Baaghi TV

Tag: مریض

  • بد احتیاطی پر شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بد احتیاطی پر شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں کورونا کے قصور شہر سے تعلق رکھنے والے تین مریض ہلاک میتیں ورثاء کے حوالے ایم ایس ڈاکٹر لئیق چوہدری

    تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں تین کورونا کے مریض وفات پا چکے ہیں
    والوں میں کھُڈیاں خاص کا رہائشی محمد اسلم ،کوٹ عثمان کا عتیق الرحمان اورب ھٹہ سوہن والا قصور کا رہائشی تنویر شامل ہے
    ایم ایس ڈی ایچ کیو قصور ڈاکٹر کئیو چوہدری نے بتایا کہ تینوں افراد کا کورونا پازیٹیو آنے کے بعد انہیں ہسپتال داخل کیا گیا تھا جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے حکومتی ایس او پیز کے تحت میتیں ورثاء کے حوالے کر دی ہیں
    تاہم ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اب بھی 6 کورونا کے مریض ہیں موجود ہیں
    جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے پر کورونا کے کیسیز بڑھنے لگے ہیں جو کہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں

  • اوکاڑہ میں کرونا کا ایک مریض سامنے آگیا

    اوکاڑہ میں کرونا کا ایک مریض سامنے آگیا

    اوکاڑہ (علی حسین مرزا) ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ میں ایک شخص کرونا وائرس کا شکار ہوگیا۔ منیر احمد نامی 45 سالہ شخص کو ٹانگ ٹوٹنے کی بنا پر ہسپتال میں داخل کیا گیا بعد ازاں جب اسکا ٹیسٹ کیا گیا تو کرونا ٹیسٹ پازیٹیو (مثبت) آیا۔ ڈاکٹر عمرانور نے سرجری سے پہلے تین مریضوں کے کرونا ٹیسٹ کے سیمپل بھجوائے جن میں سے منیر احمد کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال مریض کو قرنطینہ وارڈ میں شفٹ نہیں کیا گیا۔

  • ہسپتالوں میں مریض اچھوت

    ہسپتالوں میں مریض اچھوت

    قصور
    ضلع بھر کے بی ایچ یو آر ایچ سی پر مریضوں کیساتھ اچھوتوں جیسا رویہ لاک ڈاؤن کی بدولت بے روزگار لوگ مذید پریشان
    تفصیلات کے مطابق قصور میں ضلع بھر کے تمام بیسک ہیلتھ یونٹس اور رورل ہیلتھ سنٹرز میں مریضوں کیساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے چونکہ یہ تمام سنٹرز دیہاتوں اور قصبوں میں ہوتے ہیں اور زیادہ تر آبادیوں سے باہر قائم ہیں اس لئے ان کے عملے کو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں جانے والے مریض سے صرف مرض پوچھی جاتی ہے وہ بھی ایک چھوتے سے سوراخ میں دور سے ہی اور مرض بتانے پر دو چار گولیاں دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے مریض کا کوئی بلڈ بریشر،نبض کی رفتار و درجہ حرارت چیک نہیں کیا جاتا دوائی بھی صرف ڈسپنسر ہی دے رہے ہیں باقی میڈیکل آفیسرز مریض کے سامنے آنے کے بھی روادار نہیں مریضوں کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ کرونا کے بچاؤ کی حفاظتی کٹس ہمارے پاس موجود نہیں ہیں لہذہ ہم مریض کو ہاتھ نہیں لگا سکتے
    اس ساری صورتحال پر لوگ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے سوال کر رہے ہیں کی کیا کمیشن کا کام صرف ڈسپنسروں ڈی ایچ ایم ایس و حکماء کو اتائی قرار دے کر پکڑنا ہی رہ گیا ہے ان میڈیکل آفیسرز جو کہ لاکھوں روپیہ ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کب پوچھے گا
    لوگوں نے وزیر اعلی پنجاب اور وزیر صحت سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • قصور میں کرونا کا وار دیہات تک

    قصور میں کرونا کا وار دیہات تک

    قصور
    کرونا کا وار دیہات تک پہنچ گیا کرونا کا مریض قرنطینہ ہاؤس منتقل علاقہ سیل
    تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھا کشن قصور روڈ پر واقع گاؤں نند کا تکیہ میں اللہ دتہ ڈوگر کو کرونا کا مرض ہو گیا جسے کل ریسکیو 1122 اور پولیس نے قرنطینہ ہاؤس منتقل کر دیا نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی دیہاتی رانا عباش شاہد،محمد اکرم اور محمد طارق نے بتایا کہ نند کا تکیہ محلہ ڈوگراں والا کا 50 سالہ اللہ دتہ ڈوگر چند دن قبل ٹھینگ موڑ الہ آباد سے اپنے عزیز و اقارب کے پاس رہ کر آیا ہے جس پر کل اسے سانس کا مسئلہ بنا تو اہل خانہ اور اہل محلہ نے ریسکیو 1122 کو کال کی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر اللہ دتہ کو قرنطینہ سنٹر منتقل کیا اور اس کی گلی کو سیل کرکے پولیس کے جوانوں کو تعینات کر دیا واضح رہے کے ٹھینگ موڑ الہ آباد قصور کا سب سے زیادہ کرونا وباء سے متاثرہ شہر ہے اور اللہ دتہ بھی اپنے عزیر اقارب کے پاس الہ آباد میں کچھ دن گزار کر آیا ہے
    نند کے تکیہ گاؤں کے مذید لوگوں کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….