Baaghi TV

Tag: مزاکرات

  • حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا  پیشرفت  نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیشرفت نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اگر حکومت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ہوتا توملکی معیشت ریکورنہیں کرتی-

    باغی ٹی وی: گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیش رفت نہیں ہوئی، پی ٹی آئی کو ایک ہفتےکاوقت دیاگیا ہے اور امکان ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہوجائے مذاکرات کاعمل اب تک نشستاً،گفتاً،برخاستاً تک محدود ہے،پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے حکومت پر قطعی کوئی دباؤ نہیں ہے،سیاسی تناؤ کو کم کرنے کیلئے راستہ تلاش کرنے کیلئے مذاکرات کررہے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ہوتا توملکی معیشت ریکورنہیں کرتی، ملکی معیشت کی ریکوری تناؤکی فضا کے خاتمےکا ثبوت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری ہورہی ہے، معاشی انڈیکیٹرزحوصلہ افزاہیں اور اسٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 18 ہزارکی ریکارڈ سطح عبورکرگئی ہے۔

    کراچی:2024 میں ہزاروں اسٹریٹ کرمنلز عدالت سے باعزت بری کئے جانے کا انکشاف

    جوبائیڈن کا اسرائیل کو 8 بلین ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا معاہدہ

    وفاقی کابینہ میں آئندہ ہفتے توسیع کا فیصلہ

  • ‏حکومت کی  پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

    ‏حکومت کی پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

    ‏حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی میں اسحاق ڈار،خواجہ آصف،اعظم نذیرتارڑ اور احد خان چیمہ شامل ہیں جبکہ امیر مقام،رانا ثنااللہ،ملک احمد خان اورمریم اورنگزیب بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے،خواجہ سعد رفیق ،جعفر مندوخیل اوربشیر احمد میمن بھی کمیٹیمیں شامل ہوں گے، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف نے کمیٹی کو پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ مشاورت کی ذمہ داری سونپ دی ہے جبکہ کمیٹی کو مشاور ت کے بعد سیاسی تعاون اور مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی . اس حوالے مزید بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی پیپلز پارٹی کیساتھ بات چیت سے آئندہ کے لائحہ عمل طے کرے گی.واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو دیے جانے کے بعد پیپلزپارٹی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے تھی۔
    کمیٹی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، راجا پرویز اشرف، نوید قمراور سینیٹر شیری رحمن، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی،گورنر پنجاب سلیم حیدر اور گورنر خیبرپختونخوا فصیل کریم کنڈی کے علاوہ اور حیدر گیلانی کو بھی کمیٹی میں شامل کر لیا۔رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی آئندہ ماہ طلب کر لیا گیا ہے، جس میں اعلی سطح کی کمیٹی وفاق سے مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی پیشکش کی گئی، بلاول بھٹو نے موجودہ حالات میں وزیر اعظم سے ملاقات سے معذرت کر لی۔

    چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    سیالکوٹ: ناجائز اسلحہ اور ہوائی فائرنگ، تھانہ کوتوالی کا کریک ڈاؤن

    پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

  • انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مذاکرات،چوہدری شجاعت بھی متحرک

    انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مذاکرات،چوہدری شجاعت بھی متحرک

    انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا معاملہ ، سربراہ مسلم لیگ ق چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی اجلاس طلب کرلیا

    چوہدری شجاعت حسین کی زیرصدارت اجلاس آج کچھ دیر میں انکی رہائش گاہ پر ہوگا ،پارٹی کے چیف آرگنائزر سابق گورنرچوہدری محمد سرور اجلاس میں شریک ہوں گے ،وفاقی وزرا سالک حسین اورطارق بشیر چیمہ اورشافع حسین بھی اجلاس میں شریک ہوں گے ،اجلاس میں مذاکرات اورانتخابات کی تاریخ کے معاملے پر مسلم لیگ ق اپنی مشاورت مکمل کرے گی ،مسلم لیگ ق کا حکومتی موقف چھبیس اپریل کو حکومتی اتحاد کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، مسلم لیگ ق پنجاب کے ممکنہ الیکشن میں امیدواروں بارے بھی غور کرے گی، حلقہ پی پی 24 سے چودھری سالک حسین کے کہنے پر ملک اسد کوٹگلہ نے بطور آزاد امیدوار کاغزات جمع کروائے ہوئے ہیں، تحریک انصاف نے حافظ عمار یاسر کو ٹکٹ دیا جو تحریک انصاف کے دور حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں، ق لیگی حمایت سے ملک اسد کوٹگلہ الیکشن لڑیں گے یا ن لیگی امیدوار ملک شہریار اعوان کے حق میں دستبردار ہوں گے اس حوالہ سے بھی آج کے ق لیگی اجلاس میں مشاورت ہو گی،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روزسیاسی جماعتوں کو مزاکرات کا حکم دیا تھا،جس کے بعد ن لیگی رہنماؤں سردار ایاز صادق ،خواجہ سعدرفیق اوردیگر رہنماوں نے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا، حکومتی نمائندوں نے اسد قیصر سے کہا کہ ہم آپ سے با ضابطہ بات چیت کے لئے آفیشل رابطہ کررہے ہیں

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • پاک افغان حکام کے مابین تجارت کے فروغ کیلئے مربوط کوششوں پر اتفاق

    پاک افغان حکام کے مابین تجارت کے فروغ کیلئے مربوط کوششوں پر اتفاق

    پاکستان اور افغانستان کے حکام نے طورخم بارڈر پر ملاقات کی، ملاقات میں تجارت کے فروغ کے لیے مربوط کوششوں پر اتفاق کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حکام نے سرحد پار کرنے والی گاڑیوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایف سی، این ایل سی، ایف آئی اے اور پولیس حکام نے شرکت کی جبکہ افغان وفد کی قیادت بارڈر سیکیورٹی کمانڈر مولوی خالد نے کی۔

    ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز محمد طیب کی صدارت میں کسٹمز ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی حکام نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ جس طرح پاکستان نے پیاز کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ختم کی تھی اسی طرح افغانستان سے ٹماٹر اور کوئلے پر عائد ایکسپورٹ ٹیکس کو بھی ختم کیا جائے۔

    مذاکرات میں افغان فریق نے پاکستانی حکام کو یقین دلایا کہ وہ ان کی درخواست افغان وزارت تجارت تک پہنچائیں گے۔ افغان وفد نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے تازہ پھلوں کے درجنوں ٹرک کئی دنوں سے پاکستان میں داخل ہونے کے منتظر ہیں، خدشہ ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے پھل خراب ہو سکتے ہیں۔

    پاکستانی حکام نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ ٹرکوں کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے گا۔ افغان حکام نے پاکستان میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 500 سے بڑھا کر 1200 کرنے پر پاکستانی فریق کا شکریہ ادا کیا۔

    پاکستانی ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز نے کہا کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت کو یومیہ 2000 گاڑیوں تک بڑھایا جائے گا۔ ملاقات کے دوران افغان حکام نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کسٹمز اور ایف سی کی کارروائیوں سے چائلڈ لیبر کا 80 فیصد خاتمہ ہو چکا ہے، امید ہے کہ اس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

  • حکومت اور پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن میں مذاکرات کامیاب،ہڑتال کی کال واپس

    حکومت اور پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن میں مذاکرات کامیاب،ہڑتال کی کال واپس

    وفاقی حکومت اور پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں جس کے بعد پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کل ہڑتال کی کال واپس لے لی.حکومت نے فی لٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 7 روپے کمیشن مقرر کرنے پر آمادگی کا اظہارکیا ہے.

    ترجمان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت بہت جلد نوٹیفکیشن جاری کردے گی پہلے دور میں ڈیڈ لاک رہا۔ مگر دوسرے راونڈ میں اتفاق رائے ہوگیا.

    قبل ازیں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ لاہور کے پیٹرول پمپس پر ہڑتال اور مطالبات کے حوالے سے بینرز بھی آویزاں کئے تھے.پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ کم سے کم اجرت 25 ہزار ہوگئی، ڈیلرز کا کمیشن بڑھایا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی بھی مہنگی ہو گئی، لوڈشیڈنگ سے جنریٹرز کے اخراجات بڑھ گئے،ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت وعدے کے مطابق ڈیلرز کا کمیشن 6 فیصد کرے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوحہ میں شروع

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوحہ میں شروع

    ایرانی 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں، امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوحہ میں شروع ہو گئے-

    باغی ٹی وی : ایران کی جانب سے امریکا سے براہ راست ملنے اور مزاکرات کرنے سے انکار کے بعد یورپی یونین سفارکاروں کے ساتھ ان مزاکرات کا انعقاد کیا گیا ہے امریکیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت سے ”ایرانی انکار کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے حکام نے دونوں اطراف کے پیغامات پہنچانے کے لئے کئی چکر لگائے ہیں۔ ایک سینئر امریکی ذمہ دار نے اس بارے میں کہا تھا کہ واشنگٹن نے مزاکرات کے بارے توقعات کو نظر رکھی ہوئی تھی۔

    برٹش کولمبیا کے بینک میں فائرنگ، 2 مسلح افراد ہلاک،6 پولیس اہلکار زخمی

    امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ میلے اور ایران کے علی باقری 2015 کے معاہدے کی واپسی پر ویانا میں یورپی یونین کی ثالثی میں ہونے والی ایک سال سے زائد بات چیت کے بعد ان دوحہ میں موجود ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے، دوحہ میں ہونے والے مذاکرات بالواسطہ طور پر ہوں گے، وفود الگ الگ کمروں میں اور ثالثوں کے ذریعے بات چیت کریں گے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے کہا کہ قطری دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات ویانا مذاکرات کو “ان بلاک” کرنے کے عمل کا آغاز ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت مپ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔

    دوسری جانب تجزیہ کا ر اور وہ سفارت کار جو ان مذاکرات کے سے قریب رہے ہیں کافی پر امید ہیں کہ معاہدہ جلد ہو سکتا ہے۔ لیکن ایران کا مطالبہ ہے کہ پاسدران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا جانا واپس لیا جائے۔ جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ اس سے انکار کر چکی ہے اور اس انکار کو روسی رکاوٹوں سے جوڑتی ہے۔

    جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    امریکہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ ہے مگر اس کے لیے ایران کو جوابا لبنانی حزب اللہ کی حمایت ختم کرنا ہو گی اور پاسداران انقلاب کی شام اور یمن کی جنگ میں شرکت روکنا ہوگی۔ لیکن چونکہ ایران ان باتوں سے انکاری ہے اس لیے امریکہ نے بھی پاسدران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا معاملہ اب پنے پیش نظر نہیں رکھا ہے۔

    یاد رہے اس سے پہلے طویل مذاکرات کے بعد جنوری 2016 میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر براک اوباما کے دورِ صدارت میں دستخط کیے گئے تھے، لیکن ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ‘بدترین ڈیل‘ ہے اور بار بار اسے ‘خوفناک‘ اور ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے طنز کیا۔

    صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں۔

    روس نےامریکی صدر،اہلخانہ سمیت 25 افراد کوبلیک لسٹ کردیا

  • روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔

    بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا

    بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔

    بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .

    دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.

    حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔