Baaghi TV

Tag: مدد

  • جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 1 ارب روپے مالیت کی مدد کا اعلان

    جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 1 ارب روپے مالیت کی مدد کا اعلان

    اسلام آباد:جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے 1 ارب روپے مالیت کی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاز سی ای او عامر ابرہیم کا کہنا ہے کہ معاونت سے فلاحی اداروں کے اشتراک سے بالخصوص ایمرجنسی سپلائی اور سبسڈائزڈ ٹیلی کام خدمات ودیگر امور انجام دیئے جائیں گے۔

    عامر ابرہیم نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ اپنے لوگوں کی امداد کرنا ہمارا فرض ہے، شدید مشکلات کے باوجود سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹیلی کام سروسز جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔جاز سی ای او نے مزید کہا کہ سیلاب کے باعث ڈیجیٹل انفراء اسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں جہاں ممکن ہے بحالی کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ اس معاونت میں جاز کیش اور موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کا حصہ بھی شامل ہے۔

    یوفون نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مفت کالز کی سہولت فراہم کردی،ترجمان یوفون کے مطابق یوفون 4G نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطے کیلئے مفت کالز کی سہولت فراہم کردی ہے۔اس حوالے سے ترجمان کا کہنا ہے کہ مفت کالز کی بدولت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو اپنے پیاروں سے رابطہ قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔

    ترجمان یوفون نے مزید کہا کہ یوفون سے یوفون نیٹ ورک اور پی ٹی سی ایل نمبروں پر مفت کالز کی سہولت پیش کی جارہی ہے، یوفون کے صارفین #4357* ڈائل کر کے یہ آفر حاصل کرسکتے ہیں۔

    ادھر ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے بعد سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1033 سے تجاوز کرگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سندھ میں 74، خیبر پختونخوا میں 31، پنجاب میں 1، بلوچستان میں 4، گلگت بلتستان 6 اور آزاد کشمیر میں بھی 1 شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق بارشوں کے بعد سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں میں 32 بچے 56 مرد 9 خواتین شامل ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 57 لاکھ 73 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے سبب 9 لاکھ 49 ہزار گھر ،7 لاکھ 19 ہزار سے زائد لائف اسٹاک سیلاب کی نظر ہوئے، 2 لاکھ 67 ہزار 719گھر ملیا میٹ، 3 ہزار 116 کلومیٹر شاہراہیں، 149 پُل سیلاب میں بہہ گئے۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیوں جاری
    ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے، متاثرین میں 5487 راشن کے پیکٹ اور 1200 سے زائد خیمے تقسیم کیے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں 117 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں، آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈ کوارٹرز میں فلڈ ریلیف سینٹر قائم کیا گیا ہے، سینٹر کا مقصد فلڈ ریلیف اقدامات کو کوآرڈنیٹ کرنا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، آرمی فلڈ ریلیف کورڈینیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے، ملک بھر میں امداد کلیکشن پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔

  • اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی

    اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی

    اسلامی تعاون کی تنظیم (اوآئی سی) نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امدادکیلئے تنظیم کے رکن ممالک، انسانی ہمدردی کی بنیادپرکام کرنے والی اسلامی تنظیموں اوربین الاقوامی برادری سے پاکستان کی فوری امدادکی اپیل کی ہے۔


    اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طہٰ نے پاکستان میں مون سون کی بارشوں اورسیلاب سے قیمتی انسانی جانوں اور اموال کی تباہی پرگہرے رنج وغم کااظہارکیا۔


    انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پرپاکستان کی حکومت اورعوام کے ساتھ تعزیت، افسوس اورہمدردی کااظہارکیا۔

    حسین براہیم طہٰ نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امدادکیلئے تنظیم کے رکن ممالک ، انسانی ہمدردی کی بنیادپرکام کرنے والی اسلامی تنظیموں اوربین الاقوامی برادری سے پاکستان کی فوری امدادکی اپیل کی ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔

    اس سے قبل عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

  • متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی،وزیراعظم

    متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے عزت مآب شیخ احمد دلموک آل مختوم کے جنرل کونسل صبور کرامت کی قیادت میں حیات بائیو ٹیک اور سائینو فارم کے وفد نے ملاقات کی ، ملاقات میں وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز عبدالقادر پٹیل اور متعلقہ اعلی حکام بھی شریک تھے.

    اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں. متحدہ امارات نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی.میں عزت مآب شیخ احمد دلموک آل مختوم کا پاکستان کے ساتھ صحت شعبے میں تعاون میں گہری دلچسپی پر مشکور ہوں.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے عزت مآب شیخ احمد دلموک آل مختوم کے جنرل کونسل صبور کرامت کی قیادت میں حیات بائیو ٹیک اور سائینو فارم کے وفد نےملاقات میں پاکستان میں پلازما فریکشنائیزیشن اور صحت کے شعبے کی ڈیجیٹائیزیشن میں تعاون اور سرمایہ کاری مین گہری دلچسپی کا اظہار کیا.

    ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سالانہ 30 لالھ لیٹر خون اکٹھا کیا جاتا ہے جس سے پلازما کی فریکشنائیزیشن نہ ہونے کی وجہ سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھاہا جا سکتا. پلازما فریکشنائیزیشن کی سہولت کے بعد عطیہ کئے گئے خون سے تمام حصوں کو علیحدہ کرکے استعمال سے لاکھوں جانوں کو بچایا جا سکے گا.

    وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو مزکورہ منصوبے کے حوالے سے کمپنیوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں.

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • ماہ رمضان میں غریبوں کی مدد کرنی چاہئیے

    ماہ رمضان میں غریبوں کی مدد کرنی چاہئیے

    قصور
    الہ آباد
    رمضان المبارک کی خوشیوں میں غرباء کو یاد رکھا جائے سہری اور افطاری میں روزہ داروں کے لئے انتظامات کروائے جائیں ان خیالات کا اظہار قاری عبد الجبار دانش اور حافظ عثمان فیصل نے مشترکہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس مبارک ماہ میں شیطان کو قید کر دیا جاتاہے اور ہر طرف خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت کا سماں ہوتا ہے نیکیوں کے اس موسم بہار میں غریب اور حقدار لوگوں کو بھی یاد رکھا جائے اور ان کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کے لئے سہری اور افطاری کا انتظام بھی کیا جائے جو کہ بہت بڑی نیکی ہے روزے کا اجر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے روزے دار کے لئے جنت میں داخلے کے لئے ایک الگ دروازہ ہو گا جس میں صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے

  • منشیات فروش ملزمان کو آخر کیسی  جدید ٹیکنالوجی  کی مدد سے گرفتار کیا؟؟

    منشیات فروش ملزمان کو آخر کیسی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا؟؟

    لاہور: سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ہدایت.اقبال ٹاؤن ڈویژن منشیات فروشوں کے خلاف انفارمیشن بیسڈ انٹیلی جنس آپریشنز کا سلسلہ جاری.فروری کے پہلے ہفتے میں منشیات فروشوں کیخلاف بھرپور کریک ڈاؤن۔6 روز میں خاتون منشیات فروش سمیت 27 ملزمان گرفتار. گرفتار ملزمان سے 17کلوگرام سے زائد چرس برآمد۔ملزمان سے 100 لیٹر سے زائد شراب برآمد۔ملزمان درباروں۔سکولز۔کالجز۔شاپنگ سنٹرز۔ہوٹلز کے اردگرد منشیات فروخت کرتے تھےملزمان کوخفیہ معلومات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا.ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کیلئے انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا۔لاہور کو منشیات جیسی لعنت سے پاک کرنے کے لئے بھر پور کارروائیاں جاری رکھیں گے ۔ ایس پی اقبال ٹاؤن کیپٹن(ر)محمداجمل

  • اے سی نے مظلوم بے سہارا عورت کی مدد کی

    اے سی نے مظلوم بے سہارا عورت کی مدد کی

    قصور
    ڈی سی قصور منظر علی جاوید کی ہدایت پر م موضع چھبر کی رہاشی خاتون زینب بی بی کو اے سی چونیاں نے گندم واپس دلا دی
    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کو اطلاع ملی کہ چھبر کا رہائشی بااثر زمیدار مصطفی زبردستی زینب بی بی نامی غریب خاتون کی فصل گندم چھین کر لے گیا ہے اس پر فوری اسسٹنٹ کمیشنر عدنان بدر چونیاں نے متعلقہ پٹواری اور نمبردار کی موجودگی میں اراضی کی تصدیق کی جس پر بااثر زمیدار ناجائز قبضہ کرکے فصل گندم ہتھیانہ چاہتا تھا موقعہ پر ڈی سی قصور منظر علی جاوید کی ہدایت پر اراضی واہ گزار کرواتے ہوئے گندم غریب خاتون کے حوالے کر دیا