Baaghi TV

Tag: مراعات

  • تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ اور حکومت کا اختیار ختم

    سینیٹ خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ اور حکومت کا اختیار ختم کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ارکان قومی اسمبلی کی طرز پر سینیٹرز نے بھی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا اختیار حکومت سے لے کر سینیٹ کو دینے کی تجویز پیش کردی گئی ہے،ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کے لیے وزارت خزانہ سے مشاورت کی جاتی تھی مگر اب ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ سے مشاورت نہیں ہوگی قومی اسمبلی اس ضمن میں ترمیم پاس کرچکی ہے،ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافے کا فیصلہ قومی اسمبلی خود کرے گی-

    آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے زیر صدارت ہوا جس میں اراکین پارلیمنٹ کے الاؤنسز میں ترمیم پر غور کیا گیا اجلاس میں شریک سیکریٹری خزانہ امداد بوسال نے ترمیم پر غور کے لیے تین دن کا وقت مانگ لیا-

    کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اراکین قومی اسمبلی کے تمام الاؤنسز میں اضافے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہو گا ، قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ قومی اسمبلی ہی کرے گی، تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل منظور ہو چکا ہے، اراکین پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں میں اضافہ اپنی مرضی سے کریں گے یہ ترمیم پیش کردی گئی ہے۔

  • قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے

    اس ضمن میں چیئرمین نیب اور چیف الیکشن کمشنر کو درخواست دی گئی ہے جس میں حقائق سامنے رکھے گئے ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپیکر نیشنل اسمبلی نے ریٹائرڈ آفیسروں کی فوج رکھی ہے جو کہ تین سال سے لے کر 12 سال کے لئے اسمبلی میں غیر قانونی کام کر رہے ہیں اور اس کے بدلے اسپیکر قومی اسمبلی کی مہم چلارہے ہیں ۔ ان ریٹائر ڈلوگوں نے پہلے اسپیکر اسد قیصر کے ساتھ مل کر اس کے بندے سمبلی میں لائے، جن میں ایک اس کا بھانجا ہے جس کو اسد قیصر نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں Depotion پر بلا کر ضم کیا ۔ مگر پشاور ہائی کورٹ نے اس کو واپس بھجوایا۔ اب اسمبلی میں لا کر اس ضم کر کے گریڈ 19 دے دیا ہے اس کے علاوہ اسد قیصر نے PIPS جو کہ ایک گورنمنٹ آرگنائزیشن نہیں ہے سے شہر یار کو بلا کر سیکشن آفیسر کی پوسٹ پر ضم کر دیا گیا ہے۔ جو کہ گورنمنٹ رولز کے سراسر خلاف خلاف ورزی ہے۔اور اس کے علاوہ مشتاق احمد جو کہ ایڈیشنل سیکرٹری قانون سازی ہے اس کی بیٹی کو PIPS میں گریڈ 14 میں بھرتی کرکے گریڈ 17 میں نیشنل اسمبلی میں ضم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری نیشنل اسمبلی طاہر حسین کے بیٹے کو Depotion میں PIPS میں بھرتی کرکے نیشنل اسمبلی میں گریڈ 18 میں ضم کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک ڈپٹی سیکرٹری جس کی تقریبا بارہ سال ہے اور ایکسٹنشین چل رہی ہے اس کو جوائنٹ سیکرٹری کا چارج سونپ دیا گیا ہے، جو کہ جعلی بلز بنانے کا ماہر ہے۔ اور سپیکر کے گھر کے مہمانوں کی خاطر تواضع اور رہائش کا انتظام ان جعلی بلوں کے ذریعے کرتا ہے ۔ اس ساری کر پشن میں سیکرٹری نیشنل اسمبلی ، ایڈیشنل سیکرٹری چوہدری مبارک ، مشتاق احمد ، ایڈیشنل سیکرٹری اور وسیم احمد جو کہ بی اے میں تھرڈ ڈویژن ہے اور وہ ایک درخواست بھی نہیں لکھ سکتا ہے اس کو گریڈ 22 دے دیا گیا ہے ۔ یہ وسیم جو کہ DGIR ہے۔ اس نے اسمبلی سیکرٹریٹ لیٹر بنوا کر اپنے بیوی بچوں کو کینیڈا سیٹ کیا ہے اور پچھلے مہینے اسمبلی سیکرٹریٹ کے جعلی خط سے اس نے اپنے نوکر کا ویزا لگوا کر کینیڈا بھجوا دیا ہے۔ یہ وسیم جو کہ اسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوا تھا جس کے پاس موٹر سائیکل نہیں تھی اب ارب پتی بن چکا ہے۔ اس کے خلاف ایک لڑکی جو کہ اسٹنٹ ڈائر یکٹر تھی کے ساتھ ہراسمنٹ کا کیس بنا مگر سیکرٹری نیشنل اسمبلی اور ایڈیشنل سیکرٹری نے اس کو بچالیا۔ کیونکہ یہ سارے لوگ مل کر اسمبلی سیکرٹریٹ کا 60 فیصد اخراجات کھا جاتے ہیں ۔ اگر چوہدری مبارک کو صرف پوچھ لیں تو کروڑوں روپے کی ریکوری ہو سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ راجہ پرویز اشرف نے 6 بندوں کو سیکرٹری نیشنل اسمبلی بنا دیا ہے جن میں تین عرصہ دراز سے ایکسٹیشن پر ہیں اور تین موجودہ حاضر سروس ہیں۔ اگر ان کے پاس حاضر سروس بائیس گریڈ کے آفیسرز ہیں تو پھر یہ ایکسٹنشن والوں کو سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں دو وسیم احمد اور شعمون ہاشمی کسی طور پر اس لائق نہیں ہیں۔ سپیکر صاحب کی اس عنایت کی وجہ سے یہ سیکرٹری انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور سارا خرچہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے کچھ ملازم مثلا مشتاق احمد DG اور سعید متیلا DG اور سلیم خان کو آرڈینیٹر تنخواہ اسمبلی سے لے رہے ہیں اور راجہ پرویز اشرف کی انتخابی مہم چلا تے رہے اور ساری گاڑیاں نیشنل اسمبلی کی استعمال ہو تی رہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کئی سولوگوں کو بغیر ٹیسٹ اور انٹرویو، بغیر ایڈوئر ٹائرمنٹ کے بھرتی کیا ہے۔ اس طرح اسد قیصر نے بھی کئی سو بندوں کو اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھرتی کیا ہے ان کو راجہ پرویز نے اس لئے نہیں نکالا کہ وہ خود بھرتی کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کے علاوہ کیمرہ مین کو گریڈ 20 دے دیا ہے۔ حاضری لگوانے والے بھی خود گریڈ ہیں میں ہیں یہ لوگ Leave Application نہیں لکھ سکتے ۔ اس کیمرہ مین نے پورا گھر اسمبلی سیکرٹریٹ میں نوکری پر رکھوالیا ہے۔

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    باخبر ذرائع کے مطابق صرف یہاں تک بس نہیں بلکہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے روزانہ سرکاری گاڑی پر دودھ لے کر آتا ہے،دودھ کے لئے 50 کلو میٹر کا سفر روزانہ کیا جاتا ہے وہ بھی سرکاری خرچے پر ، اسی طرح سرکاری گاڑیوں کو غیر ضروری کاموں میں استعمال کر کے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے.

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریٹائرڈ ججز کو کسی بھی قسم کی مراعات دینے کی مخالفت کردی، اُن کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ججز کے لیے مراعات کی منظوری کا مطلب ہے کہ ہم بطور جج یہ عہدہ ذاتی فائدے کے لیے استعمال کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کو لکھے گئے خط میں ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار نے فل کورٹ کی منظوری کے لیے ایک سرکلر بھجوایا ہے، اس کا فائدہ ریٹائر ہونے کے بعد ہم ججز کو ہوگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا کہ جج کے حلف میں شامل ہے کہ وہ ججز کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرے گا۔انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ ججز کا اپنے لیے مراعات کی منظوری دینا ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار اور ہم ججز کو علم ہونا چاہیے کہ ہمارے عہدے کے تقاضے کیا ہیں، ‎رجسٹرار کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ہر جج کی جانب سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریٹائرڈ جج کو کسی بھی قسم کی مراعات دینے کی تجویز سے اختلاف کرتا ہوں۔ خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ‎سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرمنٹ سے کچھ ماہ قبل فل کورٹ میٹنگ بلائی جس میں ریٹائرڈ چیف جسٹس کے لیے گریڈ 16 کے سیکریٹری کی منظوری لی گئی۔انہوں نے کہا کہ ‎فل کورٹ سے 2018 میں منظوری اُس وقت لی گئی جب مجھ سمیت کئی ججز چھٹیوں پر تھے، جب فل کورٹ منٹس منظوری کے لیے مجھے بھجوائے گئے تو میں نے اعتراض لگایا اور اختلاف کیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ‎کیا ایسی حکومت جس کے مقدمات عدلیہ کے سامنے ہوں، وہ فل کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کر سکتی؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کو متاثر کرنے والے کئی اہم معاملات 2019 سے توجہ طلب ہیں، رجسٹرار سپریم کورٹ کی ان معاملات کے بجائے نظر عوامی وسائل کی طرف ہے۔

  • پی ایس ایل 7: پشاور زلمی نے نئی کٹ لانچ:کرکٹ سے محبت کرنے والے دیکھتےہی رہ گئے

    پی ایس ایل 7: پشاور زلمی نے نئی کٹ لانچ:کرکٹ سے محبت کرنے والے دیکھتےہی رہ گئے

    پشاور:پی ایس ایل 7: پشاور زلمی نے نئی کٹ لانچ:کرکٹ سے محبت کرنے والے دیکھتےہی رہ گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں سیزن کے لیے فرنچائز پشاور زلمی نے نئی کٹ متعارف کروادی۔

    پشاور زلمی نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ویڈیو شیئر کی جس میں ٹیم کے کھلاڑیوں نے نئی کٹ زیب تن کر رکھی ہے۔

     

     

    ویڈیو کے کیپشن میں لکھا گیا کہ انتظار ختم ہو گیا کیونکہ فرنچائز نے 27 جنوری سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے لیے نئی کِٹ کی نقاب کشائی کردی ہے۔

    ویڈیو میں آل راؤنڈر شعیب ملک سمیت، حیدر علی، کامران اکمل، عثمان قادر اور وہاب ریاض کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کا ساتواں ایڈیشن 27 جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہوگا، ایونٹ کا پہلا میچ کراچی کنگز اور پی ایس ایل 6 کی چیمپئن ٹیم ملتان سلطان کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    ادھر عوامی مطالبے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے افسران اور اسٹاف کی مراعات اور تنخواہوں کی تفصیلات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق فزیوتھراپی کے کنسلٹنٹ کی تنخواہ 21 لاکھ 15 ہزار910 روپے ہے جبکہ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی تنخواہ 13 لاکھ 59 ہزار651 روپے ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر محمد ندیم خان کی تنخواہ 13 لاکھ 15 ہزار روپے، ہیڈ انٹرنیشنل پلیئرز ڈویلپمنٹ ثقلین مشتاق کی تنخواہ 12 لاکھ 77 ہزار711 روپے ہے۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کی تنخواہ 12لاکھ 45 ہزار روپے ہے جبکہ چیف فنانشل افسر جاوید مرتضیٰ کی تنخواہ 12 لاکھ 40 ہزار 417 روپے، چیف میڈیکل افسر نجیب اللہ سومرو کی تنخواہ 12 لاکھ 15 ہزار روپے ہے۔

    چیئرمین سلیکشن کمیٹی محمد وسیم کی تنخواہ 10 لاکھ روپے، ڈائریکٹر ہیومن ریسورس سرینا آغا کی تنخواہ 8 لاکھ 65 ہزار روپے اور ڈائریکٹرانٹرنیشنل کرکٹ آپریشن ذاکرخان کی تنخواہ 8 لاکھ 44 ہزار 708 روپے ہے۔

    ڈائریکٹر سکیورٹی آصف محمود کی تنخوا ساڑھے 6 لاکھ روپے، ایس جی ایم آپریشنز لاجسٹکس اسد مصطفیٰ کی تنخواہ 6 لاکھ 13 ہزار345 روپے ہے جبکہ ایس جی ایم فنانس عتیق رشید کی تنخواہ 6لاکھ روپے ہے۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسرز محمد عبدالصبور، انورسلیم کاسی، بابرخان، نجیب صادق اور عبداللہ خرم نیازی کی تنخواہ 5، 5 لاکھ روپے ہے۔

  • حکومت ملازمین کی فلاح پر یقین رکھتی ہے: پرویز خٹک کا اجلاس سے خطاب

    حکومت ملازمین کی فلاح پر یقین رکھتی ہے: پرویز خٹک کا اجلاس سے خطاب

    وزیر دفاع پرویز خٹک کی زیر صدارت آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائینس کی تنخواہ اور مراعات بڑھانے کے حوالے سے اجلاس

    اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی شرکت- آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائینس کے نمائیندوں کی شرکت- سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی- ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات کے حوالے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا- حتمی فیصلہ فنانس ٹیم سے ملکر ہوگا۔اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے-

    پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت ملازمین کی فلاح پر یقین رکھتی ہے۔ان کو تمام سہولیات فراہم کرینگے۔ ملک معاشی ترقی کر رہا ہے۔وسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں ضروراضافہ کرینگے۔ملکی وسائل کے تناسب سے دیگرمراعات بھی دینگے۔ ہمارے دل بہت بڑے ہیں۔اگلے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں گے۔ تنخواہوں میں موجودہ تضادات کو ختم کرنے کی کوشش کرینگے۔ پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات کو جلد حتمی شکل دیں گے- پے اینڈ پینشن کمیشن حکومت نے سرکاری ملازمین کی فلاح کے لئے قایم کیا ہے۔