Baaghi TV

Tag: مری

  • اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

    اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

    مری :اب بس کردیں سیاست:مری سے سے پیغام آگیا،اطلاعات ہیں کہ مری سے ایک ایسا پیغام آگیاہے کہ جس کے بعد اس سانحے پرسیاست کرنے والوں کے منہ میں گُڑ ڈال دیا گیا ،یہ پیغآم وہ پیغآم ہے کہ جس کو نظرانداز کرنے پرایک طرف قوم کو بڑے سانحے کا صدمہ برداشت کرنا پڑرہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی چند سیاسی شعبدہ باز شخصیات اسے اپنی سیاست چمکانے کا بہترین موقع اور ہتھیار سمجھ بیٹھے ہیں

     

     

    یہ پیغام ان قوتوں کے لیے واضح ہے جو بغیر دلیل کے بڑی بڑی کہانیاں گڑھ رہے ہیں‌اور پھر اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے قوم کے اس صدمے کو مذاق بنا رکھا ہے

     

     

    https://twitter.com/OfficialShehr/status/1478716540908359680

    جہاں ایک طرف مری میں برف باری دیکھنےکی چاہ 21 افراد کی جان لےگئی جس پر پورا ملک سوگوار ہے، مری کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور تمام داخلی راستے بند کردیےگئے ہیں۔

    وہاں سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اس حوالے سے مری آنے والوں کو خبردار کیا تھا کہ مری میں برف باری اور موسم کی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اس لیے محتاط رہیں۔شدید برفباری سے متعلق محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود انتظامیہ خاموش رہی

     

     

    https://twitter.com/OfficialShehr/status/1479824401667268612

    سوشل میڈیا پر طنزیہ ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی بچی شہر بانو نے بھی 5 جنوری کو ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں سیاحوں کو مری کی صورت حال کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

    مری میں موجود شہر بانو نے برف باری کے بعد کا منظر دکھاتے ہوئے اپیل کی تھی کہ ‘مری میں برف باری کا سن کر اندھا دھند مری کی طرف نہ بھاگیں، بہت زیادہ برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہوگئی ہیں ، راستے کھلنے کا انتظار کریں، اپنے اور اپنے پیاروں کو مشکل میں نہ ڈالیں’۔

    شہر بانو کا کہنا تھا کہ ساری سڑکیں بند ہوچکی ہیں، اس لیے جب سڑکیں کھل جائیں اور ٹریفک جام ختم ہوجائے تو پھر ہی آئیں۔

     

     

    ادھر سوشل میڈیا پر اکثریہ پیغام شیئر کیا جارہا ہے کہ سکیورٹی حکام اور دیگر ذمہ داران ہرآنے والے کو خبردار کرتے رہے کہ رش بہت ہوگیا آپ واپس چلے جائیں لیکن ہم کسی کی بات کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں بلکہ پولیس اور دیگرسیکورٹی حکام کو مذاق بنا رکھا ہے

     

     

    دوسری طرف یہ بھی وائرل ہورہا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ قومی سانحہ ہے اور اس سانحے پر جہاں پوری قوم غمگین ہے اور سب نے اسے سانجھا دُکھ سمجھ رکھا ہے اور دنیا بھی پاکستان کے اس غم میں برابر کی شریک ہے لیکن کچھ سیاسی شعبدہ باز فقط اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا بیان بازی کررہے ہیں ،

     

     

    بعض نے تو لکھا ہے کہ "یہاں مگرمچھ کے آنسو وہ بھی بہا رہے ہیں جنہوں نے دن دیہاڑے 14 بے گناہوں کو لاہور کی سڑکوں پرگولیوں سے بھون کرماردیئے تھے ان کو اس قتل عام کی پرواہ نہیں تھے تو یہاں قدرت کے فیصلے پر آہ وکناں کیوں ہورہے ہیں بس اس لیے کہ یہ ثابت کریں کہ اگرہماری حکومت ہوتی تو وہ فرشتوں کو روح قبض کرنے سے روک سکتے تھے

     

    سوشل میڈیا پر اکثروبیشتر نے لکھا ہے کہ یہ غم کی گھڑی ہے سیاسی میلہ نہیں بس خدا کا خوف کھائیں اور اپنے گریبان میں جھانکین کہ ہم کیا کررہے ہیں

     

    خیال رہےکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے بھی 5 جنوری کو ملک میں جاری بارشوں اور برف باری کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا ،جس میں 6 اور7 جنوری کو ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کے ساتھ مری،گلیات،کاغان اور سوات سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

     

    عث رابطہ سڑکیں بند ہو سکتی ہیں،کشمیر،گلگت اور بالائی خیبرپختونخوا میں برفانی تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ شامل تھا۔

  • مری:7 بہنوں کا اکلوتا بھائی روٹھ گیا:توکہیں بیٹا،بیٹیاں،بہن اکٹھے ہی سفرآخرت پرروانہ ہوگئے

    مری :مری:7 بہنوں کا اکلوتا بھائی روٹھ گیا:توکہیں بیٹا،بیٹیاں،بہن اکٹھے ہی سفرآخرت پرروانہ ہوگئے،اطلاعات کے مطابق مری میں برفانی طوفان میں جاں بحق 22 افراد میں ایک مردان کا رہائشی نوجوان اسد بھی تھا جو7 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔

    سانحہ مری کو جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، وقت کے اس ملبے سے کئی المناک کہانیوں کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں، یہ واقعہ مردان کے ایک گھرانے پر بھی قیامت ڈھا گیا۔

    مری جانے والا نوجوان اسد مردان کا رہائشی اور 7 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔اسد کی2 سال پہلےشادی ہوئی تھی اور گھر کا واحد کفیل بھی تھا جو سریے کا کاروبار کرتا تھا۔

     

    چھ ماہ قبل ہی اس کے گھر ایک نئی زندگی نے جنم لیا تھا، اس کا بیٹا تو ابھی اپنے باپ کے لمس سے صحیح طرح آشنا بھی نہ ہوا تھا کہ وہ سایہ ہی سر سے اٹھ گیا۔

    اس کے گھر والے اسد کی آمد کے منتظر تھے کہ سانحہ مری نے ان کے اس انتظار کو زندگی بھر نہ ختم ہونے والے انتظار میں تبدیل کردیا ہے۔

     

    ادھر مری میں سیرکےلیے آنے والا نوید تھانہ کوہسار کا اسسٹنٹ سب انسپکٹر ( اے ایس آئی ) تھا جو چھٹی لے کر خاندان کے ہمراہ سیرو تفریح کے لیے مری گیا تھا لیکن بدتر صورتحال میں یہ تمام افراد جانبر نہ ہوسکے۔نوید اقبال اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کےساتھ تھے،

  • چترال لواری ٹنل اور دیر روڈ پر برفباری، متعدد گاڑیاں پھنس گئیں:پاک فوج کے جوان جترال پہنچ گئے

    چترال لواری ٹنل اور دیر روڈ پر برفباری، متعدد گاڑیاں پھنس گئیں:پاک فوج کے جوان جترال پہنچ گئے

    پشاور : چترال لواری ٹنل اور دیر روڈ پر بھی شدید برفباری کے باعث مسافر اور سیاحوں کی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

    ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، برفباری کی وجہ سے چترال لواری ٹنل اور دیر روڈ پر بھی گاڑیاں پھنس گئیں۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشینری کی مدد سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے تاہم گاڑیوں میں بیٹھے بچے اور خواتین کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔چترال پولیس نے خراب موسم اور شدید برفباری کے پیش نظر سیاحوں کو چترال کی طرف سفر کرنے سے منع کردیا۔

    خیال رہے کہ مری میں ہونے والی شدید برفباری میں کئی گھنٹوں سے پھنسنے سیاحوں میں سے 22 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، زندگی کی بازی ہارنے والوں میں دوخواتین اور آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

    ادھرمری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کئے بغیر مکمل تعاون کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوشش یہ ہو کہ تمام لوگوں کو امداد پہنچائی جائے، کسی سیاج کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رات کے وقت پاک فوج کے دو کیمپ قائم کر دیئے گئے تھے، کیمپ کلڈنا میں آرمی سکول آف لاجسٹک میں قائم کیا گیا، دوسرا کیمپ سنی بینک میں قائم کیا گیا، آرمی سکول آف لاجسٹک میں 60 خاندانوں کو رکھا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ سنی بینک میں قائم کیمپ میں 50 خاندانوں کو رکھا گیا، ایف ڈبلیو او راولپنڈی کی مشینری نے ایکسپریس ہائی کو صاف کیا، شام تین بجے تک ایکسپریس وے کھل چکی تھی، جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

  • کوئٹہ کراچی شاہراہ پرحادثہ، چیئرمین سینیٹ کے چھوٹے بھائی ڈرائیور سمیت جاں بحق

    کوئٹہ کراچی شاہراہ پرحادثہ، چیئرمین سینیٹ کے چھوٹے بھائی ڈرائیور سمیت جاں بحق

    کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر کار اور آئل ٹینکر میں حادثے کے نتیجے میں سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے چھوٹے بھائی سالار سنجرانی ڈرائیور سمیت جاں بحق ہوگئے۔

    ڈی سی لسبیلہ کے مطابق کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سکن کےقریب کار اور آئل ٹینکر میں ٹکر ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ حادثے میں چیئرمین سینیٹ کے چھوٹے بھائی سالار سنجرانی اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔

    ان کا کہنا تھاکہ حادثے میں سالار سنجرانی کا ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا جبکہ سالار سنجرانی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ٹیلیفون کیا اور ان کے چھوٹے بھائی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
    یاد رہےکہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سوگ کا دن ہے جہاں ایک طرف مری میں 22 افراد کی ہلاکت کے بعد صادق آباد 6 بچے جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق صادق آباد کے نواحی علاقہ بستی کلواڑ رحیم آباد میں گھر کی دیوار گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے۔

  • ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون :مری کے بعد صادق آباد سے غمگین کردینے والی خبرآگئی

    ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون :مری کے بعد صادق آباد سے غمگین کردینے والی خبرآگئی

    صادق آباد:ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون :مری کے بعد صادق آباد 6 بچے جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق صادق آباد کے نواحی علاقہ بستی کلواڑ رحیم آباد میں گھر کی دیوار گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے۔

    صادق آباد کے نواحی علاقہ بستی کلواڑ رحیم آباد میں گھر کی دیوار گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ 2 بچے شدید زخمی بتائے جارہے ہیں، اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو مٹی کے ملبے سے نکال کر جان بحق اور زخمیوں کو قریبی نجی بسپتال منتقل کردیاہے۔

    انچارج ہسپتال سید کاظم شاہ کے مطابق ہسپتال میں 6 بچوں کی نعشیں اور ایک زخمی بچی کو لایاگیا تھا زخمی بچی کو شیخ زید ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے جبکہ اہل علاقہ کے یہ بھی بتانا ہے کہ یہ بچے دیوار کے پاس کھیل رہے تھے۔

    بارش کی وجہ سے دیوار خستہ حال تھی جو اچانک ک بچوں کے اوپر آن گری، جاں بحق بچوں کی عمریں دو سال سے دس سال ہیں۔ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان نے افسوس ناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ادھر مری میں برف کا طوفان، سیاحوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، گاڑیوں میں پھنسے لوگ رات سٹرک پر گزارنے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں سردی کے باعث 22 افراد جاں بحق ہوگئے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے 22 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    مری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کئے بغیر مکمل تعاون کریں۔

  • پیشگی اطلاع پربھی انتظامیہ کیوں سوئی رہی؟کیا مری انتظامیہ پُرانی عادتیں چھوڑنے کے لیے تیارنہیں؟

    پیشگی اطلاع پربھی انتظامیہ کیوں سوئی رہی؟کیا مری انتظامیہ پُرانی عادتیں چھوڑنے کے لیے تیارنہیں؟

    مری:محکمہ موسمیات نے پانچ جنوری کو طوفان کی پیشگی اطلاع دی ،تو انتظامیہ کیوں سوئی رہی؟ اطلاع کے باوجود سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کو مری داخل کیوں ہونے دیا گیا ؟ ہلاکتوں نے کئی سوال کھڑے کردیئے۔

    محکمہ موسمیات نے شدید برفباری کا پہلا الرٹ 31 دسمبر 2021 کو جاری کیا تھا، محکمہ موسمیات نے 5جنوری کو دوسرا الرٹ جاری کیا تھا، محکمہ موسمیات نے پہلے ہی وزیراعظم آفس کو برفباری سے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔

    محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری نے تمام متعلقہ اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی تھیں، جنوری کے آغاز سے ہی مری میں شدیدبرفباری، راستوں کے بند ہونے کے خدشے سے آگاہ کیا گیا تھا، 6سے7جنوری کے درمیان مری گلیات میں شدید برفباری کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

    6 سے 9 جنوری کے درمیان مری کی سڑکیں برفباری کےباعث بند ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، وزارت ہوابازی کوبھی مری میں شدید برفباری سے متعلق آگاہ کر دیا گیا تھا ، چیئرمین این ڈی ایم اے،پی ڈی ایم اے،ایس ڈی ایم اے کوبھی برفباری سےمتعلق آگاہ کیاگیاتھا۔

    دوسری طرف کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت مری سے متعلق ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں عثمان بزدار نے راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس پر اظہار برہمی کیا۔

    ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب پر بھی برہمی کا اظہار کیا، اور کہا کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کے باوجود انتظامیہ اور پولیس نے کچھ نہ کیا، راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس نے انتظامات کیوں نہ کیے۔

    وزیر اعلیٰ آفس کے ذرائع نے بتایا کہ عثمان بزدار نے استفسار کیا کہ سیاحوں کی تعداد بڑھنے پر گاڑیاں روکی کیوں نہیں گئیں، ابتدائی رپورٹ کے مطابق سردی، طوفان، اور راستے بند ہونے سے اموات ہوئیں۔

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے معاملے کی انکوائری کے احکامات صادر کیے، اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

    واضح رہے کہ ملک کے اہم ترین سیاحتی مقام مری میں جب شدید سرد موسم اور برف باری کی وجہ بڑا سانحہ پیش آیا، وہاں وزیر اعلیٰ پنجاب پارٹی کے لیے تنظیم سازی میں مصروف تھے، اس حوالے سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مری میں شدید برفباری کے باعث 22 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جو اپنی نوعیت کا ایک بڑا اور سنگین واقعہ ہے، جس میں 2 خواتین اور 8 بچے بھی شامل ہیں۔

  • سینکڑوں افراد کوطوفان سےنکال لیا:کھانا،علاج معالجہ اورخدمت جاری:بس دعاوں میں یاد رکھنا:ترجمان پاک فوج

    سینکڑوں افراد کوطوفان سےنکال لیا:کھانا،علاج معالجہ اورخدمت جاری:بس دعاوں میں یاد رکھنا:ترجمان پاک فوج

    مری:سینکڑوں افراد کوطوفان سےنکال کرمحفوظ مقامات تک پہنچادیا:کھانا،علاج معالجہ اورخدمت جاری ہے:ترجمان پاک فوج نے قوم کورات گئے ایک تسلی ،اُمیدافزا اوراچھی خبردے کراطمنان قلب بخشا ہے ، ادھر اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان قوم کو ہرچند منٹوں بعد ساری صورت حال سے آگاہ بھی کررہے ہیں‌

    ترجمان پاک فوج کی طرف سے تازہ اپ ڈیٹس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں سمیت 300 سے زائد برف سے متاثرہ افراد کو آرمی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کی ٹیم نے طبی امداد فراہم کی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ جھیکاگلی، کشمیری بازار، لوئر ٹوپا اور کلڈانہ میں پھنسے ہوئے 1000 سے زیادہ لوگوں کو پکا ہوا کھانا پیش کیا گیا۔

    پھنسے ہوئے لوگوں کو ملٹری کالج مری، سپلائی ڈپو، اے پی ایس اور آرمی لاجسٹک سکول کلڈانہ میں گرم کھانے اور چائے کے ساتھ رہائش اور پناہ دی گئی ہے۔

    جھیکا گلی ٹریفک جھیکا گلی سے ایکسپریس وے تک چل رہی ہے۔ جھیکا گلی سے کلڈانہ تک ٹی آر کو صاف کر دیا گیا ہے تاہم پھسلن کی وجہ سے ٹریفک نہیں چل رہی ہے۔ گھڑیال سے بھوربن تک ٹریک کھلا ہے۔ ٹریفک چل رہی ہے۔اور ایسے ہی کلڈانہ سے باریان آرمی انجینئرز کے دستے سڑک کی منظوری کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں

    مری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

    اس سے پہلے پاک فوج کی طرف سے بلوچستان میں ریسکیواورریلیف کی خدمات کی تازہ ترین تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جن کے مطابق زیارت کراس سے خانوزئی سیکشن تک برف ہٹائی گئی، لیویز فورس اور پی ڈی ایم اے کے ریسکیو آپریشن کے بعد چوتھے سے زیارت تک سڑکیں کھول دی گئیں، سڑکیں ہیوی اور ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں۔

    گوادرکے علاقے میں پانی نکالنے کی کوششوں کی وجہ سے زیادہ تر علاقے صاف ہو گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آرمی میڈیکل کیمپس لگائے گئے اور 650 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ جبکہ ضلع کیچ میں Dewatering Sit کے بعد، زیادہ تر علاقے صاف ہو گئے۔
    اور ایسے ہی کوئٹہ میں‌ مہترزئی اور کھوجک کی چوٹی سے برف صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کئے بغیر مکمل تعاون کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوشش یہ ہو کہ تمام لوگوں کو امداد پہنچائی جائے، کسی سیاج کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رات کے وقت پاک فوج کے دو کیمپ قائم کر دیئے گئے تھے، کیمپ کلڈنا میں آرمی سکول آف لاجسٹک میں قائم کیا گیا، دوسرا کیمپ سنی بینک میں قائم کیا گیا، آرمی سکول آف لاجسٹک میں 60 خاندانوں کو رکھا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ سنی بینک میں قائم کیمپ میں 50 خاندانوں کو رکھا گیا، ایف ڈبلیو او راولپنڈی کی مشینری نے ایکسپریس ہائی کو صاف کیا، شام تین بجے تک ایکسپریس وے کھل چکی تھی، جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

     

    اطلاعات ہیں کہ پاک فوج کے تمام شعبے اس وقت مری ،بلوچستان اور ملک کے دیگرآفت زدہ علاقوں میں مصروف خدمت ہیں ،

     

     

    ادھر مری میں ہیش آنے والے سانحہ کے بعد جس طرح پاک فوج کی طرف سے ریسکیو ،مدد ،اور مخلوق خدا کی خدمت جاری وساری ہے ، ادھر مری میں درپیش ہنگامی صورت حال کے پیش نظر پاک فوج نے جنگی بنیادوں پرآپریشن شروع کردیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مری میں پھنسے سیاحوں کی امداد کےلیے پاک فضائیہ کے جوان بھی میدان میں آگئے، متاثرین کی سہولت کیلئے کالاباغ اور لویر ٹوپ بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل قائم کردیا گیا۔

     

    ایئرطیف مارشل ظہیر احمد بابر کی خصوصی ہدایات پر مری میں ہونے والی شدید برفباری کے باعث پھنسنے والے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کےلیے پاک فضائیہ کے جوانوں نے مری اور گلیات میں امدادی کارروائیاں جاری شروع کردی۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ پھنسے سیاحوں کو رہائش، خوراک، گرم کپڑے اور طبی سہولتیں دی جارہی ہیں۔

    ترجمان نے جاری خبر میں بتایا کہ آپریشنز میں پاک فضائیہ نے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا، مزید سیاحوں کو نکالنے کےلیے ہیلی کاپٹر آپریشن بھی شروع کیا جائے گا۔

     

    پاک فضائیہ کے کالاباغ اور لوئر ٹوپہ بیسز متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جب کہ فضائیہ حکام نے لوگوں کی سہولت کیلئے دونوں بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل بھی قائم کردیا۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برفباری میں پھنسے سیاح پاکستان ایئرفورس کی کالاباغ بیس کے کرائسز مینجمنٹ سیل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

     

    ترجمان نے کالاباغ 03239418252 اور 03218838444 اور لوئر ٹوپہ 03239417015 اور051954555 بیسز سے رابطے کےلیے نمبرز بھی مہیا کردئیے۔

    واضح رہے کہ مری میں ہونے والی شدید برفباری میں کئی گھنٹوں سے پھنسنے سیاحوں میں سے 22 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، زندگی کی بازی ہارنے والوں میں دوخواتین اور آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

     

     

  • ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹرریسکیو آپریشن شروع

    ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹرریسکیو آپریشن شروع

    مری :ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹر آپریشن شروع ،اطلاعات ہیں کہ پاک فوج کے تمام شعبے اس وقت مری ،بلوچستان اور ملک کے دیگرآفت زدہ علاقوں میں مصروف خدمت ہیں ،

     

     

    ادھر مری میں ہیش آنے والے سانحہ کے بعد جس طرح پاک فوج کی طرف سے ریسکیو ،مدد ،اور مخلوق خدا کی خدمت جاری وساری ہے ، ادھر مری میں درپیش ہنگامی صورت حال کے پیش نظر پاک فوج نے جنگی بنیادوں پرآپریشن شروع کردیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مری میں پھنسے سیاحوں کی امداد کےلیے پاک فضائیہ کے جوان بھی میدان میں آگئے، متاثرین کی سہولت کیلئے کالاباغ اور لویر ٹوپ بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل قائم کردیا گیا۔

     

    ایئرطیف مارشل ظہیر احمد بابر کی خصوصی ہدایات پر مری میں ہونے والی شدید برفباری کے باعث پھنسنے والے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کےلیے پاک فضائیہ کے جوانوں نے مری اور گلیات میں امدادی کارروائیاں جاری شروع کردی۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ پھنسے سیاحوں کو رہائش، خوراک، گرم کپڑے اور طبی سہولتیں دی جارہی ہیں۔

    ترجمان نے جاری خبر میں بتایا کہ آپریشنز میں پاک فضائیہ نے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا، مزید سیاحوں کو نکالنے کےلیے ہیلی کاپٹر آپریشن بھی شروع کیا جائے گا۔

     

    پاک فضائیہ کے کالاباغ اور لوئر ٹوپہ بیسز متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جب کہ فضائیہ حکام نے لوگوں کی سہولت کیلئے دونوں بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل بھی قائم کردیا۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برفباری میں پھنسے سیاح پاکستان ایئرفورس کی کالاباغ بیس کے کرائسز مینجمنٹ سیل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

     

    ترجمان نے کالاباغ 03239418252 اور 03218838444 اور لوئر ٹوپہ 03239417015 اور051954555 بیسز سے رابطے کےلیے نمبرز بھی مہیا کردئیے۔

    واضح رہے کہ مری میں ہونے والی شدید برفباری میں کئی گھنٹوں سے پھنسنے سیاحوں میں سے 22 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، زندگی کی بازی ہارنے والوں میں دوخواتین اور آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

  • مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

    مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

    مری : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی اور پنجاب حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق مری سانحہ پر انتظامیہ پر برس پڑی۔

    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ مری میں کیا اتنی برف پہلی دفعہ پڑی تھی؟ حکومت میں جو سیاحوں کو آج کے المناک سانحہ کا قصور وار ٹھہرا رہے ہیں وہ خدارا ہوش کریں-

     

     

    انہوں نے لکھا کہ متاثرین کی امداد میں فوجی جوانوں، مقامی شہریوں اور ہوٹلوں کا کردار قابل تعریف ہے مگر انتظامیہ کی کارکردگی قابل مذمت ہے۔

    ادھر آج شام پولیس کی طرف سے ایک دُکھ بھری خبرجاری کی گئی کہ مری میں جہاں سانحہ کی وجہ سے ایک طرف جنازے اُٹھ رہے ہیں وہاں دوسری طرف انتظامیہ اورحکام لوگوں سے یہ درخواستیں کررہے ہیں‌کہ خدارا ابھی نہ جائیں رش کم ہونے دیں مگرکوئی بات سُننے کے لیے تیار ہی نہیں‌

    مری سے یہ مناظردیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بڑی عجیب بات ہے کہ حکومت پچھلے دو روز سے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہہ رہی تھی لیکن لوگوں نے پرواہ تک نہ کی اور اتنے بڑے سانحہ کا سامنا کرنا پڑا

    دوسری طرف ابھی ابھی مری سے اسی حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکام اب بھی سیرسپٹے کے شوقین افراد کو انتظار کرنے اور رش کم ہونے تک مری نہ جانے کی گزارشات پیش کررہے ہیں لیکن عوام الناس کو پرواہ تک نہیں اورپھرایسے آنکھیں بند کرکے آگے بڑھ رہے ہیں کہ شاید اس کے بعد دوبارہ موقع ہی نہ ملے

    مری سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے باوجود منچلے مری جانے پر بضد، داخلی راستوں پر بڑی تعداد موجود ہیں،ملکی سیاحتی مقام مری میں برفانی طوفان اور ہلاکتوں کے باوجود منچلے مری جانے پر بضد ہیں۔

    آگاہی اعلانات کے باوجود بڑی تعداد میں سیاح مری کے داخلی راستوں پر موجود ہیں جس کے باعث اسلام آباد سے مری جانے والے راستے پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔17 میل کے علاقے پر رینجرز نے راستہ بند کردیا جبکہ رینجرز اور انتظامیہ کی شہریوں سے واپس جانے اورتعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

    پاک فوج کے دستے عوام الناس کی خدمت میں مصروف ہیں اور سخت سردی میں محنت اورمحبت کے ساتھ خدمت کی وجہ سے ان کےپسینے چھوٹ رہے ہیں لیکن ان کو بس ایک ہی فکر ہے کہ ہمارے اہل وطن مشکلات اورنقصان سے محفوظ رہ سکیں ، انہیں مقاصد کے تحت مری کے تمام انٹری پوائنٹس پر سیاحوں کو روکنے کیلئے خصوصی پکٹس قائم کردی گئیں ہیں۔

    اُدھر انتظامیہ نے اتوار کی رات تک گاڑیوں کے مری داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ مری کو آفت زدہ بھی قرار دے دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

  • کاش یہ پیغام پہلے پہنچ چکا ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا:اہم شخصیت کا پیغام آگیا؟سُننا نہ بھولیئے:پڑھنا نہ بھولیئے

    کاش یہ پیغام پہلے پہنچ چکا ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا:اہم شخصیت کا پیغام آگیا؟سُننا نہ بھولیئے:پڑھنا نہ بھولیئے

    مری :کاش یہ پیغام پہلے پہنچ چکا ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا:برفباری میں گاڑی پھنس جائے تو سب سے پہلے کیا کریں؟ضرورپڑھیے ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان کی ایک بڑی شخصیت کا آڈیو پیغام وائرل ہورہا ہے جس میں مری میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ایسے حقائق پیش کئے گئے ہیں اگریہ حقائق پہلے بیان ہوجاتے تو یقینا اس طرح حادثہ نہ ہوتا ،

    یاد رہے کہ قوم اس وقت ایک سانحے سے گزررہی ہے جس میں مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کے باعث برفانی طوفان میں پھنسے کئی شہری اپنی گاڑیوں میں موت کے منہ میں چلے گئے۔

     

    گاڑی برف میں پھنس جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس انعام غنی کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کاربن مونوآکسائیڈمیں بونہیں ہوتی، اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کاربن مونو آکسائیڈ جلد موت کا سبب بن سکتی ہے۔

    مری میں برفباری اور سیاحوں کے رش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی برف میں پھنس گئی ہے اور انجن چل رہاہے تو کھڑکی ہلکی سی کھولیں، گاڑی کے ایگزاسٹ سائلنسرپائپ سے برف صاف کریں۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ ہیٹرچلانے سے پہلےچیک کر لیں کہ سائلنسر برف کی وجہ سےبند تو نہیں ہو چکا،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سائلنسر بند ہوا تو "کاربن مونو آکسائیڈ” گیس گاڑی میں جمع ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس گیس کا کوئی رنگ یا بُو نہیں ہوتی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ گیس چند منٹ میں انسان کی جان لےلیتی ہے

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔