Baaghi TV

Tag: مزدور

  • بلوچستان،کوئلے کی کان پر حملہ،بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا منہ بولتا ثبوت

    بلوچستان،کوئلے کی کان پر حملہ،بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا منہ بولتا ثبوت

    دہشت گرد بلوچستان کی ترقی کے دشمن،دہشتگردوں کی جانب سے دکی میں کوئلے کی مائن پر حملے کے پیچھے چھپے محرکات آشکار ہو گئے

    11 اکتوبر 2024 کو دہشتگردوں نے بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان پر راکٹوں سےحملہ کر کے 20 معصوم کان کنوں کو شہید اور 7 کو زخمی کر دیا،دہشتگردوں نے کان کنی کی مشینری کو بھی تباہ کر دیا ،جاں بحق ہونے والے مزدوروں میں 2 کا تعلق پشین ، 2 کا تعلق قلعہ سیف اللہ ، 1 کا تعلق کچلاک اور 3 کا تعلق افغانستان سے تھا ،جاں بحق مزدوروں میں اکثریت پشتونوں کی ہے ،یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچستان میں نہ صرف پنجابیوں بلکہ پشتونوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ،دہشتگردوں کی حمایت ومالی معاونت میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں

    دفاعی ماہرین کے مطابق:”دہشتگردوں کا ایجنڈا بلوچ قوم کی نمائندگی نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی کو دہشت گردی کے ذریعے روکنا ہے "”کوئلے کی کان پر حملہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ دہشتگردوں کودشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی براہ راست حمایت حاصل ہے”یہ واضح ہے کہ بلوچستان میں پھیلای جانے والی دہشتگردی نسل اور لسانیت کی بنیاد پر ہے جس کا مقصد بلوچستان کو انتشار کے گرداب میں دھکیلنا ہے،”بلوچستان میں حملے کروانے اور حملوں کے بعد میڈیا پر زوروشور سے واویلا بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا منہ بولتا ثبوت ہے” "بھارت کامقصد پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کو روکنا ہے””اب وقت آگیا ہے کہ پوری قوم کو یکجا ہو کر دہشتگردی کی لعنت کیخلاف کھڑا ہونا ہے”

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کی لاشوں کی شناخت ہو گئی
    یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلے کی کانوں پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں 20 مزدور جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے تھے جبکہ حملہ آوروں نے 10 کوئلہ کانوں کے انجن بھی آگ لگا کر نذر آتش کر دیے تھے، مسلح افراد کے حملے میں کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے جاں بحق مزدوروں کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔پولیس کے مطابق ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے 6 مزدور جن میں عبدالمالک، مولاداد، سیداللہ، جلال خان، فضل، اور روزی خان شامل ہیں، جاں بحق ہوگئے ہیں۔ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے 4 مزدور نصیب اللہ، سمیع اللہ، عبداللہ اور نصیب اللہ بھی حملے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے 3 مزدور ملنگ، حمداللہ اور عبداللہ جاں بحق ہوئے ہیں۔افغانستان سے تعلق رکھنے والے 3 مزدور عبدالولی، غلام علی اور حیات اللہ بھی اس واقعے میں جانبحق ہوچکے ہیں۔کچلاک سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور بسم اللہ جبکہ ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور جلات خان بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔مزید برآں، ضلع موسی خیل سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور صمد خان اور ضلع ہرنائی کے تحصیل شاہرگ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور ولی محمد بھی اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

  • دکی میں مزدوروں کا قتل،قائمقام صدر،وزیراعظم و دیگر کا اظہار مذمت

    دکی میں مزدوروں کا قتل،قائمقام صدر،وزیراعظم و دیگر کا اظہار مذمت

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ دکی میں مائینز پر گزشتہ رات دہشت گردوں کا حملہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ،دہشت گردوں نے 20 مزدوروں کو قتل کیا جبکہ 7 مزدور زخمی ہیں ،وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے،

    قائمقام صدر پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں کان کنوں پر مسلح افراد کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔قائمقام صدر پاکستان نے حملے کے نتیجے میں ہونے والے 20 کان کنوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے جاں بحق کان کنوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمی کان کنوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعاکی۔قائمقام صدر پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حملے میں ملوث دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں اور حملے میں ملوث سفاک درندے انسان کہلانے کے لائق نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ بے گناہ کان کنوں پر حملے کے شرمناک اور بزدلانہ واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ،اوراس شرمناک واقعہ میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ قائمقام صدر پاکستان نے کہا کہ واقعہ میں ملوث شر پسندوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔قائمقام صدر پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق کان کنوں کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع دکی کے علاقے میں کان کنوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بے گناہ مزدوروں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دکی میں کان کنوں پر مسلح افراد کے حملے کی مذمت کی ہے،وزیرداخلہ نےحملے میں مزدوروں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،وزیرداخلہ محسن نقوی نےجاں بحق مزدوروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے،وزیرداخلہ محسن نقوی نےزخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی ہے اور کہا ہے کہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ،

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی دکی میں کان کنوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے زخمی کان کنوں کی جلد صحت یابی کی دعائیں بھی کیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی بلوچستان کے علاقے دکی میں مسلح افراد کے ہاتھوں کان کنوں کے قتل کی مذمت کی ہے،بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ غریب محنت کشوں کو قتل کرنا بزدلانہ فعل ہے، مجرموں کو قانون کی گرفت میں لائیں گے، میری ہمدردیاں شہید مزدوروں کے مظلوم خاندانوں کے ساتھ ہیں، دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں گے، دشمنوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا کر دم لیں گے۔

    کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کی لاشوں کی شناخت ہو گئی
    یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلے کی کانوں پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں 20 مزدور جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے تھے جبکہ حملہ آوروں نے 10 کوئلہ کانوں کے انجن بھی آگ لگا کر نذر آتش کر دیے تھے، مسلح افراد کے حملے میں کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے جاں بحق مزدوروں کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔پولیس کے مطابق ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے 6 مزدور جن میں عبدالمالک، مولاداد، سیداللہ، جلال خان، فضل، اور روزی خان شامل ہیں، جاں بحق ہوگئے ہیں۔ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے 4 مزدور نصیب اللہ، سمیع اللہ، عبداللہ اور نصیب اللہ بھی حملے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے 3 مزدور ملنگ، حمداللہ اور عبداللہ جاں بحق ہوئے ہیں۔افغانستان سے تعلق رکھنے والے 3 مزدور عبدالولی، غلام علی اور حیات اللہ بھی اس واقعے میں جانبحق ہوچکے ہیں۔کچلاک سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور بسم اللہ جبکہ ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور جلات خان بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔مزید برآں، ضلع موسی خیل سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور صمد خان اور ضلع ہرنائی کے تحصیل شاہرگ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور ولی محمد بھی اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

  • پنجگورمیں 7 مزدوروں کا بہیمانہ قتل،وزیراعظم و صدر سمیت دیگر کی شدید مذمت

    پنجگورمیں 7 مزدوروں کا بہیمانہ قتل،وزیراعظم و صدر سمیت دیگر کی شدید مذمت

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، حمزہ شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب،سندھ و بلوچستان اور اسپیکر قومی اسمبلی نے پنجگورمیں مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی:واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سوئے ہوئے 7 مزدور جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے،پولیس کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدور پنجگور کے مختلف علاقوں میں مزدوری کرتے تھے جو رہائشی مکانوں کی تعمیراتی کام کرتے تھے، جاں بحق مزدوروں کا تعلق پنجاب کے شہر ملتان سے ہے،جاں بحق افراد کی شناخت ساجد ولد اللہ بخش، فیاض ولد اللہ دتہ، خالد ولد فدا حسین، شفیق ولد فیض بخش، افتخار ولد اقبال سلمان ولد فیاض اور بلال ولد شوکت کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے،جبکہ سیاسی شخصیات کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے-

    صدرمملکت آصف علی زردار ی نے پنجگور میں مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور د یا کہا کہ بے گناہ مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور قابل مذمت فعل ہے آصف زرداری نے واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ورثا کے لیے صبر جمیل کی دعا کی،انہوں نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پنجگور میں مزدوروں کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ،وزیراعظم نے مقتولین کی بلند درجات کے لیے دعا کی اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا جبکہ زخمی ہونے والے مزدوروں کی جلد صحت یابی کی دعا اور ان کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بے گناہ مزدوروں پر حملوں کے بہیمانہ واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ سر زمین پاک سے ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پر عزم ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجگور میں بے گناہ مزدوروں پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فائرنگ سے7 مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کیا اور سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی و تعزیت کی۔

    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پنجگور میں مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پھر دھرتی پر بے گناہوں کا لہو گرا، دہشت گرد بزدل اور انسانیت سے بے بہرہ ہیں، دہشت گرد بے گناہوں کے قتل کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں دیں گے، دہشت گرد کب تک بلوں میں چھپیں گے، چن چن کر بے گناہ پاکستانیوں کے قتل کا حساب لیں گے، بلوچستان میں ایک بار پھر دہشت گردوں نے غریب پاکستانی مزدوروں پر وار کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی پنجگور میں معصوم مزدوروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات نفرتوں کو بڑھانےکی سازش ہیں، قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں، دہشت گردی کے بڑے واقعات دیکھے، قومی یکجہتی پر آنچ آنے نہیں دی،وزیر اعلیٰ سندھ نے مرحومین کے بلند درجات اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پنجگور کے علاقے میں شرپسندوں کی مزدوروں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں 7 مزدوروں کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا،ایاز صادق نے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ شرپسند عناصرکسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

    حمزہ شہبازشریف نے بھی پنجگور میں 7 مزدوروں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی شدید مذمت کی ، کہا کہ بلوچستان میں 7 مزدوروں کو ہلاک کرنے والے سفاک دہشگردوں کا انسانیت سے تعلق نہیں، ملتان سے تعلق رکھنے والے مزدور پنجگور میں محنت کر کے اپنی روزی کما رہے تھے، اللہ تعالیٰ سے جاں بحق ہونے والوں کی بلندی درجات کے لئے دعاگو ہوں، غم کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتا ہوں، بے گناہ نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانے والوں کا ملک کے آخری کونے تک پیچھا کیا جائے گا۔

  • اسلام آباد،گودام کی چھت گرنے سے5 مزدوروں کی موت

    اسلام آباد،گودام کی چھت گرنے سے5 مزدوروں کی موت

    اسلام آباد برجی سٹاپ نزد ملک ہوٹل ماڈل ٹاؤن ہمک جاوا سٹاپ ہائیر الیکٹرانکس کمپنی کے گودام کی چھت گرنے سے آٹھ مزدور ملبے تلے دب گئے جس میں سے پانچ افراد کی موت ہو گئی، جبکہ تین زخمی ہیں

    دو افراد کی میتوں کو نکال لیا گیا جبکہ تین ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں تین زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ریسکیو ون ون ٹو ٹو سروس اور پولیس موقع پر موجود ہے،دو گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن ریسکیو ون ون ٹو ٹو سروس ملب تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں،بارشوں میں جب پانی چھتوں کے ذریعے نیچے آنے لگا تو اس پر تارکول ڈال کر پانی روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی پر تیار چھتوں پر لینٹر ڈالا جا رہا تھا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا،

    ریسکیو ذرائع کے مطابق افسوسناک حادثے میں جاں بحق مزدوروں میں سے 4 کا تعلق تونسہ شریف سے اور ایک کراچی کے علاقے ملیر کا رہائشی تھا، جاں بحق ہونے والے 4 افراد کی شناخت لکی، سجاد، کبیر اور اعجاز کے نام سے ہوئی ہے

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • پاکستان میں34لاکھ افراد جبری مشقت کا شکار ہیں: انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن

    پاکستان میں34لاکھ افراد جبری مشقت کا شکار ہیں: انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن

    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او)کے زیر اہتمام جبری مشقت کے بارے رپورٹنگ کے حوالے سے صحافیوں کی کیپسٹی بلڈنگ کیلئے مقامی ہوٹل میں منعقد 2 روزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہو گئی۔

    امریکی محکمہ محنت کے تعاون سے آئی ایل او کے پروجیکٹ "بریج” کے تحت تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد جبری مشقت کے خاتمے اور مزدوری کے منصفانہ بھرتی کے مسائل پر موئثر رپورٹنگ کیلئے صحافیوں کو ضروری علم اور مہارت سے لیس کرنا تھا۔ ورکشاپ کے اختتامی میں پرنٹ، الیکٹرانک، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا کے35نامور صحافیوں نے شرکت کی ۔ آخری سیشن میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل اقبال اور معروف صحافی عون ساہی اورسبوخ سید نے صحافیوں کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں جبری مشقت کے خندوخال ‘ پس منظر ‘ استحصال’ عوامل ‘آمدن کے بارے میں تفصیلات اور مفید مشورے دیئے ۔

    اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل اقبال نے کہا کہ جبری مشقت ایک مجرمانہ فعل اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، زراعت، اینٹوں کے بھٹوں، کان کنی اور شپ یارڈ جبری مشقت کے بڑے گڑھ اڈے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے حکومتی کوششیں کافی مثبت ہیں ‘جبری مشقت پر قابو پانے کے لیے اگرچہ کافی اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن پاکستان میں جبری مشقت لینے والے مالکان غیر رسمی شعبوں سے وابستہ ہیں جس وجہ سے آئی ایل او فریم ورک کے تحت ان سے رابطہ کرنے اور ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں’جس کے لیے ان اہم مسائل کو حل کرنے میں میڈیا کے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فیصل اقبال نے صحافیوں کو جبری مشقت اور مزدوری کے لیے نقل مکانی کرنے والے لوگوں ان کو درپیش مسائل’ ملکی معیشت میں ان کا حصہ کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ ان موضوعات پر رپورٹنگ کو واضح اور مکمل تحقیق کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ آئی ایل او کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جبری مشقت کے سالانہ اخراجات اور منافع 236 بلین ڈالر ہے، دنیا بھر میں ہر ہزار میں سے 3.5 افراد جبری مشقت میں ملوث ہیں، صنعتیں، خدمات اور زراعت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین شعبے ہیں’ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 3.4 ملین تک افراد جبری مشقت کے حالات کا شکار ہیں جو تشویشناک صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بیرون ملک جانے والے شہریوں سے بھی جبری مشقت کروائی جاتی ہے، 2023 میں 8لاکھ لوگ بیرون ملک مزدوری کے لئے گئے جن میں سے زیادہ تر مڈل ایسٹ میں گئے’ جبری مشقت میں میں سب سے زیادہ پیسہ یورپ میں بنایا جا رہا ہے۔ کمپنیز کے ہاتھوں استحصال کیا جاتا ہے،بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی حالت زار بہت بہتر نہیں ہے ۔

    معروف صحافی عون ساہی اور سبوخ سید نے ورکشاپ کے دوران جبری مشقت اور مزدوروں کی نقل مکانی کے مختلف پہلوں پر جامع تربیتی سیشنز کی قیادت کی۔ عون ساہی نے نیوز سٹوری کی شناخت، پچنگ، ڈیٹا اکٹھا کرنے، اور مختلف پلیٹ فارمز پر موئثر انداز میں نیوز سٹوری کو پیش کرنے میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حقوق پر مبنی اور صنفی حساس نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عون ساہی نے جبری مشقت اور منصفانہ بھرتی کے ارد گرد کے بیانیے کو انسانی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ خاص طور پر زندہ بچ جانے والوں کا انٹرویو لیتے وقت اخلاقی تحفظات پر عمل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا جبری مشقت کے حوالہ سے کیسز کو نمایاں کوریج دے تا کہ اس ظلم کا خاتمہ ہو، حکومت قوانین پر عملدرآمد کروائے۔

    اختتامی سیشن میں گروپ ورک، اور عملی مشقیں بھی عمل میں لائے گئیں جبکہ ورکشاپ کے شرکاء نے جبری مشقت کے خاتمے کے حوالے سے صحافیوں کی کیپسٹی بلڈنگ کیلئے آئی ایل اوکے اس اقدام کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان میں جبری مشقت کے خلاف جنگ اور منصفانہ بھرتی کے طریقوں کو فروغ دینے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریںگے۔

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    @HWriter27672

    زندگی مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے، اور یہ شعبے ایک دوسرے سے باہم یوں جڑے ہوئے ہیں کہ ہر شعبہ جتنا بھی ترقی کا سفر طے کرے لیکن کسی نہ کسی موڑ پر وہ دوسرے شعبہ کا محتاج ضرور رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک شعبہ مزدور طبقے کا بھی ہے، ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مزدور کے بغیر اسکی زندگی کیسے گزر سکتی ہے! مزدور کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہم کتنے ہی کامیاب اور کروڑ پتی کیوں نہ ہوجائے لیکن ہمارا کوئی بھی کام مزدور کے بغیر چل نہیں سکتا۔ ایک متوسط فرد سے لے کر بڑے سے بڑے افسر اور بیوروکریسی تک زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ فرد مزدور کا محتاج ہے۔ اب بنیادی بات یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی اس ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم مزدوروں کے ساتھ وہ سلوک اور رویہ اختیار کرچکے ہیں جو مذہب اور انسانیت کا تقاضا ہے؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو لامحالہ ہمیں مزدور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مزدور طبقہ عام انسانوں پر مشتمل ہے، انکی تخلیق میں کوئی جسمانی اور ذہنی کمی نہیں ہے سوائے اسکے کہ مزدور لگژری زندگی سے بہت دور ہیں اور انکے بعض افراد تو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جدید دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے ہوتے ہوئے بھی مزدوروں کے ساتھ جو سلوک اپنایا گیا ہے، اس سے بعض اوقات گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ انسان بھی نہیں اور نہ انھیں راحت و آرام کی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مزدور کو کمتر سمجھنے اور اسکا معاشی استحصال کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم میں سے ہر کوئی مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام حاصل کرنے کا خواہش مند ہے لیکن معاوضہ بھی ہم اپنی پسند کا دیتے ہیں جس سے مزدور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کرسکتا۔

    ہم انکی عام اجرت میں زائد وقت کا کام بھی لیتے ہوئے اسے مجبور کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں اسے کام سے فارغ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ مزدور سے اسکی طاقت سے زیادہ کام لینا گویا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، لیکن اجرت دیتے وقت ہمارا انداز یہ ہوتا ہے جیسے ہم اس پر احسان کررہے ہیں۔

    آج دنیا میں یوم مزدور منایا جاتا ہے، سارے سرمایہ دار چھٹی انجوائی کرتے ہیں لیکن کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس دن مزدور بھی چھٹی کرلیتے ہیں یا کام کرتے ہیں؟ مزدور کے ساتھ یکجہتی کےلیے چھٹی منانا اچھی بات ہے لیکن یہ جاننے کےلیے ہم نے کبھی کوشش کی کہ مزدور کو اسکے حقوق میسر ہیں بھی کہ نہیں؟
    اسلام نے مزدور و مالکان دونوں کے فرائض کو واضح طور بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں کوتاہی نہ کریں۔ اسلام نے مزدوروں کو ان کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، اگر مزدور سے کام لیا جائے تو اسکو اس کا حق فوراً دے دے۔

    اسلام نے مزدور کا جو تصور دیا ہے وہ اقوام عالم کےلیے مشعل راہ ہے۔ مزدور کے بابت اسلام نے جو رہنمائی کی ہے اگر اسکو عملی کیا جائے تو مزدور کا حق ضائع نہ ہوگا اور اسی طرح وہ اپنے کام کو خوب محنت اور ایمانداری سے پورا کرے گا، یوں مزدور اور مالک دونوں مطمئن رہیں گے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مزدور افراد تمہارے ہی ہم شکل، ہم جنس اور تمہارے بھائی ہیں، بات اتنی ہے کہ اللہﷻ نے انھیں آپ کا ماتحت بنادیا ہے، سو جو آپ کھاتے ہیں وہ انکو بھی کھلائیں! اور جو آپ پہنتے ہیں وہ انکو بھی پہنائیں! اور اس سے اسکے وقت اور طاقت سے زیادہ کام نہ لیں! اگر لینا ہے تو اسکی مدد کریں! اور زائد وقت کی مزدوری بھی دیں!

    اسلام کا مندرجہ بالا اصول کتنا زبردست اور واضح ہے! مگر کیا ہم اس کو عملی کرنے کی کوشش کریں گے؟اسلام کا حکم ہے کہ مزدور کو اسکی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے لیکن ہماری صورتحال کیا ہے؟ اسکا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ حضور اکرمﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن جن تین افراد کے خلاف میں مدعی بنوں گا ان میں ایک وہ شخص ہے جو مزدور سے کام تو پورا لے لیکن اسکی مزدوری پوری نہ دے یا کم دے یا بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرے۔
    مزدور کے ذمہ کچھ فرائض مذہبی بھی ہیں جن کو ادا کرنا اس پر لازم ہے، اسلام کے رو سے جس طرح مزدور کو اس کی اجرت کا وقت پر دینا لازم ہے اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ کام کے دوران فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائیگی کےلیے وقت اور جگہ فراہم کی جائے۔
    غلطی سے کوئی بھی انسان مبرا نہیں ہے! مزدور سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی ہے لیکن اسکو معاف کرنا چاہیے! حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر مزدور ستر مرتبہ غلطی کرے تو بھی اسے معاف کریں۔

    مزدور کے متعلق اسلام نے جس طرح مالکان کےلیے ہدایات بیان کی ہے بالکل اسی طرح مزدور کےلیے بھی ہدایات بیان کی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مزدور اس امر کا ذمہ دار ہے کہ:
    * وہ اپنا کام معاہدے کے مطابق بروقت ایمانداری اور اخلاق کے ساتھ پورا کرے۔
    * مزدور مالک کے کام کا امانت دار ہے، سو وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام اور اسکے متعلق اشیاء کا ایمانداری سے حفاظت کرے، اور اسے کام کے بعد مالک کے حوالے کرے۔ اگر کوئی چیز اتفاقاً خراب ہوجائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں ہے لیکن اگر مزدور نے اسے قصداً خراب کیا تو اس چیز کا تاوان دے گا۔
    • اگر مزدور مالک کے ہدایت کے خلاف کام کرے اور اس میں کوئی نقصان پیش آئے تو مزدور اسکا تاوان ادا کرے گا۔
    * جتنے دن کےلیے کام کا معاہدہ ہوا ہے تو مزدور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کام پورا کیے بغیر اس کو چھوڑ دے۔

    اسلام کے یہ رہنمائی کتنی واضح ہے! اس جامع اور رہنما اصولوں کو اپنائے بغیر معاشرے میں مساوات اور خوشحالی کا قیام ناممکن ہے، ان اصول کو اپنانے سے ہی مزدور کا استحصال ختم ہوگا اور مالکان کو ان کا کام پورا ملے گا۔ اب ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ مزدور کی روایتی چھٹی منانے کے بجائے زیادہ توجہ اپنے اور مزدوروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچاننے پر دیں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق اپنے کاموں کو آگے بڑھائے۔

  • مزدورکی کم از کم ماہانہ تنخواہ 35ہزارکی جائے، آصف زرداری کی تجویز

    مزدورکی کم از کم ماہانہ تنخواہ 35ہزارکی جائے، آصف زرداری کی تجویز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری مزدروں کی آواز بن گئے

    سابق صدرمملکت پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے تجویز کیا ہے کہ محنت کشوں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 35000 ہزار مقرر کی جائے تاکہ مزدور محنت کش کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں مزدور محنت کش کی 35000لازمی تنخواہ مقرر کرنے کا سرکاری سطح پر فیصلہ کیا جائے اصف زرداری نے مزید کہا ہے کہ حکومت عوام الناس کی مشکلات اور تکالیف کے ازالے کیلئے دورس اقدامات اٹھائے عوام الناس کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے

    واضح رہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھ چکی ہے ، پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے،ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، آٹا بھی مہنگا ہوچکا ہے، دالیں، چاول گھی، ہر چیز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ غریب کی آمدن میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا، مزدور کو مزدوری اتنی ہی مل رہی، آج آصف زرداری جو حکومت میں ہیں اور انکے بیٹے وزیر خارجہ ہیں، نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 35 ہزار کی جائے

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    پاکستان پیپلز پارٹی جن جن ادوار میں حکومت میں رہی ان ادوار میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام ہوئے ہیں۔ 2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے دور میں مزدوروں کے لئے بہت سے قانون سازی کی گئی۔ اسی دور میں محکمہ محنت کو صوبوں کے تحت کیا گیا۔ صوبہ سندھ میں محکمہ محنت صوبے کے پاس آنے کے بعد تاریخی قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ محنت میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کام کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے لے کر کارکنوں تک نے ہمیشہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کی ہے اور مزدوروں کے لئے آواز بلند کی ہے۔جس ملک کا مزدور خوشحال ہوتا ہے وہاں کی صنعت ترقی کرتی ہے اور ملک کی معیشت بھی ترقی کرتی ہے اور ملک کے حالات بہتر ہوتے ہیں ۔

  • ایران میں ہیٹ اسٹروک سے 500 سے زائد مزدوراسپتال داخل، متعدد جاں بحق ہوگئے

    ایران میں ہیٹ اسٹروک سے 500 سے زائد مزدوراسپتال داخل، متعدد جاں بحق ہوگئے

    جنوبی ایران میں تیل اور گیس کے مختلف پراجیکٹس کے 500 سے زائد کارکن حالیہ دنوں میں شدید درجہ حرارت کی وجہ سے ہسپتال میں پہنچ گئے جن میں سے متعدد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کے مطابق آئل سیکٹر کے مزدوروں کی یونین نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ شہر میں اس ہفتےکم از کم دو افراد ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی میں کام کے بوجھ کی وجہ سے شدید تھکن اور کمزاوری سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    سلمان رشدی پر حملہ قاسم سلیمانی کے قاتلوں کے لیے ایک انتباہ ہے،ایرانی رکن پارلیمنٹ

    ملک کے جنوبی حصوں میں، جہاں زیادہ تر تیل اور گیس کے پلانٹ واقع ہیں، درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے زیادہ – فارن ہائیٹ پیمانے پر تقریباً 122 تک بڑھنے کے باوجود، حکومت کے ذیلی ٹھیکیدار چند گھنٹوں کے لیے بھی مزدوروں کو کام سے ریلیکس دینے کو تیار نہیں-

    اطلاعات کے مطابق صوبہ بوشہر کے بندرگاہی شہر اسالویہ میں کام کے حالات اتنے خراب ہیں کہ روزانہ کم از کم 100 کارکن ہیٹ اسٹروک میں مبتلا ہو کر اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں ، کیونکہ درجہ حرارت 53 ڈگری تک پہنچ چکا ہے اور نمی 90 فیصد سے زیادہ ہے۔

    اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    دو ہفتے قبل تیل کی دولت سے مالا مال خوزستان کے صوبائی دارالحکومت میں کام کے دوران ایک اور مزدور کی موت ہو ئی تھی جب کہ درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے سرکاری دفاتر اور کاروبار بند ہو گئے تھے۔

    جبکہ ایران میں خراب معاشی صورتحال کے درمیان گزشتہ تین ماہ میں کم از کم 10 مزدوروں نے اپنی ملازمتوں سے برطرفی اور "روزی کے مسائل” کی وجہ سے خودکشی کر لی ہے۔ تازہ ترین واقعہ ہفتے کے روز مغربی شہر الام میں پیش آیا۔

    امریکہ کی ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ پابندیوں کے چار سالوں کے بعد خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کے بعد، ایرانی ورکرز اور ریٹائرڈ ملازمین زیادہ تنخواہوں کے مطالبے کے لیے باقاعدہ احتجاج یا ہڑتالیں کر رہے ہیں۔

    مئی میں غربت، مہنگائی اور کم اجرتوں کے خلاف مزدوروں، دکانوں کے مالکان اور اساتذہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بھاری کریک ڈاؤن اور متعدد گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    متحدہ عرب امارات میں ریت کا طوفان

  • نجی ٹائل مل کا ملازم کرنٹ لگنے سے جانبحق

    نجی ٹائل مل کا ملازم کرنٹ لگنے سے جانبحق

    قصور
    پھولنگر کی نجی ٹائلز مل میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جان کی بازی ہار گیا،حادثہ مل انتظامیہ کی غفلت کے باعث پیش آیا

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کی تحصیل پتوکی کے شہر پھولنگر کے نواح سراں اڈا میں واقع پاکستان ٹائلز مل کی غفلت کے باعث گزشتہ روز مل کا غریب ملازم جواں سالہ طالب حسین کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہار گیا
    متوقی انتہائی غریب اور اپنے گھر کا واحد کفیل تھا
    متوفی کے پسماندگان میں 4 بچے، بیوہ کے علاوہ بوڑھے ماں باپ شامل ہیں
    متوقی کی وفات پر پورے علاقے میں سوگ کی کیفیت ہے

  • دھابیجی کے نزدیک نجی اسٹیل فیکٹری میں سٹیل مینو فیچرنگ کے دوران پگھلا ہوا لوہا مزدوروں پر آ گرا ۔

    دھابیجی کے نزدیک نجی اسٹیل فیکٹری میں سٹیل مینو فیچرنگ کے دوران پگھلا ہوا لوہا مزدوروں پر آ گرا ۔

    دھابیجی کے نزدیک نجی اسٹیل فیکٹری میں سٹیل مینو فیچرنگ کے دوران پگھلا ہوا لوہا مزدوروں پر آ گرا ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دھابیجی میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ دھابیجی کے نزدیک نجی اسٹیل فیکٹری میں خطرناک واقعہ اسٹیل مینوفیچرنگ کے دوران پگھلا ہوا لوہا مزدوروں پر آگرا مزدور اپنا روز کا کام کرنے میں مصروف تھے۔ جب یہ سنگین واقعہ پیش آیا تھا ۔پگھلے ہوئے لوہے کی بکٹ مزدوروں پر آگری تھی۔
    اس سنگین واقعے میں لاوے کہ طرح گرم مواد نے دو مزدوروں کو شدید زخمی کردیا کراچی میں جھلسے مزدوروں کو فوری طور پر سول اسپتال برنس وارڈ لایا گیا ہے جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے فیکٹری میں کسی بھی قسم کے سیفٹی پر عمل درآمد نہیں ہورہا تھا مزدوروں کے پاس پراپر کٹس اور ہیلمنٹ تک موجود نہیں تھے
    مزید یہ کہ فیکٹری مینیجر کو جب اس واقعے کا پتا چلا تو انہوں نے حادثے کی زمہ داری مزدوروں پر ڈال ہی دی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جو بھی سب ہوا ہی مزدوروں کی لا پروائی کی وجہ سے ہوا اور اس کے زمیدار بھی وہ ہی ہیں۔
    اس سب واقع کے خلاف ابتک ایف آئی ار درج نہیں کرائی جاسکی لیبر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکمے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ٹریڈنگ ایسوسی ایشن بھی مزدوروں کا تحفظ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔