Baaghi TV

Tag: مریم

  • خواتین کے بغیر ملک کی ترقی نا ممکن ہے،مریم اورنگزیب

    خواتین کے بغیر ملک کی ترقی نا ممکن ہے،مریم اورنگزیب

    لاہور: پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ خواتین کے بغیر ملک کی ترقی نا ممکن ہے-

    باغی ٹی وی :خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری بیان میں انہوں نےکہا کہ آج پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے، خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوا رہی ہیں190 ملین پاؤنڈ کیس وہ گڑھا ہے جو بانی پی ٹی آئی نے کسی اور کیلئے کھودا اور خود گرگئے-

    انہوں نے کہا کہ ان مردوں کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں، جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد کی، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ پنجاب میں خواتین کی ترقی کی مثال وزیراعلیٰ مریم نواز خود ہیں، پنجاب میں ترقی ہورہی ہے، مریم نواز پنجاب کو ترقی دے رہی ہےخواتین اچھے معاشرے کو تشکیل دیتی ہیں، خوا تین کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، انہیں ہرشعبے میں کام کرنا چاہیے آئی ٹی کے شعبہ میں خواتین کا اہم کردار ہے، پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں، پنجاب کے ہرضلع میں کیئر سینٹر بن رہا ہے۔

    ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، تین خوارجی ہلاک

    وزیراعظم کے مہنگائی کم کرنے کے دعوے قوم کے ساتھ مذاق ہیں،حافظ نعیم

    کل سے ملک کے مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی

  • حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صنفی مساوات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع تک یکساں رسائی فراہم کر کے ہی انہیں بااختیار بنایا جا سکتا ہے،خواتین کے حقوق کو یقینی بنانا ہمارا مشن اور غیر متزلزل عزم ہے۔ 

    انہوں نے یہ بات ہفتہ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر یہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین بشمول کابینہ اراکین ، قانون سازوں، عہدیداروں، کاروباری شخصیات اور کارکنان نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام وزارت انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے کیا تھا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں اور اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کی تیار کردہ دارالحکومت کیلئے صنفی مساوات کے حوالہ سے پہلی رپورٹ بھی لانچ کی جو تعلیم، صحت، گورننس، سیاسی نمائندگی اور انصاف جیسے اہم شعبوں میں چیلنجوں کی نشاندہی اور ان کے حل کی سفارش کرتی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت قومی معیشت میں کردار ادا کرنے والے پروگراموں میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی اقدام کے لیے صوبوں کے ساتھ اشتراک کار کرے گی۔انہوں نے ورکنگ ویمنز انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ کام کرنے والی خواتین کی مدد کی جا سکے اور انہیں عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کو ملازمت کے شعبوں میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے اور مردوں کے مساوی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں مواقع کی فراہمی سے ہماری پچاس فیصد خواتین کی آبادی کو ایک مفید افرادی قوت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے ملازمت کرنے والی خواتین کی سہولت کے لیے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسلام آباد میں سرکاری اور نجی محکموں میں ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں سہولیات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

    وزیر اعظم نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کام اور خاندانوں میں توازن پیدا کرنے کی جدوجہد میں پیشہ ورانہ کیریئر چھوڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہنر مند انسانی وسائل کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین کے اس طبقہ کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی مہارت کے حامل اسپتالوں، بینکوں اور دیگر پیشوں میں شامل ہوں تاکہ قومی معیشت میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی ان ممتاز خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے منظر نامے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر تحریک پاکستان کی سرکردہ خواتین محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان، پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیربھٹو،آمریت کے خلاف مزاحمت کرنے والی مثالی شخصیات بیگم نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نواز ، سماجی کارکنان بلقیس ایدھی اور ڈاکٹر روتھ فائو ، قانون دان عاصمہ جہانگیر ، ملک کی کم عمر ترین آئی ٹی ماہر ارفع کریم، سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز، لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ بیٹیاں خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک قابل ذکر علامت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں اپنی شناخت بنائی۔شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے ابتدائی دور حکومت میں خواتین کی خودمختاری لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ذکر کیا جن میں خواتین کے لیے پنجاب کے پہلے انسداد تشدد مراکز کا قیام، سرکاری محکموں کے بورڈز میں خواتین کے کوٹہ میں اضافہ، طالبات کے لیے وظیفے میں اضافہ اور 90 ہزار بچیوں کو سکولوں میں داخل کر کے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق وزارتوں اور محکموں کو خواتین کی شمولیت کی حامل پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ سال ٹاسک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کامیابی کے ساتھ محکمانہ بورڈز میں خواتین کی نمائندگی کے زیادہ تناسب کا باعث بنا۔

    اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ اقوام متحدہ صنفی ایکشن پلان سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف 2030 کے حصول کے لیے پاکستان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کو خواتین کے مخصوص حوالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی صنفی برابری کی رپورٹ کا اجراء ان چیلنجوں کی نشاندہی کرنے میں اہم ہے جن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    صنفی مین اسٹریمنگ کی خصوصی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں اور محکموں میں خواتین کی نمائندگی 33 فیصد کے ہدف سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نمائندگی موثر حکمرانی اور بہتر پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔

    چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے پاکستان کی صنفی مساوات کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین متعدد شعبوں میں رکاوٹیں عبور کر رہی ہیں۔انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کے طور پر خصوصی طور پر خواتین مسافروں کے لیے پنک بسوں کے اجراء اور ’ویمن آن وہیلز‘ پروجیکٹ پر روشنی ڈالی جس نے خواتین کو آسان اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے سہولت فراہم کی۔

    اس موقع پر چیئرمین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) عاکف سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کے تحت ایس ای سی پی کو ان پرائیویٹ کمپنیوں کو نامزد کرنے کا کام سونپا گیا جنہوں نے اپنے کام کی جگہ پر فیملی فرینڈلی پالیسیاں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں کام کرنے کے محفوظ ماحول کو فروغ دینے میں رول ماڈل کے طور پر کام کریں گی۔

    وزیراعظم نے 10 بہترین نجی کمپنیوں کو فیملی فرینڈلی ایوارڈز دیئے جن میں الفا بیٹا کور سلوشنز، ارفع کریم ٹیکنالوجی انکیوبیٹر، ایوی ایشن ایم آر او، بلنک کیپٹل، فنورکس گلوبل، گفٹ ایجوکیشنل، کِسٹ پے، لائبہ انٹرپرائزز، لیڈیز فنڈ انرجی، اور لی اینڈ فنگ پاکستان شامل تھیں۔یہ ایوارڈز ایک آن لائن سروے اور اسکورنگ میٹرکس پر مبنی تھے جو ایس ای سی پی نے یو این ویمن اور پاکستان بزنس کونسل کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ 2024 میں شروع کیے گئے سروے میں 230 سے ​​زائد کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے 10 کو شفاف عمل کے ذریعے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

  • مریم ، ٹیریان ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی

    مریم ، ٹیریان ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی

    مریم نواز اور ٹیریان کو ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی ہائی ہے.

    نجی ٹی وی چینل پر اینکر ڈاکٹرفضا اکبر کے شو میں پی ٹی آئی کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھا کے مریم نواز کو ناجائز کہنے پر ن لیگی رہنما اختیار ولی نے سیخ پا ہوکر نعیم حیدر پنجوتھا کا گریبان پکڑ لیا ، لائیو شو کے دوران ہونے والی ہاتھا پائی کے مناظر کیمرے نے ریکارڈ کر لیے ، اینکر ڈاکٹر فضا اکبر بار بار دونوں صاحبان سے ایسا نہ کریں ایسا نہ کریں کی درخواست کرتی رہی لیکن دونوں نے انکی بات نہ مانی، سٹوڈیو میں موجود دیگر لوگوں نے دونوں میں بیچ پچاو کروایا.

    اسلام آباد سے صحافی عمران وسیم نے واقعہ پر ایکس پر ردعمل میں کہا کہ اگرعمران خان اس سوال کا جواب دے دیتے کہ ٹریان کون ہے؟ آج یہ جھگڑا نہیں ہوتا عمران خان ہاں یا ناں میں کوئی بھی جواب دے سکتے ہیں، مخالفین اسی وجہ سے بار بار ٹیریان کا سوال عمران خان کی دکھتی رگ سمجھ کر اٹھاتے ہیں کیا وجہ ہے؟ اسلامی دنیا کا لیڈر عمران خان اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی وی چینلے پرائم ٹائم ٹاک شو ’کل تک جاوید چودھری کے ساتھ‘ کا ایک کلپ وائرل ہوا تھا جس میں پروگرام کے مہمان آپس میں تلخ کلامی اور سخت جملوں کے تبادلے کے بعد ایک دوسرے پر تھپڑ اور مکے برساتے دکھائی دے رہے تھے۔پروگرام میں ہاتھا پائی کرنے والے یہ مہمان مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کے رکن اور وکیل شیر افضل خان مروت ہیں۔ یہ پروگرام براہ راست نشر نہیں کیا گیا تھا اور دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان یہ جھگڑا بدھ کے روز ہونے والے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران ہوا تاہم سوشل میڈیا پر اس کا کلپ وائرل ہوا۔

    پروگرام کا مختصر کلپ وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے جہاں اس جھگڑے کی مذمت کی تو وہیں کچھ لوگوں نے اس واقعے کی ویڈیو ٹی وی سٹوڈیو سے لیک ہونے اور ایسی صورتحال میں پروگرام اینکر کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کا صوبہ بھر میں کرسمس پر جامع سکیورٹی انتظامات کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا صوبہ بھر میں کرسمس پر جامع سکیورٹی انتظامات کا حکم

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ بھر میں کرسمس کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ کرسمس کے دوران گرجا گھروں میں ہونے والی دعائیہ تقریبات کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے اور اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گرجا گھروں میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی نفری بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ کسی بھی قسم کی سکیورٹی کا خلا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کرسمس کی تقریبات میں مسیحی برادری کے افراد کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ کرسمس تقریبات کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لئے ٹریفک مینجمنٹ بہتر بنایا جائے اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام فوری طور پر اقدامات کریں تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پولیس میثاق سینٹر میں مسیحی برادری کے ساتھ کیک کاٹ کر اظہار یکجہتی کریں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ پنجاب حکومت اپنے تمام شہریوں کے ساتھ ہے اور ان کی خوشیوں میں شریک ہے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سستے بازاروں میں مسیحی برادری کے افراد کے لئے خصوصی رعایت دی جائے تاکہ وہ اپنے تہواروں کی تیاری بہتر طریقے سے کر سکیں اور ان کے لئے ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جا سکے۔مریم نواز نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ گرجا گھروں کے ارد گرد صفائی کا خصوصی انتظام کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان مقامات پر صفائی ستھرائی کے تمام انتظامات بہترین ہوں۔انہوں نے کہا کہ "مسیحی بھائیوں کی سکیورٹی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور ہم ان کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے مذہبی تہوار خوشی اور سکون کے ساتھ منا سکیں۔”

    یہ تمام ہدایات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے مسیحی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دی گئی ہیں، تاکہ کرسمس کے موقع پر تمام شہری ایک محفوظ اور خوشگوار ماحول میں اپنے مذہبی اور ثقافتی تہوار منا سکیں۔

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    لاہور ہائیکورٹ کادارالامان سے مرد ملازمین ہٹانے کا حکم

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • بشریٰ بی بی کو گنڈاپور ٹیم نے حبس بے جا میں رکھا ہوا،بہن کا دعویٰ

    بشریٰ بی بی کو گنڈاپور ٹیم نے حبس بے جا میں رکھا ہوا،بہن کا دعویٰ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی ڈی چوک سے جانا نہیں چاہتی تھی، ان کو زبردستی نکالا گیابشریٰ بی بی کو نہیں معلوم کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے،بشریٰ بی بی علی امین گنڈا پور کی ٹیم کے حبس بے جا میں ہیں،

    نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے مریم ریاض وٹو کا کہنا تھا کہ میری جب بشریٰ سے بات ہوئی تو بڑی مشکل سے بات ہوئی،کافی گھنٹے بعد،کیونکہ یہ بتایا جا رہا تھا کہ وہ کے پی چلی گئی ہیں، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ، میں سب کو فون کر کے پوچھ رہی تھی،کسی نے میری بات نہیں کروائی، میں نے کہا کہ وہ صحیح ہیں تو بات کروائیں، پھر پریس کانفرنس کا کہا گیا، کہ ہو رہی ،جب میری آج بات ہوئی تو بشریٰ کا کہنا تھا کہ مجھے انہوں نے وہاں سے نکالا، فائرنگ ہو رہی تھی،وہ نکلیں تو گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا، جب گاڑی آئی تو ان کے گارڈ کو دوسری گاڑی میں بھیج دیا گیا، جس کے بعد بشریٰ اور انکے گارڈز الگ ہو گئے، بشریٰ کے گارڈز کی گاڑی پیچھے رہ گئی تھی،اب بشریٰ کو نامعلوم جگہ منتقل کر دیا گیا ہے یہ سیکورٹی کا بہانہ بنائیں گے، میں نے جب بشریٰ سے پوچھا کہ پریس کانفرنس ہونی ہے تو بشری نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میں کہاں ہوں اور کیا ہو رہا،

    مریم ریاض وٹو کا مزید کہنا تھا کہ واضح ہو جائے گاکہ بشریٰ بی بی حبس بے جا میں ہیں، انکی موومنٹ اب انکی مرضی سے نہیں ہے، میری آج ہی بشریٰ سے بات ہوئی ہے،گنڈا پور کی ٹیم نے میری بات نہیں کروائی، میری بات ہونے کے بعد بشریٰ کو کسی اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے،بشریٰ کا خاندان سے کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، میں نے گنڈا پور کو کال کی جواب نہین آیا، سلمان اکرم راجہ نے بھی کال کا جواب نہیں دیا،اس وقت کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا، میں عمران خان تک یہ سب باتیں پہنچاؤں گی، سیکورٹی ریزن ہے یا کوئی اور وجہ، بشریٰ کے نمبر بھی بند ہیں، بشریٰ بی بی کو کےپی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، انھیں نہیں پتا اس وقت وہ کہاں موجود ہیں۔

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں سے  عید کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اجازت

    پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں سے عید کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اجازت

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب کی جیلوں میں مقید اسیران سے عیدالاضحیٰ کے پہلے اور دوسرے دن خصوصی ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

    اس سلسلے میں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نزیر کی جانب سے تمام سپرٹینڈنٹ جیلز کو خصوصی ملاقات کیلئے انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تمام سپرٹینڈنٹ جیلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں۔اسیران کے ملاقاتیوں کو بعد از چیکنگ کھانا جمع کروانے کی اجازت دی جائے۔ ملاقاتیوں کی سہولت کیلئے سپیشل ڈیوٹیاں لگائی جائیں۔ملاقات کے دوران بدعنوانی کے امکانات کے خاتمے کیلئے سپرٹینڈنٹ جیل ، ڈپٹی سپرٹینڈنٹ جیل اور ڈیوٹی آفیسر انتظار گاہ اور ملاقات شیڈ کے مسلسل وزٹ کریں۔تمام سپرٹینڈنٹ جیلز مخیر حضرات سے قربانی کے گوشت کی وصولی کر کے اگلے روز اسیران کے ڈنر کا بندوست کریں اور رپورٹ صدر دفتر ارسال کریں۔

    آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نزیر کا کہنا ہے سنٹرل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے خصوصی ملاقات کے انتظامات کی نگرانی کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔عیدالاضحیٰ کے پہلے اور دوسرے دن صرف فیملی ممبران کو ملاقات کی اجازت ہوگی۔ دوست احباب و دیگر افراد ملاقات کیلئے آنے کی تکلیف مت کریں ورنہ انھیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ریجنل ڈی آئی جیز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ جیلوں کے اچانک دورے کر کے انتظامات کا جائزہ لیں اور رپورٹ صدر دفتر ارسال کریں۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • خوشاب،ٹرک کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی موت

    خوشاب،ٹرک کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی موت

    پنجاب کے ضلع خوشاب میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی موت ہو گئی ہے

    بنوں سے آنے والی گاڑی پنج پیر کے مقام پر گہری کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کی پانچ خواتین اور 8بچوں سمیت 13 افراد موقع پر جانبحق ہو گئے جبکہ 9شدید زخمی ہوئے ہیں، بدقسمت خاندان بنوں سے وادی سون محنت مزدوری کے لیے آرہا تھا،اطلاع پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، پولیس حکام کے مطابق حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرک بے قابو ہو کر کھائی میں جا گرا،حادثے میں جاں بحق افرادکا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے،

    فاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خوشاب کے قریب سون ویلی میں منی ٹرک کھائی میں گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کےضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ افسوسناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر دلی دکھ ہوا ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خوشاب سون ویلی حادثے پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہارکیا ہے،وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹرک کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 13 افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہارِ افسوس کیا ہے،وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نےسوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی تعزیت کی ہے،

  • ریلوے پولیس اہلکار کو خاتون کی ہلاکت سے بری کردیا گیا

    ریلوے پولیس اہلکار کو خاتون کی ہلاکت سے بری کردیا گیا

    ملت ایکسپریس میں خاتون پر تشدد اور ہلاکت کی انکوائری مکمل کر لی گئی،رپورٹ میں ریلوے پولیس اہلکار کو خاتون کی ہلاکت سے بری کردیا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خاتون کی ہلاکت ٹرین سے گرنے یا چھلانگ لگانے سےہوئی،مریم کی ہلاکت کے وقت کانسٹیبل میرحسن ٹرین میں موجود نہیں تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کانسٹیبل میرحسن خاتون پر تشدد کا ذمہ دار قراردیا گیا،میرحسن کےخلاف مقدمہ درج کرکے محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین اسٹاف، عینی شاہدین اور مسافروں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔

    دوران سفر ریلوے میں خاتون پر تشدد ، موت، پولیس اہلکار کیخلاف کاروائی شروع
    دوسری جانب ملت ایکسپریس میں خاتون پر پولیس اہلکار کے تشدد اور موت کی تحقیقات کیلئے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی گئی ہے، تھانہ چنی گوٹھ میں ریلوے پولیس اہلکار میر حسن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، نامزد ملزم میر حسن کی گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے، ملزم میرحسن ریلوے پولیس کا ملازم اور سندھ کا رہائشی ہے

    پولیس نے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد پر اسرار طور پر ہلاک ہونے والی خاتون مریم کے خاندان کو طلبی کا نوٹس جاری کردیا ہے جس میں مریم کے بھائی، بھتیجا اوربھتیجی کو طلب کیا گیا ہے،مریم کے قتل کا مقدمہ 16 اپریل کو درج کیا گیا تھا جب کہ مریم کےگھر والوں کو 20 اپریل کو تھانہ چنی گوٹھ میں طلب کیا گیا ہے

    ریلوے میں زنجیر سے جکڑے "لوٹے”معاملہ قائمہ کمیٹی پہنچ گیا

    گھر سے بھاگے 310 لڑکے،190 لڑکیاں،47 خواتین کو ریلوے پولیس نے ورثا کے حوالے کیا

    ریلوے سٹیشن کے پاس مسافروں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے والے 2 ملزم گرفتار

    ریلوے میں پسند ناپسند کی بنیاد پر نااہل ٹی ایل اے ملازمین بھرتی کئے جانے کا انکشاف

    پاکستان انفارمیشن کمیشن کی کارروائی، ریلوے ملازم کو گریجویٹی فنڈ دلادیا

    راولپنڈی پشاور کےدرمیان ریلوے کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی زیادہ

    ریلوے پولیس اہلکار کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون چنی گوٹھ کے قریب مبینہ طور پر قتل کر دی گئی،7 اپریل رات کو کراچی سے چلنے والی ملت ایکسپریس ٹرین میں ریلوے پولیس اہلکار نے خاتون پر تشدد کیا،8 اپریل علی الصبح چنی گوٹھ کے قریب اسی ٹرین سے مبینہ طور خاتون کو ٹرین سے گرایا گیا ۔ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر مبینہ طور پر قتل ہونے والی خاتون کی شناخت ہوگئی 30 سالہ مریم بی بی کا تعلق جڑانوالہ چک 40 موڑ فیصل آباد سے تھا ۔ میر حسن ریلوے پولیس اہلکار تشدد کے الزام میں پہلے سے ہی گرفتار ہے ۔تشدد کے بعد خاتون کی ہلاکت کا معاملہ ! ذمہ دار ریلوے حکام یا پولیس اہلکار ؟ ورثاء نےخاتون پر تشدد کے بعد ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.خاتون کے بھائی افضل کا کہنا تھا کہ اس کی بہن کراچی میں بیوٹی پارلر پر ملازمت کرتی تھی اور عید منانے کیلئے کراچی سے جڑانوالہ آ رہی تھی

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کا کھاریاں میں 13 سالہ طالبہ سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیراعلیٰ مریم نواز کا کھاریاں میں 13 سالہ طالبہ سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کھاریاں میں 13 سالہ طالبہ سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لے لیا ، تعلیمی ادارے میں سکیورٹی گارڈ کی جانب سے معذور بچی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے پر مریم نواز شریف نے اظہارِ افسوس کیا اور کہا کہ تعلیمی ادارے میں گھناؤنے فعل سے سر شرم سے جھک گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ بچیوں کی عصمت دری کے المناک واقعے میں ملوث افراد معاشرے کیلئے ناسور ہیں۔

    رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پنجاب میں لڑکوں سے زیادتی کے چار کیس آگئے ہیں ،کوٹ ادو ،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،کھاریاں ،ملتان میں یہ واقعات رونما ہوئے ہیں،واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    تھانہ سول لائن جہلم پولیس کو کھاریاں گجرات کی رہائشی لڑکی نے بتایا کہ شادی کا جھانسہ دے کر ظہیر نے جہلم اپنے گھر بلایا اور شراپ پلا کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا،اور گھر چھوڑ کر چلا گیا ، جس کے بعد فوزیہ نامی خاتون نے تین افراد سے لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنوایا ، متاثرہ لڑکی نے جب ظہیر کو بتایا تو ظہیر نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چھاؤنی چوک چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے