Baaghi TV

Tag: مزدور

  • محنت کش کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں،راجہ پرویز اشرف

    محنت کش کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں،راجہ پرویز اشرف

    محنت کش کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں،راجہ پرویز اشرف

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ مزدور اورمحنت کش طبقہ پاکستانی کمیونٹی کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا سماجی و اقتصادی استحکام مزدور طبقے کی فلاح و بہبود سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ خصوصاً پاکستانی تارکین وطن محنت کش طبقہ ملک کے معاشی استحکام کے لیے اہم کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

     

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں چوہدری یاسین جنرل سیکرٹری سی ڈی اے یونین اور پاولو پوزو کے ڈائریکٹر آئی ایس سی او ایس سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ محنت کش طبقے کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کی غیر ہنر مند لیبر فورس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے محنت کشوں اور مزدور طبقے کو ہنر مند بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستانی تارکین وطن کے محنت کش طبقے کو بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ محنت کش اور مزدور طبقہ پاکستان کی معیشت کی بنیادی طاقت ہے۔انہوں نے ورکر ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جدوجہد کو بھی سراہا۔ ڈائریکٹر پاولو پوزو کے کام کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی خاندانی روایات اور مشترکہ ثقافت کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی میں مقیم پاکستانی ملک کے معاشی استحکام کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

    چوہدری یاسین جنرل سیکرٹری سی ڈی اے یونین نے ملاقات کا موقع فراہم کرنے پر سپیکر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے ٹریڈ یونین محنت کش اور مزدور طبقے کی قانونی حمایت کے لیے تمام بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطے پر کام کر رہی ہے۔ ٹریڈ یونین انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل کوآپریشن (ISCOS) کے ڈائریکٹر پاولو پوزو نے کہا کہ ان کی تنظیم پاکستانی یونینوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اجلاس کو پاکستان میں مزدوروں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے منصوبوں کی بنیادی باتوں سے بھی آگاہ کیا۔

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    خواتین نرسزکی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالے ملزم کی ضمانت پر ہوئی سماعت

    ہنی مون پر گئے نوجوان نے موبائل فون خریدنے کیلئے بیوی کو فروخت کر دیا

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • فیصل آباد: 6 سالہ بچے کے ساتھ مزدور کی مبینہ زیادتی

    فیصل آباد: 6 سالہ بچے کے ساتھ مزدور کی مبینہ زیادتی

    فیصل آباد: 6 سالہ بچے کو مدرسے میں کام کرنے والے مزدور نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے علاقے ظفروال کے نواحی گاؤں سارو وال میں 6 سالہ بچے سے زیادتی کا مبینہ واقعہ پیش آیا، بچے کے ماموں کی مدعیت میں نامعلوم مزدور کے خلاف درخواست دے دی گئی ہے۔

    ماموں نے ملزمان کے ساتھ مل کر اپنی سولہ سالہ بھانجی کواغوا کر لیا۔

    پولیس کے مطابق 6 سالہ بچے احسان ساجد کے ماموں نے پولیس کو اطلاع دی کہ ان کے بھانجے کو محلے میں زیر تعمیر مدرسہ میں کام کرنے والے مزدور نے زیادتی کا نشانہ بنایا، احسان گلی میں کھیل رہا تھا کہ مزدور ورغلا کر مدرسے کے اندر لے گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس علاقے میں پہنچ گئی اور بچے کو میڈیکل کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا، جب کہ اہلخانہ کی درخواست پر تحقیقات شروع کردی ہے تاہم میڈیکل کے بعد حتمی مؤقف دیا جاسکتا ہے۔

    تیس برسوں میں ساٹھ طالبات کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سکول ٹیچر گرفتار

    قبل ازیں کراچی میں 8 سالہ بچے کو زیادتی کے بعد ذبح کر دیا گیا پولیس نے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا او ر شبہ ظاہر کیا ہے کہ زیادتی میں کئی افراد ملوث ہوسکتے ہیں شاہ لطیف تھانے کی حدود قائد آباد نیشنل ہائی وے ایبٹ فارما میڈیکل کمپنی کے عقب میں واقعے عمر ماروی گوٹھ میں فیصل پبلک اسکول پیالہ ہوٹل کے قریب واقع ایک لائبری کی عقبی گلی سے 8 سالہ بچے کی لاش ملی۔

    اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 8 سالہ شاکر حسین ولد عبد الرشید کے نام سے کی گئی، مقتول کو ملزمان نے گلے پر تیز دھار آلے کے ذریعے بے دردی سے شہ رگ کاٹ کر ذبح کیا تھا۔

    شادی سے انکار پر 24 سالہ ماڈل قتل،قاتل گرفتار

  • اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    بھوپال: بھارت میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والا مزدور راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک معاشی حالات سے پریشان مزدور کو ہیرا مل گیا ہیرے کو نیلامی کے لیے شہر پنا میں پیش کیا گیا جہاں 87 دیگر ہیرے بھی فروخت کے لیے موجود تھے یہ نیلامی 24 اور 25 فروری کو ایم پی کے ‘ہیروں کے شہر’ پنا میں ہوئی، جو ریاستی دارالحکومت بھوپال سے 380 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    ہیروں کے شوقین ایک شخص نے بھٹے کے مزدور کو ملنے والے ہیرے کو ایک کروڑ 62 لاکھ میں خرید لیا ہیروں کی نیلامی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس رقم میں سے ٹیکس وغیرہ کاٹ کر بقیہ رقم مزدور کو دے دی جائے گی۔

    بھوپال سے 380 کلومیٹر دور شہر پنا کو ہیروں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں ہیرے مدفن ہیں اور شہریوں کو ملتے بھی رہتے ہیں اسی شہر میں ہیروں کی سب سے بڑی نیلامی بھی ہوتی ہے۔

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    شہر پنا کے ضلعی کلکٹر سنجے کمار مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ دو روزہ نیلامی کے صرف پہلے دن ہی مجموعی طور پر 82.45 قیراط کے 36 ہیرے فروخت ہوئے جن میں مزدور کو ملنے والا ایک ہیرا بھی شامل ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ نیلامی کے دوران، ₹ 1.62 کروڑ کی سب سے زیادہ قیمت 26.11 قیراط کے ہیرے سے حاصل ہوئی، جو 21 فروری کو یہاں کی ایک کان سے ملا تھا۔

    اس قیمتی پتھر کی نیلامی 3 لاکھ روپے فی قیراط سے شروع ہوئی اور 6.22 لاکھ روپے فی قیراط تک چلی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ پنا میں اتنا بڑا ہیرا کافی عرصے کے بعد ملا ہے۔

  • بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں:     ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:وزیراعظم عمران خان

    بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں: ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد : 100بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں:ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سیرین ایئرمیں تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا 100بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سیرین ایئرمیں 15 سے 44 فیصد تک تنخواہوں میں اضافےکافیصلہ خوش آئند ہے، 100بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں ، ملک کی 100بڑی کمپنیوں نے950ارب روپےکامنافع گزشتہ سال کمایا۔

     

    گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی بزنس کمیونٹی سے اپیل پر اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

    بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے استدعا پر عمل کرنے اور ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے پر اے آر وائے ڈیجیٹل کے سی ای او اور صدر سلمان اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ سال ریکارڈ منافع کمانے والی دیگر کمپنیوں سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کی اجرت میں اضافہ کریں۔

  • کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سندھ میں کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سندھ میں ویج بورڈ کی تجویز کردہ کم سے کم اجرت 19 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سندھ میں انڈسٹریل اور کمرشل ملازمین کو 19 ہزار کم سے کم اجرت ادا کی جائے،دو ماہ میں ویج بورڈ اور سندھ حکومت اتفاق رائے سے کم سے کم اجرت مقرر کریں،عدالت نے بین الصوبائی آرگنائزیشن کی درخواست کو کیس سے الگ کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے قانون کے صوبائی صنعتوں پر اطلاق کا الگ سے جائزہ لیں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی کم سے کم مقرر کردہ اجرت کتنی ہے؟ وکیل انڈسٹریز نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی کم سے کم اجرت 20 ہزار ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کم سے کم اجرت کیسے بڑھائی گئی ہے؟ وکیل نے کہا کہ سندھ میں صوبائی کابینہ نے کم سے کم اجرت کی منظوری دی، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سرکار کا کم سے کم اجرت مقرر کرنے میں کیا اختیار ہے؟ اگر سندھ حکومت اور ویج بورڈ میں اتفاق رائے نہیں ہوتا تو کیا یہ معاملہ لٹک جائے گا؟ملک میں 20 ہزار کم سے کم اجرت مقرر ہوئی اور سندھ ویج بورڈ نے 19 ہزار کی سفارش کی،

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    لاہور پریس کلب کے باہر فائرنگ، کرائم رپورٹر جاں بحق

  • گارمنٹس فیکٹری کے کیمیکل ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے 4 افراد جاں بحق

    گارمنٹس فیکٹری کے کیمیکل ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے 4 افراد جاں بحق

    کراچی : گارمنٹس فیکٹری کے زیرِ زمین ٹینک کی صفائی کے دوران 4 افراد دم گھٹ جانے کے باعث جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے بھینس کالونی موڑ چوکنڈی اسٹاپ کے قریب فیکٹری ورکرز زیرِ زمین کیمیکل ٹینک کی صفائی کر رہے تھے کہ زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے-

    تولیہ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، لاکھوں روپے کا سامان جل گیا

    پولیس نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال پہنچایا جہاں ان کی شناخت شیراز، غلام حسین، عمران اور شہریار کے نام سے کی گئیں جن کی عمریں 22 سال سے 30 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

    جناح اسپتال میں موجود شخص یعقوب نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں غلام حسین اور شیراز آپس میں کزن اور دونوں ان کے بھتیجے ہیں جو کہ جام کنڈو گوٹھ شاہ لطیف ٹاؤن کے رہائشی ہیں اور مذکورہ گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کرتے تھے۔

    کراچی والے تیار ہوجائیں ، بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    انہوں ںے بتایا کہ کیمیکل گیس کی صفائی کے دوران زہریلی گیس سے دم گھٹنے سے 5 ملازمین متاثر ہوئے تھے جس میں سے 4 افراد دم توڑ گئے جبکہ ایک ورکر کو قریب ہی قائم نجی اسپتال میں طبی امداد فراہم دی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں کراچی کے علاقے نیوکراچی انڈسٹریل ایریا میں تولیہ فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ کی7گاڑیاں آگ آگ بجھانے میں مصروف رہیں چیف فائر افسر نے بتایا تھا کہ آگ فیکٹری کے گراؤنڈ فلور پر لگی ہے، آتشزدگی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آگ کومزیدپھیلنے سے روک لیا گیا ہے، جلد آگ بجھا کر کولنگ شروع کردی جائے گی۔

    محکمہ موسمیات کی کراچی میں بارش کی پیش گوئی

    حکام کا کہنا تھا کہ فائربریگیڈ نے 14گاڑیوں کی مدد سے کئی گھنٹوں کی جدو جہد کے بعد فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پایا،رینجرزاہلکاروں نے بھی آگ بجھانے کے آپریشن میں حصہ لیا چیف فائرافسر نے مزید بتایا کہ آتشزدگی میں تولیہ فیکٹری میں موجود لاکھوں روپے کا مال جل گیا ہے ، کولنگ کے بعد آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔

    سرگودھا : تھانہ جھال چکیاں پولیس کی کارواٸی ۔ منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار ۔

  • سعودی کمپنی نے6 ماہ سےہمارے بابا کویرغمال بنارکھا:    کوئی پرسان حال نہیں”بچوں کی وزیراعظم سےدرخواست

    سعودی کمپنی نے6 ماہ سےہمارے بابا کویرغمال بنارکھا: کوئی پرسان حال نہیں”بچوں کی وزیراعظم سےدرخواست

    اسلام آباد :سعودی کمپنی نے 6 ماہ سے ہمارے بابا کویرغمال بنارکھا:کوئی پرسان حال نہیں”بچوں کی وزیراعظم سے درخواست،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک ایسے واقعہ نے قوم کو جھجھوڑ کررکھ دیا ہے جس میں ایک بے بس پاکستانی کوسعودی کمپنی نے یرغمال بنا رکھا ہے اور اس کے بقایا جات بھی ادا نہیں کررہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ بیچارہ بے بس پاکستانی مزدور پچھلے6 ماہ سے ایسی صورت حال سے دوچار ہے اور اس کے پاس ایک پائی بھی نہیں کہ وہ وہاں اپنے کھانے پینے کا خود سے بندوبست کرلے

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ بے بس پاکستانی قرض لے کرگزارہ کررہا ہے ، اس پاکستانی بے بس مزدور کے ساتھ وہاں کیا بیت رہی ہے اس سلسلے میں جب اس پردیسی کے بچوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے باغی ٹی وی کو موصول ہونے والے حقائق کی تصدیق بھی کی اور تائید بھی کی ،

     

    باغی ٹی وی کو اس حقیقت کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا بیٹے کا کہنا تھا کہ "میرے والد، العوتان جنرل کنٹریکٹر کمپنی کے ایک ملازم تھے ، جن کو 21 جون کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ ان کے اقامہ کی تجدید نہیں کی گئی تھی، ان کی کئی ماہ کی تنخواہ ابھی باقی ہے۔ وہ ملک چھوڑنے سے قاصرہیں‌ اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے کسی جواب کے انتظار میں بیٹھنے پر مجبور ہے۔

     

    یہ بھی ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے پاس مکہ مکرمہ میں تعمیراتی ٹھیکہ ہے اور وہ بہانے بناتے رہتے ہیں۔ میرے والدین نے گھر کی مختلف چیزیں بیچ دی ہیں، وہ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کرائے پر نہیں رہ سکتے اور اب بھی کرائے پر رہ رہے ہیں، اب کئی مہینوں کے کرائے کے پیسے باقی ہیں جو انہیں ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

     

    ان کے صاحبزادے کی طرف سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چونکہ اقامہ کی تجدید نہیں ہوئی ہے کیونکہ میرے والدین بے بسی سے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے پیسے واپس کرنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ واپس آ سکیں۔ وہ دوائیں نہیں خرید سکتے

    براہ کرم کوئی حل تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں تاکہ میرے والدین اپنی محنت سے کمائی گئی رقم واپس حاصل کر سکیں اور محفوظ طریقے سے واپس آ سکیں۔

     

    یہ ہم سب کے لیے بہت مشکل وقت ہے۔ دعاؤں اور کسی بھی قسم کی مدد کی درخواست جو آپ ہمیں دے سکتے ہیں۔ یہ 6 مہینے طویل اور تھکا دینے والے ہیں جہاں انہیں مالی مدد بھی مانگنی پڑی میرے والدین صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے اقامہ کی تجدید کی جائے اور ان کی واجب الادا تنخواہ ادا کی جائے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری تو اس وقت وزیراعظم عمران خان سے استدعا ہے کہ ہمارے بے بس والد محترم کو رہا کروا کرایک تو ان کو ان کے بقایا جات بھی دلوا دیئے جائیں اور ان کو پاکستان واپس لینے کے انتظامات کیئے جائیں

  • کرونا متاثرہ علاقوں کے مزدور مذید پریشان

    کرونا متاثرہ علاقوں کے مزدور مذید پریشان

    قصور
    الہ آباد کورونا کیسز سامنے آنے پر الہ آباد کے رہائشی مزدوروں کو فیکٹریوں سے فارغ کر دیا گیا جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہے حکومت احساس پروگرام سے تمام مزدوروں کی مدد کرے مزدوروں کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں کورونا وائرس کے تقریباً پچاس کے قریب کیس سامنے آنے پر علاقہ بھر میں جہاں خوف و ہراس کی فضاء قائم ہے وہاں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر خبریں سامنے آنے پر الہ آباد میں رہائش پذیر لوگوں کی مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے ہزاروں لوگ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان ہیں اب قریبی رشتہ دار اور دیگر دوست احباب بھی وائرس کے خوف کی وجہ سے ایک دوسرے کو ملنے سے کترا رہے ہیں اور الہ آباد کے رہائشی سینکڑوں مزدور جو کہ لاہور اور اس کے گردونواح میں قائم فیکٹریوں میں کام کرنے والے تھے ان مزدوروں کو تین روز قبل فیکٹریوں سے نکال دیا گیا ہے اکثر فیکٹریوں کی گاڑیاں مزدوروں کو پک اینڈ ڈراپ سہولت دیتی تھیں لیکن گزشتہ تین دنوں سے مزدوروں کو فیکٹریوں میں نہیں لیجایا جا رہا کورونا وائرس کے ڈر سے فیکٹری مالکان نے الہ آباد کے رہائشی مزدوروں کا فیکٹریوں میں داخلہ بند کرکے انتہائی ظلم کیا ہے مقامی مزدوروں نے وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ بیروز گار ہونے والے مزدوروں کا ڈیٹا بذریعہ اے سی چونیاں اکٹھا کر کے احساس پروگرام سے مدد کی جائے

  • کرنٹ لگنے سے مزدور جانبق

    کرنٹ لگنے سے مزدور جانبق

    قصور
    ٹولو والا میں مزدور جانبحق
    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں ٹولو والا میں ایک مزدور کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا مزدور چھت پر کام کر رہا تھا کہ بجلی کی ہائی وولٹیج تاروں سے اس کا ہاتھ چھو گیا جس سے اس کی موقع پر ہی جان نکل گئی لوگوں کے ریسکیو 1122 کو کال کرنے پر ریسکیو ٹیم نے پہنچ کر مزدور کا معائنہ کرنے پر اسے مردہ قرار دے دیا