Baaghi TV

Tag: مریخ

  • آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    زمین اور مریخ کے درمیان تمام ریڈیو رابطے کچھ دنوں کے لیے منقطع ہو جائیں گے، کیونکہ سورج دونوں سیاروں کے درمیان آ رہا ہے، یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے اس دوران مریخ پر موجود تمام روبوٹک مشنز سے براہِ راست رابطہ عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔

    ناسا کے مطابق، 29 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک کسی بھی مریخی مشن کو نئی ہدایات نہیں بھیجی جائیں گی اس دوران سورج کی انتہائی گرم، برقی چارج شدہ گیسیں جو پلازما کہلاتی ہیں، ریڈیو سگنلز میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے کسی بھی کمانڈ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی رکاوٹ یا بگ، کسی سطر کے ایک بِٹ کو بھی بدل دے، تو پورا سسٹم متاثر ہو سکتا ہے، اور اربوں ڈالر کے مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    گزشتہ دو دہائیوں سے مریخ کے گرد مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس، سطح پر اترے لینڈرز اور متحرک روورز مسلسل سرخ سیارے کا مشاہدہ کررہے ہیں ان مشنز نے مریخ کی فضا، موسم، ارضیاتی ساخت اور وہاں ممکنہ قدیم زندگی کے آثار کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، تاہم سولر کنجنکشن کے دوران یہ تمام مشنز عملی طور پر خود مختار ہوجاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر کنجنکشن کے دوران مریخ پر موجود خلائی مشینیں زمین سے ہدایات لیے بغیر خود ہی کام کرتی ہیں۔

    راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

    سولر کنجنکشن شروع ہونے سے پہلے ناسا کے ماہرین مریخ پرموجود ہر خلائی مشین کو پہلے ہی ایک مکمل منصوبہ بھیج دیتے ہیں، جس میں تقریباً دو ہفتوں تک کے تمام کام طے کیے جاتے ہیں، ان ہدایات کے مطابق خلائی مشینیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے آلات عارضی طور پر بند رکھنے ہیں، کہاں توانائی بچانی ہے اور کون سا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کر کے محفوظ کرنا ہے، تاکہ زمین سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مشن محفوظ طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔

    کچھ مشنز اس دوران اپنے حساس آلات عارضی طور پر بند کردیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے، جبکہ بعض روورز اور مدار گرد مشینیں ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں اور اسے اپنی اندرونی یادداشت میں محفوظ کرلیتی ہیں چند مشنز محدود پیمانے پر سگنل بھیجتے بھی رہتے ہیں، اس آگاہی کے ساتھ کہ اس کا کچھ حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوسکتا ہے۔

    کنسرٹ میں پرفارمنس کے دوران شائے گل زخمی ہو گئیں

    اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ زمین سے کوئی نئی ہدایت نہ بھیجی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمانڈ کے کسی ایک بٹ میں بھی خرابی آگئی تو برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    آج کل مریخ پر موجود خلائی گاڑیاں خاصی حد تک خودمختارہو چکی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو خود کو محفوظ حالت میں لے آتی ہیں زمین سے نئے حکم ملے بغیر بھی وہ پہلے سے بنے منصوبے کے مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    ناسا کے ماہرین اس کو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے والدین کسی ذمہ دار بچے کو چند دن کے سفر پر بھیج دیں۔ تمام تیاری پہلے کر لی جاتی ہے، اور پھر اس پر بھروسا کر کے اسے خود کام کرنے دیا جاتا ہےمشن پر کام کرنے والی ٹیموں کے لیے یہ وقت ایک طرح کا امتحان بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی خلائی مشینوں کو کچھ دنوں کے لیے خود پر چھوڑنا پڑتا ہے، اور ساتھ ہی یہ روزانہ کی مسلسل نگرانی سے ایک مختصر آرام کا موقع بھی بن جاتا ہے۔

    دوسری جانب یہ وقفہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چاہے ہماری ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، قدرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جن کے سامنے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے-

  • سائنسدانوں نے  مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    مریخ کو اکثر سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے،مریخ ہمارے نظام شمسی کا ایسا سیارہ ہے جس پر کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے کیونکہ یہ زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور وہاں تک روبوٹیک مشنز کی رسائی بھی زہرہ کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مدار میں موجود مشنز اور اس کی سطح پر کام کرنے والے لینڈرز کے سائنسی ڈیٹا کو باہم ملا کر مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ بظاہر حل کرلیا ہےان کے مطابق آئرن منرلز کی وجہ سے ہمارا پڑوسی سیارہ سرخ نظر آتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ اربوں برسوں کے دوران مریخ کی چٹانوں میں موجود آئرن سطح پر موجود پانی یا فضا میں موجود پانی اور آکسیجن سے ملا اور آئرن آکسائیڈ کی شکل اختیار کرگیا اس طرح کا عمل زمین پر بھی ہوتا ہے جس سے لوہے پر زنگ لگتا ہے اور اربوں برسوں کے دوران مریخ پر بننے والا آئرن آکسائیڈ ذرات میں تقسیم ہوکر گرد کی شکل اختیار کرگیا اور پورے سیارے پر تیز ہواؤں کے نتیجے میں پھیل گیا۔

    ہائیکورٹ اور آئینی بنچز کے ججز کی سلیکشن کیلئے طریقہ کار طے کرنے سے متعلق کمیٹی تشکیل

    ماضی میں بھی مریخ پر موجود آئرن آکسائیڈ پرتحقیقی کام کیا گیا مگر وہ سب اسپیس کرافٹ کے مشاہدات پر مبنی تھا جس میں پانی کے شواہد دریافت نہیں ہوئے اس نئی تحقیق میں متعدد مشنز کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا گیا اور مریخ پر موجود گرد کی نقل تیار کی گئی جس سے عندیہ ملا کہ ٹھنڈے پانیوں میں موجود ایک منرل سے مریخ کی رنگت سرخ ہوئی۔

    اسرائیل اور فلسطینی فلم سازوں کی مشترکہ فلم نے آسکرایوارڈ جیت لیا

    محققین نے بتایا کہ مریخ سرخ سیارہ ہے اور اب ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ آخر مریخ کی رنگت سرخ کیوں ہوئی، سائنسد ا ن عرصے سے حیران تھے کہ آخر مریخ کی گرد میں آئرن آکسائیڈ کی مقدار کتنی ہےاگرچہ مریخ بھر میں یہ گرد موجود ہے مگر اس پر تحقیق بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں تک انسانوں کی رسائی ابھی تک نہیں ہوسکی، تحقیق میں آئرن آکسائیڈ کی ایک مختلف قسم کی نشاندہی کی گئی جس میں پانی موجود تھا اور یہ قسم ٹھنڈے پانیوں میں تیزی سے بنتی ہے اور مریخ پر اس کی موجودگی کی ممکنہ وجہ یہی ہے کہ زمانہ قدیم میں سطح پر پانی موجود ہوگا-

    عیدا لفطر کب منائی جائے گی؟

  • کبھی مریخ پر بھی  ریتلے ساحلوں والا ایک وسیع سمندر  تھا،ماہرین

    کبھی مریخ پر بھی ریتلے ساحلوں والا ایک وسیع سمندر تھا،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی مریخ پر بھی زمین کی طرح خوبصورت ساحل سمندر تھے-

    باغی ٹی وی : سرخ سیارے کی سنسان وادیوں اور مٹی سے ڈھکی ہوئی سطح کو دیکھ کر شاید کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ یہاں کبھی نیلے پانیوں سے بھرا سمندر لہراتا ہوگا۔ لیکن حالیہ سائنسی تحقیق نے اس نظریے کو مزید تقویت دی ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا، بلکہ ممکن ہے کہ وہاں ریتلے ساحلوں والا ایک وسیع سمندر بھی موجود رہا ہو۔

    ناسا اور دیگر خلائی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بھیجے گئے روورز اور سیٹلائٹس نے مریخ کی سطح پر ایسے نشانات دریافت کیے ہیں جو لاکھوں سال پہلے سمندر کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں مریخ کی سطح پر پانی کے کٹاؤ کے نشانات، ساحلی کناروں جیسی ساختیں، اور بعض معدنیات کی دریافت نے ثابت کیا ہے کہ یہاں کبھی پانی کا وسیع ذخیرہ موجود تھا۔

    اوکاڑہ: چینی کا سٹاک کم ظاہر کرنے پر کریانہ دکانداروں کوجرمانے

    اب ”پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“ میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں مریخ کے ’یوٹوپیا پلانیشیا‘ نامی علاقے میں دفن شدہ ساحلوں کے آثار دریافت کیے گئے ہیں۔

    ژورونگ روور نے زمین کے اندر جھانکنے والے ریڈار کی مدد سے مریخ کی سطح کے نیچے چھپے ہوئے پرت در پرت نشانات کو دیکھاان نشانات کی بناوٹ اور زاویہ حیرت انگیز طور پر زمین پر پائے جانے والے ساحلوں سے مشابہ ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں کبھی پانی کی لہریں کنارے سے ٹکرا کر واپس جاتی تھیں اور ساحل آہستہ آہستہ سمندر کی طرف بڑھتا رہا۔

    سیالکوٹ:عوامی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح، صوبائی محتسب پنجاب متحرک ہے، کیپٹن (ر) عطاء محمد خان

    ماہرین کے مطابق تقریباً 3.5 ارب سال پہلے مریخ پر ایک بہت بڑا سمندر موجود تھا جو ممکنہ طور پر شمالی نصف کرے میں پھیلا ہوا تھا۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ سمندر زمین کے بحرِ اوقیانوس کے برابر حجم رکھتا تھا۔ اس کی گہرائی مختلف مقامات پر کئی سو میٹر تک ہو سکتی تھی، جبکہ ساحلی علاقوں میں ریتیلے کنارے بھی موجود رہے ہوں گے، بالکل ویسے ہی جیسے زمین کے ساحلوں پر نظر آتے ہیں۔

    پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر ارضیات ڈاکٹر بینجمن کارڈیناس کے مطابق، مریخ کے اس ساحل نے کم از کم 1.3 کلومیٹر تک سمندر میں توسیع کی، یہ ایک سادہ مگر حیرت انگیز دریافت ہے، کیونکہ ساحل کی موجودگی کا مطلب ہے کہ وہاں کبھی سمندر کی لہریں، جوار بھاٹا، اور پانی میں بہہ کر آنے والی تلچھٹ موجود تھی، یہ تمام عوامل کسی سمندری ماحول کی واضح نشانیاں ہیں۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج عدالت پیش، آئندہ سماعت پر سرکاری گواہ طلب

    اگر مریخ پر اتنا وسیع سمندر موجود تھا، تو وہ کہاں چلا گیا؟ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مریخ کے کمزور مقناطیسی میدان کی وجہ سے اس کا کرۂ ہو ائی آہستہ آہستہ خلا میں تحلیل ہو گیاجس کے نتیجے میں پانی بھی بخارات بن کر خلا میں اڑ گیا یا پھر برف کی صورت میں سطح کے نیچے قید ہو گیا۔

    یہ سوال سب سے زیادہ دلچسپی کا حامل ہے، جہاں پانی ہوتا ہے، وہاں زندگی کے آثار بھی ممکن ہوتے ہیں، اگر مریخ پر واقعی کبھی سمندر موجود تھا، تو امکان ہے کہ اس میں ابتدائی زندگی بھی رہی ہو، یہی وجہ ہے کہ مریخ پر بھیجے گئے روورز خاص طور پر ایسے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں پانی موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں، تاکہ وہاں زندگی کے ممکنہ آثار تلاش کیے جا سکیں۔

    وینا ملک اپنی والدہ سے 10 سال چھوٹی ہیں؟گوگل پر درج معلومات کی حقیقت کیا

    آنے والے سالوں میں مزید مشنز مریخ کی سطح اور اس کے زیرِ زمین پانی کی کھوج کے لیے بھیجے جائیں گے سائنسدانوں کا خواب ہے کہ ایک دن ہم مریخ پر اتریں، وہاں کے ماضی کے دریاؤں اور سمندروں کے راز جانیں۔

    مریخ کا ماضی آج بھی ایک معمہ ہے، لیکن حالیہ تحقیقات نے اس نظریے کو مضبوط کیا ہے کہ یہ سیارہ کبھی اتنا ویران نہ تھا جتنا آج نظر آتا ہے، شاید کسی دور میں اس کے ساحلوں پر لہریں اچھلتی تھیں، ہوائیں ریتلے کناروں کو چھوتی تھیں، اور کسی نہ کسی شکل میں زندگی یہاں سانس لے رہی تھی مریخ کے اس کھوئے ہوئے سمندر کی کہانی ہماری کائناتی سمجھ میں ایک نیا باب جوڑ رہی ہے، اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں انسان وہاں جا کر خود ان آثار کو کھوجے جو وقت کی گرد میں چھپ چکے ہیں۔

    سندھ ہائیکورٹ، سانحۂ بلدیہ فیکٹری کے مفرور ملزم کی گرفتاری کا حکم

  • مریخ کی سطح پر برف کے اندر خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے،تحقیق

    مریخ کی سطح پر برف کے اندر خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے،تحقیق

    محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ مریخ کی سطح پر برف کے اندر ایسی خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے، جسے خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ان نتائج پر مشتمل ’مریخ پر برف اور برف میں فوٹوسنتھیسس کی صلاحیت‘ کے عنوان سے مضمون نیچر کے جرنل ’کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرمنٹ‘ میں شائع ہوا۔

    محققین کے مطابق مریخ کے زیر زمین موجود برف میں ممکنہ طور پر مائیکروبیئل حیات موجود ہوسکتی ہے مریخ پر بڑے پیمانے پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کے برسنے کی وجہ سے اس کی سطح پر زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہےلیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ برف کی ایک موٹی پرت کسی بھی شے کو شعاعوں سے تحفظ فراہم کر سکتی ہےاس کے لیے زندگی کو ایک ایسی جگہ پر ہونا ہوگا جہاں اس کی گہرائی اس کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچائے، ساتھ ہی یہ ایسی اتھلی جگہ ہو جہاں ضیائی تالیف (فوٹوسنتھیسس) کے لیے مناسب روشنی پہنچے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    نئی تحقیق میں محققین نے مریخ پر ملنے والی دھول اور برف کی قسم کو دیکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سیارے پر ایسی جگہ کا وجود ممکن ہے یا نہیں، مطالعے میں معلوم ہوا کہ اگر برف پر بہت زیادہ دھول نہیں ہو تو ایسی صورت میں 5 سے 38 سینٹی میٹر نیچے ایسا خطہ ہو سکتا ہے جہاں زندگی باقی رہ سکے، اگر برف صاف ہو تو وہ مسکن (2.15 سے 3.14 میٹر گہرا) مزید بڑا ہو سکتا ہےبرف کے اندر موجود دھول کبھی کبھار برف کو پگھلا بھی دے گی، جس سے اتنی مقدار میں مائع پانی ملے گا جو فوٹوسنتھیسس کے لیے ضروری ہو گا اور اس طرح زندگی کو زندہ رہنے میں مدد دے گا۔

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا دعویٰ نہیں کرتی کہ برف والے علاقوں میں واقعی زندگی موجود ہے لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مریخ پر زندگی کی تلاش میں یہ علاقے اہم جگہ بننے چاہیئے کیونکہ یہاں زندگی ملنے کے امکانات سب سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

  • ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    واشنگٹن: ناسا نے پہلی بار اپنے پریسیورنس رووَر کی مدد سے مریخ پر آکسیجن پیدا کی جس سے ایک خلاباز تین گھنٹے تک سیارے پر زندہ رہ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق رووَر جس نے فروری 2021 میں مریخ پر لینڈنگ کی تھی، نے اپنی مشین میں نصب آکسیجن پیدا کرنے والی ڈیوائس( MOXIE( Mars Oxygen In-Situ Resource Utilization Experiment، کا استعمال کرتے ہوئے دو سالوں کے دوران وقفے وقفے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تبدیل کرکے آکسیجن پیدا کی مریخ پر پہنچنے کے بعد سے مائیکرو ویو سائز کے آلے نے 4.3 اونس (122 گرام) آکسیجن پیدا کی ہے یہ مقدار کتے کے 10 گھنٹے سانس لینے کے برابر مقدار ہے۔

    اپنی کارکردگی کے عروج کے دوران، MOXIE نے فی گھنٹہ 12 گرام آکسیجن 98 فیصد خالص یا اس سے بہتر پیدا کی، جو کہ اس آلے کے لیے NASA کے اہداف سے دوگنا ہے 7 اگست کو، MOXIE نے اپنی تمام ضروریات پوری کر کے 16ویں اور آخری بار کام کیا۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    ناسا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کامیابی امید دلاتی ہے کہ انسانی زندگی ایک دن سُرخ سیارے پر برقرار رہ سکتی ہےواشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر میں اسپیس ٹکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ رُکن سائنسدان ٹرڈی کورٹس نے کہا کہ ہمیں MOXIE جیسی کی ٹیکنالوجی پر فخر ہے جو مقامی وسائل کومستقبل کے ریسرچ مشنوں کے لیے مفید مصنوع میں تبدیل کر سکتی ہےاس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ایک ایسے مستقبل کے قریب آ گئے ہیں جس میں خلاباز زمین سے دور رہتے ہوئے سرخ سیارے پر رہ سکتے ہیں۔

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

  • ناسا کی پرسرویرینس نامی روورنےمریخ پرنامیاتی مرکب دریافت کرلیا

    ناسا کی پرسرویرینس نامی روورنےمریخ پرنامیاتی مرکب دریافت کرلیا

    فلوریڈا: ناسا کی جانب سے مریخ پر پرسرویرینس نامی روور (تحقیقی گاڑی نما جہاز) بھیجا گیا تھا اور اب خبر آئی ہے کہ بہت امکان ہے کہ اس نے مریخ پر نامیاتی مرکب دریافت کیا ہے یہ مرکب حیات کے لیے لازمی ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچرمیں شائع رپورٹ کے مطابق NASA کے Mars Perseverance روور کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئی تحقیق میں مریخ پر نامیاتی مالیکیولز کے ممکنہ شواہد ملے ہیں، جو ایک پیچیدہ نامیاتی جیو کیمیکل سائیکل اور طویل رہائش کے امکان کی نشاندہی کرتے ہیں اس دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ غالباً یہ مرکب پیچیدہ نامیاتی ارضی کیمیائی چکر کا حصہ ہے جسے پہلے ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا تھا۔ پرسرویرینس کے روبوٹ بازو رپ لگے ’شرلاک‘ نامی آلے نے یہ دریافت کی ہے جو حقیقت میں حساس آلات کا ایک مجموعہ ہے۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

    تحقیق میں ماضی کی زندگی کی نشانیوں کا پتہ لگانے کے لیے SHERLOC آلے کے ساتھ ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا گیا، جس سے مستقبل میں ماورائے زمین کی تحقیقات کا مرحلہ طے ہوا ناسا کے ماہرین اور جامعہ فلوریڈا سے وابستہ ایمی ولیمز کا خیال ہے کہ ایک عرصے سے ہم مریخ پر نامیاتی کاربن کے متعلق قیاس آرائیاں کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب مزید پیچدیدہ نامیاتی مرکبات کے آثار ملے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ماضی میں یہاں کسی نہ کسی صورت میں زندگی موجود رہی ہوگی ۔ یہ تحقیق، سائنسدانوں کی ایک ٹیم کی سربراہی میں جس میں یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہر فلکیاتی ماہر ایمی ولیمز شامل ہیں، حال ہی میں جریدے نیچر میں شائع ہوئی تھی۔

    سالگرہ کے کیک پر موم بتیاں لگانا ہزاروں بیکٹیریاؤں کی منتقلی کا باعث بن سکتا …

    سائنس دانوں کو طویل عرصے سے مریخ پر نامیاتی کاربن کی تلاش کے امکان کی طرف سے اشارہ دیا گیا ہے، اور پچھلے مشن نے قیمتی معلومات فراہم کیں، تازہ ترین تحقیق نے ثبوت کی ایک نئی لائن متعارف کرائی جو مریخ کے بارے میں ہماری سمجھ میں اضافہ کرتی ہے. نتائج مریخ پر پہلے سے سمجھے جانے والے زیادہ پیچیدہ نامیاتی جیو کیمیکل سائیکل کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو ممکنہ نامیاتی مرکبات کے کئی الگ الگ ذخائر کے وجود کی تصدیق کرتے ہیں۔

    خاص طور پر، مطالعہ نے پانی کے عمل سے منسلک انووں کے ساتھ مطابقت رکھنے والے سگنل کا پتہ چلا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پانی نے مریخ پر نامیاتی مادے کی متنوع رینج میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ زندگی کے لیے ضروری عمارت کے اہم بلاکس مریخ پر پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ طویل مدت تک برقرار رہے ہوں گے۔

    چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    ماہرین نے ایسے آثار دیکھے ہیں جو کسی مائع سے ہونے والے عمل کو ظاہر کرتےہیں اور کہا جارہا ہے کہ اسی عمل سے مریخ پر نامیاتی مرکبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ اس طرح یہ اہم اجزا مریخ پر ہماری توقع سے زیادہ طویل عرصے سے وہاں موجود ہیں۔

    تاہم تمام سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب ضرورت ہے کہ مریخی مٹی اور پتھروں کے نمونے زمین پر لاکر ان کا مفصل تجزیہ کیا جائے۔ لیکن یہ ایک مہنگا، صبرآزما اور طویل منصوبہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر ایمی کے مطابق وہاں کئی طرح کے نامیاتی کاربن دریافت ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ شرلاک نے جدید ترین طریقوں سے مٹی اور سطح کا جائزہ لیا ہے جو اس سے قبل ممکن نہ تھا۔

    یہ مرکبات ایک مشہور گڑھے ’جیزیرو کریٹر‘ سے ملے ہیں جہاں پہلے گارا، کاربونیٹس اور سلفیت مل چکے ہیں جو اہم معدنیات ہیں۔ اب اسی جگہ پر ہمیں کاربن بھی مل گیا ہے۔

    "اسپیس ایکس” میں نوکری حاصل کرنےوالا 14 سالہ انجینئر

  • اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آج کا صحرا نما سرخ سیارہ مریخ کبھی پانی سے بھرپور تھا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مریخ پر ماضی میں کبھی پانی تھا لیکن اس بات پر بحث جاری تھی کہ یہ پانی کتنی مقدار میں تھا تاہم اب ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ 4.5 ارب سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

    ڈیٹا رازداری کیس:گوگل 39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مند

    یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین حاصل ہونے والےنتائج سے پُر امید ہیں کہ کبھی اس سیارے پر زندگی تھی؟ کا جواب حاصل کرنے کی جانب پیش قدمی ہوسکتی ہے۔

    تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ پورا سیارہ سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا اور ان کی گہرائی 300 میٹر سے لے کر 1000 میٹر تک تھی۔

    سطح سمندر سے 2000 میٹربلندی پرمکہ کی فضا میں آسمانی بجلی کی چمک کا شاندار نظارہ

    سینٹر فار اسٹار اینڈ پلینٹ فارمیشن کے پروفیسر مارٹن بِزارو کا کہنا تھا کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ مریخ کا سائز زمین کے مقابلے میں نصف ہے، اس کی نسبت ہمارے سیارے پر بہت کم پانی ہے مریخ پر یہ پانی برف سے بھرے سیارچوں کی وجہ سے آیا پانی کے ساتھ یہ سیارچے مریخ پر حیاتیات سے متعلقہ مالیکیول جیسے کہ امائنو ایسڈ بھی لائے۔

    ڈی این اے اور آر این اے کی جب بنیاد بنتی ہے تو امائنو ایسڈ کی ضرورت پڑتی ہے جو اپنے اندر ہر وہ چیز رکھتے ہیں جس کی ضرورت ایک خلیے کو ہوتی ہے۔

    پروفیسر بِزارو نے بتایا کہ یہ مریخ کے وجود میں آنے کے ابتدائی 10 کروڑ سالوں میں ہوا۔

    انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    یورپی خلائی ایجنسی سرخ سیارے مریخ پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا ایک تفصیلی نقشہ بنایا ہے جو مستقبل کے مشن کے لیے خلانوردوں کی آبی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس اہم کام سے ہم نہ صرف پانی سے لبالب بھرے مریخی ماضی کو سمجھ سکیں گے بلکہ انسانی مشن بھیجنےکےموزوں مقامات کا اندازہ لگانےمیں بھی مدد مل سکےگی پانی کا یہ تفصیلی نقشہ یورپی خلائی ایجنسی کےمارس ایکس ایکسپریس، ناسا کے مارس ریکونیسنس آربیٹر اور دیگر مشنز کی تحقیقات سے بنایا گیا ہے-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    بنیادی طور پر یہ ایک ایسا نقشہ ہے جن میں ایسی معدنیات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پانی کسی بھی حالت میں موجود ہوسکتا ہے۔ یہاں کے خدوخال ماضی میں بہنے والے پانی نے تراشے ہیں اور گارے کے علاوہ نمکیات بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

    جب پانی پتھروں اور چٹانوں پر بہتا ہے تو مختلف قسم کی چکنی مٹی یا گارے وجود میں آتے ہیں۔ اگر پانی کی مقدار کم ہو تو اسمیکٹائٹ اور ورمی کیولائٹ بنتا ہےاور پتھر اپنےخواص برقرار رکھتا ہے جب پانی زیادہ ہو تو وہ چٹانوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات المونیئم سے بھرپور معدن مثلاًکاؤلن وجود میں آتی ہے۔

    ماہرین نے دس سال میں مریخ پر لگ بھگ ایک ہزار ایسے مقامت دریافت کیے ہیں جبکہ لاکھوں مقامات ایسے ہیں جہاں ہم سیارے کا قدیم ماضی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانی نے سیارہ مریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن آیا مریخ پر پانی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اب بھی معلوم کرنا باقی ہے اور نیا مریخی نقشہ اس میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

    پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مختلف اقسام کی چکنی مٹی، گارے اور ان پر موجود نمکیات ہماری توقعات سے زائد ہیں۔ اس سے خود مریخ کی معدن کا نقشہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس تحقیق میں موجود سینئیر محقق جان کارٹر کے مطابق "اس کام نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب آپ قدیم خطوں کا تفصیل سے مطالعہ کر رہے ہیں، تو ان معدنیات کو نہ دیکھنا دراصل ایک عجیب بات ہے،-

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    سرخ سیارے کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کے لیے یہ ایک مثالی تبدیلی ہے۔ آبی معدنیات کی چھوٹی تعداد سے جو ہم پہلے جانتے تھے کہ موجود ہیں، یہ ممکن تھا کہ پانی اپنی حد اور مدت میں محدود ہو۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی نے کرہ ارض کے چاروں طرف ارضیات کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

    اب، بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پانی مستقل تھا یا مختصر، زیادہ شدید اقساط تک محدود تھا۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کیا گیا ہے، نئے نتائج یقینی طور پر محققین کو جواب حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

    جان کارٹر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ہم نے اجتماعی طور پر مریخ کو زیادہ آسان بنا دیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ سیاروں کے سائنس دانوں نے یہ سوچنے کا رجحان رکھا ہے کہ مریخ پر صرف چند قسم کے مٹی کے معدنیات اس کے گیلے دور میں پیدا ہوئے تھے، پھر جیسے جیسے پانی آہستہ آہستہ خشک ہوتا گیا، پورے سیارے میں نمکیات پیدا ہوتے گئے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    یہ نیا نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پہلے کی سوچ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ مریخ کے بہت سے نمکیات شاید مٹی کے مقابلے میں بعد میں بنتے ہیں، نقشہ بہت سی مستثنیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں نمکیات اور مٹی کا گہرا اختلاط ہوتا ہے، اور کچھ نمکیات جو کچھ مٹی سے پرانے تصور کیے جاتے ہیں۔

    ماہرین نے اس دریافت پر کئی تحقیقی مقالات لکھے ہیں جس کی تیاری میں یورپی خلائی ایجنسی، جاپانی خلائی ایجنسی، اور انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ ایئروناٹیکل سائنس کے ماہرین شامل ہیں اس تحقیق سے مستقبل کے مریخی منصوبوں اور مریخ نوردوں کو مناسب جگہ اتارنے میں بہت آسانی حاصل ہوسکے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ بہت سارے پانی سے بغیر پانی تک ارتقاء اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہم نے سوچا تھا، پانی صرف راتوں رات نہیں رکا۔ ہم ارضیاتی سیاق و سباق کا ایک بہت بڑا تنوع دیکھتے ہیں، تاکہ کوئی بھی عمل یا سادہ ٹائم لائن مریخ کی معدنیات کے ارتقاء کی وضاحت نہ کر سکے۔ یہ ہمارے مطالعے کا پہلا نتیجہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر آپ زمین پر زندگی کے عمل کو خارج کرتے ہیں تو، مریخ ارضیاتی ترتیبات میں معدنیات کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ زمین کرتی ہے۔

    جان کارٹر نے مزید کہا کہ دوسرے الفاظ میں، ہم جتنا قریب سے دیکھتے ہیں، مریخ کا ماضی اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں