٹی نے وزارت داخلہ کو فاٹا ہاؤس اسلام آباد صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے کرنے کی ہدایت کردی ۔

    دینی مدارس کے طلباء کو وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں شامل نہ کئے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی نے ایچ ای سی حکام کو کہاکہ سابقہ فاٹا اوردینی مدارس کو لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے بتائیں۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 9500 لیپ ٹاپ پہلے بھی سابقہ فاٹا کے طلبہ کو ملے ہیں اب بھی سابقہ فاٹا کے بچوں کو ملیں گے۔دینی مدارس کا مینڈیٹ ہمارا نہیں ہے ۔ہم ان کو بھی لیپ ٹاپ دینے کے حق میں ہیں ۔مدارس کے طلبا کا ڈیٹا ایچ ای سی کے پاس نہیں ہے مدارس کے بچوں کو بھی مین سٹریم میں لایا جائے ۔اس وقت جو لیپ ٹاپس آرہے ہیں وہ پورے پاکستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لئے ہیں،ہم نے کوشش کی کہ دینی مدارس کا ڈیٹا مل جائے،ہم سپورٹ کرتے ہیں کہ ان کو بھی آن بورڈ کیا جائے،وہ ہمارے بچے ہیں ان کو مین سٹریم میں لانا چاہئے، ان کے لئے اگلے مالی سال میں علیحدہ پراجیکٹ بناتے ہیں، اس وقت سکیم صرف یونیورسٹیوں کے بچوں کے لئے ہے، میرٹ پر لیپ ٹاپس دیئے جائیں گے۔ کمیٹی نے چیئرمین ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ وفاق المدارس کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے بچوں کو بھی لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنایا جائے ۔

    (محمداویس)

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    وفاقی حکومت نے مدارس کے اتحاد ،اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ کے مطالبات تسلیم کر لیے،

  • وفاقی حکومت نے اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ کے مطالبات تسلیم کر لیے

    وفاقی حکومت نے اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ کے مطالبات تسلیم کر لیے

    وفاقی حکومت نے مدارس کے اتحاد ،اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ کے مطالبات تسلیم کر لیے،

    وفاقی حکومت مدارس کی رجسٹریشن کے لیے قانون میں ترمیم لانے پر آمادہ ہوگئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ ترمیم کے مطابق رجسٹریشن ایکٹ میں سیکشن 21 کا اضافہ کیا جائے گا، رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم سے مدارس کی رجسٹریشن متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کرسکیں گے، وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت قانون کو قانونی مسودہ جلد تیار کرنے کی ہدایت کر دی،دینی مدارس کی رجسٹریشن پر اداروں کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا،

    اس سے پہلے دینی مدارس کی رجسٹریشن وفاقی وزارت تعلیم اور صوبوں میں ہوتی تھی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد دینی مدارس کی رجسٹریشن پر وفاق اور صوبوں میں کھینچا تانی جاری رہتی تھی اب دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے تحت صرف متعلقہ ڈی سی کے پاس ہوگی دینی مدارس کے بینک اکاونٹس کھولنے پر بھی غیر اعلانیہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،

    واضح رہے کہ چند روز قبل وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی ،وفد نے وزیرِ اعظم کو مدارس کو درپیش مسائل سے اگاہ کیا. وزیرِ اعظم نے مدارس کے منتظمیں کو یقین دلایا کہ حکومت ان مدارس کے انتظام کے حوالے سے انہیں ذیادہ سے ذیادہ خودمختاری دینے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کے رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید سہل بلکہ ان مدارس میں جدید دور کے تقاضوں کہ مطابق تعلیم کی فراہمی میں ہر قسم کی مدد فراہم کرے گی.

    @MumtaazAwan

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

    اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

    اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات. ہوئی ہے،

    وفد نے وزیرِ اعظم کو مدارس کو درپیش مسائل سے اگاہ کیا. وزیرِ اعظم نے مدارس کے منتظمیں کو یقین دلایا کہ حکومت ان مدارس کے انتظام کے حوالے سے انہیں ذیادہ سے ذیادہ خودمختاری دینے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کے رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید سہل بلکہ ان مدارس میں جدید دور کے تقاضوں کہ مطابق تعلیم کی فراہمی میں ہر قسم کی مدد فراہم کرے گی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ان کیلئے جید علماء کے وفد سے ملاقات باعثِ مسرت و عزت ہے. وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپ تمام علماء کی ملک میں دینی شعبے کی تعلیم و تدریس کیلئے خدمات قابلِ تحسین ہیں. دینی مدارس میں ملک کے چالیس سے پچاس لاکھ طلباء مفت دینی تعلیم سے فیضیاب ہو رہے ہیں جن میں حفظِ قرآن پاک بھی کروایا جاتا ہے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ مدارس نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے.

    ملاقات میں صدر جمیعتِ علماءِ اسلام مولانا فضل الرحمن، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی منیب الرحمن، صاحبزادہ عبدالمصطفی ہزاروی، سینیٹر پروفیسر ساجد میر، مولانا عبدالمالک، مولانا افضل حیدری، مولانا عبدالکبیر آزاد اور مولانا فضل رحیم اشرفی کے علاوہ دیگر جید علماء کے ساتھ ساتھ وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ خان، مفتی عبدالشکور، معاونِ خصوصی سید فہد حیسن اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    @MumtaazAwan

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر ،پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عراق میں پاکستانی مصنوعات کی مارچ میں نمائش ہورہی ہے

    علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ تمام عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہتر ہورہے ہیں ،سعودی عر ب کے ساتھ سرد مہری کی فضا ختم کرنے میں کردارادا کیا گیا، اعزازی طور پر کام کررہاہوں ،اپنے کام کی تنخوا ہ نہیں لیتا کچھ واقعات ایسے ہوئے جس پر افسوس ہے اور نہیں ہونے چاہیے تھے او آئی سی ہنگامی اجلاس پاکستان کی بڑی کامیابی ہے 2021 میں مدارس کے بورڈز بن گئے جو مثبت کام ہے

    علامہ طاہر محمود اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ اسلام میں ڈنڈے کے زور پر نماز پڑھانے سے منع کیا گیا ہے قیام پاکستان کے فیصلہ کن ووٹ اقلیتوں کے تھے آج بھارت میں اقلیتوں کو ذبح کیا جا رہا ہے بھارت میں مساجد و چرچ جلائے جا رہے ہیں سب چپ ہیں کبھی کوئی مولوی بھوک سے نہیں مرا سب ہڑتال کرتے ہیں مولوی نہیں کرتاماضی میں دینی جماعتوں نے نوازشریف سے اتحاد کیا ہماری جماعت نے تحریک انصاف سے الحاق کیا

    علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا،ملک بھرمیں امن و امان کے لیے کمیٹیاں قائم کی ہیں یونین کونسل سطح پر کمیٹیاں قائم کی ہیں ،دشمن چاہتا ہےملک میں انتشار پیدا ہو، مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    سن لیں، یہ کام کرنیوالوں کو معاف نہیں کیا جائے گا،علامہ طاہر اشرفی کا دبنگ اعلان

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی