Baaghi TV

Tag: مذہب

  • بھارت میں مذہب کے نام پر فراڈ،نہ دیوی محفوظ ، نہ درشن

    بھارت میں مذہب کے نام پر فراڈ،نہ دیوی محفوظ ، نہ درشن

    بھارت میں مذہب کے نام پر فراڈ کا خوفناک انکشاف ہوا ہے جہاں ایودھیا رام مندر کے نام پر کروڑوں روپے کا فراڈ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق جعلی ویب سائٹ کے ذریعے "پرساد” کی ترسیل کا جھانسہ دیا گیا، امریکی پروفیسر کے نام پر بھارتی شہریوں کو لوٹ لیا گیابھارت میں عقیدت کو تجارت میں بدلنے والا نیٹ ورک سرگرم ہے، کروڑوں روپے کی رقم صرف جعلی ترسیل پر خرچ ہوئی۔

    ہندوؤں کے مقدس موقع پر فراڈ کو روکنے میں بھارتی سائبر سیکیورٹی ناکام رہی، رام مندر کی تقریب شاندار رہی مگر پردے کے پیچھے مالی گھپلے کیے جاتے رہے، بھارتی عوام کو لوٹ لیا گیا، مودی سرکار نے زبان سی لی، بھارت میں مذہب کے نام پر فریب کا بازار گرم رہا اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی،یہ سب اُس وقت ہوا جب پورے بھارت کی نظریں رام مندر پر تھیں۔

    سوال یہ ہے کہ کیا مودی سرکار صرف مذہبی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ کیا عوام کی حفاظت مودی کی ترجیح نہیں؟ مذہبی عقیدت کو دھوکہ بنانے کا ذمہ دار کون ہے؟عقیدت اور دھوکہ، مودی کا نیا سیاسی ہتھیار بن چکا، بھارت میں آج نہ دیوی محفوظ ہے نہ درشن ، ہر مقدس موقع اب ایک نیا فراڈ بن کر سامنے آ رہا ہے مودی کے ‘نئے بھارت’ میں عقیدت مندوں کی جیبیں خالی اور مذہب کے بیوپاری مالامال ہو رہے ہیں۔

  • قیام امن کیلئے مذاہب،تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے: انیق احمد

    قیام امن کیلئے مذاہب،تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے: انیق احمد

    دنیا میں قیام امن کیلئے مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ علماء و مشائخ سے ملاقات اور سمینار کا مقصد مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے گذشتہ روز کوئٹہ میں بین المذاہب ہم آہنگی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    سیمینار میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی عبدالخبیر آزاد ، مولانا انوار الحق حقانی ، مفتی روزی خان ، ڈاکٹر عطا الرحمن ، سردار جسبیر سنگھ، ڈاکٹر انند بھاٹیہ ، بلوچستان رورل ڈویلپمنٹ پروگرام کے سربراہ نادر گل بڑیچ ، بشپ آف کوئٹہ ریورنڈ سائمن بشیر ، مسز روشن خورشید بروچہ و دیگر موجود تھے۔ وزیر مذہبی امور انیق احمد نے کہا کہ حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ دنیا میں قیام امن کیلئے مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ برداشت اور احترام کا رویہ اسلام کی تعلیمات کا لازمی جزو ہے۔ علماء و مشائخ سے ملاقات اور سمینار کا مقصد مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دین اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے۔ مختلف مذاہب میں مکالمے کا دروازہ کھولنے کیلئے اسلام کا فلسفہ نہایت حقیقت پسندانہ اور واضح ہے ۔ پر امن معاشرے کی تشکیل کیلئے تضادات کو سمجھنا نہایت ہی ضروری ہوتا ہے ۔ دنیا میں قیام امن کے حصول کیلئے اسلام کے ذریں اصولوں پر عمل کرنا ہو گا۔

    اقلیتی برادری کے سردار جسبیر سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں ملکی ترقی میں شانہ بشانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر انند کمار بھاٹیہ نے کہا بحیثیت قوم بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ہمیں مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ، اقلیتوں کا خیال رکھنا انکی ذمہ داری ہے۔بشپ آف کوئٹہ سائمن بشیر نے کہا کہ اختلافات کو سمجھنے کے بعد ہی دوسرے عقائد اور مذاہب سے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اقلیتوں کا فرض ہے کہ ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں اور کسی بھی افواہ پر کان نہ دھریں۔

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ،ساتھ مزید کس کو زمین الاٹ کی گئی؟ عدالت میں نیا انکشاف

    مندر کی تعمیر پر اعتراض کرنے والے خواجہ آصف کی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    مندر کی تعمیر کے فیصلے کو فوری واپس لیا جائے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی آ گیا

    مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ لال مالہی

  • عمران خان نے معاشی بحران کو مذہب کی ڈھال بنا لیا ہے جس پر تشویش ہے،شہباز شریف

    عمران خان نے معاشی بحران کو مذہب کی ڈھال بنا لیا ہے جس پر تشویش ہے،شہباز شریف

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بڑے پیمانے پر گورننس اور معاشی بحران کے لیے مذہب کو جس طرح ڈھال بنایا ہے، اس پر تشویش ہے۔

    باغی ٹی وی : شہباز شریف نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ خود غرضی پر مبنی سیاست سے جس قدر نقصان پہنچا ہے اس کا ادراک بھی مشکل ہے۔

    آزاد کشمیر:میرپورمیں کورونا کیسز رپورٹ ہونے پر 7 تعلیمی ادارے بند

    شہباز شریف نے وزیر اعظم کی جانب سے لکھے گئے ایک مضمون کے چند گھنٹے بعد تنقید کی جس میں عمران خان نے ’ریاست مدینہ کی روح: پاکستان کی تبدیلی‘ کے عنوان سے مبنی مضمون میں اسلام کے 5 بنیادی ستون اور ملک کے بارے میں بات کی۔


    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نےکہا کہ عمران نیازی صاحب آپ کی کابینہ میں تمام بدمعاش اور کرپٹ سیاست دان، کارٹل اور مافیاز بیٹھے ہیں۔ شوگر مافیا، آٹا مافیا، فارما مافیا، فرنس آئل مافیا، ڈالر مافیا، سمگلر مافیا، ذخیرہ اندوزی مافیا آپ کی سرکار نیازی صاحب کی سرپرستی میں ہے۔ تم کس کو بیوقوف بنا رہے ہو؟


    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان دین اسلام اور اس کی مقدس اصلاحات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہےہیں، وہ مذہبی ‘ایکسپلوئیٹر’ ہیں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مدینہ کی ریاست پہ مضمون لکھنا اس چورکی مانند ہےجوچوری پکڑے جانے پہ مسجد میں چھپ جائے وزیر اعظم نے گزشتہ 3 برس کے دوران ہر قدم پر اسلام اور ریاست مدینہ کی نفی کی ہے-

    ملکی معیشت اسٹیٹ بینک کے حوالے کردی گئی،شاہد خاقان

    انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کے شکنجے میں آنے پر حقائق چھپاتا اور دنیا کو قانون کی بالادستی کادرس دیتا ہےاخلاقی پستی کی علامت شخص کس منہ سے مدینہ کی ریاست کی اخلاقیات کا درس دے رہا ہے؟ریاست مدینہ کا جھوٹا دعویدار ، بیس کلو میٹر پر لوگ زندگیوں سے محروم، ہزاروں ابتلا میں اور یہ محل میں سوتا رہا،مہنگائی سے عوام کا گلا کاٹ کر انصاف اور اصولوں کا مضمون لکھنا بے شرمی اور منافقت ہے طاقتور، مکار سیاستداں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے مضمون لکھ کر قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہےمری میں بے گناہ جاں بحق ہوجائیں، مہنگائی سے عوام مر جائیں اور لیکچر ریاست مدینہ کے ؟


    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ جس کے قول و فعل میں صرف اور صرف تضاد ہو وہ مدینہ کی ریاست پہ درس دے رہا ہے مدینہ کی ریاست کی قانون کی بالادستی کی بات کرنے والا چار سال سے اپنے ہر کیس سے مفرور ہے بہتان ، الزام بغض ، نفرت عدم برداشت اور جھوٹ کا مجسمہ کس بے شرمی اور ڈھٹائی سے مدینہ کی ریاست پہ مضمون لکھ رہا ہے ریاست مدینہ اور عمران صاحب۔۔استغفراللہ، نعوذبااللہ، انا للّٰہ تین سال میں عمران صاحب نے ہر قدم پر ریاست مدینہ کے اصولوں اور روح کی نفی کی ریاست ِ مدینہ پہ عمران خان کا مضمون لکھنا اِس بات کا ثبوت ہے کہ ا±ن کے گھبرانے اور گھر جانے کا وقت شروع ہوگیا ہے-

    اسلام آباد: دہشتگردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق

    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ تین سال میں عمران صاحب نے ملک کے ساتھ جو کیا اور کہا اس کے بعد سراپا ڈھٹائی، بے شرمی، حقیقت سے انکاری شخص ہی ایسا مضمون لکھ سکتا ہے اپنی لوٹ مار ، نالائقی اور نااہلی میں ڈوبا شخص اپنی ڈوبتی کشتی بچانے کے لئے ریاستِ مدینہ پہ درس نہ دے عمران صاحب اپنی لوٹ مار، نااہلی ، نالائقی چھپانے کے لئے اسلام اورریاست مدینہ جیسے مقدس ناموں کا استحصال کررہے ہیں عمران صاحب جیسا شخص ہی یہ مضمون لکھ سکتا ہے جو حالت انکار، ہٹ دھرمی، ڈھٹائی اور بے شرمی کی غیر معمولی انتہا پر فائز ہے


    وزیر اعظم کے تحریر کردہ مضمون پر تحریک انصاف کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا کہ آرٹیکل میں وزیر اعظم عمران نے دعوی کیا تھا کہ “ریاست مدینہ کی روح” قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے پر منحصر ہے’سچ‘ یہ ہے کہ وہ ’روح’ مر گئی اور 10 اکتوبر 2019 کو دفن ہوگئی جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک تحریری حکم نامے میں غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس میں پی ٹی آئی کے تاخیری حربوں کو ‘قانون کا تاریخی غلط استعمال’ قرار دیا۔

    لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا کہاں کی جمہوریت ہے؟ سراج الحق

  • شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیرکی وجوہات اور سماجی مسائل
    تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے ۔

    "تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.”
    سورة النور 32
    ہمارے ہاں بچوں کی شادیوں میں تاخیر کی جو سب سے بڑی ایک وجہ ہے وہ بچہ ابھی پڑھ رہا ہے تعلیم مکمل نہیں کی اگر تعلیم مکمل ہوچکی ہے تو ابھی ملازمت کی تلاش ہے۔ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم اور روزگار کے چکر میں ایسا پھنسایا ہوا ہے کہ شادی کرنے کی جو اصل عمر ہوتی ہے وہ کب کی گزر جاتی ہے جس سے نوجوانوں میں کئ طرح کے نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا سامنا اکثر معاشرے کو کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد بھی تعلیم مکمل کی جاسکتی ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور رزق کا وعدہ اللہ سبحان و تعالی کا ہے۔ اللہ نکاح کے بعد رزق دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔
    تعلیم اور روزگار میسر آجانے کے بعد دوسرا مرحلہ جو بچوں کی شادی میں مزید تاخیر کا باعث بنتا ہے وہ آئیڈیل بہترین اور ہم پلہ جیسے حیلے ہیں والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑی جگہ ہاتھ مارا جائے لڑکے والوں کو اپنے چاند کے لئے لمبے قد والی سمارٹ اعلی تعلیم یافتہ گورے رنگ اور ایسی لڑکی کا رشتہ درکار ہوتا ہے جس کے زیادہ بہن بھائی بھی نہ ہوں چاہے انکا اپنا چاند گرہن زدہ ہی کیوں نہ ہو ان کو لڑکی ماڈل کی طرح ہر لہذا سے مکمل ہی کی طلب ہوتی ہے اور اس آئیڈیل کی تلاش میں بچوں کی عمر میں کئ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
    برسر روزگار کمانے والی لڑکیوں کی شادی میں بھی اکثر والدین تاخیر کرتے ہیں کیونکہ بچی اپنے والدین کے لئے آمدنی کا ذریعہ بنی ہوتی ہے اور اس کی آمدنی سے چھوٹے بہن بھائیوں کے تعلیمی یا دیگر اخراجات پورے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اور ہمارے معاشرے اور کلچر میں یہ رواج نہیں کہ بچے اپنی شادی کا مطالبہ والدین کے سامنے پیش کریں
    اور یوں اسطرح کی بچیاں اور بچے نظر انداز ہوتے رہتے ہیں اور شادی کی عمر گزار بیٹھتےہیں ۔
    شادی میں تاخیر کا شکار ہونے والے نوجوان اور افراد اپنی فطری اور جسمانی ضرورت کے لئے کیا کرتے ہیں اور اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں میں اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔
    جن نوجوانوں شادیاں لیٹ ہوتی ہیں انکی تولیدی صلاحیت میں کمی فطری بات ہے ۔
    لیٹ شادی والے والدین کے بچے ابھی چھوٹے ہی ہوتے ہیں کہ وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں اور اکثر بچوں کی تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی وفات پا جانے ہیں یا کسی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنی اولاد کی خوشیوں میں شامل ہونے یادیکھنے سے قبل ہی وفات پا جاتے ہیں ۔
    ہمیں اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے والدین اپنے بچوں کی شادیوں میں تاخیر نہ کریں اسطرح ان کے بچے کئ نفسیاتی معاشرتی اور سماجی مسائل سے محفوظ ہو جائیں گے یقینا اس کا اثر معاشرے پر بھی پڑے گا اور بے رہ راوی اور جنسی جرائم میں بھی کمی آئے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah