Baaghi TV

Tag: مسائل

  • کراچی یونیورسٹی، گرلز ہاسٹل میں نامعلوم افراد کے داخلے کی کوشش،خوف و ہراس

    کراچی یونیورسٹی، گرلز ہاسٹل میں نامعلوم افراد کے داخلے کی کوشش،خوف و ہراس

    کراچی یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں نامعلوم افراد کے داخلے کی کوشش، طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا، طالبات کا احتجاج،رات بھر خوف کے مارے سو نہ سکیں

    جامعہ کراچی کے گرلز ھاسٹل میں گزشتہ رات، تقریباً 3:45 بجے، ایک پریشان کن واقعہ پیش آیا، کاریڈور میں زور دار دستکوں کا ایک سلسلہ گونجتا رہا جس سے سب طالبات نیند سے بیدار ہو گئیں،طالبات کے مطابق ایسا لگا جیسے کچھ لوگ اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے ہوں،خوف اور بے یقینی نے پورے ہاسٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ہم سب کو رات بھر نیند نہیں آئی۔ اس واقعے نے ہمیں اپنی حفاظت اور سلامتی کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے

    طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ سے جوابدہی مانگتے ہوئے کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا- ہاسٹل کے احاطے میں سی سی ٹی وی ناکارہ ہے، کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ ہونے والے واقعے میں کون ملوث تھے ،جامعہ کراچی میں طلبہ اور طالبات سیکڑوں مسائل میں مبتلا ہیں، طلباء کی حفاظت اور ذہنی سکون اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی ترجیحات کیا ہیں سمجھ سے بالاتر ہے؟

    جامعہ کراچی گرلز ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم بحیثیت اسٹوڈنٹس جامعہ کی انتظامیہ سے کئی بار درخواست کرچکے ہیں کہ ہاسٹل میں طالبات کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے َاور ہاسٹل کے کیمرے جو کہ کئی عرصے سے خراب ہیں ان کو تبدیل کیا جائے مگر انتظامیہ کی جانب سے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے

    جامعہ کراچی گرلز ہاسٹل مسائل کا گڑھ بن گیا ہے جہاں پینے کا صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات میسر نہیں، ہم نے ہاسٹل پرووسٹ اور وائس چانسلر کو کئی بار ان مسائل سے آگاہ کیا مگر بجائے مسائل کو حل کرنے اور طالبات کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کے انتظامیہ کی جانب سے ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے کہ اگر آپ میڈیا کو رپورٹ کریں گے یا ان مسائل کیخلاف آواز اٹھائیں گے تو آپ کو ہاسٹل سے نکال دیا جائے گا

    نوجوان کی برقعہ پہن کر گرلز ہاسٹل میں‌ داخل ہونے کی کوشش، کیا سلوک ہوا؟ جانیے تفصیل میں‌

    چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    یونیورسٹی طالبات کی نازیبا ویڈیو بنا کر وائرل کرنیکا کیس، بھارتی فوج کا اہلکار ملوث نکلا

    چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کا آپریشن جاری

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • ہم نے ملک کی اکانومی کو آگے بڑھانا ہے،شرجیل میمن

    ہم نے ملک کی اکانومی کو آگے بڑھانا ہے،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری دورہ عراق سے کل واپس آئے ہیں، الحمدللہ بہت کامیاب دورہ رہا، ملکی مسائل کے حل کے لیے ایک اچھا میسج آیا ہے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری ملک کے صدر رہ چکے ہیں، وہ جن چیزوں کو فوکس کررہے ہیں پاکستان کے مسائل ہے ہی وہی،ہمارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں زائرین نجف جاتے ہیں ان کو جو مسائل ہیں، تو حکمران کی ذمہ داری ہے وہ ا سکو حل کرے ،لوگوں کا مطالبہ تھا کہ نجف جانے والوں کے لیے اپنا دفتر ہونا چاہیے ، نجف میں اپنا قونصل خانے شروع کیا جارہا ہے،کربلا میں ڈیسک قائم کی جارہی ہے، وہاں پر جو مسائل ہیں اس کو حل کیا جائے،پاکستان عراق بزنس کونسل کا قیام بھی عمل میں آیا، قومی لیڈروں کو آپ کی مشکلات کا احساس ہے،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اس ملک کا مسئلہ مہنگائی ہے، ملک میں کاروبار کے لیے چارٹرڈ آف اکانومی کی بات ملک کے لوگوں کے لیے کررہے ہیں،کاروبار کرنے والوں کے مسائل کے لیے حل ہے، آصف علی زرداری چاہتے ہیں اس ملک میں مزید انڈسٹری لگائی جائے ، ہم نے ملک کی اکانومی کو آگے بڑھانا ہے،

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان رونا رو رہے ہیں کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے 

  • مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پائیدارترقیاتی اہداف کاحصول قومی ترجیح ہے، ملک کو اس وقت، موسمیاتی تبدیلیوں، صحت، تعلیم ،معیشت،صنفی عدم مساوات اور سماجی ترقی کے شعبوں میں چیلنجزکا سامناہے ، ان مسائل کے حل کے لئے ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلناہوگا،قومی احتساب اور بہتر طرز حکمرانی تمام عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

    پرویز الہیٰ کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد شجاعت حسین کا بیان بھی آگیا

    ان خیالات کااظہارانہوں نے ایس ڈی جیز کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے 2030 تک کے ایجنڈے کے لئے عزم کا اعادہ کیا۔ 2016 میں متفقہ قرارداد کے ذریعے اپنے قومی ترقی کے ایجنڈے کے طور پر اہداف طے کیے تھے تاہم کووڈ۔19 عالمی معیشت اور ہماری ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

     

    بیلنس کرنے کے نام پر عدالتی فیصلے ہوں گے تو نظام کیسے چلے گا؟عطاء اللہ تارڑ

     

    پائیدار ترقی کے نفاذ کو متاثر کرنے والے کئی عوامل ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، صحت، اقتصادی ترقی، غربت، صنفی عدم مساوات اور سماجی و اقتصادی چیلنجز شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیز کی تکمیل کے لیے کام کرنا اور ایجنڈا 2030 کی دیانتدارانہ عکاسی ضروری ہے۔ 2021 کی پائیدار ترقی کے اہداف کے انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 165 ممالک میں 129 ویں نمبر پر ہے جس کا مجموعی اسکور 58 فیصد ہے، بنیادی طور پر 17 اہداف میں سے ایک پر اس کی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیز کے لیے قومی گورننس تب ہی موثر ہو سکتی ہے جب عالمی گورننس کے مطابق ہم لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

    راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں لاکھوں لوگ بغیر کھانا کھائے سو جاتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنا ہو گا کہ ہمارے بچے ضروری غذائی اجزاء سے محروم نہ رہیں،بچوں کی غذائی اجزاء میں کمی ان کی نشوونما میں براہ راست رکاوٹ بن سکتی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان میں عوام کو صحت کے شعبے میں مسائل کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں خدمات تک بہت کم رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    بطور قانون ساز یہ ادارہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب کو یکساں اور معیاری صحت کی خدمات فراہمی کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے۔ قدرتی آفات کے اثرات کے ساتھ ساتھ ان حالات نے ملک میں غذائیت کی کمی کو ایک بہت بڑی تشویش کا باعث بنا دیا ہے، گزشتہ کئی سالوں کے دوران ملک میں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔

    اس شعبے میں موجود چیلنجزکا اب تک ازالہ نہیں کیاجاسکا۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے معیشت، صحت، تعلیم، مساوات اور سماجی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہواہے، ہمیں مل کر آج اپنے ماحول کی حفاظت کا عہد کرنا ہو گا اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر کل چھوڑنا ہو گا۔

    انہوں نے کہاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اولین ترجیح ہے، آب و ہوا کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیزکے حصول کے لئے ایک قومی بجٹ مختص کر کے تمام 17 اہداف کو قابل حصول بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی احتساب اور بہتر طرز حکمرانی تمام عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

  • پاکستانی حاجیوں کو  پاکستانی حکام کے ناقص انتظامات کے باعث حج کے دوران مشکلات کا سامنا،

    پاکستانی حاجیوں کو پاکستانی حکام کے ناقص انتظامات کے باعث حج کے دوران مشکلات کا سامنا،

    پاکستانی حاجیوں کو پاکستانی حکام کے ناقص انتظامات کے باعث حج کے دوران مشکلات کا سامنا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام کے ناقص انتظامات کی وجہ سے سعودی عرب کے مرکز 94 میں جو حاجی اس وقت مقیم ہیں۔اس وقت ان کو پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی حکام کی طرف سے انتظامات کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے سعودی عرب کے مرکز نمبر 94 میں بہت سے حاجی جو اس وقت ادر مقیم ہیں ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ نا بجلی ہے اور نا ہی پانی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ بہت پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

    مزید برآں یہ کہ مرکز نمبر 94کی بلڈنگ 901نمبربلڈنگ نمبر 902 اوربلڈنگ نمبر 904 میں پانی بلکل بھی نہیں آ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے حاجی بہت زیادہ پریشان ہیں۔ حج کے دوران ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادت کرے۔لیکن جو حاجی یہاں پر مقیم ہیں ان کو تو پانی کی عدم دستیابی درپیش ہے۔ جس کی وجہ سے یہ وضو بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کو وضو کرنے کیلئے تھوڑا دور جا کر کسی چیز میں پانی بھرنا پڑتا ہے۔جس کے بعد یہ اس پانی سے وضو کرتے ہیں۔

    پانی کی کمی کے علاوہ بجلی کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ اتنی گرمی ہے۔ اور حاجی بجلی نا ہونے کے باعث حاجی اے سی بھی نہیں چلا سکتے ہیں۔ ایک اور خبر یہ کہ عورتوں اور مردوں کو ایک ہی کیمپ میں ٹھہرایا گیا۔مردوں کو اوپر ٹھہرایا گیا ہے۔ جبکہ عورتوں کو نیچے ٹھہرایا گیا ہے۔

    اس تمام حوالے سے جب حاجیوں سے اس مطلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بجلی اور پانی کی عدم دستیابی کے علاوہ کھانے پینے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔حاجیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان مشکلات کا سامنا صرف پاکستانیوں کو ہی درپیش ہے۔ مزید یہ کہ حاجیوں نے بہت زیادہ حکومت پر بھی تنقید کی۔کہ حکومت بہت دعوے کرتی ہے۔لیکن پورے نہیں کرتی۔ حج کو پہلے سے زیادہ مہنگا کیا گیا۔ لیکن سہولت کوئی بھی فراہم نہیں کی گئی۔

  • حکومت تاجروں کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے،گورنر پنجاب

    حکومت تاجروں کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان سے بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے صدر چیمبر حافظ محمد یونس کی قیادت میں ملاقات کی، وفد میں چیمبر کے سینئر نائب صدراحمد علی جبار، نائب صدر منصور احمد اور دیگر اراکین شامل تھے.وفد نے گورنر پنجاب کو بہاولپور چیمبر اور علاقے کو در پیش مسائل سے آگاہ کیا.

    ملاقات کے دوران بہاولپورانڈسٹریل اسٹیٹ کی جلد تکمیل، سمال انڈسٹریز اسٹیٹ میں علیحدہ الیکٹرک فیڈر کا قیام اور لیبر کالونی کا قیام سمیت دیگر مسائل کے بارے میں گفتگو کی .اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ تاجر برادری کو در پیش مسائل کے حل کے لیے موجودہ حکومت بھر پور کوششیں کر رہی ہے.

    گورنر پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ جنوبی پنجاب کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے. ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے. بہاولپور میں انڈسٹریل اسٹیٹ کی ڈویلپمنٹ سے علاقے میں صنعتی ترقی ہو گی.

    بلیغ الرحمان نے مزید کہا کہ صنعتیں چلتی ہیں تو معیشت کا پہیہ چلتا ہے جس سے کئی خاندانوں کو روزگار ملتا ہے. بہاولپور اندسٹریل اسٹیٹ کو تیزی سے آگے کی طرف لے کر جائیں گے. ملک میں ترقی اور خوشحالی لانے لے لیے صنعتی ترقی بہت اہم ہے.

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ بہاولپور انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام بہاولپور کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے. مسلم لیگ ن نے سابق دور حکومت میں جنوبی پنجاب کی ترقی پہ خصوصی توجہ دی.

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں بہاولپور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ویٹرنری یونیورسٹی ، سدرن بائی پاس کی تعمیر، رنگ روڈ، جھانگی والا روڈ اور حاصل پور روڈ کو بھی دو رویہ بنانے میں کردار ادا کیا.

  • اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل میں کوتا ہی کو برداشت نہیں کروں گا،وفاقی محتسب

    اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل میں کوتا ہی کو برداشت نہیں کروں گا،وفاقی محتسب

    وفاقی محتسب نے بیرون ملک پا کستا نیوں کے مسا ئل کا نو ٹس لے لیا ،متعلقہ اداروں سے بر وقت رپو رٹیں نہ آ نے پر بر ہمی کا اظہار.

    وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے بیرون ملک پا کستا نیوں کے مسا ئل کا نو ٹس لیتے ہو ئے ان کے مسا ئل فور ی حل کر نے پر زور دیا ہے، متعلقہ اداروں سے بر وقت جواب اور رپو رٹیں نہ آ نے پر بر ہمی کا اظہا ر کر تے ہو ئے انہوں نے بیرون ملک پا کستا نیوں سے متعلق تمام اداروں کو اپنے ہاں گر یڈ بیس کے ایک افسر کو فو کل پر سن مقرر کر نے کی ہدا یت کی۔

    انہوں نے تمام مشنز کو وفاقی محتسب کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک کر نے کی بھی ہدایت کی جس سے کا غذ کی بچت کے ساتھ ساتھ رپو رٹیں بھی بر وقت مو صول ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پا کستان کے 128 مشنز کے سر برا ہ کھلی کچہریوں کو زیادہ مو ئثر بنا ئیں تا کہ بیرون ملک پا کستا نیوں کے مسا ئل جلد حل ہوں اور انہیں دیا ر غیر میں کسی پر یشا نی کا سا منا نہ کر نا پڑ ے۔

    وفاقی محتسب نے بیرون ملک پا کستا نیوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلا س کی صدا رت کی۔اجلا س میں اسپیشل سیکر ٹر ی خا رجہ امور خا لد ایچ میمن، قا ئم مقام چیئر مین نا درا بر یگیڈیر خا لد لطیف، امیگر یشن بیو رو کے ڈائر یکٹر جنر ل طا ہر نور کے علا وہ ائر پورٹ سیکو رٹی فو رس، ایف آ ئی اے، بی ای او ای، پی آئی اے، وزارت صحت اور کسٹم سمیت متعدد اداروں کے ذمہ دار افسروں نے شر کت کی۔

    وفاقی محتسب نے کہا کہ بیرون ملک مقیم 90 لا کھ پا کستانی ہر سال تقر یباًتیس ارب ڈالر کا زر مبا دلہ پا کستان بھیجتے ہیں، اس لئے ان کے مسا ئل کو تر جیحی بنیادوں پر حل کر نا ہم سب کی ذمہ داری ہو نی چا ہیے، اس سلسلے میں کسی کو تا ہی کو بر داشت نہیں کیا جا ئے گا۔ وفاقی محتسب نے تمام اداروں سے کہا کہ وہ اپنی ما ہا نہ کا رکر دگی رپورٹ بر وقت ارسال کریں کیو نکہ اس سے ہی محکموں کی کا ر کر دگی کا اندا زہ لگا یا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سپر یم کو رٹ کے جج کے برا بر اختیا رات ہونے کے با وجودہم افہام و تفہیم سے مسا ئل حل کر نے کی کو شش کر تے ہیں لیکن اگر کو ئی ہما رے احکا مات کی پر واہ نہ کر ے تو ہم اپنے اختیا رات استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں بریفنگ کے دوران بتا یا گیا کہ پا کستان کے آ ٹھ بین الا قوامی ہو ائی اڈوں پر وفاقی محتسب کے قا ئم کر دہ ون ونڈو سہو لتی ڈیسکوں پر با رہ متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران چو بیس گھنٹے مو جود رہتے ہیں اور مو قع پر ہی شکا یات حل کر نے کی کو شش کر تے ہیں۔

    بر یفنگ میں بتا یا گیا کہ 2021 ء کے دوران تقریبا ً 54 ہزار شکا یات میں سے چا لیس ہزار شکا یات ون ونڈو سہو لتی ڈیسکوں کے ذریعے آ ئیں۔ گز شتہ بر س پہلی سہ ما ہی میں 10473 شکا یات مو صول ہو ئیں جب کہ اس سال پہلی سہ ما ہی میں 22295 شکا یات مو صول ہوئیں یو ں گز شتہ بر س کے مقا بلے میں اس سال 11822 شکایات زیا دہ آ ئیں جو کہ 112 فیصد اضا فہ بنتا ہے اور یہ وفاقی محتسب کے احکا مات کی روشنی میں میڈ یا اور دیگر ذرا ئع سے آ گا ہی مہم کا نتیجہ ہے۔

  • نیول چیف نے ریسرچ پیپرز کے بہترین تحقیق پر مبنی مقالے  پر پینل اراکین کو سراها!

    نیول چیف نے ریسرچ پیپرز کے بہترین تحقیق پر مبنی مقالے پر پینل اراکین کو سراها!

    پاکستان نیوی آپریشنل کمانڈز سیمینار کا کراچی میں انعقاد ہوا۔
    پاکستان بحریہ کے آپریشنل کمانڈز سیمینار کا انعقاد بحریہ آڈیٹوریم کراچی میں کیا گیا۔ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے اس موقع پر بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیول چیف نے اعلیٰ سطح کی جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ چیف آف دی نیول اسٹاف نے بھرتیوں اور ترقی کی حکمت عملی کو مستقل طور پر ابھرتے ہوئے خطرات سے ہم آہنگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دشمن کی طرف سے کسی بھی قسم کی غلط کاروائی کا بھرپور جواب دیا جاسکے۔
    امیر البحر نے بحری دفاع کو یقینی بنانے اور مادر وطن کے بحری مفادات کو ہر قیمت پر تحفظ دینے کے پاک بحریہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سمندری خطرات اور چیلنجز کے خلاف ملکی دفاع کے لیے ایک متوازن اور مضبوط فوج کو برقرار رکھنے کے لیے پاک بحریہ کی جانب سے کیے جانے والے مختلف ترقیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی نے ریسرچ پیپرز کے معیار اور بہترین تحقیق پر مبنی مقالے پیش کرنے پر پینل اراکین کی تعریف کی اور پیشہ ورانہ انداز میں سیمینار کا انعقاد کرنے پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
    پاک بحریہ کی آپریشنل کمانڈز یعنی فلیٹ اور کوسٹل کمانڈ کے زیراہتمام پاکستان نیوی آپریشنل کمانڈز سیمینارسالانہ منعقد ہونے والا ایک اہم پروگرام ہے جس کے دوران متعلقہ کمانڈز کے منتخب شدہ افسران موجودہ پیشہ ورانہ بحری مسائل اور امور پر مقالے پیش کرتے ہیں۔

  • جوڈیشل ونگ کے جوانوں کے مسائل کا فوری حل نکالنے کا آرڈر

    جوڈیشل ونگ کے جوانوں کے مسائل کا فوری حل نکالنے کا آرڈر

    ڈسٹرکٹ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک نے جوڈیشل ونگ سے دربار کیا،
    ڈی ایس پی جوڈیشل سہیل کاظمی اور آر آئی جوڈیشل انسپکٹر بشیر سمیت اہلکاران نے شرکت کی. ایس پی عمران احمد ملک نے جوڈیشل ونگ کے جوانوں کے مسائل سنے. ایس پی ہیڈ کوارٹرز نے جوانوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری احکامات جاری کئے. عمران احمد ملک کی جوڈیشل ونگ میں ڈیوٹی ٹائمنگ اور ہفتہ وار یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی. ایس پی عمران احمد ملک کا بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کیلئے تعریفی اسناد کا اعلان کیا. اس موقع پر ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک کا کہنا تھا کہ ملزمان کی عدالتوں میں بحفاظت پیشی کے حوالے سے جوڈیشل ونگ کا کردار قابل ستائش ہے. انہوں نے کہا کہ دوران ڈیوٹی غفلت اور لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی.

  • حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    "جیے بھٹو”، "اک واری فیر شیر”، "25 لاکھ علماء کا وارث”، "انتہا درجے کی بوٹ پالشی”، "لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان عرف مغالطہ پاکستان پر قرآن و حدیث سے بڑھ کر ایمان” اور "سانہو کی سے تہانو کی” سطحی اور نیچ نعرے وہ گھٹیا افعال اور افکار ہیں جن سے ہماری مجموعی اور عمومی ذہنیت اور دماغی استعداد کار کا انداز کرنا بالکل مشکل اور ناممکن نہیں۔

    ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر منحصر لوگ ہیں جن کا انحصار ہمیشہ دوسروں پر رہا ہے, کبھی ہم میں سے کسی کو یہ خیال نہیں ستاتا کہ میں بھی انسان ہوں اور اللہ نے مجھے بھی دماغ دے کر پیدا کیا ہے سو میں کیونکر مسلسل ایک سوراخ سے بار بار ڈسا جاؤں؟

    ایسی قومیں ترقی نہیں تنزلی کی منزلیں بہت جلد اور تیز رفتار سے طے کرتی ہیں۔

    ہم اتنے پکے پیر مقلد اور مکلف ہیں اپنے بیچ موجود طاقتور افراد اور اداروں کے کہ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں جس کا نہ کوئی سرا ہے نہ ہی حد۔

    خود سے تحقیق اور تفتیش کا نہ ہم میں یارا ہے اور نہ ہی کوئی خاص شوق کہ ہم جان پائیں کہ آخر ہم کن نظریات اور افکار کی پیروی میں تباہی کی طرف گامزن ہیں۔

    ہماری محبتوں کی طرح ہماری نفرتیں بھی سیانی ہیں کہ یہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا فرق ہمارے کہے بنا کرلیتی ہیں۔

    پاکستان کو اللہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے ورنہ ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی خود اس کو تباہ کرنے کی۔

    آج ہمیں قرضوں کی دلدل نظر آرہی ہے, ہمارا معاشی دیوالیہ نظرآرہا ہے, ہمارے موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور بیوقوفی یا سیدھے لفظوں میں عوام دشمنی نظر آرہی ہے پر ہمیں پہلے خبر ہونے کے باوجود سابقہ کسی بھی حکمران خواہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری کی کوئی برائی بھی برائی نہیں لگی۔

    ہم نے ہمیشہ لاڈلی اولاد کی طرح اپنے اپنے من پسند حکمرانوں کی لوٹ مار اور غلط فیصلوں کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر دفاع بھی کیا اور آج جب بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے تب بھی ہمارے اندر سے ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی محبت جانے کا نام نہیں لے رہی۔

    واللہ آج جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو سمجھ پاتا ہوں کہ جب جب اللہ نے بت پرستی اور شرک کا قلع قمع کرنے کو نبی معبوث کیئے تو انہیں شدید ردعمل اور تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور کیونکر بت پرست امتوں کو بت پرستی گناہ نہیں لگی اور کیونکر وہ بت پرستی سے دستبردار نہیں ہوئے؟

    ہمارے بیچ بھی بت پرستی نے جڑیں بہت گہری کرلی ہیں۔

    ہم نے شخصیات کے بت سجا لیے ہیں, نظریات کے بت سجا لیے ہیں, اداروں کے بت سجا لیے ہیں, افکار کے بت سجا لیے ہیں, ذاتیات کے بت سجا لیے ہیں, آزادی نام کی دیوی کے بت سجا لیے ہیں, بغاوت کے بت سجا لیے ہیں, دولت کے بت سجا لیے ہیں, شہرت کے بت سجا لیے ہیں, علم و عمل اور الفاظ کے بت سجا لیے ہیں, اور تو اور حق اور سچ کے بت بھی سجا لیے ہیں, غرض ہر وہ چیز؟ انسان، واقعہ، جگہ اور نظریہ ہماری بتوں کی لسٹ میں موجود ہے جس سے ہم متاثر ہوسکیں اور جن پر انحصار کرکے ہم زندہ رہنے کا بے ڈھنگا مقصد طے کرسکیں۔

    بت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ انہیں ایک تو بتوں میں خدا اور ناخدا دونوں نظر آتے اور دوم انہیں کسی صورت اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ بت پرست ہیں۔

    آج ذرا ن لیگ والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پیپلز پارٹی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پی ٹی آئی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جمعیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جماعت اسلامی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فنڈا مینٹلز کا حال ملاحظہ کرلو, لبرلز کا حال ملاحظہ کرلو, ڈیموکریٹکس کا حال ملاحظہ کرلو, سینٹرکس کا حال ملاحظہ کرلو, صحافیوں کا حال ملاحظہ کرلو, ایکٹیوسٹس کا حال ملاحظہ کرلو, بوٹ پالشیوں کا حال ملاحظہ کرلو, فرقہ بازوں کا حال ملاحظہ کرلو, عصبیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, ملحدوں کا حال ملاحظہ کرلو, میں حق سچ کہتا اور لکھتا رہوں گا چاہے میری جان چلی جائے کہنے والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فیمنسٹس کا حال ملاحظہ کرلو اور دانشوروں کا حال ملاحظہ کرلو۔

    کون ہے ان مذکورہ اور وغیرہ وغیرہ میں جو کسی نا کسی بت کا پجاری اور اس بت کے مندر کا پروہت نہیں؟

    اب جب ان میں کوئی اللہ کا بندہ کوئی اللہ کا ولی اٹھ کر احساس دلاتا ہے, ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے یہ بتا کر کہ تمہارا مسئلہ بھوک, مہنگائی اور بیروزگاری مطلب روٹی, کپڑا اور مکان نہیں بلکہ بت پرستی ہے جو تم میں وطن پرستی, شخصیت پرستی, نظریہ پرستی اور انجمن پرستی وغیرہ کی شکل میں موجود ہے تو اسے لٹھ لیکر سب مارنے پر تل جاتے ہیں اور جہاں تک زور چلتا ہے کردار کشی اور گالیوں کے تیرو تفنگ کے ساتھ اس پر ہر وقت حملہ آور رہتے ہیں۔

    یہ جو سب افرا تفری اور تباہی و پریشانی کے ساز بج رہے ہمارے گردو نواح میں انہیں اب برداشت کرو کہ پوجا کا لازمی جزو ہے بے ہنگھم اور سر دردی والی موسیقی۔

    حق اور سچ کا صرف ایک ہی میعار ہوتا ہے اور وہ ہے خالص پن اور مضبوط دلائل, لہذا اپنے ذاتی میعارات سے دستبرداری اختیار کرو اور بت پرستی چھوڑ کر حق کی طرف چلے آؤ۔

    اذانِ حق ہر دور میں دی جاتی رہی ہے خواہ دور کوئی بھی ہو لہذا اپنے اپنے صنم کدے مسمار کرکے حق و سچ کے قبلے کی طرف منہ کرو اور حق و سچ کی پہچان یہی ہے کہ وہ تاثیر میں ٹھنڈے جبکہ ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں۔

    جی ہاں جن جن بتوں کی ہم پوجا کررہے ان کی بدولت ہم بت پرست ہی ہوئے کہ یہ بت بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اور خود کو کسی نقصان سے بچا نہیں سکتے لہذا ان کی پوجا سوائے ہمارے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کہ اور کچھ نہیں کررہی۔

    آئیے سوچنا اور تحقیق کرنا شروع کیجیے اور کڑوے سے کڑوے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت کیجیے تاکہ ہم پر نادیدہ بتوں کی پوجا کی بدولت جو نادیدہ و دیدہ عذاب مسلط ہیں ان سے چھٹکارہ مل سکے۔

    سوچیے گا ضرور۔

  • انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

    انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

    ضلع کرک خٹک قوم کا مسکن ہے۔ جہاں پر اکثریت خٹک قوم کی ہے۔ 1982 میں جب کرک کو علیحدہ ضلع بنا یا جارہا تھا۔ تو اس کی پشت پر یہ سوچ حاوی تھی کہ یہ خٹک اکثریت ضلع ہوگا جہاں پر مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی۔ لیکن یہاں کی نااہل سیاسی قیادت نےذاتی مفادات کےلئے خٹک قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ نتیجتاً یہاں کی عوام آج خٹک کی شناخت سے زیادہ نصرتی، لنڈ، عیسک، ماشی خیل، وژدے، بانڈہ وال کی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔لیڈر کا کام عوام کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر لیڈر نہیں بلکہ ذاتی مفادات پرست، لالچی، خودغرض،تنگ نظر، معتصب اور بیو پار قابض ہیں۔ جن کو یہاں کی عوام سے کچھ غرض نہیں صرف انتخابات میں علاقہ پرستی، تنگ نظری اور تعصب پھیلاتے ہیں۔ یہ اب ہمارا پیدائشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 90 کی دہائی میں لتمبر میں ڈگری کالج قائم ہوا تو ان سیاسی پنڈتوں نے کالج لتمبر کی بجائے ایک اور علاقے میں منتقل کر دیا۔ کالج کے لیے شاندار بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ 1996 میں ہائی سکول لتمبر کو کالج بلڈنگ میں منتقلی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ لیکن اہلیان لتمبر ڈھٹ گے بالآخر 2001 میں مشرف دورہ حکومت میں لتمبر کو جائز حق مل گیا۔ یہ ایک واحد مثال نہیں بلکہ ان سیاسی پنڈتوں کی تنگ نظری اور متعصبانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ طبقہ عوام مفادات اور اجتماعی کاموں کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کرک کی مثال ماں ہے اور ہر باسی بیٹا ہے۔ ہر بیٹے کی ضروریات کو پورا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج تحصیل بانڈہ داؤد شاہ اور لتمبر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ گڈی خیل میں کینسر کی وباء ہے۔ تھل اور بہادر خیل میں پانی کی قلت ہے۔ کرک شہر میں اعلی یونیورسٹی اور ہسپتال کی ضرورت ہے۔ چونترہ میں تعلیمی اداروں اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ آج ان سطور کی وساطت سے کرک کے تعلیم یافتہ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان پنڈتوں کی متعصبانہ، تنگ نظری اور خود غرضانہ سوچ کو شکست دے کر کرک کے تمام باسیوں کو اپنائیت کا پیغام دیں۔ ہم ان پنڈتوں کی تقسیم کو نہیں مانتے ہماری پہچان کرک ہے۔ آئیں ملکر کرک کو عظیم ضلع بنائیں۔ ہر باسی اپنے حصہ کا کردار ادا کریں۔