Baaghi TV

Tag: مرد

  • مردوں کے لئے مانع حمل ٹیکہ کا کامیاب تجربہ

    مردوں کے لئے مانع حمل ٹیکہ کا کامیاب تجربہ

    مردوں کے لئے مانع حمل ٹیکہ بھارت نے تیار کر لیا ہے، بھارت نے کامیاب تجربہ بھی کر لیا ہے، ایک ٹیکہ 13 برس تک مانع حمل کا کام کر سکتا ہے، ضرورت پڑنے پر ٹیکے کے اثر کو ضائع بھی کیا جا سکتا ہے

    بھارت میں بایو میڈیکل ریسرچ کے ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کا کہنا ہے کہ مانع حمل ٹیکہ کے تجربات کے تین مراحل مکمل ہو چکے ہیں،اس ٹیکہ کا نام Reversible Inhibition of Sperm under Guidance یا RISUG رکھا گیا ہے، مانع حمل ٹیکہ کو آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے پروفیسر ڈاکٹر سوجوئے کمار گوہا نے بنایا ہے،بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر گوہا کا سائنسی مقالہ 1979 میں شائع ہوا تھا، یعنی اس تجربے کو مکمل ہونے میں چالیس برس سے بھی زائد کا عرصہ لگا، بین الاقوامی اوپن ایکسس والی جرنل اینڈرولوجی میں اس تجربے کے نتائج شائع ہوئے ہیں،بتایا گیا ہے کہ آر آئی ایس یو جی کو مادہ منویہ والی رگوں میں ٹیکے کے ذریعہ ڈالا جاتا ہے،اس میں موجود پالیمر رگوں کی اندرونی دیوار سے چپک جاتا ہے،یہ پالیمر جب مادہ منویہ کے ساتھ رابطے میں آتا ہے تو ان کے پچھلے حصے کو تباہ کردیتا ہے، جس سے اسپرم عورت کے بیضہ دانی میں موجود انڈوں کو فرٹیلائز کرکے حمل ٹھہرانے کی اپنی صلاحیت کھو دیتے ہیں

    آر آئی ایس یو جی نے اس ٹیکے کا تقریبا 303 مردوں پر کامیاب تجربہ کیا،سات برسوں تک ان مردوں اور انکی بیویوں کی صحت پر خصوصی نظر رکھی گئی، اس ٹیکے کے کوئی منفی اثر نہیں پائے گئے،جو مرد تجربے میں شامل ہوئے انکی عمریں 25 سے چالیس برس تھیں، انہیں 60 ایم ایل کا ٹیکہ لگایا گیا، یہ تجربہ دہلی،اودھم پور، جے پور، لدھیانہ میں کئے گئے، اس ضمن میں بھارتی وزارت صحت نے بھی معاونت فراہم کی تھی، تجربے کے دوران کئی مردوں میں بخار، سوجن، پیشاب کی نالی میں انفکیشن کی تکالیف آئیں لیکن جلدہی وہ ٹھیک ہو گئیں

    بھارت نے مانع حمل ٹیکہ کا کامیاب تجربہ تو کر لیا لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹیکہ مارکیٹ میں کب آئے گا اور کیا مرد اسکو استعمال بھی کریں گے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں مانع حمل کی ادویات کی ضرورت زیادہ تھی،بھارت میں پہلے ہی مانع حمل ادویات کا استعمال بہت کم ہے، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نوے فیصد شادی شدہ جوڑے کنڈوم، یا دوسری مانع حمل ادویات استعمال نہیں کرتے.

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بیچ دنیا بھر میں کنڈوم کی کمی 

    لاک ڈاؤن کے بعد سیکس ٹوائیز کی مانگ میں زبردست اضافہ

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    لاک ڈاؤن میں فحش فلمیں دیکھنے میں اضافہ،فحش ویڈیوزدیکھنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں،سائبر کرائم کا بڑا الرٹ

    آبادی کم کرنے کا منصوبہ، نئے شادی شدہ جوڑوں کو حکومت دے گی تحفے میں "کنڈوم”

  • خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔

    صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو

  • خاتون نےشوہر کی وفات کے بعد بیٹی کی پرورش کے لئے مرد کا حلیہ اپنالیا

    خاتون نےشوہر کی وفات کے بعد بیٹی کی پرورش کے لئے مرد کا حلیہ اپنالیا

    نئی دہلی: بھارتی ریاست تامل ناڈو کے گاؤں ’کاتونایک کانپی‘ سے تعلق رکھنے والی خاتون نے شوہر کے مرنے کے بعد بیٹی کی پرورش کے لیے مرد کا حلیہ اپنانا پرا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست تامل ناڈو کی ایس پیتچیامل نامی خاتون نے شادی کے صرف 15 دن بعد اپنے شوہر کو کھو دیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 20 سال تھی جبکہ وہ حاملہ بھی تھیں تاہم کئی مہینوں بعد انہوں نے بیٹی کو جنم دیا شوہر کی موت کے بعد اپنا گزر بسر کرنے کے لیے انہیں کام شروع کرنا پڑا لیکن ریاست تامل ناڈو کی پٹی گاؤں کے پدرانہ سماج میں یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔

    تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں

    انہوں نے ہوٹلوں اور دیگر جگہوں پرکام کرنا شروع توکیا لیکن انہیں اوباش مردوں کی جانب سے ہراساں کیا جانے لگا، مذکورہ عورت نے ملازمت کرنے کی کوشش کی تو اکیلے جان کر انہیں وہاں پر بھی نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں نے خاتون کے بجائے مرد کا روپ دھارنے اور خود کو مرد (متھو) کے نام سے نئی شناخت دینے کا فیصلہ کیا-

    بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے 57 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ مرد کا حلیہ اپنے کے بعد انہوں نے مختلف جگہوں پر کام کیا اور بچی کی پرورش کی لیکن کسی کو نہیں پتا چلا سکا کہ وہ ایک خاتون ہیں۔صرف میرے قریبی رشتے دار اور میری بیٹی کو معلوم تھا کہ میں ایک عورت ہوں

    مردوں کو گنجا کہنا ’جنسی ہراسانی‘ قرار

    پیتچیامل کے مطابق وہ جہاں بھی کام کرتی تھیں، انہیں ‘اناچی’ کہا جاتا تھا، جو ایک مرد کا روایتی نام تھاپیتچیامل کے مطابق انہوں نے اپنی بیٹی کو محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے لیے کئی طرح کی نوکریاں کیں تاہم جلد ہی، متھو میری شناخت بن گئی جبکہ میرے تمام دستاویزات بشمول آدھار، ووٹر آئی ڈی، اور بینک اکاؤنٹ پر بھی یہی نام درج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مختلف نوکریاں کرکے پیتچیامل نے اپنی بیٹی کی شادی کردی تاہم اب بھی انہوں نے اپنی شناخت کو متھو کے طور پر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    ہندوستان میں قیامت خیزگرمی؛آسمان سے پرندوں کی بارش

  • اوکاڑہ کے قریب بس الٹ گئی۔27 مسافر زخمی

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) اوکاڑہ پاکپتن روڈ پر مسافروں سے بھری بس الٹ گئی جسکی وجہ سے بس میں سوار 27 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 13 مرد،13 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو دیپالپور میں منتقل کردیا گیا۔ بس عارفوالا سے لاہور جارہی تھی اور اوور سپیڈ کی وجہ سے ٹرک سے ٹکرا گئی جس سے بس کا ٹائر برسٹ ہوگیا اور بس الٹ گئی۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

  • مرد و خاتون کو لوٹ کر گولی مار دی

    قصور
    کھڈیاں خاص میں واردات مزاحمت پر گولی مار دی
    تفصیلات کے مطابق کھڈیاں خاص میں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر سوزی بولان روک کر نقدی 40 ہزار 1 تولہ طلائی زیورات لوٹ لئے جس پر متاثرہ شحض نے مزاحمت کی تو مزاحمت کرنے پر گولی مار
    لاہور کا رہائشی غلام مصطفی اہل خانہ کے ساتھ پاکپتن جا رہا تھا کہ مین دیپال پور روڈ ڈھنگ شاہ کے قریب نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے سوزوکی بولان نمبری ایل ای سی 3686 کو اسلحہ کے زور پر زبردستی روک لیا
    غلام مصطفی کو علاج معالجے کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا واضع رہے کہ شہر اور گردونواح میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں کو کنٹرول اور سراغ لگانے میں پولیس بری طرح ناکام ہو گئی ہے گزشتہ روز جامع مسجد راجپوتاں میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی سربراہی اے ایس پی عبدالحنان نے کی تھی کھلی کچہری میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگا یئے تھے متاثرین نےالزام عائد کرتے ہوئے کہا پولیس ملزمان کا سراغ لگانے کی بجائے درخواست دہندہ کو دڑایا جاتا ہے
    کھلی کچہری میں موجود تاجر برادری سیادی اور صحافی شخصیات نے پولیس کے رویہ کے خلاف وزیر اعلی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    (سال کے مختلف ایام کو مختلف ناموں سے موسوم کر دیا گیا ہے جیسے آج کا دن "فادرز ڈے” کے نام سے معروف ہے۔ اس حوالے سے انتہائی اہم بات کہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سال میں صرف ایک دن ہی باپ کے نام نہیں بلکہ ہر دن باپ کا احترام ہونا چاہیے تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ میری دانست میں اس دن کو منانے کا ہرگز یہ مقصد نہیں جو بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ یہ تو محض یاد دہانی کے لیے ہے کہ اس دن غور و فکر کریں اور کچھ خاص کریں۔)
    (نوٹ: یہ ذاتی رائے کا اظہار ہے اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔)

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    ابو البشر سے ہی ہوتا ہے یہ جہاں پیدا

    اس کائنات کا نظام امداد باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ ہر اک شے کسی دوسری چیز پر منحصر ہے اور کسی کو بھی افتراقِ انحصار حاصل نہیں ہے۔ مرد و زن نسلِ انسانی کے ارتقاء کے لیے بنیاد ہیں تو آدم ہی بنی آدم کی ابتدا۔ الغرض انسان کے لیے پدر و مادر دونوں اہم اور ضروری ہیں مگر آج کے دن کی مطابقت سے ہم باپ کے حوالے سے بات کریں گے ۔
    بنی نوع انسان کا آغاز وجود آدم سے ہی ہوا جو باپ کی مرکزی حیثیت اور اس کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے کافی ہے۔ باپ اس دنیا میں وہ واحد ہستی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے بچے کے اس جہان میں آنے کا انتظام و انصرام کرتی ہے اور اسے یہ بھی فکر لاحق ہوتی ہے کہ میرے بعد میرے بچوں کی گزران کس طرح ہو گی۔ اپنا شباب، اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اپنے اہل خانہ کے لیے صرف کر دینا ایک مرد کا شیوہ ہے۔ زمانے کے کٹھن حالات کا سامنا کرنا اور اہل خانہ کو راحت پہنچانا اس کا طرہ امتیاز ہے۔ باپ کی شفقت اور پیار مثالی ہے۔ یہ باپ ہی تو ہے جس کی تھپکی ایک بچے میں خود اعتمادی پیدا کر دیتی ہے اور زندگی میں آنے والے مشکل مراحل کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
    باپ کی ان قربانیوں اور اس کردار کے پیش نظر ہی خالق کائنات نے باپ کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا ہے کہ باپ کی رضامندی میں اپنی رضا اور باپ کی ناراضگی میں اپنی ناراضگی رکھ دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا۔
    ہمارے معاشرے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک کسان گرمی کے موسم میں کھیت میں کام کر رہا تھا۔ جب اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو پسینے میں شرابور دیکھا تو کہا بیٹا کچھ آرام کر لو۔ تھوڑی دیر میں سایہ ہوتا ہے تو کام پورا کر لینا۔ بیٹے نے باپ کو تسلی دی کہ مجھے گرمی نہیں لگ رہی اور بدستور کام میں جتا رہا۔ باپ کی روح کو سکون نہ ملا تو اس کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے پوتے کے ساتھ دھوپ میں کھیلنا شروع کر دیا۔ اب بیٹے کو فوراً اپنے بیٹے کی فکر ہوئی اور کہنے لگا ابا جان اس چھوٹے کو سائے میں لے جائیں، دھوپ تیز ہے۔ تب بوڑھے باپ نے کہا واہ اپنے بیٹے کے لیے دھوپ تیز ہے اور میرے بیٹے لے لیے گرمی کی پرواہ ہی نہیں۔
    ایک باپ ہی کل کے معمار تعمیر کرتا ہے اور ایسے باغ کی آبیاری کرتا ہے جس کا پھل شاید اسے خود کو میسر نہ آئے مگر وہ پوری تندہی سے اپنے کنبے کی پرورش کرتا ہے اور بغیر کسی صلہ کی خواہش کے اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔
    آئیے اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ بچے اپنے والد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین کا احترام اور ان کی فرمانبرداری نہایت ضروری ہے۔ جان لیں کہ والدین آپ کے خیرخواہ ہیں وہ ہمیشہ آپ کا بھلا ہی چاہیں گے۔ ان کے خواب آپ سے وابستہ ہیں اور وہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے آپ سے زیادہ فکر مند ہیں ۔ انھوں نے اس وقت آپ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا آغاز کیا جب آپ طفلِ ناداں اور نا سمجھ تھے۔
    والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کی خواہشات کا احترام کریں۔ والدین سے مل کر خوشی کا اظہار کریں اور مسکرا کر ملیں۔ ان سے اپنے مسائل شئیر کریں، مشکلات میں ان سے رہنمائی لیں اور ان کو اپنا بہترین دوست سمجھیں۔
    والدین آپ سے اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے وہ آپ سے جو بھی مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ ہی کی ذات کے لیے ہوتا ہے۔ آپ اپنے عمل سے صرف ان کا نام بنا سکتے ہیں اور برا بھی کر سکتے ہیں ۔ آپ کی اچھائی والدین کی نیک نامی اور آپ کی برائی والدین کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ مگر پھر بھی بہت سے نوجوان اپنے عمل کو اپنی ذاتی زندگی سے تعبیر کرتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے ۔
    آج کے دن بالخصوص اور پورا سال بھی ایسے افراد جن کے والدین اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں سوچتے ہیں کہ ان کو والدین سے حسن سلوک کا موقع میسر نہیں آیا اور وہ والدین کی کماحقہ خدمت نہیں کر سکے تو ان کو چاہیے کہ اپنے والد اور والدہ کے قریبی رشتہ داروں، ان کے دوستوں اور ان کے قریب العمر افراد سے حسن سلوک کریں ایسا کرنے پر ان کو والدین سے حسن سلوک جیسا ہی اجر عطا ہو گا اور دل کو راحت بھی ملے گی۔
    آج کے دن کا یہی پیغام ہے کہ والدین کی قدر کریں اور ان کا خیال رکھیں اور اگر وہ دنیا میں نہیں رہے تو ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں اور ان کے قریبی افراد سے ان جیسا ہی حسن سلوک کریں۔

  • یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    مسئلہ یہ ہے کہ ہم مردوں نے فطرت کے تقسیم کار یعنی Distribution of work کی بنا پر مرد اور عورت میں پائے جانے طاقت اور قوت کے فرق ، جسمانی و ذہنی ساخت کے فرق کو عورت پر غلبہ اور تسلط کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ وہی جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کرتا ہے وہی ہم مردوں نے عورت کے ساتھ کیا ۔ لیکن دنیا میں کسی جاندار کے نر نے مادہ کے ساتھ یہ سلوک نہیں رکھا جو نوع انسان میں مرد نے عورت کے ساتھ کیا ۔ بلے اور بلی میں نہ بلا برتر ہے نا گھوڑے اور گھوڑی میں گھوڑی کمتر ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ آخر جانوروں میں یہ پھٹیک کیوں نہیں ہے کہ کتیا ، کتے کی محتاج ہو یا بلی ، بلے کے کھانے کے لئیے اچھی اچھی بوٹیاں الگ کر رہی ہے ۔

    یہ ہم انسانوں نے عجب تیر مارا ہے اس ساری کائینات کی انواع و اقسام کی حیات میں ۔ ہم نے حیات کے اس سفر میں اپنے ہی ہم سفر کو اپنے قدموں تلے روندھنا شروع کردیا اور یہ بھول گئے کہ فطرت کے اس توازن کو بگاڑنے کا نتیجہ مرد کی پرواز کو بھی متاثر کریگا ۔ آج گھر کی گاڑی چل تو رہی ہے لیکن اک پہیہ گول اور ایک چوکور ۔ ایک محکوم شخصیت کی عورت کیسے زندہ و آزاد مرد کی پرورش کر پائیگی ۔ مرد کے اسی جذبہ تغلب نے مرد اور عورت دونوں کو ہی حاکم اور محکوم کی نفسیات کا اسیر بنا کر ان دونوں کی آپسی زندگی کو ہزار الجھاووں میں گرفتار کر رکھا ہے ۔

    ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مرد اور عورت میں طاقت کا توازن ہو یا عقل اور جذبات کے کم زیاددہ استعمال کا معاملہ ۔ خواتین کا زیادہ بولنا ہو یا مردوں کا دوستوں میں چائے پر دو دو گھنٹے ، بھلے خاموشی میں ہی گزار دینا ۔ یہ مرد اور عورت کے different ہونے ، دو الگ الگ جزبات ، احساسات رکھنے والی ذاتوں اور پرسینیلیٹیز ہونے کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ انکی inequality یا عدم برابری کو ۔ اس جسمانی اور جذباتی اختلاف سے کوئی حاکم اور محکوم نہیں بن جاتا ۔ کسی کو برتری اور کمتری کا سرٹیفیکیٹ نہیں مل جاتا ۔

    مرد اور عورت میں ان اختلافات کا ذمہ دار فطرت کا وہ تقسیم کار رہا ہے جس کے لحاظ سے مرد کا کردارlunch chaser کا ہوتا تھا اور ہے ۔ یعنی گھر کے معاش کا ، بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا ۔ اب چاہے وہ جنگل میں بھالے سے ہرن کا شکار کرنا ہو یا پھر سنگلاخ زمینوں کا سینہ چیر کر خوشہ گندم کو اگانا۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئیے مرد کو جس طرح کی صلاحتیں چاہئیے تھی اس میں انہی صلاحیتوں کا ارتقا ہوتا چلا گیا ۔ جنگل میں خونخوار درندوں کا شکار ہو یا پہاڑ کھود کر فصل اگانا ۔ چوڑا سینہ ، مضبوط کاٹھی ، Tunnel vision کا زیادہ ہونا ، شکار کو تیر اور بھالے سے نشانہ بنانے کے لئیے دماغ میں اسپیشیل (spatial ) کیلکولیشن کا خانہ بڑا ہونا یا مردوں کی دیگر صلاحیتیں اسی لنچ چیسنگ ٹاسک کو پورا کرنے کے لئیے درکار ہوتی تھی ۔

    اور فطرت کے اسی تقسیم کار کی رو سے عورت کا کردار Nest defender کا رہا ہے یعنی جس نے اپنے بچوں کی ، غاروں سے لیکر جنگلات میں جھونپڑیوں اور زمینوں پر بنے پکے مکانوں میں رینگنے والے حشرات الارض سے محفوظ رکھنے سے لیکر اپنے بچوں کو طرح طرح کے invaders سے بچانا تھا ۔جہاں عورت نے تنگ و تاریک اندھیرے غاروں میں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ بیک وقت چار پانچ بچوں پر نظر بھی رکھنی ہوتی تھی ۔ گھر کو سجانا بھی تھا اور بچوں کی رونے کی آواز سے انکی پرابلم بھی سمجھ لینا بھی لازمی ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کا spherical vision زیادہ ہوتا ہے ۔ یعنی خواتین کو ذرا سائیڈ دیکھنے کے لئیے نظر گھمانی نہیں پڑتی ۔ خواتین جذبات کو emotions کو بہت اچھی طرح sense کرتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایک دودھ پیتے بچے کو سمجھنے کے لئیے دماغ میں emotional faculty کا بڑا ہونا ضروری ہے ۔

    اسی طرح خواتین سرگوشی یا آواز سننے میں مردوں سے آگے ہوتی ہیں لیکن آواز کی سمت یا ڈائریکشن بتانے میں مرد زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے جنگلات میں شکار کرتے ہوئے خود کو بھی جانوروں سے بچانا ہوتا تھا اور اسکے لئیے ایک ایک آہٹ پر کان لگانے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس سمت سے کوئی سانپ یا چیتا دبوچ لے ۔ اسکے لئیے فوکس یااٹینشن کا ہونا لازمی ہے زرا سی distraction سے زندگی داو پر لگ سکتی تھی ۔ No wonder کہ ہم مرد گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات کرتے وقت ٹیپ کا والیم بھی کم کرتے ہیں اور سب سے چپ رہنے کی التماس بھی جبکہ ہماری بیگمات اور امائیں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ ، ڈرامہ سیریل ، فون پر آدھے خاندان کے ساتھ Gossips اور آپکو بھی نمٹا رہی ہوتیں ہیں .خواتین multi tasking میں اسی لئیے مردوں سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ ہزاروں سال سے یہی ملٹی ٹاسکنگ کرتی آرہی ہیں ۔ آج بھی جب گھر میں بچہ روتا ہے ماں کو رونے سے پتہ چل جاتا ہے کہ بچہ بھوکا ہے یا کان میں درد ہے جبکہ مرد حضرات کا ایک ہی جملہ ہوتا ہے ” یار یہ روئے جا رہا ہے چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے ، آخر اسکا مسلہ کیا ہے ، دودھ پی لیا اب سو جا بھائی ۔ وغیرہ وغیرہ ”

    خواتین اور مردوں کا مختلف professions کا چننا اور subjects choice میں بھی دونوں کا یہ difference نظر آتا ہے ۔ generally خواتین ڈے کئیر ، پرائمری و سیکینڈری ایجوکیشن ، آرٹس ، ایموشنل انٹیلیجنس ، لینگویجز، لٹریچر، ڈیزائننگ (اور لڑکوں کے شکوں کے مطابق رٹے?) میں بہتر ہوتی ہیں ۔جبکہ مرد عمومی طور پر پیور سائینسز ، گیمز ، گیجٹز، انجینئرنگ، کشتی ، گھڑسواری ، وار فئیر، بلو کالر جابس میں زیادہ رجحان رکھتے ہیں ۔ ( واضح رہے کہ یہ لازم نہیں کہ کوئی خاتون انجینئر نہیں بن سکتی یا مرد میک اپ آرٹسٹ یا ڈے کئیر پر جاب نہیں کر سکتا ۔ لیکن عموما یہ تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہوتی ہے ۔ حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ایسا نہیں کہ جتنے مرد انجینئر یا پائلٹ ہیں اتنے ہی خواتین بھی یا ڈے کئیر میں بھی اتنے ہی مرد ہوں جتنی کہ خواتین )

    جب تک انسان غاروں ، پہاڑوں اور جنگلات کی زندگی گذارتا رہا تب تک تو غالبا ٹھیک ہی چلا ہوگا لیکن جس دن انسان نے اپنی محنت کا سودا کیا اور دوسرے انسان نے اسکی محنت کا مول لگایا اس دن سے جہاں معاشرے میں دو طبقات ، دو کلاسز نے جنم لے لیا وہیں فیملی یونٹ میں بھی پیسے کمانے والے اور نہ کمانے والے کی بنیاد پر درجہ بندی ، غالب و مغلوب ، برتر و کمتر کی تقسیم در آئی ۔ گو کہ فطرت کا منتہا و مقصود مرد اور عورت دونوں کا اپنی اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا اور ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کرتے ہوئے حیات (life) کے اس سفر میں نسل انسانی کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جانا ہے ۔ لیکن مرد نے اپنی طاقت اور کمائی کو عورت پر غالب ہونے ، اس پر حکم چلانے اور اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے میں استعمال کیا ۔

    حقیقت تو یہ کہ کمہار کے ایک ہی چاک سے بنے برتنsize اور shapes میں الگ ہوتے ہیں لیکن انکی مٹی انکا substance ایک ہی ہوتی ہے ۔ کوئی نہیں کہتا کہ گھڑا چونکہ بڑا ہے پانی اسٹور کرتا ہے لہذا اس
    کی مٹی برتر ہے اور پیالہ چونکہ چھوٹا ہوتا ہے لہذا اسکی مٹی کمتر ۔ یہ دونوں فطرت کے ایک تقسیم کار کے تحت لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ادھورا ہی رہتا ہے اور استعمال کرنے والا بھی مشکل میں ۔ اسی طرح مرد ہو یا عورت جب تک ایکدوسرے کے فزیکل ، ایموشنل اور کھوپڑی کے مختلف ہونے کا برابری کی بنیاد پر احترام نہیں کرینگے تب تک غلبہ و تسلط کی یہ جنگ دونوں ذاتوں یعنی مرد اور عورت میں ایک حقیقی پیار ، محبت اور احترام کا تعلق پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالتی رہیگی ۔

    ہم مردوں کو بھی چاہئیے کہ پہلے خواتین کو ایک ذات، ایک شخصیت ، ایک پرسینیلیٹی ، ایک آزاد شعور تو سمجھیں ۔ عورت کی جس نرم و نازک جسمانی ساخت کو ہم نے اسکی کمزوری سمجھ رکھا ہے وہ رحم مادر میں جنین سے لیکر ایک بچہ کی پرورش کے لئیے لازمی درکار تھی جیسے ہم مردوں کا سخت جان ہونا ہماری کوئی فضیلت نہیں ہمارے آبا و اجداد نے جس کام کا ذمہ اپنے سر لیا یعنی lunch chasing کا ، یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ غلبہ اور تسلط کی اس جنگ میں کبھی ہم نے سوچا ایک قوت فیصلہ سے محروم ، زمانے کے سرد و گرم سے ناآشنا ، کچلی ہوئی ، پسی ہوئی ، کبھی باپ ، تو کبھی بھائی اور پھر شوہر اور اولاد کے سہاروں پر زندگی گزارے جانے کا احساس لے کر جینے والی عورت کس طرح ایک ، مضبوط ، خوش باش ، پراعتماد قسم کی اولاد کی تربیت کر پائیگی ۔ اگر انسان نے شاہراہ حیات پر اپنے سفر کو خوشگوار بنانا ہے تو اسے اپنے شریک سفر کو سمجھنا ہوگا عورت کے opposites کو مرد کے opposites کے ساتھ unite کرنا ہوگا ۔