نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ظفر نصراللہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ صوبائی سیکرٹریزعلی سرفراز، اسد گیلانی اور اے آئی جی فاروق مظہر کمیٹی کے رکن ہوں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی کے ٹی او آرز بھی طے کرلیےگئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی سانحہ مری سے متعلق سرکاری محکموں کے ذمہ داروں کا تعین کرے گئی اور تحقیقات کرےگی کہ مری میں سیاحوں اور گاڑیوں کوکنٹرول کرنےکےکیا قدامات کیے؟
کمیٹی تحقیق کرےگی کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ پر اداروں نےکیا لائحہ عمل اختیارکیا؟ کیا میڈیا پر مری آنے سے روکنے کیلئے کوئی وارننگ جاری کی گئی؟
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کرے گی برفانی طوفان کی اطلاع کےبعدکیاحفاظتی اقدامات کیےگئے؟یہ کمیٹی 7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سانحہ پر انکوائری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کےبعد ذمہ داران کا تعین اوران کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ان کا کہنا تھاکہ سانحے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، عوام کی بھی غلطی ہے انھیں انتظامیہ کی وارننگ کوسنجیدہ لینا چاہیے تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔
تہران :ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق ایران نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی سمیت 50 سے زائد امریکی افراد پر پابندیاں عائد کر دیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کے فیصلے کے تحت ایران میں موجود جنرل مارک ملی سمیت 50 سے زائد امریکیوں کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔
مذکورہ افراد پر پابندی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عائد کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندی والے افراد میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے والے بھی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ نے بیان میں بتایا ہے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق امریکی فوج سے ہے۔ پابندی کے تحت ایران میں موجود ان کے اثاثے اور املاک ضبط کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ امریکی جانب سے ایران پر کئی بار معاشی، اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ایرانی کمپنیوں، تجارتی و کاروباری افراد سمیت اعلیٰ حکومت ارکان بھی پابندی والے افراد میں شامل ہیں۔
ایران نے بھی ردعمل میں امریکی اہلکاروں، تاجروں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو پابندی والی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
جنوری 2020 میں عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے۔
ادھرویانا میں ایران کے خلاف غیر قانونی و ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے مقصد سے جاری مذاکرات میں اختلافی نکات میں کمی آ رہی ہے۔ ویانا مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سینیئر مذاکرات کار علی باقری نے یہ بات کہی۔
علی باقری نے گروہ 4+1 کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس کے بعد سنیچر کی رات کو بتایا کہ اختلافی مسائل کم ہو رہے ہیں۔
ان مذاکرات میں شامل قریب سبھی ممالک نے مذاکرات کے عمل کو مثبت اور رو بپیشرفت قرار دیا۔
ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے حال ہی میں کہا کہ نہ صرف روس بلکہ باقی فریقوں کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہ
ویٹی کن:کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کیا ہے۔ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ویٹی کن میں منعقد تقریب میں سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے لیے دعائیں بھی کی گئیں۔
پوپ فرانسس نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کرتے ہوئےکہا ہےکہ وہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
ادھر یورپین یونین نے پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں موسمی حالات کے باعث سیاحوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان میں یورپین یونین کے دفتر اور اس کی سفیر اندرولا کامینارا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے اس حادثے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مری میں چھٹیاں منانے والوں کی جان جانے کے المناک نقصان کے بارے میں جان کر صدمہ ہوا ہے۔
انہوں نے اس خوفناک حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے ابدی سکون اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
خیال رہے کہ مری میں 7 جنوری کی رات کو آنے والے برفانی طوفان نے 20 سے زائد زندگیاں نگل لیں، حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مری میں 4 روز میں 1 لاکھ 62 ہزار گاڑیاں داخل ہوئیں، اموات کاربن مونو آکسائیڈ کی زیادتی سے ہوئیں ۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دورہ مری میں واقعے کے محرکات کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس کے مطابق 7 جنوری کو 16 گھنٹے میں چار فٹ برف پڑی، 3 جنوری سے 7 جنوری تک 1 لاکھ 62 ہزار گاڑی مری داخل ہوئیں ۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹریفک لوڈ مینجمنٹ نہ کرنے پر برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو کنٹرول کرنا کس کا کام تھا؟۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی ، 21 ہزار گاڑیاں واپس بھجوائی گئیں ، 4 سے 5 گاڑیوں میں 22 افراد جاں بحق ہوئے ، یہ افراد کاربن مونو آکسائیڈ کی زیادتی سے جاں بحق ہوئے ، 70 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے ۔
مری :سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام نے حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالنبہ کردیا ،اطلاعات ہیں کہ سانحہ مری کی ذمہ دارموجودہ مری انتظامیہ نوازشریف دورحکومت سے بڑی طاقتور اور خودمختارانتظامیہ ہے جس کے بڑے بڑے عہدوں پرتبادلے اور تقرریاں نوازشریف،مریم نواز اورشہبازشریف کی خواہش پر کئے گئے
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس انتظامیہ کی مری اور مضافات کے علاقوں میں گرفت کو کنٹرول کرنے کی بڑی کوششیں کی مگراس دوران بڑے بڑے لوگوں نے اس کوشش کو بریک لگائے رکھی یا پھرگھوم گھما کے وہی لوگ مختلف علاقوں میں تعینات کرواتے رہے اور اس میں پنجاب حکومت کی اپنی بھی غلطی اورسُستی ہے کہ وہ اس لابنگ کو سمجھ نہ سکی ،
ادھر جب سے سانحہ مری رونما ہوا ہے اس وقت سے سوشل میڈیا پر ایک سوال بڑی تیزی سے گردش کررہا ہے ،جس میں عوام پوچھ رہےہیں کہ بار بار مری انتظامیہ کی بات ہورہی ہے ہے پہلے یہ تو بتایا جائے کہ یہ مری انتظامیہ کیا چیز ہے ، اس انتظآمیہ کے شعبے کون کون سے ہیں اور ان اداروں کے سربراہان کون ہیں اور ان کو کن کی خواہش پر وہاں تعینات کیا گیا
اس حوالے سے عوام الناس خصوصا مری ، ہزارہ اورایبٹ آباد ، گلیات اور دیگرعلاقوں کے لوگ اپنے سوشل میڈیا پیجز پریہ رونا رو رہے ہیں کہ یہ وہی پرانی انتظآمیہ ہے سوائے چندنئے لوگوں کے جن کونوازشریف ، مریم نواز اور شہبازشریف کی خواہش پرتعینات کیا گیا تھا اور آج بھی وہی ان علاقوں میں بااختیار اور بااثرہیں
بعض نے بڑے دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ مری انتظآمیہ میں 80 فیصد سے زائد موجودہ اور سابق ن لیگی وزرا ، ارکان اسمبلی اور دیگربااثرشخصیات کی خواہش پر تعینات ہیں اور وہ اپنے محسنوں کے وفادار بھی ہیں
دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نااہلی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جس کو آج تک یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ مری انتظامیہ ایک خاص فکراورایک خاص گروہ سے تعلق رکھتی ہے
ادھر اسی حوالے سے ایک اہم شخصیت نے فیس بک پرایک اشارہ دیا ہے جوکہ بہت اہم ہے ،یہ ہیں ظفر حجازی جوکہ کہتےہیں کہ مری انتظامیہ میں وہی ہیں جو ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں اور ان کا ہی یہاں ہولڈ ہے اوراثر ہے ، مری انتظآمیہ میں شامل انہیں میں سے کسی کے بھتیجے ، بھانجے،بیٹے اوربہت قریبی وفادار ہیں جواس وقت مری پرقابض ہیں اور اپنی بے رحمانہ طرز زندگی سے لوگوں کو مار ررہے ہیں
عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت ساری مری انتظامیہ کی جاب ہسٹری اور سٹیٹس قوم کے سامنے لائے
سانحہ مری:سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی ،اطلاعات کے مطابق سانحہ مری کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گاڑیوں میں بیٹھے افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے
دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مری جانے والوں کو اس بات کی آگاہی ہوتی کہ گاڑی کے دھوئیں والے پائپ کو ہرصورت کھلا رکھنا اور اس پربرف یا کوئی اور چیز نہیں آنے دینی تو گاڑیوں میں سوار لوگ جومری میں غلطی کی ہے وہ نہ کرتے
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق7 جنوری کو مری میں 16گھنٹے میں4 فٹ برف پڑی،3 جنوری سے7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزارگاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے، 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، مری جانے والی 21 ہزارگاڑیاں واپس بھجوائی گئیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ٹریفک لوڈمینجمنٹ نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ہے۔
اس رپورٹ کے بعد پراپیگنڈہ کرنے والوں کے سارے الزامات دم توڑ گئے ہیں جو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار حکام کوقرار دے رہے ہیں
یاد رہے کہ کل سے پاکستان کی ایک بڑی شخصیت کا آڈیو پیغام وائرل ہورہا ہے جس میں مری میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ایسے حقائق پیش کئے گئے ہیں اگریہ حقائق پہلے بیان ہوجاتے تو یقینا اس طرح حادثہ نہ ہوتا ،
یاد رہے کہ قوم اس وقت ایک سانحے سے گزررہی ہے جس میں مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کے باعث برفانی طوفان میں پھنسے کئی شہری اپنی گاڑیوں میں موت کے منہ میں چلے گئے۔
گاڑی برف میں پھنس جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس انعام غنی کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کاربن مونوآکسائیڈمیں بونہیں ہوتی، اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کاربن مونو آکسائیڈ جلد موت کا سبب بن سکتی ہے۔
مری میں برفباری اور سیاحوں کے رش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی برف میں پھنس گئی ہے اور انجن چل رہاہے تو کھڑکی ہلکی سی کھولیں، گاڑی کے ایگزاسٹ سائلنسرپائپ سے برف صاف کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیٹرچلانے سے پہلےچیک کر لیں کہ سائلنسر برف کی وجہ سےبند تو نہیں ہو چکا،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سائلنسر بند ہوا تو "کاربن مونو آکسائیڈ” گیس گاڑی میں جمع ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس گیس کا کوئی رنگ یا بُو نہیں ہوتی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ گیس چند منٹ میں انسان کی جان لےلیتی ہے
خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔
راولپنڈی :الحمدللہ:مری میں تمام مرکزی شاہرات کھول دی گئیں:نظام زندگی اب معمول پرآگیا ہے: پاک فوج کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق ترجمان پاک فوج کا کا کہنا ہے کہ مری میں ہر طرح کی نقل وحمل کےلیےمرکزی شاہرات کھول دی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کلڈنہ باڑیاں شاہراہ بھی کھول دی گئی ہے اور مرکزی شاہرات کھولنےکےبعداب رابطہ سڑکیں کھولنے کاکام جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپس اور طبی سہولتوں پر پوری طرح سےکام کر رہےہیں آرمی ٹرانسپورٹ سے سیاحوں کو راولپنڈی اسلام آباد پہنچایا جارہا ہے۔
مری میں پھنسےسیاحوں کو نکالنےکے لیے پاک فضائیہ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق اب تک 100افراد کو پی اے ایف بیس کالاباغ اور لوئر ٹوپہ منتقل کر دیا گیا ہے جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، متاثرہ خاندانوں کورہائش، خوراک اور طبی سہولتیں دی جارہی ہیں۔
دوسری جانب عثمان بزدار کی زیرصدارت مری میں خصوصی اجلاس میں اہم ترین فیصلے کئے گئے ہیں۔
اجلاس میں سانحۂ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کےلواحقین کیلئےمجموعی طور پرایک کروڑ 76 لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا جو کہ فی کس 8،8 لاکھ روپے بنتا ہے۔
مری سانحہ کیسے رونما ہوا؟ اس کی جانچ پڑتال کے لئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنانےکا فیصلہ بھی کیا گیا، کمیٹی 7دن میں ممکنہ غفلت کےمرتکب افراد کا تعین کرے گی۔
مری:سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والےافراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے:اطلاعات کےمطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرِ سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا، سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کو 8،8 لاکھ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے ایک کروڑ 76 لاکھ روپے منظور ہوئے ہیں، 22 افراد کو 8،8 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز کی بارشوں میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کیلئے مجموعی طور پر 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں راجہ بشارت، چیف سیکرٹری پنجاب، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ،آئی جی پنجاب نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ مری میں گزشتہ روز برف کا طوفان آیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی تھیں، برفباری کے باعث مختلف گاڑیوں میں 21 افراد دم گھٹ کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ پاک فوج کے دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
مری اور گلیات میں گزشتہ چند روز سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز عوام کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے پہنچی تھی۔
شدید برفباری میں ٹریفک جام ہونے کے بعد بڑی تعداد اپنی گاڑیوں میں ہی محصور ہوکر رہ گئی تھی۔ ان ہی میں وہ بدقسمت افراد بھی شامل تھے جو اپنی گاڑیوں میں دم گھٹنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔
مری میں اس وقت ایمرجنسی رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کے علاوہ کسی کے بھی داخلے پر پابندی ہے۔ پاک فوج کے دستے انتظامیہ کے ساتھ کر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والوں میں کری روڈ کے رہائشی شہزاد اسماعیل، اہلیہ و چار بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں گھر کا سربراہ 46 سالہ شہزاد اسماعیل ، 35 سالہ صائمہ شہزاد، 10 سالہ سمیع الله شہزاد، 8 سالہ حبیب الله شہزاد، 7 سالہ عائشہ شہزاد اور 5 سالہ اقرا شہزاد شامل ہیں۔نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات، عزیز اقارب و اہلیان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اسلام آباد: وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے ریلوے کے تمام ریزرویشن دفاتر میں سیاحوں کو مری نہ جانے اور سیاحتی پروگرام منسوخ کرنے کے نوٹس آویزاں کرنے کی ہدایت کردی۔
باغی ٹی وی : ہفتہ کو مری میں برفباری کی وجہ سے ہونے والی قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کے بعد وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے ریل کمپنی پراکس کو ہدایت کی کہ ریلوے کے تمام ریزرویشن دفاتر میں نوٹس آویزاں کئے جائیں جس میں سیاحوں کو مری نہ جانے اور اپنا سیاحتی پروگرام منسوخ کریں کی تحریر درج ہو تاکہ مزید سانحہ رونما نہ ہو۔
وزیر ریلوے کی ہدایت کے بعد پراکس نے اپنے ملک بھر کے ریلوے ریزرویشن دفاتر میں نوٹس آویزاں کرنا شروع کردیئے ہیں ۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فضائی دورے میں مری میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری میں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کاجائزہ لیا اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کا مشاہدہ کیا۔
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ریلیف کمشنر اورسینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے امدادی سرگرمیوں پربریفنگ دی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، معاو ن خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ نے سڑکوں کی بحالی اور ریلیف آپریشن میں تیزی ہدایات کی ہیں۔
دوسری جانب مری میں برفباری رکتے ہی امدادی کاموں میں تیزی آگئی۔ اہم شاہداہوں سے برف ہٹا دی گئی۔ نظام زندگی بحال ہونا شروع ہو گئی مری کی اہم شاہراہوں سے برف ہٹا دی گئی۔ سنگل ٹریفک چل پڑی۔لوئر ٹوپہ سے جھیکاگلی روڈ اور کلڈانہ روڈ سے باڑیاں تک سڑک سے برف ہٹا دی گئی ہے۔
سڑکوں پر پھنسی گاڑیوں کو نکالنے اور سڑکوں پر پارک کی گئی گاڑیوں کو سڑک سے ہٹانے کا کام جاری ہے۔مری شہر کے بیشتر علاقوں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق شدید برفباری کے باعث 20 سے 25 بڑے درخت گرے اور راستے بلاک ہو ئے تمام سیاحوں کو رات سے قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔گزشتہ 24 گھنٹے میں 500 سے زائڈ فیملیز کو ریسکیو کیا گیا۔
مری میں ایک ہفتے بعد دھوپ نکل آئی لیکن سردی کی شدت برقرار ہے ذرائع کے مطابق اندورن شہر کی سڑکوں سے برف ہٹانے میں ہیوی مشینری تاحال کامیاب نہیں ہو سکی لوکل ٹرانسپورٹ کی بندش کےباعث بازاروں میں اشیا ضروریہ کی قلت سے نظام زندگی متاثر ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مری میں شدید برفباری اور ٹریفک جام کے باعث سیاح گاڑیوں میں شدید سردی کی وجہ سے بچوں سمیت 23 لوگ جاں بحق ہو گئے ہیں ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ روڈ بند ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں رات کو کھلے آسمان تلے تھیں اور ان میں شہری پھنسے ہوئے تھے، رات کو برفباری جاری رہی، صبح جب شہریوں نے گاڑیوں کے دروازے کھولنے کی کوشش کی تو کئی گاڑیوں میں شہری یا تو بیہوش تھے یا انکی موت ہو چکی تھی-
مری میں ہونے والی برفباری میں اسلام آباد پولیس کا اہلکار اہلخانہ سمیت جاں بحق ہو گیا ،ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق اسلام آباد پولیس کا اے ایس آئی تھانہ کوہسار میں تعینات تھا ،پولیس اہلکار کی گاڑی میں7سے 8 افراد سوار تھے تمام افراد برف باری اور سردی میں امداد نہ ملنے پر جان کی بازی ہار گئے
مری:سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے 9 سیاحوں کی آبائی علاقوں میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔مردان کے رہائشی نوجوان کی نمازجنازہ لوند خوڑ میں ادا کی گئی، سہیل دو بچوں کا باپ تھا۔ نماز جنازہ میں عمائدین علاقہ نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ لاہور کے معروف اشرف اورظفراقبال کی نمازجنازہ کوٹ لکھپت کے اکبر شہید قبرستان میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
راولپنڈی کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے،سانحہ مری میں جان بحق ہونے والوں کو سپرد خدا کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق کری روڈ کے رہائشی شہزاد اسماعیل، اہلیہ و چار بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
جاں بحق ہونے والوں میں گھر کا سربراہ 46 سالہ شہزاد اسماعیل ، 35 سالہ صائمہ شہزاد، 10 سالہ سمیع الله شہزاد، 8 سالہ حبیب الله شہزاد، 7 سالہ عائشہ شہزاد اور 5 سالہ اقرا شہزاد شامل ہیں۔
نماز جنازہ میں سیاسی سماجی شخصیات، عزیز اقارب و اہلیان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ مری میں گزشتہ روز برف کا طوفان آیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی تھیں، برفباری کے باعث مختلف گاڑیوں میں 22 افراد دم گھٹ کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ پاک فوج کے دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
مری اور گلیات میں گزشتہ چند روز سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز عوام کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے پہنچی تھی۔
شدید برفباری میں ٹریفک جام ہونے کے بعد بڑی تعداد اپنی گاڑیوں میں ہی محصور ہوکر رہ گئی تھی۔ ان ہی میں وہ بدقسمت افراد بھی شامل تھے جو اپنی گاڑیوں میں دم گھٹنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔
مری میں اس وقت ایمرجنسی رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کے علاوہ کسی کے بھی داخلے پر پابندی ہے۔ پاک فوج کے دستے انتظامیہ کے ساتھ کر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ سانحہ مری میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے جب کہ امدادی کاموں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ذرائع کے مطابق مری میں 5 روز سے بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری تھا جو کہ اب مکمل طور پر تھم چکا ہے۔مری اور گلیات کو ملانے والی تمام سڑکیں کلیئر کردی گئی ہیں
اسلام آباد: چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے کہا ہے کہ مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے اور سڑک کنارے صرف خالی گاڑیاں کھڑی ہیں-
باغی ٹی وی : چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے کہا ہے کہ تمام سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ آرمی ریلیف کیمپوں میں 371 افراد کو منتقل کیا گیا ہے پاک فوج اور سول اداروں سمیت سب نے مل کر ریسکیو کا کام کیا۔ سیاحوں کی منتقلی میں مقامی افراد نے بھی مدد کی اور رات سے قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقلی مکمل ہوئی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے اور سڑک کنارے صرف خالی گاڑیاں کھڑی ہیں کلڈانہ باڑیاں روڈ کھولنے کا کام جاری ہے اور کلڈانہ باڑیاں روڈ پر اس وقت 77 گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔
اس سے قبل ترجمان پاک فوج کی طرف سے تازہ اپ ڈیٹس میں بتایا گیا تھا کہ بچوں سمیت 300 سے زائد برف سے متاثرہ افراد کو آرمی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کی ٹیم نے طبی امداد فراہم کی ہے اس کے ساتھ ساتھ جھیکاگلی، کشمیری بازار، لوئر ٹوپا اور کلڈانہ میں پھنسے ہوئے 1000 سے زیادہ لوگوں کو پکا ہوا کھانا پیش کیا گیا۔
پھنسے ہوئے لوگوں کو ملٹری کالج مری، سپلائی ڈپو، اے پی ایس اور آرمی لاجسٹک سکول کلڈانہ میں گرم کھانے اور چائے کے ساتھ رہائش اور پناہ دی گئی ہےجھیکا گلی ٹریفک جھیکا گلی سے ایکسپریس وے تک چل رہی ہے جھیکا گلی سے کلڈانہ تک ٹی آر کو صاف کر دیا گیا ہے تاہم پھسلن کی وجہ سے ٹریفک نہیں چل رہی ہے گھڑیال سے بھوربن تک ٹریک کھلا ہے۔ ٹریفک چل رہی ہےاور ایسے ہی کلڈانہ سے باریان آرمی انجینئرز کے دستے سڑک کی منظوری کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں-
مری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز نے کہا تھا کہ جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔
دوسری جانب پاک فوج کی طرف سے بلوچستان میں ریسکیواورریلیف کی خدمات کی تازہ ترین تفصیلات فراہم کی گئی جن کے مطابق زیارت کراس سےخانوزئی سیکشن تک برف ہٹائی گئی، لیویز فورس اور پی ڈی ایم اے کے ریسکیو آپریشن کے بعد چوتھے سے زیارت تک سڑکیں کھول دی گئیں، سڑکیں ہیوی اور ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں۔
گوادرکے علاقے میں پانی نکالنے کی کوششوں کی وجہ سے زیادہ تر علاقے صاف ہو گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آرمی میڈیکل کیمپس لگائے گئے اور 650 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ جبکہ ضلع کیچ میں Dewatering Sit کے بعد، زیادہ تر علاقے صاف ہو گئے اور ایسے ہی کوئٹہ میں مہترزئی اور کھوجک کی چوٹی سے برف صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل واجد عزیز نے کہاتھا کہ آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کئے بغیر مکمل تعاون کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوشش یہ ہو کہ تمام لوگوں کو امداد پہنچائی جائے، کسی سیاج کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رات کے وقت پاک فوج کے دو کیمپ قائم کر دیئے گئے تھے، کیمپ کلڈنا میں آرمی سکول آف لاجسٹک میں قائم کیا گیا، دوسرا کیمپ سنی بینک میں قائم کیا گیا، آرمی سکول آف لاجسٹک میں 60 خاندانوں کو رکھا گیا سنی بینک میں قائم کیمپ میں 50 خاندانوں کو رکھا گیا، ایف ڈبلیو او راولپنڈی کی مشینری نے ایکسپریس ہائی کو صاف کیا، شام تین بجے تک ایکسپریس وے کھل چکی تھی، جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔
اطلاعات ہیں کہ پاک فوج کے تمام شعبے اس وقت مری ،بلوچستان اور ملک کے دیگرآفت زدہ علاقوں میں مصروف خدمت ہیں-