علی حسین(اوکاڑہ) دیپالپور میں اپنے ہی کمسن بھانجے کو اغواء کرکے تاوان کی رقم کا مطالبہ کرنیوالا مغوی کا سگا ماموں نکلا۔ پولیس نے ملزم کو اسکے ساتھی سمیت گرفتار کرکے تاوان کی رقم پانچ لاکھ روپے اور طلائی زیورات بھی برآمد کرلیے۔ ایس پی انویسٹی گیشن آفیسر دیپالپور شمس الحق درانی نے پریس کانفرنس کے دوران اغواء برائے تاوان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز دس سالہ ثناء اللہ کو دو ملزمان نے اغواء کرلیا اور تاوان کی رقم پانچ لاکھ روپے اور طلائی زیورات کا مطالبہ کیا۔ بصورت دیگر بچے کو قتل کرنے کی اور سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ بچے کے والد اسلم نے تاوان ادا کردیا اور بچے کو 1 چک پھاٹک اوکاڑہ شہر سے بازیاب کرالیا گیا۔ بچے کے والد اسلم نے تھانہ سٹی کے ایس ایچ او قلب سجاد کو اطلاع دی۔ ڈی پی او عمرسعید ملک کی خصوصی ہدایات پر ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے ایس ایچ او تھانہ سٹی دیہالپور کی سربراہی میں خفیہ ٹیم تشکیل دیدی گئی۔ ایس ایچ او تھانہ سٹی دیپالپور نے کاروائی کرتے ہوئے اغواکار ملزم شاہد لطیف اور اسکے ایک ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
Tag: مدعیت

بچے کیساتھ زیادتی کرنیوالادرندہ صفت شخص مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ بعد بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ متاثرین کی دہائی
اوکاڑہ(علی حسین) معصوم بچے کیساتھ زیادتی کرنیوالادرندہ صفت شخص مقدمہ درج ہونیکے تین ماہ بعد بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ بچے کے والدین سراپا احتجاج ۔ تفصیلات کے مطابق صدر گوگیرہ بستی مصطفیٰ آباد کے رہائشی مبارک علی کا9 سالہ بیٹا محمد حسنین رمضان المبارک میں مورخہ 1 جولائی2020روزے کی حالت میں قریبی مسجد میں نماز ادا کرنے کرنے جارہا تھا ۔ راستے میں مٹھو ولد یعقوب سکنہ بستی مصطفیٰ آباد نے محمد حسنین کو زبردستی پکڑ لیا اور ایک ویران کمرے میں لے گیا جہاں اس نے نو سالہ محمد حسنین کیساتھ نازیبا حرکات و سکنات شروع کردیں اور حرامکاری کی کوشش کرنے لگا۔ بچے کے مزاحمت کرنے پر اسکو مارنے پیٹنے لگا۔ جس کی وجہ سے بچہ زخمی ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر بچے کے ورثاء جب جائے واقعہ پر پہنچے تو مٹھو ولد محمد یعقوب کو بچے کیساتھ زیادتی کرتے پایا۔ ملزم سنگین نتائج کی دھکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگیا۔ پولیس نے بچے کے والد مبارک علی کی مدعیت میں تھانہ گوگیرہ میں ملزم مٹھو کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ کو درج ہوئے تین ماہ بیت چکے ہیں لیکن مقامی پولیس نے اب تک ملزم مٹھو کو گرفتار نہیں کیا۔ بچے کے والدین کے بقول ملزم مٹھو علاقہ میں موجود ہے جبکہ پولیس اسکو گرفتار کرنے سے قاصر ہے۔ بچے کے والدین نے ڈی پی او اوکاڑہ ، آر پی او ساہیوال ، انسپکٹر جنرل لاہور اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی درخواستیں دی ہیں لیکن کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بچے کے والدین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فی الفور گرفتار کرکے قانونی کاروائی کی جائے۔

