Baaghi TV

Tag: مساجد

  • بھارت : اذان دینے پرمساجد کوجرمانہ ادا کرنے کا حکم

    بھارت : اذان دینے پرمساجد کوجرمانہ ادا کرنے کا حکم

    بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر 7 مساجد کو پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خبررساں ادارے”انڈیا ٹو ڈے” کے مطابق ریاست اتراکھنڈ کے علاقے ہریدوار میں ہائیکورٹ نے لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز میں اذان دینے پر جامع مسجد ہریدوار، عباد اللہ ہتلہ (ککر والی) مسجد، بلال مسجد، صابری جامع مسجد اور دیگر 3 مساجد پر پر جرمانہ عائد کردیا۔

    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی

    مساجد کی انتظامیہ کو پانچ ہزار فی مسجد جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایس ڈی ایم پورن سنگھ رانا کی جانب سے کی گئی مساجد کی انتظامیہ نے سماعت کا بائیکاٹ کیا تھا۔

    ایس ڈی ایم رانا نے کہا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کے لیے آواز کی سطح کی حد مقرر کی گئی ہے چند شکایات پر کاروائی کی گئی ہے-

    دوسری جانب مسلم عالم محمد عارف نے کہا کہ ایک میٹنگ میں سب نے آواز کو کم رکھنے کو تسلیم کیا تھااس میں کوئی ہرج نہیں ہے لیکن شور شرابہ اذان سے نہیں بلکہ شادی بیاہ، گانے بجانےگاڑیوں کے ہارن وغیرہ سےہوتا ہے شادیوں میں ڈی جے صبح 1 بجے تک موسیقی بجاتے ہیں پولیس اس قانون کا اطلاق صرف مساجد پر کرتی ہے دیگر کو چھوڑ دیتی ہیں۔ ہم چالان بھر دیں گے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم کرنے کا انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے۔

    واضح رہے کہ اتر اکھنڈ میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کی سطح کم سے کم مقرر کی گئی ہے جس پر مقامی بی جے پی رہنماؤں نے ان سات مساجد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

    مودی کی جماعت کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا ان مساجد نے لاؤڈاسپیکر پر آواز کی مقرر کردہ حد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اونچی آواز میں اذان دی جس سے بزرگ اور بیمار شہریوں کے آرام میں خلل پڑا۔

    میانمار فوج کی مقامی گاؤں میں منعقدہ تقریب میں فائرنگ،7 افراد ہلاک متعدد زخمی

  • سعودی ولی عہد کا دورِ رسالتﷺ سے متعلق 5 یادگار مساجد کی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد کا دورِ رسالتﷺ سے متعلق 5 یادگار مساجد کی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ

    ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تاریخی اہمیت کی حامل 5 قدیم مساجد کی اپنی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کےمطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی 5 قدیم اورتاریخی مساجد کو اصلی حالت میں بحال کرنے اور مزید توسیع و ازسر نو تعمیر کا فیصلہ کیا ہےجس کا مقصد ان مساجد کے تعمیراتی کردارکی سالمیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ ان کے تاریخی تانے بانے کی حفاظت اور بحالی ہے۔ یہ مساجد پچھلی صدیوں اور دہائیوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں متاثر ہوئی تھیں۔

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    یہ وہ مساجد ہیں جو نبی کریم ﷺ کے دور میں پیش آنے والے اہم تاریخی واقعات کے تناظر میں عباسی دور میں بطور یادگار تعمیر کی گئی تھی مکہ معظمہ کی جن مساجد کی بحالی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، ان میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے دور میں تعمیر کی جانے والی مسجد ’بیعہ‘ ہے یہ مسجد شعب منیٰ میں جمرہ العقبہ کے قریب تعمیر کی گئی تھی۔

    وہ پہلی مسجد ہے جسے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے دوران مکہ مکرمہ میں ترقی کے لیے چناگیا ہےہجرت مدینہ سے قبل اسی مقام پرنبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے قبائل اوریہود کےدرمیان تاریخی معاہدہ طےپایا تھا مسجد شعب الانصار میں واقع ہےجو بیعت کی جگہ ہے اس مسجد میں بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی۔

    جاپان میں 4 سال تک کے بچوں کیلئے ملازمت

    بیعہ مسجد کو کوہ عقبہ کے پیچھے نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ یہ 1428ھ میں جمرات کے توسیعی منصوبوں کے نتیجے میں مکہ المکرمہ اور مقدس مقامات کےنشانات اور یادگاروں کا ایک مرئی حصہ بن گئی بحالی کےبعد مسجد کا رقبہ پہلےجیسا یعنی 457.56 مربع میٹر ہی رہے گا۔ اس میں ایک وقت میں 68 نمازیوں کی گنجائش ہوگی۔

    اس منصوبے کا مقصد جدہ میں دو مساجد کو تیار کرنا ہے جن میں سے ایک حریت الشام میں ابو عنابہ مسجد ہے، جس کی پہلی تعمیر 900 سال سے زیادہ پرانی ہے بحالی سے قبل اس کا رقبہ 339.98 مربع میٹر تھا جب کہ بحالی کے بعد اس میں 360 نمازیوں کی گنجائش موجود ہوگی۔

    علاوہ ازیں بحالی کے منصوبے میں مکہ معظمہ کہ 700 سال پرانی مسجد الخضر کو بھی اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا اور اس میں مزید توسیع بھی کی جائے گی۔ جو مسجد حرام سےتقریباً 66 کلومیٹر کے فاصلے پر الذھب اسٹریٹ پر واقع ہے یہ 700 سال سے زیادہ پرانی ہے الجموم گورنری میں واقع ’’الفتح مسجد‘‘ کو بھی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

  • جرمنی:2014 سےلیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:مگرعالمی برادری خاموش تماشائی

    جرمنی:2014 سےلیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:مگرعالمی برادری خاموش تماشائی

    برلن :جرمنی:2014 سے لیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:اس حوالے سے فیرانٹرنیشنل رائٹس گروپ نے پریشانی کا اظہارکرتے ہوئے کچھ خطرناک اعدادوشمار بھی جاری کیے ہیں تاکہ عالمی برادری کو دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا احساس بھی ہوجائے ،اس تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق، 2014 سے اب تک جرمنی میں 800 سے زیادہ مساجد دھمکیوں اور حملوں کا نشانہ بنی ہیں،

    سانحہ کرائسٹ چرچ ،مساجد پر حملے کی ویڈیوز کیوں شیئر کیں.عدالت نے شہری کو جیل بھیج…

    ذرائع کے مطابق فیئر انٹرنیشنل گروپ نے مساجد پر حملوں کے لیے جرمنی کے پہلے رپورٹنگ سینٹر کی بنیاد رکھی ہے، پھر اس گروپ نے 2014 سے 2022 کے درمیان حملوں، توڑ پھوڑ اور دھمکیوں کے تقریباً 840 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔2018 میں ہونے والے جرائم کے تفصیلی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر حملوں میں مجرموں کی شناخت نہیں ہو سکی، جس سے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے خلاف نازیوں یا بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے مزید حملوں کو ہوا ملی۔

    2018 میں مساجد کے خلاف ریکارڈ کیے گئے 120 حملوں میں سے صرف نو واقعات میں مجرموں کی شناخت ہو سکی۔

    او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے تشدد کی مذمت کردی

    "یہ شرح تشویش کا باعث ہے،” برینڈیلیگ کے ماہرین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 20 واقعات میں، جن میں آتش زنی کے حملے شامل ہیں، مشتبہ افراد کی موت یا بہت زیادہ جسمانی نقصان پہنچانے کا ارادہ ہے،” اس نے مزید کہا۔”عام طور پر، پولیس افسران بہت تیزی سے جائے وقوعہ پر پہنچے اور فوری طور پر تحقیقات شروع کر دیں۔ اس کے باوجود، آج تک تقریباً کوئی بھی واقعہ حل نہیں ہو سکا،‘‘

    ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ جو لوگ پکڑے گئے ان کو سزائیں بھی نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے مسلمانوں پر خوف طاری ہے اورحملہ آور مزید نڈراوربے خوف ہوکرحملے کررہے ہیں‌

    بھارت : ہندوانتہا پسندوں نےمسجد کوآگ لگا کرشہید کردیا

    رپورٹ کے مطابق، بائیں بازو کے انتہا پسند اور پی کے کے  اور ایسے ہی وائی پی جے دہشت گرد گروپ کے پیروکار مساجد کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کے پیچھے تھے، جب کہ ان میں سے زیادہ تر دائیں بازو کے انتہا پسندوں یا نازی گروپوں نے کیے تھے۔جرمنی جوکہ 83 ملین سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، یہ فرانس کے بعد مغربی یورپ میں مسلمانوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے

  • ہندوانتہاپسند وں کا مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ

    ہندوانتہاپسند وں کا مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ

    ممبئی: بھارت میں اذان کیخلاف مہم چلائی جارہی ہے ہندوانتہاپسند تنظیم نے مساجد میں اذان دینے کے لئے لاؤڈاسپیکرز ہٹانے کی دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی : بھارت میں ہندوانتہاپسندوں نے مسلمانوں کا جینا مشکل کردیا ہے حجاب کے خلاف بھی باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے اورباحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں جانے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی جاچکی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمان اورپاکستان دشمن بال ٹھاکرے کے بھتیجے کی ہندوانتہاپسند تنظیم نے ریاست مہاراشٹرمیں مساجد میں اذان کے لئے نصب لاؤڈاسپیکرز3مئی تک ہٹانےکی دھمکی دے دی۔

    انتہاپسند تنظیم کا کہنا ہے اگرمساجد سے لاؤڈاسپیکرنہ ہٹائے گئے تومساجد کے باہرلاؤڈاسپیکررکھ کر ہندوکے مذہبی گیت اوراشلوک بجائے جائیں گے۔

    بھارت : ہندوانتہا پسندوں نےمسجد کوآگ لگا کرشہید کردیا

    ٹھاکرے نے اسے ایک سماجی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ایم این ایس کے سربراہ نے کہا، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، مذہبی نہیں، میں ریاستی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس میں پیچھے نہیں ہیں۔ جو کرنا چاہتے ہو کرو۔”

    اس کے ساتھ ہی ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ممبئی کے مسلم علاقوں میں مساجد پر چھاپے مارنے کا مطالبہ کیا کہا کہ وہاں رہنے والے لوگ ’’پاکستان کے حامی‘‘ ہیں۔

    نئی دہلی: گائے ذبح کرنے کا الزام،مسلمان بزرگ تشدد سے جانبحق،کرناٹک:مسلمان پھل فروش…

    انہوں نے کہا میں پی ایم مودی سے مسلمانوں کی کچی آبادیوں میں مدرسوں پر چھاپہ مارنے کی اپیل کرتا ہوں۔ پاکستانی حامی ان جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں ممبئی پولیس جانتی ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے ایم ایل اے انہیں ووٹ بینک کے لیے استعمال کر رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس آدھار بھی نہیں ہے، لیکن ایم ایل اے وہی بنواتے ہیں۔

    دوسری جانب مساجد میں لاؤڈ اسپیکرکے معاملے پر مہاراشٹر حکومت کے وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے جمعہ کو مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کو نشانہ بنایا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی میں نامہ نگاروں نے ٹھاکرے سے بی جے پی اور ایم این ایس کے مفت لاؤڈ اسپیکر تقسیم کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے، لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کے بجائے، اسے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں بات کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے ہمیں بغیر پیچھے ہٹے ڈیزل، سی این جی کی قیمتوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔آئیے بات کرتے ہیں کہ پچھلے دو تین سالوں میں کیا ہوا۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • بھارت: ہندوانتہا پسندوں کی مسجد پر ہندو توا کا پرچم لہرانےاور’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کی ویڈیووائرل

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں کی مسجد پر ہندو توا کا پرچم لہرانےاور’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کی ویڈیووائرل

    غازی پور: بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ریاست راجستھان میں 4 اپریل کو ہندو بلوائیوں کی بڑی تعداد نے ضلع کرولی میں مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اور گھروں کو نذر آتش کر دیا ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ضلع کرولی میں کیے گئے حملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔


    ایسی ہی بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی پور کے گاؤں گہمار میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسجد کے تقدس کو پامال کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

    بھارتی گلوکارہ کا اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہاتھوں میں زعفرانی رنگ کے جھنڈے تھامے ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے مسجد کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ ایک انتہا پسند ہندو مسجد کی چھت پر چڑھا ہوا ہے اور اس نے ہاتھ میں ہندوتوا کا جھنڈا بھی پکڑ رکھا ہے اور وہ جھنڈا لہرانے کے ساتھ نعرے بھی لگا رہا ہے۔
    https://twitter.com/_mushtaque_/status/1510819414098251779?s=20&t=R–KxckTN8m3WH1HYo5v4A
    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کافی بڑی تعداد میں ہندو انتہا پسند بلوائی نیچے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہیں اور لاؤڈ اسپیکر پر نہ صرف ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگارہے ہیں بلکہ مسجد کے اوپر چڑھ کر اور ارد گرد خوفناک طریقے سے رقص بھی کررہے ہیں۔

    برج الخلیفہ پر اذان کے ساتھ الفاظ بھی آویزاں کئے جائیں گے

  • اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہمارے ہاں اکثر یہ بات عام ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اچھا لگتا ہے مگر وہی کام جب کوئی اور کرے تو وہ ہمارا نا پسندیدہ ہو جاتا ہے3 دہائیاں قبل پاکستان میں ایک مذہبی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے دنیا بھر کے انسانوں بلخصوص مسلمانوں کے لئے ہر سماجی،خدمتی کام کیا ان کے اس کام کی بدولت ان پر پابندیاں لگیں اور ان کے کام بند ہوتے گئے اور وہ نئے ناموں سے پھر آتے گئے-

    یہ ایک کھیل سا بن گیا پابندیاں لگنا اور پھر ان کا نئے ناموں سے آنا خیر انہوں نے اپنے دعوتی،سماجی خدمتی کام نا بدلے اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا وقت گزرتا گیا اور ان کے کاموں میں جدت آتی گئی اور پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمی اداروں نے ان پر پابندیاں عائد کروا دیں-

    ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ لوگ ٹیلی ویژن،تصویر کشی اور جمہوریت کے سخت خلاف تھے اور جمہوری نظام کو کفریہ نظام کہا کرتے تھے اور اپنے سٹیج سے اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم کبھی اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے پھر رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کے نقصانات کے ساتھ افادیت کو دیکھتے ہوئے خود انہوں نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا جس سے دعوتی و خدماتی کاموں میں تیزی آئی اور لوگوں میں ایک جذبہ نمایاں ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ تو ان رفاعی،فلاحی،دینی کاموں کی لگن میں ان سے جڑ گئے تو کچھ لوگوں نے اپنی جماعتیں بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کر دیا-

    اسی طرح بطور ایک مذہبی جماعت اپنے اوپر لگی پابندیوں کے باعث دعوتی،سماجی خدماتی کاموں کی رکاوٹ کے باعث ان کو احساس ہوا کہ اس دور نظام جمہوریت ( جو کہ دراصل غیر شرعی ہے) کا حصہ بنے بنا اپنا وجود رکھنا ناممکن ہےسو ماضی کے واضع اعلانات کے باوجود انہوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا جس پر انہی کے بعض اپنوں نے سخت اعتراض کیا کہ آپ نے کم و بیش 3 دہائیوں تک جمہوریت کو کفریہ نظام کہا اور اس سے دوری اپنائی اور اب خود ہی سیاست میں آکر اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں اس صورتحال کا راقم نے خود عملی مشاہدہ کیا اور دونوں فریقین کیلئے کچھ اصلاح کرنے کی کوشش کی-

    اس جماعت کے قائدین و کارکنان کے نام یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنی جلدی فیصلہ کرنا اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ لوگوں نے لوگوں کے ٹی وی تڑوا دیئے اور پھر رفتہ رفتہ ٹی وی کے نقصانات کی طرح فوائد دیکھتے ہوئے خود ہی ٹی وی پر آکر دور حاضر کے ڈیجیٹل فوائد سے مثبت کام لیا اور اپنے دعوتی کاموں کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا اس سے قبل جب آپ لوگ ٹی وی مخالف تھے تو بہت کم ہی لوگ آپ کے کاموں سے واقف تھے یہ مخالفت آپکی غلطی تھی-

    اسی طرح جب آپکو احساس ہوا کہ اس جمہوری نظام کا حصہ بنا بنے اس دور میں اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہے تو آپ نے اپنی بقاء اور اپنے خدماتی کاموں کے تسلسل کیلئے اور خدمت انسانیت کیلئے جمہوریت کو اختیار کیا جو کہ دور حاضر کی ایک بہت بڑی ضرورت ہےخیر اس میں اللہ رب العزت کی بھی رضا مندی شامل ہے کیونکہ شاید آپ اسی وقت ٹی وی پر آتے اور فوری سیاست شروع کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور آپ بھی کچھ معاشرتی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہوتےسو جو بھی کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرتا ہے-

    اب دوسری اصلاح ان لوگوں کیلئے جو اس جماعت کے سیاست میں آنے کے مخالف ہیں اور خود بھی اسی سیاسی جمہوری ( درحقیقت کفریہ) نظام کا حصہ ہیں وہ لوگ سب سے پہلے سیاست،جمہوریت کی تشریح سن لیں کہ اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے لیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر نبوت کا اعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کریم کے ساتھ نہیں تھا-

    نبی کریم کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا لیکن کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام کے اعلان سے باز آ گئے کہ جمہوریت( لوگوں کی) چونکہ میرے خلاف ہے اور اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے باز رہتا ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ میرے نبی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک نظام ترتیب دیا جو کہ اسلامی نظام کہلاتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام میں وہ اسکامی نبوی نظام دب چکا ہے اور آج ہم اس نظام میں اس قدر دبے ہوئے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے کیلئے پل پل جمہوری نظام کو گلے سے لگانا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس نظام کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ آپ نے بھی بہت پہلے سے اس نظام کو گلے سے لگایا ہوا ہے حالانکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ آپ اس نظام کا رد کرتے-

    آج ہم اس نظام کی طرف دیکھیں تو یہ ہم پر جبری مسلط ہے اور اپنی بقاء کی خاطر ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے سے بڑا عالم دین بھی اسی جمہوری نظام کے تابع ہے نہیں یقین تو اس کے زیر استعمال ہر چیز پر ادا ہونے والا ٹیکس دیکھ لیجئےکوئی کرے ہمت کہ میں تو ٹیکس نہیں دیتا اور اپنی زندگی بغیر ٹیکس کے گزاروں گا کیونکہ ٹیکس حرام ہے مگر ہم ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں حتی کہ ہماری مساجد بھی ٹیکس دیئے بنا نہیں بنتیں نہیں یقین تو جس بھٹہ خشت سے آپ اپنی مسجد کیلئے اینٹیں خریدتے ہیں ان سے ذرا پوچھئے بھئی اینٹ کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر گورنمنٹ کا ٹیکس کتنا ہے ؟نیز سیمنٹ،ریت ،بجری وغیرہ-

    اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی بجلی کی اصل قیمت بل میں دیکھئے اور ساتھ میں لگا ٹیکس بھی دیکھئے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ دور ماضی کی طرح مساجد کو حاکم وقت چلاتا مگر یہاں تو حاکم وقت مساجد سے ٹیکس وصول کرتا ہے ٹیکس حرام ہونے بارے نبی کریم کا واضع فرمان ہے کہ

    إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی الْیَھُودِ وَالنَّصَارَی وَلَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ عُشُورٌ
    ’دسواں حصہ(مال تجارت کا ٹیکس) صرف یہود و نصارٰی پر ہے مسلمانوں پر نہیں
    (سنن ابی داود،ج:۸،ص:۲۶۷)
    یہاں تو جناب عام مسلمان کی بجائے مساجد سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ہم اپنی مساجد کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں بصورت دیگر مسجد کا میٹر کٹ جائے گا اور ہماری مسجد کا اے سی،پنکھے،گیزر بند ہو جائے گا اور نمازی مسجد کا رخ نا کرینگے تو جناب جب ہم اپنی بنائی گئی مسجد پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں اور اسی ٹیکس دینے والی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو جناب کیا اب ہم اس کفریہ نظام کے اندر چلنے والی مسجد اللہ کے گھر میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟نہیں ہرگز نہیں ہمیں مسجد کو آباد رکھنا ہے مگر جو جبر گورنمنٹ جمہوریت کے ذریعہ کر رہی ہے اس کی جوابدہ روز قیامت وہی ہو گی ناکہ ہم-

    اسی طرح اسلام میں ویزہ،پاسپورٹ،بارڈر سسٹم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ساری زمین اللہ کی ہے مگر اس نظام کے تحت ہمیں ٹیکس دے کر ویزہ لینا پڑتا ہے پھر اسی ویزے کے ذریعہ ہم حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا اب ہم اپنا مقدس فریضہ حج و عمرہ بھی چھوڑ دیں ؟اب سب جانتے ہیں کہ تصویر کشی حرام ہے مگر بالغ ہوتے ہی ہمارا شناختی بنوانا لازم ہے اور اس پر تصویر لگوانا بھی لازم تو کیا کوئی اس دور میں بغیر شناختی کارڈ کے رہ سکتا ہے ؟ تو حضور والا سیاست میں اپنی بقاء رکھنے والے ان مجبور لوگوں کا سیاست میں آنا ناجائز کیسے ہے بھلا؟یاں تو خود اس نظام سے نکل کر دکھلائیں یاں پھر غیبت اور طعن و تشنیع سے باز آجائیں کیونکہ کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع کی بہت بڑی ممانعت ہے اور اس بارے فرمان الہی ہے کہ :

    اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔ ۔۔الحجرات 1

    اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے

    ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے ۔ الھمزہ 1

    تو جناب یاں تو اپنے گھر ،اپنے کاروبار اپنی آل اولاد کو اس کفریہ سیاسی ،جمہوری نظام سے دور لیجائیں یاں پھر اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع نا کریں اور اپنی آخرت سنواریں کچھ انہی کی جماعت کے افراد بھی سابقہ جماعتی بیانات پر بد دل ہو کر اس نظام کا حصہ بننے پر دل برداشتہ ہیں تو ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی کی مثال پیش خدمت ہے

    جس نے امیر کی خوش دلی سے اطاعت کا شرف حاصل کیا گویا کہ اس (خوش نصیب) نے میری(یعنی سید الاولین والآخرینﷺ) کی اطاعت کا شرف عظیم حاصل کیا اور جس (بدنصیب) نے (مدینۃ الرسول ﷺ) کی نسبت سے متعین امیر کی نافرمانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا گویا اس نے براہ راست سید الاولین والآخرین ﷺ کی نافرمانی کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ( صحیح بخاری ،کتاب الجہاد، 2957)

    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے امیر نے تو اس نظام کو حصہ بننے کا اعلان کیا ہے جو کہ پہلے سے ہی چل رہا ہے جس نظام میں آپ اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں اور کوئی آپ کو عشر و زکوٰۃ بارے پوچھنے والا نہیں اور یہی لوگ کچھ ہمت کرکے آپکو عشر و زکوٰۃ ،حج و جہاد ،نماز و صدقات کی تلقین کرتے ہیں تو پھر برات کیسی بھئی امیر نے کوئی نیا نظام تو متعارف کروا نہیں دیا اپنی طرف سے ؟سوچئے اگر اس پہلے سے اپنائے نظام کے ذریعہ سے آپ اپنے دعوتی،خدماتی کام جاری رکھ سکتے ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے ؟-

    ایک اور اہم مثال پیش خدمت ہے کہ نبی کریم کا فرمان ہے کہ دائیں جانب نا تھوکا جائے اور پھر دوسری حدیث ہے کہ قبلہ رخ نا تھوکا جائے ایک اور حدیث ہے کہ بائیں جانب تھوکا جائےاب میں اس پوزیشن میں کھڑا ہوں کہ میری بائیں جانب قبلہ رخ ہے تو حدیث تو مجھے بائیں جانب تھوکنے کی اجازت دے رہی ہے مگر جب دوسری حدیث دیکھوں تو قبلہ رخ بھی تھوکنا منع ہے اور دائیں جانب تھوکنے سے بھی حدیث نے منع فرمایا ہے تو کیا اب میں نا تھوکوں؟سوچنے کی بات ہے نا ؟-

    تو جناب اب مجھے تمام احادیث کا بھی احترام کرنا ہوگا اور اپنی تھوک کو بھی تھوکنا ہوگا تو اس لئے میرا حدیثوں کا رود و بدل تو جائز نہیں مگر میرا محض رخ کرنا بنتا ہے لہذہ ماضی کی باتوں کو رخ تصور کریں اور یہ ذہن نشیں کرلیں کہ اس نظام کے ذریعہ ہی اگر اسلامی نظام کی طرف جایا جا سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟-

  • ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کا شہر کی مختلف مساجد اور ناکوں کا دورہ

    ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کا شہر کی مختلف مساجد اور ناکوں کا دورہ

    رائے بابر سعید نے ماڈل ٹاؤن اور کینٹ ڈویژن کی مساجد کی سکیورٹی اور کورونا ایس او پیز پر عملدرامد کا جائزہ لیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے دالعلوم حنفیہ گلبرگ ، مسجد بیت النور،خالد مسجد کیولری گراونڈ،جامعہ مسجد وائے بلاک کا دورہ کیا۔ رائے بابر سعید کا مسلم مسجد،جامعہ مسجد یا رسول اللہ، جامعہ مسجد اللہ ہو اور جامعہ مسجد غوثیہ کا بھی دورہ۔ ڈی آئی جی آپریشنز کی مختلف ناکوں پر آمد، سکیورٹی ڈیوٹی کی چیکنگ۔
    برکی روڈ انٹر چینچ،جوڑے پل،صدر گول چکر پر ناکوں پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کو بریفنگ ۔ ڈی ایس پیزاور متعلقہ پولیس افسران نے ڈی آئی جی آپریشنزکو بریفنگ دی۔

    مساجد سکیورٹی پر تعینات پولیس جوان انتہائی الرٹ ہو کر ڈیوٹی کریں۔ انفورسمنٹ ٹیمیں اور مساجد انتظامیہ دوران تراویح 20 نکاتی ہدایات پر عملدرامد یقینی بنائیں۔ نمازی حضرات دوران عبادات سماجی فاصلے کی پابندی کریں، ماسک ،سینٹائزر لازمی استعمال کریں: رائے بابر سعید

  • مساجد میں نمازی 3 فٹ کے فاصلے پر

    مساجد میں نمازی 3 فٹ کے فاصلے پر

    قصور
    گورنمنٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ضلع بھر کی بیشتر مساجد کے امام صاحبان نے تین فٹ کے فاصلے پر نشانات لگوا دیئے نمازی ایک دوسرے سے تین فٹ کے فاصلے پر نماز ادا کرینگے
    تفصیلات کے مطابق قصور انتظامیہ کی جاری کردہ احتیاطی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے ضلع بھر کی بیشتر مساجد میں امام مساجد صاحبان نے تین فٹ کے فاصلے پر نشانات لگوا دیئے ہیں تاکہ نمازی حضرات ایک دوسرے سے تین فٹ کے فاصلے پر نماز ادا کریں مساجد میں سے قالین اٹھا لئے گئے ہیں تاکہ ہر نماز کے بعد مساجد کے فرش کو دھویا جا سکے اور گورنمنٹ کی جاری کردہ ہدایات پر عمل پیرا ہو کر کرونا کی وباء سے بچا جا سکے