Baaghi TV

Tag: مدیحہ شاہ

  • پنجابی فلم رنگ عشق دا کا ٹریلر لانچ کر دیا گیا

    پنجابی فلم رنگ عشق دا کا ٹریلر لانچ کر دیا گیا

    سینئر ڈائریکٹر محمد پرویز کلیم اور پروڈیوسر ڈاکٹر کاشف ریاض کی میگا بجٹ کی پنجابی فلم رنگ عشقِ دا کا آج ٹریلر لان کر دیا گیا ہے. تقریب میں فلم کی کاسٹ ہیرو علی عباس،مدیحہ شاہ،سید سیکی ،حسن عباس ،آمنہ راہی،زاریا خان سمیت شوبز شخصیات نے شرکت کی. اداکارہ مدیحہ شاہ نے ایک عرصے کے بعد کسی شوبز کی تقریب میں شرکت کی .وہ عموما کسی بھی تقریب میں کم ہی دکھائی دیتی ہیں. اس تقریب میں جاناں ملک نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی. ڈائریکٹر الطاف حسین ایک عرصے کے بعد کسی تقریب میں دکھائی دئیے. فلم کے

    ہیرو علی عباس نے کہا کہ ہم نے ایک اچھی فلم بنائی ہے اس کی کہانی ایسی ہے کہ ہر کوئی اس سے خود کو ریلیٹ کر سکے گا اور اس کا میوزک بھی بہت اچھا ہے خوبصورت گانوں سے شائقین یقینا محظوظ‌ ہوں گے. سینئر اداکارہ نغمہ بیگم نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ نئے بچے اچھا کام کررہے ہیں. مجھے جب جب اچھا کام ملے گا میں کرتی رہوں گی. انہوں نے کہا کہ ایک بار کا فنکار ہمیشہ کا فنکار ہوتا ہے . میں آج بھی کام کرکے اچھا محسوس کرتی ہوں. سعید سہکی نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اچھا کام کرنے کی کوشش کی ہے امید ہے کہ شائقین کو یہ فلم ضرور پسند آئیگی.

  • سکرپٹ اچھا ملا تو ڈرامے کروں گی مدیحہ شاہ

    سکرپٹ اچھا ملا تو ڈرامے کروں گی مدیحہ شاہ

    سینئر اداکارہ مدیحہ شاہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں ڈراموں سے دور نہیں ہوئی بس اٹھاراں برس پہلے سٹیج چھوڑ‌دیا تھا اور جب چھوڑا تو سوچ لیا تھا کہ سٹیج پر دوبارہ کام نہیں کرنا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ میں نے حال ہی میں‌فلم کی ہے جس کا نام ہے رنگ عشقے دا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ میرا اس میں‌ کردار بہت اچھا ہے اور اس طرح کا کردار مجھے کافی عرصے کے بعد آفر ہوا. انہوں نے کہا کہ میری خاصی مصروفیت ہوتی ہے لیکن رنگ عشقے دا میں میرا کردار کافی مضبوط تھا اسلئے میں‌نے وقت نکالا. مجھے بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں بہت اچھی فلمیں بن رہی ہیں. مدیحہ شاہ نے مزید کہا کہ آج کل کی نوجوان نسل کافی ٹیلینٹڈ ہے رنگ عشقے دا میں نئے لڑکے

    لڑکیاں‌ہیں‌ سب کے ساتھ مجھے کام کرکے بہت مزاہ آیا کیونکہ سب نے بہت اچھا کام کیا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ یہ وقت سینما انڈسٹری کے لئے بہت اچھا ہے. اب ہر طرح کی فلم بن رہی ہے ہر طرح کے موضوع کو فلموں میں‌زیر بحث لایا جارہا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میں کرداروں کے انتخاب کے معاملے میں بہت چوزی ہوں اور میں شروع سے ہی ایسی ہوں. میں‌نے ہمیشہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دی.

  • مدیحہ شاہ کی فلم رنگ عشقے دا 23 دسمبر کو ریلیز ہوگی

    مدیحہ شاہ کی فلم رنگ عشقے دا 23 دسمبر کو ریلیز ہوگی

    دا لیجنڈ‌آف مولا جٹ کی ریلیز کے بعد پنجابی فلموں کو ایک سہارا ملا ہے، پنجابی فلموں کے شائقین کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کو اب ایک اور پنجابی فلم دیکھنے کو ملے گی جس کو پرویز کلیم نے ڈائریکٹ اور کاشف ریاض نے پرڈیوس کیا ہے. 23 دسمبر کو ریلیز ہونے والی فلم ” رنگ عشقے دا ” کی کاسٹ میں مدیحہ شاہ ، علی عباس سید، آمنہ راہی ، رازیا خان ، نغمہ بیگم ، اچھی کان ، وسیم علی ، وہاج خان ، سعید سیکی، حسن عباس ، طاہر نوشاد ، شمع ، ہانی بلوچ ، جنت علی اور افتخار ٹھاکر کے نام قابل زکر ہیں . فلم کا میوزک ذوالفقار علی نے دیا ہے

    جبکہ گیت ڈاکٹر خاقان حیدر غازی ، مشتاق علوی اور علی عباس سید نے لکھے ہیں. فلم کے حوالے سے پرویز کلیم کا کہنا ہےکہ انہوں نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بہت محنت کی ہے اور شائقین ان کی فلم کو پسند کریں گے. پرویز کلیم کا یہ بھی دعوی ہے کہ رنگ عشقے دا کی کہانی مختلف ہے اور مدیحہ شاہ کے ساتھ ایک عرصے کے بعد کام کرکے بہت مزہ آیا ہے. فلم کا میوزک بھی شائقین کی پسند کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے یقینا شائقین کو میوزک بھی بہت پسند آئیگا.

  • لوگ ایک چہرے پر کیسے اتنے نقاب اوڑھ لیتے ہیں مدیحہ شاہ کا سوال

    لوگ ایک چہرے پر کیسے اتنے نقاب اوڑھ لیتے ہیں مدیحہ شاہ کا سوال

    فلم اور سٹیج کی اداکارہ مدیحہ شاہ نے حالیہ انٹرویو میں ایک سوال اٹھایا ہے انہوں نے پوچھا ہے کہ لوگ ایک چہرے پر کیسے اتنے نقاب اوڑھ لیتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ کیسا ضمیر رکھتے ہیں لوگ کہ ان کا اصل چہرہ سامنے آنے پر بھی ان کو کوئی شرمندگی نہیں ہوتی. مدیحہ شاہ نے کہا کہ انسان اپنے کردار اپنے مزاج اور رویے کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اگر اسکا کردار اچھا ہے مزاج اچھا ہے تو اسکی یقینا شہرت بھی اچھی ہی ہو گی لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو یقینا اس کی شہرت بھی اچھی نہیں ہو گی. مدیحہ شاہ نے تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سچے اور کھرے لوگوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے. ایک سوال کے جواب میں مدیحہ شاہ نے کہا کہ کسی کا اعتماد نہیں توڑنا چاہیے جو کسی کا

    اعتماد توڑتے ہیں ان کو کیسے نیند آجاتی ہے وہ کیسے دوسروں کا سامنا کرلیتے ہیں؟‌مدیحہ شاہ نے کہا کہ نام انہی کے زندہ رہتے ہیں جو دنیا میں اچھے کام کرتے ہیں اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں . مدیحہ شاہ نے کہا کہ ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ آپ کی وجہ سے کسی نہ دل دکھے، اور کسی کا دل دکھا کر اسکی بدعا نہ لیں ڈریں اس چیز سے. مدیحہ شاہ نے آج کل جو فلمیں بن رہی ہیں اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اچھی کوشش ہے جاری رہنی چاہیے.

  • اداکارہ دردانہ رحمان کے گھر مجلس کا انعقاد

    اداکارہ دردانہ رحمان کے گھر مجلس کا انعقاد

    محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی مجلسیں بھی شروع ہو جاتی ہیں. خصوصی طور پر فنکار برادری محرم الحرام کے احترام میں اپنی شوبز کی تمام تر مصروفیات ترک کر دیتی ہے . پہلے محرم سے لیکر گیاراں محرم تک تو ہر دوسری شخصیت کے گھر مجلس کا اہتمام کیا جاتا ہے. اداکارہ انجمن تو کہتی ہیں کہ وہ محرم کے پورے مہینے میں ہی شوبز کے حوالے سے کوئی کام نہیں‌کرتیں عبادات کرتی ہیں مجلسوں میں شرکت کرتی ہیں. آئندہ کل شاہدہ منی کے گھر ایک بہت بڑی مجلس کا اہتمام کیا جا رہا ہے. فلمسٹار میرا ، مدیحہ شاہ ،شاہدہ منی، بی جی ، سٹیج کی تمام اداکارائیں ایک دوسرے کے گھروں میں ہونے

    والی مجلسوں میں شرکت کرتی ہیں اور سب نے کالے جوڑے زیب تن کئے ہوتے ہیں اور ایک بھی اداکارہ معمولی سے بھی میک اپ میں‌نظر نہیں‌آتیں. گزشتہ روز سینئر اداکارہ دردانہ رحمان کے گھر ایک بڑی مجلس کا اہتمام کیا گیا مجلس میں ان کے رشتہ داروں سمیت ان کی شوبز کے جاننے والوں‌نے شرکت کی جن میں جرار رضوی ، حیدر راج ملتانیکر ، حسین مراد، شاہدہ منی ، پرڈیوسر ڈاکٹر منور چاند و دیگر کے نام قابل زکر ہیں. درداہ رحمان خاصمے غم میں نظر آئیں.

  • شوبز میں کوئی بھی ایک دوسرے کی برتری قبول کرنے کو تیار نہیں مدیحہ شاہ

    شوبز میں کوئی بھی ایک دوسرے کی برتری قبول کرنے کو تیار نہیں مدیحہ شاہ

    مدیحہ شاہ کا شمار پاکستان کی ایسی اداکارائوں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے فلموں اور سٹیج ڈراموں میں‌کام کیا. مدیحہ شاہ نے نوے کی دہائی میں بڑے ہیروز کے ساتھ کام کیا.بعد ازاں انہوں نے سٹیج ڈراموں کا رخ کیا وہ الگ بات ہے کہ سٹیج ڈراموں پر ان کا ڈانس متنازعہ رہا ہے. مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میں نے شوبز سے بالکل بھی کنارہ کشی اختیار نہیں کی نہ ہی میں نے کبھی کوئی ایسا اعلان کیا ہے . مجھے جب بھی کوئی اچھی فلم یا ڈرامہ آفر ہوتا ہے تو میں کرلیتی ہوں. مزید بھی اگر اچھی فلمیں یا ڈرامے آفر ہوئے تو ضرور کروں گی. اداکار کا کام اداکاری کرنا ہے وہ اس

    کو چھوڑ کر کہاں جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے مزید یہ بھی کہا کہ ہمارے شوبز میں جو ماحول ہے وہ ایسا ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کی برتری کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کو عوام پسند کررہی ہو ہمیں بھی اسکو پسند کرنا چاہیے. اداکارہ نے مزید کہا کہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں تو آپ کے لئے اللہ تعالی آسانیاں کرتے ہیں.مدیحہ شاہ نے مزید یہ بھی کہا کہ انسان کا عمل اور اسکی زبان اسکے کردار کے بارے میں بتاتی ہے کہ کیسا ہے اس لئے کوشش کریں‌کہ جب بھی بولیں اچھا بولیں جو بھی کریں اچھا کریں.

  • گلوکارہ سائرہ نسیم کے گھر مجلس کااہتمام

    گلوکارہ سائرہ نسیم کے گھر مجلس کااہتمام

    محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی شوبز کی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں ۔ ٹی وی اور ریڈیو بھی عشرہ محرم کے حوالے سے یکم سے آٹھ محرم تک واقعہ کربلا کے ذکر کے علاوہ شہادت حسینؓ پر مذاکرے اور سوزو سلام کے علاوہ مرثیہ خوانی کے پروگرام پیش کرتے ہیں ، جبکہ نویں اور دسویں محرم کو ٹی وی اورریڈیوچینلز محرم الحرام کے حوالے سے خصوصی نشریات پیش کرتے ہیں۔ شوبزسے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات محرم الحرام کو پورے عقیدت واحترام کے ساتھ گزارتے ہیں.آج آٹھواں محرم ہے اور شوبز کے حلقوں میں عاشورہ محرم عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جارہا ہے فنکاروں کے گھروں پر مجالس عزا اور نیاز تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے . گزشتہ روز گلوکارہ سائرہ نسیم کے گھر مجلس کا اہتمام کیا گیا.

    اس میں مدیحہ شاہ اور گلوکار ملکو و دیگر نے شرکت کی. گلوکارہ سائرہ نسیم اور مدیحہ شاہ کو تصاویر میں غمزدہ دیکھا جا سکتا ہے اور دیکھا جا سکتا ہےکہ وہ کس قدر غم حسین میں‌ڈوبی ہوئی ہیں.

     

     

     

     

    اس موقع پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ اور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خراج بھی پیش کیا گیا. سائرہ نسیم کے علاوہ بہت ساری دوسری اداکارائوں کے گھر بھی مجلس کا اہتمام کیا جا رہا ہے. اس ماہ میں شوبز کی تمام خواتین اپنا شوبز کا کام چھوڑ کر مکمل طور پر محرم کا احترام کرتے ہوئے مجالس کا اہتمام کرنے کے ساتھ نیاز بھی تقسیم کرتی ہیں.

  • مدیحہ شاہ ٹک ٹاک پر آگئیں

    مدیحہ شاہ ٹک ٹاک پر آگئیں

    ٹک ٹک ایک ایسی لت ہے جو پوری دنیا میں لوگوں‌کو لگ چکی ہے. اس میں فنکار بھی شامل ہیں. حال ہی میں پاکستانی ٹیلی ویژن کی سینئر اداکارہ شگفتہ اعجاز ٹک ٹاک پر آئی وہ جہاں سبق آموز وڈیوز شئیر کرتی ہیں وہیں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ گانوں پر رقص کرتی بھی دکھائی دیتی ہیں. ٹک ٹاک سے شہرت حاصل کرنے والی جنت مرزا کا شمار ان میں ہوتاہے جن کے فالورز کی تعداد بہت زیادہ ہے. ان کی اسی پلیٹ فارم پر شہرت کی وجہ سے انہیں سید نور کی فلم تیرے باجرے دی

    راکھی میں‌کاسٹ کیا گیا .شگفتہ اعجاز کے بعد حال ہی میں سٹیج کی معروف اداکارہ مدیحہ شاہ بھی ٹک ٹاک پر آگئی ہیں. انہوں نے ٹک ٹاک پروڈیوز بنا کر شئیر کرنا شروع کر دی ہیں.مدیحہ شاہ سٹیج کی ایک نامور اداکارہ ہیں اور سٹیج پر رقص کے حوالے سے انہیں خاصی شہرت حاصل ہے. مدیحہ شاہ کافی عرصے سے سٹیج پر بھی کم ہی نظر آرہی ہیں انہوں نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو دیا جس میں وہ پاکستانی فلموں‌کے حوالے سے بات کرتی سنائی دے رہیں تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلمیں اور پنجابی سینما بچانےکےلئے معیاری سکرپٹ پر کام کرنا ہوگا. مدیحہ شاہ کی سٹیج کے حوالے سے اپنی ایک فین فالونگ ہے اور ان کا شمار سٹیج کی معروف ترین اداکارائوں میں ہوتا ہے.مدیحہ ٹک ٹاک پر آئیں ہیں ان کے مداح کافی خوش ہیں ان کا کہنا ہےکہ انہیں اب مسلسل مدیحہ شاہ کو دیکھنے کا موقع میسر آئیگا.

  • لاہور سے ڈرامہ  کراچی منتقل ہوجانا  تشویشناک  ہے مدیحہ شاہ

    لاہور سے ڈرامہ کراچی منتقل ہوجانا تشویشناک ہے مدیحہ شاہ

    سٹیج کی معروف اداکارہ مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے لاہور سے کراچی ڈرامہ منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے. مدیحہ شاہ نے کہا کہ ایک وقت تھا لاہور میں ڈراموں اور فلموں کی سرگرمیاں ہوتی تھیں لیکن اب یہ ساری رونقیں کراچی منتقل ہو گئی ہیں.ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کام سارا کا سارا کراچی منتقل ہو چکا ہے اور جو لوگ آرٹسٹ لاہور رہتے تھے وہ تقریبا کراچی منتقل ہو چکے ہیں جو تھوڑے رہ گئے ہیں وہ بھی وہاں جانے کی تیاریوں‌میں‌ہیں. مدیحہ شاہ نے اس انٹرویو

    میں‌یہ بھی واضح کیا ہے مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں کہ کراچی میں ڈرامہ کیوں بن رہا ہے اچھی بات ہے کام ہونا چاہیے اور فنکاروں کو کام ملنا چاہیے پھر وہ چاہے کراچی ہو یا لاہور. لیکن میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے یہ سوچیں کہ دوبارہ لاہور کو ڈراموں اور فلموں کا گڑھ کیسے بنایا جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں‌وہ تمام وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کی وجہ سے لاہور ڈرامہ کراچی منتقل ہوا. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کام اچھا ہو رہا ہے کوئی شک نہیں لیکن ہمارے ہاں جو پہلے کام ہو رہا تھا ہمیں وہی رونقیں یہاں‌دوبارہ دیکھنی ہیں اس کے لئے ہم سب کو مل بیٹھ کر کوشش کرنی ہو گی.