Baaghi TV

Tag: مرچ

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مرچوں پر بھی ہونے لگے

    موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مرچوں پر بھی ہونے لگے

    موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا پر متعدد اثرات مرتب ہورہے ہیں سیلاب، جنگلات میں آتشزدگی اور دیگر سنگین حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے،مگر اب موسمیاتی تبدیلیوں سے مرتب ہونے والے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مرچوں کا ذائقہ ماند پڑتا جا رہا ہے سائنسدانوں کے مطابق ایسا صرف مرچوں کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ دیگر غذاؤں پر بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں مثال کے طور کافی کی تلخی بڑھ رہی ہے، جبکہ شدید بارشوں کے باعث ناریل زیادہ نرم ہوتے جا رہے ہیں۔

    مرچیں بنیادی طور پر بیریز کی نسل سے تعلق رکھتی ہیں اور دنیا بھر میں انہیں پکوانوں میں مسالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں مرچوں کی 4 ہزار اقسام کاشت ہوتی ہیں جن کی رنگت، حجم اور مرچوں کی شدت مختلف ہوتی ہیں، مرچوں کی تجارت کا سالانہ حجم 9 ارب ڈالرز کے قریب ہے اور 70 فیصد سپلائی ایشیائی ممالک کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔

    9 مئی کیس: ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے مزید پانچ مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    امریکی سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مرچوں میں اب بہت زیادہ اضافی نمی جذب ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ان کی تیزی ماند پڑتی جا رہی ہے خشک سالی اور درجہ حرارت بڑھنے سے بھی مرچوں کی کاشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث مرچوں کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    ماہرین کے مطابق موسم میں آنے والی ہر قسم کی تبدیلی مرچوں پر اثرات مرتب کرتی ہے مرچوں کی نئی اقسام تیار کی جا رہی ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف زیادہ مزاحمت کرسکیں گی مگر ان کے لیے چیلنج اس کے ذائقے کو برقرار رکھنا ہے، ماضی میں جب آپ ایک مرچ کھاتے تھے تو آپ کو منہ میں آگ لگنے جیسا احساس ہوتا، پسینہ بہنے لگتا اور پورے جسم میں گرمی کی لہر دوڑنے کا احساس ہوتا ، مگر اب مرچوں کی تیزی کم ہوتی جا رہی ہے اور انہیں کھانے سے اکثر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔

    گوجرہ: ڈی پی او کی کھلی کچہری فوٹو سیشن تک محدود، شہری انصاف سے محروم

  • ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ہے کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔
    کیونکہ ملاوٹ کرنے والا انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے اور ایک دھوکہ بار شخص منافق تو ہو سکتا ہے مومن نہیں ۔
    مگر معاشرے میں جہاں دوسری برائیوں کو برائی نہیں سمجھا جاتا وہاں ملاوٹ بھی آجکل کا روبار کا لازم جزو بن چکا ہے ۔ دودھ ۔ گوشت۔ گھی ۔ آٹا۔ دالیں ۔ مرچیں ۔ چائے کی پتی ۔ غرض ہر چیز میں ملاوٹ کرکے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے ملاوٹ کے ایسے ایسے گھنآنے طریقے اپنائے جاتے ہیں عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ملاوٹ کرتے وقت حلال اور حرام کے تصور کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ گڑوں کی گندگی سے چربی نکال کر بیوٹی سوپ ۔ کپڑے اور برتن دھونے کے صابن کی تیاری میں بڑی بڑی فیکڑیاں ملوث ہیں ۔ حرام جانوروں کا گوشت دوسرے گوشت کے ساتھ ملا کر فروخت کرنا تو عام سی بات ہو گئی ہے ۔ جب ٹی وی لگاو ایسی خبریں نظر آتی رہتی ہیں ۔ گوشت کا وزن بڑھانے کے لیے جانور کے دل میں پانی بھرنا بھی قصائیوں کی روٹین کا حصہ ہے ۔ برائیلر مرغیوں کی خوراک کی تیاری میں جانوروں کا خون ۔ آنتین اور غیر حلال مادوں کے استعمال کا سب کو پتہ ہے ۔ مگر برائیلر کھانا سب کی مجبوری ۔۔۔ کیوں ؟

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    دودھ میں پہلے گوالہ پانی ملاتا تھا جس سے دودھ پتلا ہو جاتا اور ملاوٹ پہچان لی جاتی تھی ۔ مگر اب گوالہ اتنا سائنٹیفک ہوگیا ہے کہ ایک کلو دودھ میں بلیچنگ پاوڈر، یوریا اور دوسرے زہریلے مادے ڈال کر ایک من دودھ اتنا گاڑھا تیار کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے خالص دودھ بھی شرما جا ئے ۔ کہا جاتا تھا زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا ۔ مگر پاکستان میں یہ مثال ہر جانور پر ٹھیک بیٹتھی ہے جہاں مردہ جانور چاہے حلال ہو یا حرام ضائع نہیں جاتا ۔ بلکہ اسکی آنتوں ، ہڈیوں اور دیگر اعضاء کو ابال ابال کر ان میں سے ساری چربی نکال لی جاتی ہے جس سے تیار ہونے والا خالص تیل اور دیسی گھی فوڈ ایسنز ڈال کر بازار میں کھلے عام ملتا ہے ۔
    مرچ اور مصالحے جن کے بغیر ہمارے کھانوں میں مزہ نہیں ہے ان میں لکڑی کا برادہ ۔ اینٹوں کا چورہ تو ملایا ہی جاتا تھا مزید یہ کہ انھیں سیمنٹ کی بوریوں کو کاٹ کر بنائے گئے لفافوں میں بھر کر فروخت کیا جا تا ہے ۔ اس طرح سیمنٹ کا فلیور بھی ہمارے مصالحوں میں شامل ہو جا تا ہے ۔ چائے کی پتی میں بھی پرانی استعمال شدہ پتی ۔ خون اور رنگ ملا کر مقدار کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ ابالنے پر رنگ بھی زیادہ آنا شروع ہوجا تا ہے ۔


    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پرانی ادرک اور لہسن کو تیزاب سے دھویا جاتاہے جس سے وہ نہ صرف تروتازہ نظر آتی ہے ۔ بلکہ اس کا وزن بھی کافی بڑھ جاتا ہے ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ آج کل زہر بھی خالص نہیں ملتا تو غلط نہ ہو گا کیونکہ کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات میں پانی بھر کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے جس سے کیڑے تو نہیں مرتے البتہ فضل ضرور مر جاتی ہے ۔
    بے حس ناجائز منافع خور راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کے نشے میں ناقص سے ناقص مضر صحت اجزائ کی ملاوٹ سے گریز نہیں کرتے ۔ انھیں نہ قانون کا ڈر ہے نہ خوف خدا انکا ضمیر بالکل مردہ ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کی نسلیں برباد کرنے پر تلے ہو ئے ہیں ۔
    یہ سب کچھ اتنا حیران کن اور ناقابل یقین ہے کہ دل تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب کچھ کوئی کیسے کرسکتا ہے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ہم سب مرنا بھول چکے ہیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں