Baaghi TV

Tag: مدینہ منورہ

  • مدینہ منورہ تنہا سفر کرنے والی خواتین کیلئے دنیا کا محفوظ ترین شہر

    مدینہ منورہ تنہا سفر کرنے والی خواتین کیلئے دنیا کا محفوظ ترین شہر

    مدینہ منورہ : سعودی عرب کا شہر مدینہ منورہ تنہا سفر کرنے والی خواتین کیلئے دنیا کا محفوظ ترین شہر ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق برطانیہ کی ایک ٹریول کمپنی کی جانب سے جاری رپورٹ میں مدینہ منورہ کواکیلے سفرکرنے والی خواتین کے لئے دنیا کا محفوظ ترین شہرقراردیا گیا ہے۔

    عرب امارات کے ورک پرمٹ کے اجراء میں اضافہ ریکارڈ

    رپورٹ میں رات کے اوقات میں خواتین کے اکیلے سفرکرنے اورصنف کی بنیاد پرحملوں کے خطرے کا جائزہ لیا گیا اوردونوں شعبوں میں مدینہ منورہ کو10 میں سے 10 نمبردئیے گئے۔

    اکیلے سفرکرنے والی خواتین کے لئے دنیا کے محفوظ شہروں کی فہرست میں تھائی لینڈ کا شہرچیانگ مائی دوسرے اورمتحدہ عرب امارات کا شہردبئی تیسرے نمبرپررہا۔

    دوسری جانب سعودی عرب میں مساجد اور سرکاری اداروں میں نیکر پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے-

    سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے سماجی آداب کے منافی نئی خلاف ورزی اور اس پر جرمانے کی منظوری بھی دے دی ہے وزیر داخلہ نے سماجی ذوق کے منافی خلاف ورزیوں کی فہرست میں ایک اور خلاف ورزی کا اضافہ کردیا اب تک یہ 19 خلاف ورزیوں پر مشتمل تھی اضافے کے بعد خلاف ورزیوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

    مساجد اور سرکاری اداروں میں ہاف پینٹ پہن کر آنا سماجی آداب کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر 250 سے 500 ریال تک جرمانہ ہوگا۔

    عرب امارات نے ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبارکےلیے لاسئنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا

    واضح رہے کہ سماجی ادب کے منافی خلاف ورزیوں کا لائحہ عمل دو نومبر 2019 سے نافذ کیا جاچکا ہے اس وقت اس فہرست میں 19 خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ سابقہ خلاف ورزیوں پر 50 ریال سے لے کر 6 ہزار ریال تک کا جرمانہ مقرر ہے۔

    ادھر سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے خبردار کیا ہے کہ ہوائی جہاز کے مسافروں کے ساتھ چھیڑ خانی قابل سزا جرم ہے اس کے ارتکاب پر 5 برس قید اور5 لاکھ ریال تک کا جرمانہ ہو گا۔

    افغانستان:کنویں میں تین روز سے پھنسا بچہ جاں بحق

    عرب میڈیا کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے توجہ دلائی کہ ہوائی جہاز کے مسافروں کے ساتھ جسمانی تشدد یا چھیڑ خانی یا مار دھاڑ یا سماجی آداب کے منافی کوئی بھی حرکت قابل سزا جرم ہے طیارے کے عملے کے ساتھ بھی اس قسم کی کوئی حرکت سزا کے دائرے میں شامل ہو گی۔

    پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ جو شخص ہوائی جہاز کے کسی مسافر یا عملے کے کسی فرد کے ساتھ جسمانی تشدد یا جارحیت یا چھیڑ خانی یا سماجی آداب کے منافی کسی حرکت کا مرتکب ہوگا اسے پانچ برس تک قید اور 5 لاکھ ریال تک کے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…