Baaghi TV

Tag: مریخ

  • جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    چاند پرجانے کی خواہش تو تقریبا ہرانسان میں پائی جاتی ہے۔ اسی خواہش کو دیکھتے ہوئے دنیا کے ارب پتی افراد جیف بیزوز نے بلیو اوریجن تو اور ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے ذریعے تجارتی بنیادوں پر خلائی سیاحت کے پروگرام کے فروغ پر کام کیا۔

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان تمام ترٹیکنالوجی کے باجوود عام آدمی کوکبھی اس بات کا اہل بنا سکے گا کہ وہ کسی خلائی جہازیا راکٹ کے بغیرٹرین سے چاند تک کا سفرایسے کرسکے جیسے ایک شہرسے دوسرے شہرتک کیا جاتا ہے۔

    جاپانی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چاند سے زمین تک کے سفرکوبہ ذریعہ ٹرین ممکن بنانے کے انوکھے منصوبے پرکام کا آغازکردیا ہے۔

    کیوٹویونیورسٹی کے ریسرچرزنے ایک پریس کانفرنس میں اس مستقبل بین منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعمیراتی کمپنی کاجیما کنسٹرکشنزکے ساتھ مصنوعی خلائی رہائش گاہوں، زمین، چاند اورمریخ کوایک دوسرے سے مربوط کرنے کا حامل بین الاسیارتی ٹرین کا نظام بنا نے پرکام کررہے ہیں۔

    کیوٹویونیورسٹی کے مرکزبرائے ایس آئی سی ہیومن اسپیسولوجی کے ڈائریکٹریوسوکی یامیشیکا کا اس بابت کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ پے جس پرتاحال کوئی ملک کام نہیں کررہا۔

    ’ دی گلاس کڈ‘ کے نام سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ 2050 تک مکمل ہوگا۔ تاہم، اسے مکمل طورپرفعال پونے میں مزید 70 سال لگیں گے۔

     

     

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا یہ منصوبہ ان تمام اہم ٹیکنالوجیزکی نمائندگی کرتا ہے جومستقبل میں بنی نوع انسان کی خلا میں منتقلی کو یقینی بناتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جاپانی محققین اس کے لیے شیشے کی بنی ایسی قابل رہائش جگہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جہاں زندگی کا اسٹرکچرزمین کی کشش ثقل، خطے اور ایٹموسفیئرکی طرح انسانی ڈھانچے کے نظام کوزیرواورکم کشش ثقل کے ماحول میں کم زور ہونے سے تحفظ فراہم کرسکے۔

    اس مقصد کے محققین سینٹری فیوجل فورس (مرکزگریزقُوت، کسی گھومنے یا چکرکھانے والے نظام میں مرکز سے دور ہٹانے والی قُوت) کو استعمال کرتے ہوئے گردشی حرکت کو ترتیب دیتے ہوئے زمین کی کشش ثقل کو دوبارہ تخلیق کریں گے۔ جوکہ چاند کی کشش ثقل سے 6 گنا زائد ہے۔

    ریسرچرزکا مقصد مصنوعی کشش ثقل کے ساتھ شیشے کا ایسا مخروطی فعال ڈھانچہ تیار کرنا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹیشن، سرسبزعلاقے اورہمارے سیارے پرموجود آبی اجسام پر مشتمل ہو۔ اوراس کا چاند پرموجود حصہ ’ لیونا گلاس‘ اورمریخ پرموجود حصہ ’ مارس گلاس‘ کہلائے گا۔

    دوسری جانب جاپان کا یہ منفرد منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھرکے بیش تر ممالک چاند پرمستقل رہائش اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا انسانوں کو چاند کی سطح سے واپس لانا 2025 سے قبل ممکن نہیں۔ جب کہ ایسے ہی ٹائم فریم پرانٹرنیشنل لیونرریسرچ اسٹیشن بھی کام کررہا ہے جو کہ چین اورروس کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

  • چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    بیجنگ: سرخ سیارے پر 1300 سے زائد چکر لگانے کے بعد چینی جہاز تیان وین اول نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے تیان وین اول کو مختلف سمتوں اور زاویوں میں مریخ کے گرد گھمایا اور ایک طرح سے پورے سیارے کو اسکین کرکے اس کی بلند معیاری تصاویر لی گئی ہیں اس نے پہلی مرتبہ وہاں کے قطبِ جنوبی کے عکس بھی لیے ہیں۔

    بدھ کے روز چینی خلائی ایجنسی نے سب سے پہلے مریخی قطبِ جنوبی کی تصویر جاری کی ہے اور اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہاں پانی کے ذخائرموجود ہوسکتے ہیں چینی خلائی جہاز نے 4000 کلومیٹر طویل ویلس میرینیرس کی تصاویر بھی لی ہیں جو ایک تنگ گھاٹی ہے اس کے علاوہ چھوٹے بڑے گڑھے بھی کیمرے میں محفوظ کئے ہیں۔

    تیان وین اول فروری 2021 کو مریخی مدار میں پہنچا تھا اور یہ چین کا پہلا مریخی مشن بھی ہے اسی کے ساتھ ایک روبوٹک گاڑی بھی مریخ پر اتاری گئی تھی۔

    اس سے قبل 2018 میں یورپی خلائی ایجنسی کے ایک آربٹر نے کہا تھا کہ مریخ کے قطبِ جنوبی پر پانی کے وسیع ذخائر گویا بند پڑے ہیں۔ اس پر مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ شاید یہاں حیات کی کوئی شکل بھی موجود ہو، تاہم اب تک گمان یہی ہے کہ مریخ جنوبی قطب پر برف بھی ہوسکتی ہے۔

    دوسری جانب ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

  • 29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    نظام شمسی کے دو بڑے سیارے مریخ اور مشتری 29 مئی کو آسمان پر نمودار ہوں گے-

    باغی ٹی وی : ارتھ سکائے کے مطابق فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس ماہ کے آخری دنوں میں شمالی نصف کرے(ناردن ہیمی اسفیئر) کےممالک صبح کے وقت نظام شمسی کے دو بڑے ،اہم اور خوبصورت سیاروں کو دیکھ سکیں گےان سیاروں میں نظامِ شمسی کا سب سے بڑی سیارہ ، مشتری (جوپیٹر) اور دوسرا سرخ سیارہ مریخ (مارس) شامل ہیں-

    سورج 28 مئی کوخانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا


    ماہرین فلکیات کے مطابق اس وقت فجر سے کچھ دیر پہلے سیارہ مریخ دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ 29 مئی کی صبح گویا مشتری کے بالکل قریب جاپہنچے گا اگرچہ یہاں قربت کا مفہوم حقیقی معنوں میں نہ سمجھا جائے کیونکہ ان دونوں سیاروں کے درمیان اس وقت بھی 56 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ بس زمین سے وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق اب 29 مئی کو مشتری اور مریخ اتنے قریب جاپہنچیں گے کہ ان کے درمیان ایک مکمل چودہویں کے چاند کی ٹکیہ کے برابر ہی فاصلہ رہے گا اپنی چمک کی بنا پر یہ دونوں آسانی سے دیکھے جاسکیں گے۔

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے


    ماہرین کا کہنا ہے کہ مہینے کے آخری دنوں میں چاند کی روشنی بھی کم ہو گی یوں دونوں سیارے اچھی طرح دیکھیں جاسکیں گے اگر آپ مشتری اور مریخ کے اوپر گراف کی طرح بلند ہوتی ہوئی ایک لکیر کھینچیں تو نظامِ شمسی کا ایک اور شاندار سیارہ سیارہ زحل (سیٹرن) بھی آپ کے سامنے ہوگا جو اپنے دائروں اوربہت سارے چاندوں کی وجہ سے بہت مشہور اور دلکش بھی ہے۔

    تصاویر بشکریہ :سکائی ارتھ
    واضح رہے کہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش شمالی نصف کرے میں شامل ہیں اور یوں ہم اس فلکیاتی نظارے سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

  • چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کو ایسے نئے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا-

    باغی ٹی وی : "”سائنس ایڈوانسز جریدے ميں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کے ژو رونگ روبوٹک روور کو ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مریخ پر پانی پہلے کی سوچ سے زیادہ دیر تک موجود ہے۔

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریخ کی سطح پر پڑنے والے ایک بڑے آتش فشانی گڑھے میں ’ایمیزونیائی دور‘ کے دوران مائع پانی موجود تھا اور سرخ سیارے پر ہائیڈریٹڈ معدنیات موجود ہیں،جن سے اس سیارے پر مستقبل میں آنے والے انسان بردار مشنز ممکنہ طور پر فائدہ اٹھاسکیں گے۔

    یہ نتائج ان مفروضوں کو تقویت دیتے ہیں کہ مائع پانی کی سرگرمیاں مریخ پر اس سے پہلے پائی جانے والی سوچ سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہی ہوں گی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ مریخ کی اس مخصوص جگہ پر اس وقت ہائیڈریٹڈ معدنیات اور ممکنہ طور پر برف کی شکل میں پانی کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا طویل عرصے سے یہ خیال رہا ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ کی سطح پر ایک گاڑھا، گرم ماحول اور مائع پانی موجود تھا، لیکن یہ سیارہ ٹھنڈا ہوگیا کیونکہ اس نےاپنا حفاظتی مقناطیسی میدان تقریباً 4 ارب سال پہلے کھو دیا موجودہ ارضیاتی دور جسے Amazonian epoch کے نام سےجانا جاتا ہےجس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ 3.5 سے 1.8 بلین سال پہلے شروع ہوا تھا کو ایک ایسے وقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جب مریخ سرد اور خشک تھا، جس میں سطحی پانی نہیں تھا۔

    دوسری جانب سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی  ویڈیو جاری کردی

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے مریخ پر سورج گرہن کی مختصر ویڈیو جاری کردی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے مریخ پر سورج گرہن کی جاری کی گئی ویڈیو صرف 49 سیکنڈ کی ہے ور یہ مریخ سے دیکھے جانے والے سورج گرہن کی سب سے پہلی ویڈیو بھی ہے۔


    ناسا کے مطابق مریخ پر بھیجے گئے ’’پرسرویرینس روور‘‘ نے یہ ایچ ڈی ویڈیو 2 اپریل 2022 کے روز اپنے طاقتور ’’ماسٹ کیم زی کیمرا سسٹم‘‘ سے بنائی تھی، جس میں مریخ کے چاند ’’فوبوس‘‘ کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ناسا کے مطابق زمین پر سورج گرہن کے دوران چاند تقریباً مکمل طور پر سورج کو چھپا لیتا ہے اور دن میں بھی رات جیسا منظر ہوجاتا ہے اس کے برعکس، ناسا کی ویڈیو میں مریخی چاند فوبوس کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے ضرور دیکھا جاسکتا ہے لیکن وہ سورج کا معمولی حصہ اپنے پیچھے چھپا سکا ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ فوبوس، ہماری زمین کے چاند سے 157 گنا چھوٹا، یعنی صرف 22 کلومیٹر چوڑا ہے اتنی کم جسامت کی وجہ سے وہ سورج کا چھوٹا سا حصہ ہی اپنے پیچھے چھپا سکتا ہے جبکہ مریخ کا دوسرا چاند ’’ڈیموس‘‘ اس سے بھی چھوٹا ہے، جس کی چوڑائی محض 13 کلومیٹر ہے یہ دونوں چاند ہی بڑے پتھروں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    زمین کا چاند ان دونوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑا ہے جس کا قطر 3475 کلومیٹر ہے۔

    واضح رہے کہ ناسا کا ’’پرسرویرینس روور‘‘ اس وقت مریخ پر ایک وسیع گڑھے ’’جزیرو‘‘ میں ایک ایسے مقام پر موجود ہے جہاں سے ارد گرد کے قریبی اور دور دراز کا نظارہ دیکھا جاسکتا ہے پرسرویرینس نے مریخ پر سورج گرہن کا منظر بھی یہیں سے فلم بند کیا ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

  • مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے چند روز قبل جاری کی جس میں ایک چھوٹا سا پودا دکھائی دے رہا ہے جو بظاہر مٹی سے بنا ہے-

    باغی ٹی وی : اس تصویر کو مریخ پر موجود ’’کیوریوسٹی روور‘‘ نے اپنے طاقتور کیمرے کی مدد سے کھینچا ہے ناسا نے کیوریوسٹی نامی یہ خودکار گاڑی یعنی روور 2012 میں مریخ پر اتاری تھی اور تب سے آج تک یہ مریخ کے مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے وہاں کی ہزاروں تصویریں کھینچ کر زمین پر بھیج چکی ہے-

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی


    ناسا کے مطابق یہ تازہ ترین تصویر اس روور نے جمعہ 25 فروری 2022 کے روز بھیجی تھی جسے ایک ہی مقام کی مختلف زاویوں سے لی گئی آٹھ تصویروں کو یکجا کرکے تیار کیا گیا ہے۔

    کیوریوسٹی روور کے روبوٹ بازو پر نصب ’’مارس ہینڈ لینس امیجر‘‘ (MAHLI) نے پوزیشن بدل بدل کر اس جگہ کی چند تصویریں کھینچیں جنہیں اس کے خودکار امیج پروسیسر کی مدد سے وہیں پر یکجا کرکے حتمی تصویر میں تبدیل کیا گیا۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا


    ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر کو مریخ پر زندگی کا ثبوت ہر گز نہ سمجھا جائے بلکہ وہاں جاری مختلف قدرتی عوامل کے نتیجے میں (جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں) مریخ کی مٹی اور چھوٹے چھوٹے پتھروں نے آپس میں مل کر ایسی شکل اختیار کرلی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    قبل ازیں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی تھی جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…