عمران خان کی اڈیالہ جیل میں سہولت کاری کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کاروائی جاری ہے، گزشتہ روز خبر آئی تھی کہ سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم کو حراست میں لیا گیا ہے تا ہم بعد میں شاہد سلیم کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اپنی ہی گرفتاری کی خبر سن رہے ہیں، ویڈیو میں شاہد سلیم کا کہنا تھاکہ اپنے ہی بارے میں اپنے گھرپر چائے پیتے ہوئے جھوٹی خبردیکھنا کیسا لگتا ہے؟ اسے کہتے ہیں یلو جرنلزم۔
شاہدسلیم کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تحقیقات کی گئی تھیں، تحقیقات کے بعد کلیئر ہونے پر شاہد سلیم کو رہا کیا گیا ہے جس کے بعد گھر پہنچ کر انہوں نے ویڈیو بنائی اور وائرل کی.
سینئر صحافی و اینکر مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر بات کرتے ہوئے اس حوالہ سے کہا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فیض حمید کا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،
مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر اقتدار مستحکم ہوتا نظر آ رہا ہے، اقتدار کے باسیوں کو اقتدار مستحکم اور اپنے مخالفین کی شہہ مات نظر آ رہی ہے، اطمینان اور مسکراہٹ اقتدار کے باسیوں کی شکلوں پر نظر آتی ہے،سب کچھ صحیح سمت میں چل رہا تھا، یہ سوچ بڑے عرصے تھی کہ خان صاحب کو سسٹم کے اندر سے حمایت حاصل ہے،ورنہ ایسا نہیں ہو سکتا، اسٹیبلشمنٹ کو اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرنی چاہئے،پہلے اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ان ہاؤس آرڈر کرنا تھا، دیر آید درست آید، اب کاروائی شروع ہوئی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب آپ ایک ایسے آدمی کے خلاف کاروائی کرتے جو کورکمانڈر ہو، ڈی جی آئی ایس آئی ہو، اتنا ہم ہو پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اسکو پکڑنے کے بعد اسکے مخالفین بھارت،و دیگر کیا الزامات لگاتے ہیں،لوگ اس کو مختلف ڈائریکشن میں دیکھتے ہیں، سوچ بچار کرنی پڑتی ہے،یہ پوری فوج کا فیصلہ تھا اب اس میں کوئی بچت نہیں ہونی، مجھ سے لکھوا لیں کہ فیض حمید کو سزا ہو گی او ر کڑی سزا ہو گی
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں فیض حمید کو سزا کے بیان پر متفق ہوں، لیکن سوچ بچار کی بات پر کہتا ہوں کہ ادارے کو نقصان ہوا ہے، اس نے ادارے کا نقصان کیا، اگر یہ سٹیپ ایک ماہ یا چھ ماہ پہلے لیا ہوتا تو ادارے کا اتنا نقصان نہ ہوتا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دفاتر پر ریڈ کئے گئے وہاں سے کمپیوٹر لے کر گئے، رؤف حسن کا ریمانڈ ملا، وہاں سے تانے بانے ملے، ڈیٹا ملا ہوا سے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہ سہولت کاری کر رہا تھا، فیض نیازی گٹھ جوڑ چل رہا تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیرنی جادو ٹونے کرنے والی ہے لیکن پھر بھی اسکے فالور ہیں،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جو ہو رہا ہے اچھا ہو رہا ہے ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیض کی وجہ سے اور بڑے لوگ انڈر سکروٹنی ہو گئے ہیں، لوگ واٹس ایپ پر جواب نہیں دے رہے، جن کو میں جانتا ہوں وہ مجھے بھی جواب نہیں دے رہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے ساتھ سابق آفیسر موجود تھے وہ آئی ایس آئی ،ایم آئی کے مقابلے میں اپنی ایجنسی چلا رہے تھے جو پی ٹی آئی کی مدد کر رہی تھی، وہ انکا پرائیویٹ نیٹ ورک تھا ،جو سہولت کاری کر رہا تھا، جس طرح آپ ذاتی بینک نہیں چلا سکتے، اس طرح ذاتی انٹیلی جنس ایجنسی بھی نہیں چلا سکتے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،چار قسم کے کورٹ مارشل ہوتے ہیں،فیلڈ مارشل سب سے اہم ہے، ریاست اور افواج کے بدترین دشمن کا یہ فیلڈ کورٹ مارشل ہوتا ہے.میں جب یہ حاضر سروس تھا تب اسکے منہ پر بھی بات کرتا تھا،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ویڈیو یاد ہے جس میں آصف زرداری سنجرانی کو کہہ رہے ہیں کہ فیض تو گیا اب تیرا کیا بنے گا اس وقت سنجرانی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ فیض نہیں گیا، پاکستان کے سیاسی کلچر میں لوگ کہتے نہیں لیکن دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ فوج اپنا بندہ قابو نہیں کر سکی، ہم کیا کہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ باجوہ صاحب کو ہم بھی کہتے تھے، ایک آدمی کی کارستانیوں کی وجہ سے پورے ادارے کو برا نہیں کہہ سکتے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا، اسکے بعد عمران خان کے پاس موبائل فون موجود تھا، وائی فائی لگا ہوا تھا، واٹس ایپ میسج بھی کرتے تھے، باتھ روم سے میسج کرتے تھے، فون باتھ روم میں رکھا ہوا تھا کیونکہ وہاں کیمرے نہیں لگے ہوئے تھے، واٹس ایپ پر ہی وہ رابطے میں رہتے تھے، زیادہ وقت عمران خان باتھ روم میں گزارتے اور کمبوڈ پر بیٹھ کر میسج کال کرتے، اسی لئے تو پیٹ خرابی کا کہتے تھے اب انکا پیٹ ٹھیک ہو گیا ہے.
مزمل سہروردی کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال تو جیل تھی ہی نہیں عمران خان کو ، وہ اپنا پورا نیٹ ورک چلا رہےتھے اس کو جیل تھوڑا ہی کہتے ہیں ،کہتے تھے کرنل جیل پر قبضہ کیا ہوا ہے، کرنل کا جیل پر قبضہ ہوتا تو واٹس ایپ کا استعمال ہوتا، کرنل نے پہلے دن ہی سہولت کاروں کو پکڑ لینا تھا، عمران خان نے واویلا اسلئے کیا کہ ہم یہی سمجھیں کہ آئی ایس آئی نے جیل پر قبضہ کیا، عمران کے دور میں ایسا ہوتا تھا سیکٹر کمانڈر جیل ہوتا تھا، جیل میں عمران خان جمائما سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں،حماد اظہر کیوں بھاگ گیا ہے، یہ فیض کے سارے بچے بھاگ جائیں گے، یہ فیض کا بچہ ہے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کہہ رہا تھا کہ دو ماہ بعد حکومت چلی جائے گی اب وہ کہے ناں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی باتوں کو سیریس نہ لیا کریں وہ ہر بات پر یوٹرن لیتا ہے،میں نے ایک بار کہا تھا اور وی لاگ بھی کیا تھا کہ فیض ہر ایک کا فون ٹیپ کرتا تھا، بشریٰ اسکے قریب تھی وہ بشریٰ کو پہلے بتاتا تھا کہ کل فلاں یہ کرنے والے ہیں، کل یہ ہو گا، اب بشریٰ بی بی عمران خان کو کہہ کر سوتی تھی کہ اللہ مجھے کوئی مخبری دے گا، پھر صبح اٹھ کر بات بتاتی تھی اور دن کو وہ ہو جاتا تو شام کو خان کہتا دیکھو کتنی اللہ والی ہے، یہ سب بتا تو فیض رہا ہوتا، بشریٰ فیض کے ساتھ اینڈ اینڈ تھی، بزدار،گوگی، احسن،یہ سب فیض حمید کے لوگ تھے، فیض حمید کا جو فارم ہاؤس ہے، سڑک ہے اسکا تخمینہ لگوائیں وہ کتنا بنتا ، وہ ایسے نہیں بنتا،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان ضعیف الاعقتاد آدمی تھا، اگر اسکو جیل جا کر کہیں کہ یہ عمل کریں تو دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ بڑا کینہ پرور آدمی ہے، اب تو شاید مجھے نہ ملے، میری دوستی حفیظ اللہ نیازی نے کروائی تھی، وہ ہمیں لے کر جاتے تھے، وہاں سے ہماری دوستی ہوئی، جب حفیظ کی لڑائی ہوئی عمران خان سے تو میں نے اتنی کوشش کر لی کہ دو تین سال کہ عمران خان مان لے لیکن وہ نہیں مانا کیونکہ وہ مغرور تھا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج بڑے عرصے کے بعد مزمل سہروردی ہمارے ساتھ انکے پاس بہت خبریں ہیں
مبشر لقمان نے مزمل سہروردی سے سوال کیا کہ اب مہنگائی سے گزارہ نہیں ،بجلی کے بلوں سے گزارہ نہیں ہو رہا، گھر کے کرایوں سے زیادہ بجلی کے بل ہو گئے ہیں،جواب شور مچا رہے ہیں عمر ایوب وغیرہ یہ سب کرمنل ہیں پہلے کر چکے ہیں عوام کا کیا قصور ہے، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ انرجی کرائسز ملک کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے، انرجی بحران سب کے لئے ہے، اسکے لئے مجھے بڑی حد تک امید تھی کہ امیر لوگوں ،کاروباری لوگوں کی جن کی آئی پی پیز ہے وہ پاکستان کی محبت میں ایک دن رضا کار انہ میڈیا پر آئیں گے اور کہیں گے کہ ہم معاہدہ ری وزٹ کرتے ہیں،یہ پاکستان کی بات ہے، حب الوطنی کا تقاضا ہے، میں میاں منشاسمیت سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک نہیں چلتا، پاکستان ہے تو منشا ہے، پاکستان ہے تو رزاق داؤد ہے، کچھ پاکستان کا سوچیں اس سے پہلے کہ حکومت بازو مروڑ کر زبردستی کروائے، ان سب کو سامنے آنا چاہئے، انکی خاموشی مجرمانہ خاموش ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ ایسی بات کر رہے ہیں کہ دودھ کی رکھوالی کے لئے بلا، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جب آپ ملک کی بات کرتے ہیں …مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے لئے یہ کچھ کرتے تو یہ نوبت نہ آتی ،بے ضمیر لوگوں سے آپ درخواست کرنا چاہ رہے ہیں….ان لوگوں کے پاس غیر ملکی نیشنلٹی ہیں، کسی کی جائیداد کینیڈا میں ہے تو کسی کی یوکے میں،…مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ان کا سرمایہ تو انہوں نے پاکستان سے ہی بنایا ہے.میں ان سے درخواست کر رہا ہوں اگر وہ نہیں مانیں گے تو پھر کہوں گا کہ شہباز شریف کو ڈنڈا اٹھا لینا چاہئے، پہلے ان سے درخواست، وہ نہیں مانیں گے تو پھر عاصم منیر سے درخواست کر لیں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عاصم منیر کتنوں کی بات سنے، قیدی نمبر 804 درخواست کر رہا،عاصم منیر سن ہی نہیں رہے، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 سے کوئی مسئلہ نہیں ہے،کون سے ہزاروں لوگ اس کے لئے نکل رہے ہیں، ملک جام ہے، ایسا کچھ نہیں ہے،کے پی گورنمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کو آپریٹ کر رہی ہے، اپوزیشن کوآپریٹ کر رہی ہے، پارلیمنٹ چل رہی ہے ملک کا نظام چل رہا ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے، قیدی804 سے تو کوئی مسئلہ نہیں وہ تو جیل میں ہے لیکن توانائی کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس سے ملک نہیں چل رہا.عمران خان نے کچھ مواقع گنوائے ہیں جب مذاکرات ہو سکتے تھے، اس وقت مجھے ایسی کوئی صورت نہیں آ رہی کہ اس سے بات ہو، مائنس عمران نظام بہت اچھا چل رہا ہے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی عمران خان کی بیوی نہیں رہیں کیا اب بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر انکو وہاں رکھنا جائز ہے،مزمل سہروردی نے کہا کہ این اے 127 میں پیسے چل رہے، آٹھ فروری کو دیکھنا ہے کہ کس کے پیسے کا جادو چل گیا ہے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ مزمل صاحب، عمران خان کی سزاؤں کی ہیٹ ٹرک ہو گئی ہے، نکاح کیس کے فیصلے کے بعد قانونی طور پر عمران بشریٰ میاں بیوی نہیں رہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ہمیں فیصلے کو قانون کے تناظر میں دیکھنا چاہئے یا تو نکاح رجسٹر ہونے کا پاکستان میں سلسلہ ختم ہو جانا چاہئے، سب کچھ زبانی ہونا چاہئے یا پھر دو گواہوں کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہئے اور یہ جو نوے دن میں طلاق دیتے ہیں یہ سیکشن 496 ہے،یہ سب ختم کردینا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ذاتی معاملہ جب چاہے طلاق دے دیں، جب آپ شادی اور اسکے مسائل ، ان سب چیزوں پر قانون نہ بنائیں، سرکار کہے اسکا حکومت سے کوئی تعلق نہیں جس کی جو مرضی کرے، لیکن اگر آپ نے قانون بنائے ہیں تو پھر کیسے ذاتی،نجی معاملہ کہیں گے، اس بات پر قانون ہے، جس چیز پر قانون موجود ہے اس کو قانون کے تناظر میں دیکھیں، مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے، قانون کے مطابق ہی سب کو دیکھنا ہو گا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شریعت کا فیصلہ علما نے کرنا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے عدالت نے ڈکلیر کر دیا کہ بشریٰ اب عمران کی بیوی نہیں رہیں تو کیا اب انکو بنی گالہ رکھنا جائز ہے، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ بنی گالہ عمران خان کی بیگم ہونے کی وجہ سے سب جیل نہیں، سزا انفرادی ہوتی ہے، بشری کو اپنے جرموں کی سزا ملی، انفرادی حیثیت میں چاہے وہ بشریٰ کو میریٹ میں رکھ لیں یہ تو ریاست کا فیصلہ ہے، عمران خان خط لکھیں ناں ھکومت کو کہ میرے گھر کو سب جیل کیوں قرار دیا، وہ حکومت سے احتجاج کریں، میرے گھر کو میری مرضی کے بغیر کوئی سب جیل قرار نہیں دے سکتا، عمران خان کی مرضی سے ہی بنی گالہ کو سب جیل قرار دیا گیا
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ دوسرا نکاح جائز قرار دے دیا،دو نکاح تھے، ایک نکاح غلط، ایک صحیح، ایک بچ گیا، ایک رہ گیا،میں کل سن رہا تھا کہ مفتی سعید نے فقہ حنفی سے نکاح پڑھایا، فقہ حنفی میں دوبارہ نکاح نہیں پڑھایا جا سکتا، ابتسام الہی ظہر کے بھی کچھ ایسے ویوز تھے، ڈاکٹر اسرار کے بھی ایسے ویوز، اوریا مقبول جان کو سن رہا تھا تو انکے ویوز کچھ اور تھے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابتسام الہیٰ ظہیر شیخ الحدیث ہیں، پھڈا پڑ گیا ہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے شولڈر پر تین رینک تھے، ریاست مدینہ، مذہبی ٹچ، وہ اڑ گیا، صادق و امین کا رینک بھی اڑ گیا،تیسرا رینک تھا میں پاکستانی ہوں ، محب وطن ہوں وہ اڑ گیا تین فیصلوں سے تین رینک اڑ گئے، سائفر میں غداری، توشہ خانہ میں کرپشن، نکاح کیس میں شریعت اڑ گئی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب چوتھے میں کیا ہو گا، نو مئی کے کیس میں ، چڑیل بتاتی ہے کہ عمران خان پلانر تھا، پی ٹی آئی کی تما م قیادت اس میں ملوث تھی اور اسکا فیصلہ تسلی سے ہو گا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان پر سو مقدمات ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بیک وقت تو فیصلے نہیں ہوں گے،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ 2024 سزاؤں کا سال ہے، اس پورے سال میں سزائیں ہی ہوں گے، کوئی ری ٹرائل کا آرڈر ہو گا، کسی کی اپیل مسترد تو کوئی قبول ہو گی، یہ سزاؤں کا سال ہے، اسکو سزاوں کے سال کے طور پر دیکھا جائے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 2024 الیکشن کا سال ہے ،کل دو ویڈیو وائرل ہوئی ہیں کوئی بائبل پر کوئی قرآن پر حلف لے رہا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ پیسہ چل رہا ہے، این اے 127 میں ووٹ کا ریٹ بیس ہزار تک پہنچ چکا ہے، پیپلز پارٹی نے ووٹ زیادہ خریدے ن لیگ لیٹ ہوئی،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ نااہلی پر الیکشن نہیں رکتا، موت پر رکتا ہے، نااہلی پر شیخ رشید نے الیکشن لڑا اور وہ جیتے، حنیف عباسی کیس میں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شذرہ منصب کافی لیڈ کر رہی ہیں، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شذرہ عمران خان کے خلاف الیکشن میں تین چار ہزار کی لیڈ سے ہاری تھیں، 2018 میں آرٹی ایس بیٹھ گیا تھا اور 72 گھنٹے بعد نتیجہہ آیا تھا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رانا تنویر پہلی پوزیشن پر آ چکے، اعجاز بھٹی نیچے چلے گئے جو پہلی پوزیشن پر تھے، رفاقت علی ٹی ایل پی امیدوار چوتھے پانچویں نمبر پر آ گئے،میاں جاوید لطیف مضبوط امیدوار تھے لیکن نیچے سلپ کر گئے، میاں بشیر تحریک انصاف کے ہیں اور اب سٹرانگ پوزیشن میں ہیں، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں اتفاق کرتا ہوںَ شیخوپورہ کا الیکشن بڑا خونی ہونے کا امکان ہے، وہاں اسلحہ بہت ہے، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز والوں نے اپنی ملیشیا بنا لی ہیں وہاں پر ریاست کو کام کرنا پڑے گا، اسلحہ کے خلاف مہم شروع ہوئی، اسکو اسلحہ سے پاک کرنا ہوگا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ این اے 117 یہاں علیم خان الیکشن لڑ رہے ہیں وہ اسوقت ذرا نیچے آ گئے ہیں اور پی ٹی آئی کے اعجاز بٹر پہلی پوزیشن پر ہیں، یہ آئی پی پی کو سیریس ایشو ہو رہا ہے،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ علیم خان ککے زئی برادری کا ووٹ لے گئے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے، مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ حمزہ کے مقابلے میں عالیہ حمزہ نمبر ون ہیں، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں نہیں مانتا، حمزہ کے حلقے مین شاہد خاقان کو بھی جتوا دیا گیا تھا، بہت کام کیا انہوں نے اس حلقے میں،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے تجزیہ کارمزمل سہروردی سے سوال کیا کہ لوگ تیار بیٹھے ہیں بدلے اتارنے ہیں کہ کیسے کرناہے، جس کے جواب میں مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ مجھے ایسا نہیں لگ رہا،نہ یہ ترکی کی طرح ہے نہ امریکہ کی طرح، یہ پارلیمنٹری سسٹم ہے، ہمارے شہروں میں ،رورل میں ایک پارٹی کا ایک امیدوار جیتتا ہے تو دوسرے حلقے میں دوسری پارٹی کا جیت جاتا ہے، لاہور سے ہی دیکھ لیں گزشتہ الیکشن کہیں سے پی ٹی آئی، کہیں سے ن لیگ، کہیں سے آزاد جیتے، کراچی کو دیکھیں ایم کیو ایم جیتتی تھی لیکن پھر کیا ہوا، ہمارے ہاں الیکشن میں امیدوار میٹر کرتے ہیں
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ووٹر ایڈ ہوئے ،سارے یوتھ ہیں جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ نوجوانوں میں گاؤں کے، چھوٹے شہروں کے نوجوان بھی ہیں،مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی سے لوگوں سے نفرت بڑھی ہے، مزمل سہروردی کاکہنا تھا کہ چند ہزار کے ووٹوں سے عمران خان کی سیٹیں نکالی تھیں، مردان والی سیٹیں دیکھ لیں، عابد شیر علی جو چار سال جلا وطن رہ کر آ گیا حلقے میں نام نہیں گیا تھا، دوسروں کے ڈبے خالی نہیں نکلے تھے، ان میں بھی ووٹ تھے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی معراج تھی جب چیف جسٹس اس کا تھا، ایکسٹینشن کے لئے ڈیل ہو چکی تھی، پرویز الہیٰ کے بیانات دیکھ لیں ، عمران خان کی گفتگو پر یقین کر لیں، یا چودھری کی گفتگو کی پر یقین کر لیں،ووٹوں کا مارجن دیکھا جائے تو اسوقت بھی کیا تھا، بہت کم ووٹوں سے سیٹیں جیتی گئی تھیں،
تین تین کروڑ میں بکنے والا پی ٹی آئی کا ٹکٹ آج دس ہزار میں لینے کو کوئی تیار نہیں،مزمل سہروردی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کے دن پتہ چل جائے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے،امیدواروں کی لسٹ آ جائے تو پھر پتہ چلے گا کہ کون ضمانتیں ضبط کروائے گا ، ابھی پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بھی خطرے میںہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ تین تین کروڑ میں بکنے والا پی ٹی آئی کا ٹکٹ آج دس ہزار میں لینے کو کوئی تیار نہیں ہے.شاہد خاقان عباسی کی باری نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر نامی نیشن کی ضرورت ہے تو ہم سے بات کریں، وہ شہباز شریف کی حکومت میں وزیر بنانے کو تیار نہیں تھے، پارٹی نے انکے خلاف کوئی بیان نہیں دیا جبکہ انہوں نے کئی بیان دیئے، اگر وہ پی ٹی آئی میں ہوتے تو انہوں نے ماں بہن ایک کر دینی تھی شاہد خاقان عباسی کی ، انکو شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ ن لیگ میں تھے اورچلے گئے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ شریف آدمی ہے، مریم اورنگزیب میرے شو میں نہیں آئیں گی.مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا پی پی کا ووٹر اینٹی نواز ہے،پنجاب میں ووٹر ن لیگ کا پی ٹی آئی نے چرایا ہے، پی ٹی آئی اس وقت عمران خان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے کمزور ہے،آٹھ فروری کو پتہ چلے گا کہ پی ٹی آئی کا ووٹر ن لیگ کی مخالفت میں پی پی کو ووٹ دیتا ہے یا نہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ووٹر استحکام پاکستان پارٹی کو تو ہر گز ووٹ نہیں دے گا
مزمل سہروردی نے انکشاف کیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جونیئر ججز جو پروموٹ ہو کر آئے ہیں انکو واپس بھیجیں گے، چار سیٹیں خالی ہوں گے، پھر میرٹ پر ججز آئیں گے، اعجازالاحسن ایسے چیف جسٹس ہوںگے جن کے ساتھ ججز نہیں ہوں گے، عمر عطا بندیال اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فرق آپ نے دیکھ لیا، نو مئی کے ملزمان کو جس طرح ضمانتیں ملی ہیں اس طرح تو عام ملزم کو بھی ضمانت نہیں ملتی،نو مئی کے مقدمات کافی تھی جیل میں رکھنے کے لئے لیکن پشاور اور لاہور ہائیکورٹ کے ججز نے ایسے ضمانتیں دیں جیسے نو مئی کو کوئی جرم ہی نہیں ہوا، عدلیہ نے نومئی کے ملزمان کی سہولت کاری کی انکو ریاست کیسے قبول کرے گی؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مرتے دم تک جو مراعات لیتے ہیں اسکا تو وہ بتاتے نہیں ہیں، پروگرام کھرا سچ میں نامور صحافی و تجزیہ کار مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ پاکستان کے جو عمومی معاشی حالات ہیں اس پر انکا ضمیر جاگے گا مگر ایسا نہیں ہوا،مجھے بڑا دکھ ہوا،
مبشر لقمان نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں بتائیں کوئی ایک کام جو چیف جسٹس نے آئین او قانون کے مطابق کیا ہو، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ یہ انکی اپنی عدلیہ کی ساکھ کا سوال تھا مجھے لگا، میں غلط بھی ہو سکتا ہون، مجھے لگا کہ جوڈیشری میں ان ہاؤس کریکشن کا کوئی نظام ہو گا، ججز آپس میں بات کرتے ہوں گے، لاہور ہائیکورٹ، سپریم کورٹ سے بات آئے گی، چیف جسٹس تک عوامی جذبات پہنچے ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ قومی خزانے میں رقم واپس کر رہے ہیں، عدلیہ کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی،حیا، شرم،ضمیر کا نظام اپنی جگہ لیکن …
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف لوگوں کا ضمیر ادھر ادھر نہ گیا ہوتا تو ملک کا یہ حال ہوتا، ملزم کو جب دیکھ کر کہ دیں گڈ ٹو سی یو، تو ضمیر کہان پر رہ گیا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ جج کے شایان شان نہیں ہے یہ،مجھے لگا کہ نئے ججز نوجوان ججز ہیں،جتنے دن یہ قرضہ رکھیں گے اپنے پاس ، میرے افسوس میں اضافہ ہو گا،
عبداللہ حمید گل کا کہنا تھا کہ آپ نے واقعی کڑا احتساب کرنا ہے تو پھر کسی کو بھی ریلیف نہیں ملنا چاہئے، جو بھی ملک کے خلاف ہو، ریاستی اداروں کے خلاف کوئی کاروائی کرے، اسکا احتساب ہو، پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے،ٹو دی پوائنٹ بات کی جائے، مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آرمی چیف نے دو میٹنگ کیں انہوں نے یہ بتایا کہ میں ڈنڈا چلاؤں گا اور ابھی تک چلایا نہیں، ڈالر لڑکھڑانا شروع ہو گیا ،یہ کیا وجہ ہے؟ جب ڈنڈا چلے گا تو کیا ہو گا، جو کام ہماری حکومتیں نہ کر سکیں وہ ایک میٹنگ سے ہی ہو گیا ،
عبداللہ گل کا کہنا تھا کہ آنے والے جرائم پر بھی کوئی ایف آئی آر نہیں کٹے گی، جب ایسے فیصلے ہوں گے تو پھر کیا ہو گا، جو اچھا کرے گا اسکا ٹھکانہ جنت ہے اور برے کا ٹھکانہ جہنم ہے،چینی کی شاٹیج کیوں ہوئی، کتنے لوگ پروڈکشن کر رہے؟ کون کر رہے یہ سب کو پتہ ہے، آرمی چیف صدق دل سے کام کر رہے ہیں،سوشل میڈیا پر میں ٹرینڈ دیکھ رہا ہوں، آرمی چیف کے اس اقدام کو بہت پذیرائی مل رہی ہے، چینی کی سمگلنگ کو پکڑا گیا ہے، جب کوشش کی جائے تو کام ہو جاتے ہیں،جب منی چینجر پکڑے جائیں گے تو انکو عدالت میں پیش کیا جائے گا پھر عدالت سے کیسا فیصلہ آتا ہے سب کو پتہ ہے،