Baaghi TV

Tag: مردم شماری

  • چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    وزیر اطلاعات فواد چودھری نے وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی متعارف کروائی،

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ کورونا سے متعلق پاکستان کی پالیسی کامیاب رہی کابینہ کو کورونا کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کورونا سے بچاؤ کیلئے ویکسین بہت ضروری ہے جنہوں نے ویکسین لگوائی ان پر بہت کم اثرات مرتب ہوئے،مردم شماری کیلئے 5 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے،دسمبر میں مردم شماری مکمل ہوگی جنوری میں حلقہ بندیاں ہوں گی، 2023 کا الیکشن نئی حلقہ بندیوں پر ہوگا،دسمبر میں مردم شماری مکمل ہو جائے گی،

    وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے کرمینل لاء ترامیم کی منظوری دی ہے،ترمیم کے تحت ہر کریمینل کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں کرنالازمی ہو گا،فیصلے میں زائد وقت لگا تو مجسٹریٹ یا جج وجوہات بیان کریگا کہ التواء کیوں ہوا، اگر متعلقہ جج مناسب وجوہات بیان نا کر سکا تو کارروائی ہو گی، ایس ایچ او کی تعلیمی قابلیت کم از کم بی اے لازمی ہو گی، پراسیکیوشن کے دائرہ اختیار کو بھی بڑھایا جا رہا ہے،ہر کرمینل کیس کا فیصلہ 9 مہینے میں کرنا ہوگا ،9ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر جج چیف جسٹس کو وجہ لکھ کر دیگا پولیس کو ضمانت کی پاور دی جارہی ہے پلی بارگین کرمینل مقدمات میں شامل کررہے ہیں ،چالان پیش کرنے کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 45 دن کرنے کی تجویز دی ہے چیک کے مقدمات میں ضمانت ہوسکے گی ماڈرن ڈیوائسز کو شواہد کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے، کرپشن سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر بھی گفتگو ہوئی ،پاکستان کا سکور رول آف لاء کے باعث نیچے گیا فنانشل کرپشن میں اضافہ نہیں ہوا ،پاکستان میں روول آف لاء پر کام کرنے کی ضرورت ہے،ہائی پروفائل اور اہم مقدمات کی سماعت براہ راست دکھائی جانی چاہیے،کرمینل جسٹس ریفارمز سے ر ول آف لاء میں بہتری آئے گی،شہباز شریف کا کیس براہ راست نشر کیا جائے آصف زرداری کا اومنی کیس بھی براہ راست دکھایا جائے،عثمان مرزا ، نور مقدم کیس کا ٹرائل بھی دکھایا جائے ،بیرون ملک جانے والے مزدروں کیلئے کورونا ٹیسٹ میں سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،بیرون ملک مزدوری کیلئے جانے والے افراد کا کورونا ٹیسٹ لازمی ہو گا،ایسے افراد کیلئے کورونا ٹیسٹ کی فیس میں کمی کی سمری ای سی سی میں لائی جائیگی،فارن ریمنٹنز میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے اسحاق ڈار نے جعلی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو روکا،فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے تمباکو کی قیمت 245 روپے مقرر کی گئی ہے

    کابینہ نے اسلام آباد میں نئے بجلی اور گیس میٹر لگانے کی منظوری دے دی محمد یوسف دیامر بھاشا ڈیم کے 3 ماہ کے لیے سی ای او ہوں گے چلغوزوں پر ڈیوٹی ختم کردی شوقین افراد اب کھا سکیں گے چلغوزوں پر ڈیوٹی ختم کرنے سے افغانستان کے لوگوں کی مدد ہوگی ،5 جی لائسنس کیلئے خصوصی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے،کابینہ نے حج عمرہ ایکٹ کی منظوری دے دی،

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا عدالت میں ایک اور ڈرامہ

    نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پاگل ہے، عدالت میں درخواست دائر

    نور مقدم قتل کیس، سماعت بغیر کارروائی ملتوی

    نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم کو اندر بلا کر عدالت نے میڈیا کو باہر نکال دیا

    بیٹی کو ناحق قتل کیا گیا، ملزم کوسزائے موت سنائی جائے،نورمقدم کے والد کا عدالت میں بیان

    نورمقدم قتل کیس کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا ایک اور ڈرامہ،سوشل میڈیا صارفین برس پڑے

  • وفاقی حکومت کا تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ ون سے گریڈ 22 کے افسران اور ملازمین کو 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ ارسال کر دیا جس میں ملازمین سے ذاتی و پروفیشنل معلومات مانگی گئی ہیں، ان میں ملازمت کی نوعیت، تعلیمی قابلیت، ڈومیسائل، کیڈر،مدت ملازمت سمیت دیگر تفصیلات شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ملک کے اندر یا بیرون ملک، لازمی ٹریننگ اور کسی شعبہ میں اگر سپیشلائزیشن کی ہوتو اس کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

    دوسری جانب بیرون ملک 51نئے ٹریڈ افسران کی تعیناتی کا عمل آغاز پر ہی متنازع ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے 26 افسران کی درخواستیں مسترد کی گئیں جس پر کچھ افسران نے عدالت سے رجوع کرنا شروع کر دیا، نجی شعبے سے بھی بڑی تعداد میں درخواستیں مسترد کی گئیں ہیں، امیدواروں کا تحریری امتحان ایک ہفتے کیلیے ملتوی کردیا گیا۔

    وزیراعظم نے وزارت تجارت کو تعیناتیوں کا عمل شفاف اورمیرٹ پر کرنے کی ہدایت کی تھی ذرائع کے مطابق وزارت تجارت نے 300 امیدواروں کی درخواستیں تحریری امتحان کیلئے منظور کیں۔

    لوئرکوہستان میں غیرت کے نام پر15 سالہ طالب علم قتل

    واضح رہے کہ حکومت آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے افسران کو روکنے کے لیے کوشاں ہےجس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے-وزیراعظم عمران خان نے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے دفتر کی طرف سے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ کے اختیار کی وسعت جاننے کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    جبکہ اس اقدام سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جو پہلے ہی آڈٹ کو محدود کرنے کے کسی بھی اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔

    فواد چوہدری کا میڈٰیا سے متعلق بیان ایک”سازش” ہے،صحافتی تنظیمیں

    ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وفاقی کابینہ سمری کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت اٹارنی جنرل کے دفتر کو فیڈرل آڈیٹرز کے دائرہ کار پر نظرثانی کے لیے ریفرنس بھیجے گی تاہم اٹارنی جنرل پہلے ہی یہ رائے دے چکے ہیں کہ اے جی پی کا کام اکاؤنٹس کے آڈٹ تک محدود ہونا چاہیے اور انھیں گورنمنٹ انٹرپرائزز کے پرفارمینس آڈٹ سے دور رہنا چاہیے۔

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

  • 7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    اسلام آباد:7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 7 ویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیر اعظم عمران خان کی صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 49 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں وزرائے اعلٰیٰ، وفاقی وزراء کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، تمام صوبائی چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، چیف کمشنر اسلام اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

    وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے مطالبات کے مطابق کونسل کے اجلاسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی جبکہ کونسل نے مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ مردم شماری سے قبل خانہ شماری کرائی جائے گی، کمیٹی مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کریگی، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جی آئی ایس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس نے مالی سال 2020-21 کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی سالانہ رپورٹ کی منظوری دی، مالی سال 2020-21 کے دوران مجموعی طور پر 6 اجلاس منعقد، 21 ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا، مشترکہ مفادات کونسل سیکرٹریٹ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ کاری میں سہولت فراہم کرے گا۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں کراچی کے لیے پانی کی اضافی ضروریات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور سیاسی اور تکنیکی سطح پر صوبوں کے موقف اور پانی سے متعلق مسائل پر مفاہمت کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کمیٹی کراچی کے لیے پانی کی اضافی ضروریات کے معاملے کو دیکھے گی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت مردم شماری کا قابل اعتبار ڈیٹا رکھنا چاہتی ہے، یہ ڈیٹا شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیوں اور منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

    وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کےقیام پرکونسل کے اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ مستقل سیکرٹریٹ کا قیام وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کے جذبے کوظاہر کرتا ہے،وفاقی حکومت تمام وفاقی اکائیوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قومی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔

  • ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    کراچی: ملک میں ساتویں مردم شماری ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےملک میں سماجی و معاشی منصوبہ بندی کے لیے مردم شماری بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ملک کی آبادی اور اس کے تناسب کو مد نظر رکھ کر ہی حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں بین الاقوامی اصولوں کے بالکل برعکس 1981 سے 2017 تک dejure یعنی مستقل رہائشی ایڈریس بنیادوں پر مردم شماری کی گئی جس سے ملک کے اہم شہروں کی آبادی متاثر ہوئی ہے بالخصوص ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی کو ہمیشہ گھٹا کر دکھا گیا ہے چھٹی مردم شماری میں بھی کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ ظاہر کی گئی ہے جسے سپریم کورٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے غلط قرار دیا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے”ایکسپریس” کےمطابق آئی بی اے کےفیکلٹی ممبرماہر اقتصادیات اور محقق عاصم بشیر خان کاکہناہےدنیابھرمیں مردم شماریdefectoبنیاد پر کی جاتی ہے یعنی جو انسان جہاں سکونت اختیار کرتا ہے اسے وہاں شمار کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ہونے والی مردم شماری کے موقع پرمستقل ایڈریس کی بنیاد پر کی جارہی ہے یعنی کوئی شہری مردم شماری کے موقع پر کسی علاقے میں کئی سالوں سے رہائش پذیر ہے لیکن اس کے شناختی کار ڈ پر مستقل ایڈریس کسی دوسرے اضلاع یا صوبے کا درج ہے تو اسے مستقل ایڈریس والے علاقے میں شمارکیا جاتاہے، باوجود اس کے کہ وہ مردم شماری کے موقع پراس علاقے میں موجود ہے جہاں وہ کئی برسوں سے برسرروزگار ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عاصم بشیر خان کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی dejure بنیاد یعنی مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر مردم شماری کی گئی تو اس کی نتائج منصفانہ و شفاف نہیں ہوں گے جو نہ صرف قومی خزانے کے ضیاع کا سبب بنے گا بلکہ ایک بار پھر اس کے نتائج متنازع بنیں گے ایک ہزار 40حلقوں کا تجزیہ کیا ہے جہاں پر بعض حلقوں کے سینسز بلاکس میں خانہ شماری صفر اور آبادی بھی صفرکی گئی ہے جبکہ عملی طور پر اگر اس مقام کا مشاہدہ کیا جائے تو وہاں گھر اور افراد موجود ہیں اور کئی سال سے رہائش پذیر ہیں سندھ میں 86 ایسے بلاک ہیں جن میں گھرانوں کی تعداد بھی صفر ہے اور آبادی بھی صفر،1981 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 54 لاکھ 37 ہزار984 تھی جس کی صحت اور اعداد و شمار پر کئی سوالیہ نشان تھے۔

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    ادارہ شماریات کے ایک آفیسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں ساتویں مردم شماری کے لیے منصوبہ بندی بھی dejure بنیادوں پر کی جارہی ہے، اس ضمن میں 5اکتوبرکو فیڈرل کابینہ کے اجلاس میں dejure بنیادوں پر مردم شماری کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ کونسل آف کامن انٹرسٹ سے اس کی منظوری لی جائے گی ماضی 1981، 1998 اور2017 میں ہونے والی مردم شماری بھی dejure یعنی مستقل ایڈریس کی بنیادوں پر کرائی گئی تھی اگرچہ کہ dejureکی پالیسی یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ جو شہری چھ ماہ سے جہاں رہائش پذیر ہے اسے وہیں شمار کیا جاتا ہے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے، کم ازکم کراچی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    علاوہ ازیں اس ضمن میں جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کی ساتویں مردم شماری کو dejure بنیادوں پر کرانی کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 2017 کی مردم شماری dejure بنیاد پرکی جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی نصف ظاہر ہوئی، تحریک انصاف کی حکومت اگلی مردم شماری بھیdejure بنیادوں پر کرانے کیلیے جارہی ہے جو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    جبکہ وفاقی ادارہ شماریات کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفرکا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں اوراسٹیک ہولڈر زنے dejureپر اعتراض اٹھایا ہے اور defecto بنیادوں پر مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا ہے، اگرdefecto پر مردم شماری کرانے کے لیے جاتے ہیں توسیکیورٹی کی ضروریات اور بجٹ اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، دنیا بھر میں dejure بنیادوں پر ہی مردم شماری کی جاتی ہے، defecto پر دنیا میں صرف ان ممالک میں مردم شماری کرائی جاتی ہے جہاں آبادی بہت کم ہے، پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے جو defecto پر مردم شماری کرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ اگلی مردم شماری کیلیے23ارب روپے اخراجات آئیں گے اور رواں مالی سال 5ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں، نئی مردم شماری کا آغاز 2022میں ہونے جارہا ہے۔

    مری سانحہ: اسسٹنٹ کمشنرمری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کےخلاف اندراج مقدمہ کی…

    واضح رہے کہ پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔1972 والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 2017ء میں کرائی گئی۔

    پاکستان میں پہلی مردم شماری قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 میں کرائی گئی تھی اور اسکے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی جس میں مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا…

    دوسری مردم شماری 1961 میں ہوئی جس میں پاکستان کی مجموعی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ اس مردم شماری میں مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 5 کروڑ تھی۔

    سقوط ڈھاکہ کے باعث تیسری مردم شماری ایک سال کی تاخیر کے ساتھ 1972 میں ہوئی۔ جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ تھی۔ 1981 میں ہونے والی چوتھی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 8 کروڑ 37 لاکھ ہوگئی۔

    سترہ سال کے طویل عرصے بعد 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 8 لاکھ 57 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد متعدد مرتبہ مردم شماری کی تاریخیں دی گئیں مگر اب 19 سال بعد ہونے والی چھٹی مردم شماری کا آغاز پندرہ مارچ سے ہوا جوکہ پہلی مرتبہ 2 مرحلوں میں کروائی گئی

    مردم شماری کے لیے گھروں میں آنے والے اہلکار گھر کے سربراہ کے نام اور پھر یہاں رہنے والوں کا اندراج کرتے۔ اس کے لیے گھر کے سربراہ کا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہوتا اور اگر وہ دستیاب نہ ہو تو انھیں کوئی بھی ایسی دستاویز فراہم کرنا ہوتی جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

    مری میں سیاحوں کا داخلہ غیر معینہ مدت کے لئے بند

    حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح معلومات کو چھپانے یا غط بیانی کرنے والے کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے پہلی بار ملک میں خواجہ سرا برادری کو بھی مردم شماری میں شمار کیا گیا سپریم کورٹ کی طرف سے اس بارے میں از خود نوٹس کے بعد گزشتہ سال ہی ملک میں مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا-

    پاکستان میں 70 سالہ تاریخ کی چھٹی مردم شماری کے موقع پر وزارت داخلہ نے خانہ و مردم شماری کے موقع پر پاک آرمی کو ان افراد کیخلاف جو کہ معلومات دینے میں تعاون نہ کریں یا غلط معلومات فراہم کرے تو ان کیخلاف موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی عدالتی اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا تھا-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ