Baaghi TV

Tag: مساوات

  • "ایام حج کے اسباق۔۔۔” جویریہ چوہدری

    "ایام حج کے اسباق۔۔۔” جویریہ چوہدری

    وہ روح پرور لمحات جب دنیا بھر کے مسلمان۔۔۔گورے،کالے
    قد آور۔۔۔پست قامت
    امیر۔۔۔غریب
    چھوٹے۔۔۔۔بڑے
    اُس بلد الامین میں۔۔۔شہر مبارک میں۔۔۔بیت الحرم کا دیوانہ وار طواف کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔لاکھوں فرزندان اسلام
    ایک ہی لباس۔۔۔ایک انداز۔۔۔ایک جذبہ۔۔۔۔ایک سی وارفتگی کے عالم میں اس گھر کے دیدار کے لیئے دنیا بھر سے اکھٹے ہوتے ہیں۔۔۔۔جہاں کے چٹیل میدان سے پھوٹنے والے چشمے کے پانی میں تو کمی نہیں آئی مگر اس کے گرد تشنہ لب ہجوم کا پھیلاؤ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔
    اپنے پروردگار کی بارگاہ میں فقیر بنے ایک ہی صدا نکالتے ہیں:
    "لبیک اللھم لبیک۔۔۔۔۔۔”
    اپنی واحدانیت کے ترانے الاپنے والوں پر رب رحمٰن بھی کتنا خوش ہوتا ہے کہ میدانِ عرفات میں ڈیرہ ڈالے مسافروں کی معافی کااعلان کرتا ہے۔۔۔

    ایسا روح پرور ماحول سال کے باقی ایام میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔۔۔۔
    یہ ایام ذوالحجہ اپنی فضیلت اور اعمال کی رفعت کے اعتبار سے ویسے بھی سال کے دیگر ایام کی نسبت عظمت والے ہیں۔۔۔
    کیونکہ ان ایام میں مسلمانوں کی تمام عبادات۔۔۔۔مثلاً۔۔۔نماز،عرفہ کاروزہ،صدقہ،قربانی،حج،
    اذکار،تکبیرات یعنی سب عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ان ایام کو بڑی فضیلت والے دن کہا گیا۔۔۔۔!!!!!

    اگرچہ اکثر اوقات ہم ان ایام کو لاپرواہی سے عام دنوں کی طرح گزار دیتے اور وہ اجر و ثواب حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔۔۔۔جس کا ان ایام کے اعمال پر وعدہ کیا گیا ہے۔۔۔!!!

    حج بیت اللہ جیسی عظیم عبادت ہمیں کچھ اسباق بھی ازبر کرانے کا ایک اہم موقع ہے۔۔۔

    1)۔اتحاد و اتفاق کی دعوت:
    ان ایام میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مسلک کے ماننے والے اپنے پروردگار کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوتے ہیں،اور اس گھر کا طواف کرتے ہوئے،اور دیگر ارکان حج بجا لاتے ہوئے باہم محبت و شفقت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔
    اتفاق و اتحاد کا یہ سبق اپنے اپنے ممالک میں بھی اسی انداز میں یاد رکھنے کا بہترین پیغام ہے۔۔۔نفرتوں،باہم عداوتوں،حسد،بغض،تکبر سب سے جان چھڑانے کا بہترین سبق ہے۔ مگر اکثر اسے بھلا دیا جاتا ہے۔

    2)۔فکر آخرت:
    یہ دن ہمیں یوم قیامت کی یاد بھی دلاتے ہیں کہ جسطرح ایک سفید لباس میں ملبوس۔۔۔۔دنیا و مافیھا سے بے غرض۔۔۔۔گھر بار،کاروبار سے دور۔۔۔
    بچوں اور خاندان سے دور۔۔۔
    اسی طرح ایک سفید لباس پہنا کر ہم اکیلے ہی اس دنیا سے جانے والے ہیں۔۔۔۔اور پھر سبھی یوم قیامت حساب کتاب۔۔۔۔جزا و سزا کے لیئے اکھٹے بھی کیۓ جائیں گے۔۔۔
    جہاں اپنے اعمال کے سوا کچھ کام نہیں آئے گا۔۔۔مال و دولت۔۔۔
    اولاد،خاندان وغیرہ۔

    3)۔نماز کی پابندی:
    اکثر کہا جاتا ہے کہ جو لوگ نماز کے عادی نہیں ہوتے،وہ اگر سفر حج کریں تو ان کی یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے۔۔۔
    تو اسی نکتے کو لے کر غور کیجیئے کہ اگر یہ مبارک سفر طے کرنے کے بعد بھی حاجی،حاجن کہلا کر بھی ہم نماز کی پابندی کی کوشش نہیں کریں گے تو وہ سبق کہاں کھو گیا۔۔۔۔جو ہم ایام حج میں وہاں سیکھتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    4)۔عاجزی و سادگی کا پیام:
    سفر حج ہمارے لیئے عاجزی اختیار کرنے اور سادگی اختیار کرنے کا ایک اہم موقع اور سبق ہے۔۔۔۔
    عجیب و غریب فیشنز سے اجتناب کی عملی مشق ہے۔۔۔۔اسلامی طرزِ حیات اپنانےاور لباس وغیرہ کے معاملےمیں اصلاح کا بہترین موقع ہے۔۔۔۔
    جسےزندگی کے بقیہ ایام میں بھی زندگی کا حصہ بنا کر ہم عاجزی و وقار کا عملی نمونہ بن سکتےہیں۔۔۔!!!!!

    5)۔لڑائی جھگڑے سے اجتناب:
    حج کا موقع ہمارے اندر تبدیلی کا ایک جذبہ بیدار کرنے،تقصیرات پر قابو پانے،اور رب کی رضا کے حصول کی طرف محو سفر ہونے کا موقع ہے۔۔۔!!!
    جس طرح ایام حج میں لڑائی جھگڑے،جھوٹ،چغلی،بد عہدی،فسق و فجور،نشہ وغیرہ سے اجتناب کا حکم ہے،اپنے ہم سفروں کی غلطی سے درگزر،برداشت کرنے کا جو پیام ان دنوں میں ملتا ہے۔۔۔
    انہی باتوں پر ہم بقیہ ایام میں عمل کر کے سکون و امن کی زندگی گزار سکتے ہیں۔۔۔!!!

    6)۔رزق حلال:
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اللّٰہ پاک ہے،اور صرف پاکیزہ مال قبول کرتا ہے،
    پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا،جو لمبی مسافت طے کر کے آتا ہے۔۔۔مقدس مقامات پر،غبار سے اٹاہوا،گرد آلود ہے۔۔۔
    پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے:
    حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے،
    اس کا پینا حرام ہے۔۔۔
    اس کا لباس حرام ہے
    اور وہ حرام پر ہی پلا۔۔۔تو ایسے شخص کی دعا کیوں کر قبول ہو سکتی ہے؟؟؟”
    (صحیح مسلم)۔
    تو پتہ چلا کہ اللّٰہ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کو مقبول بنانے کے لئیے اس کے احکامات پر عمل بھی ازحد ضروری ہے
    کیونکہ:
    انما یتقبل اللّٰہ من المتقین¤
    {المائدہ}۔
    اور متقین کون ہوتے ہیں؟
    جو ناجائز طریقے سے مال نہیں کماتے۔۔۔
    کسی کا حق نہیں مارتے۔۔۔۔
    کسی کی جائداد پر ناحق قبضہ نہیں کرتے۔۔۔
    رشوت و سود سے بچتے ہیں۔۔۔

    7)۔دعا کااہتمام:
    بیت اللّٰہ کا حج کرنے والوں کو دعا کا اہتمام بھی خشوع و خضوع سے کرنا چاہیئے۔۔۔
    اپنی دعاؤں میں امت مسلمہ اور مظلوم مسلمانوں کی ابتر صورت حال سے نجات اور آذادی کے لیئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں۔۔۔!!!!!
    دنیا و آخرت کی بھلائی مانگی جائے۔۔۔وطن عزیز پاکستان کے استحکام کی دعائیں مانگی جائیں۔۔۔!!!
    اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان ایام میں نیک اعمال کرنے کی توفیق بخشے،
    اور اعمال کو اس انداز میں اتباع رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرتے ہوئے بجا لانے کی توفیق دے کہ وہ اس کی بارگاہ میں قبولیت کے معیار پر پورا اتریں۔۔۔۔آمین!!!!!
    وہ چھوٹے سے چھوٹے ہوں یا بڑےسے بڑے۔۔۔!!!!!
    سب ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے اعمال کرنے کی کوشش کریں۔۔۔بالخصوص تسبیح،تحمید،تہلیل،تکبیر،یوم عرفہ کا روزہ وغیرہ۔۔۔!!!!
    کیونکہ حج اور قربانی تو صاحب استطاعت پر فرض ہیں۔۔۔
    اگر یہ عمل نہیں بھی ممکن تو درج بالا اعمال سے ہرگزغافل نہ رہیں۔۔۔!!!

  • معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر جگہ اور ہر کوئی ذاتی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو باعث ثواب سمجھتا ہے۔ کلینک میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق پر ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔میں متاثر ہوا ۔لیکن کلینک میں دوسروں کا چمڑا ادھیڑ لی جاتی ہے۔ بے جا ادویات کی لمبی چوڑی فہرست، مختلف ٹیسٹ، اور مخصوص سٹور سے ادویات کی خریداری کی تلقین بھی باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ تبلیغ میں دن رات گزارنے کے بعد امیر صاحب ‘دنیاوی’ کمائی کی خاطر ہر چیز کی اضافی قیمت وصول کر رہا تھا۔ استفسار پر بتایا کہ یہی تجارت ہے۔ مولوی صاحب فروٹ فروش ہیں۔ مسجد کے سامنے کھوکھا کھولا ہے۔ خوب دینی اور دنیاوی کمائی کررہے ہیں۔ بازار سے چالیس فیصد زیادہ قیمت پر فروٹ فروخت کرتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ غیر اسلامی ملک میں اس طرح کی تجارت کی اجازت ہے۔ (ان کے بقول پاکستان اسلامی ملک نہیں)۔ تاجر رہنما نے تاجروں کے حقوق پر لیکچر دیا۔جب ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں پہلے حقوق دیں تب ہم ٹیکس دیں گے۔ مولوی صاحب ہر جمعہ مساوات کا درس دیتے ہیں لیکن بچوں کو قاعدہ پڑھاتے وقت توجہ صرف امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ کرام کلاسز میں صرف سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ اور کلاس کے آخر میں ٹیوشن سنٹر کا پتہ بتاتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز سے پڑھائی کی صورت میں بہترین رزلٹ جبکہ سکول میں پڑھائی پر بدترین رزلٹ ۔سوزوکی سٹاپ پر سارے ڈرائیورز اور کنڈکٹروں کو ایک سوزوکی میں بیٹھا کر دن کا آغا ز کیا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس والے اور لوڈنگ اور غلط سٹاپ پر جرمانہ کریں تو حلال روزی اور محنت کی باتیں۔ اڈے پر اے سی گاڑی میں لگا کر سواریوں سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے تین کلومیٹر بعد اے سی بند کرکے نعتوں کی کیسٹ لگا کر سواریوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کو چند ہزار روپے پر رکھ کر سات کلاسز کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ صبح اسمبلی میں بچوں سے پہلے اساتذہ کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ اور انھی چند ہزار روپے میں امتحانات میں نقل کی درآمد وبرامد کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ المختصر ہر شعبہ زندگی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔حقوق وفرائض کی تجدید نو کی جائے۔تاکہ انسانیت کو نئی روح و زندگی دی جائے۔

  • طاقت کا محور ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    طاقت کا محور ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    عورت کو کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ فطری طور پر مخالف جنس میں قوت کشش پائی جاتی ہے اور یہ قوت ہی انسان سے بڑے سے بڑا مقصد حاصل کرانے کے پیچھے کار فرما ہو سکتی ہے۔ جس طرح انسان کی عمومی تقسیم دو اقسام، مرد اور عورت پر ہے اسی طرح اعمال اور مقاصد بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مثبت یا منفی۔ عورت کا کردار دونوں پہلوؤں میں نظر آتا ہے۔ تاریخِ انسانی کے مختصر سے مطالعہ سے یہ حقیقت بآسانی آشکار ہو سکتی ہے کہ عورت کی وجہ سے بہت سے جھگڑے ہوئے اور خون بہے۔ بلکہ تاریخِ انسانی کے پہلے قتل میں بھی عورت کا دخل رہا ہے۔ اور ایک عورت کی درخواست پر ایک پورا شہر بھی ظلم کے پنجہ استبداد سے نجات پا گیا۔ عورت کی اسی صلاحیت کی بدولت شیطان بھی عورت پر وار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور عورت مرد کو بآسانی رضامند کر لیتی ہے۔ اس تحریر کے مندرجات الزامی نہیں ہیں بلکہ مبنی بر حقیقت ہیں۔
    ہر کام کو کرنے کا کوئی اصول اور قاعدہ ہوتا ہے اسی طرح سے زندگی گزارنے کے لیے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ پھر یہ اصول بھی کئی اطوار پر منقسم ہیں۔ کچھ ملکی قوانین ہیں جو ہر ملک میں مختلف ہو سکتے ہیں اور کچھ معاشرتی روایات جو ہر معاشرے میں متنوع ہیں۔ اسی طرح سے کچھ قوانین خالق ارض و سما نے بنائے ہیں۔ یہ قوانین عالمگیر نوعیت کے ہیں اور ہر وہ شخص جو اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے ان کی پاسداری لازماً کرنی چاہیے۔ اور اس کا تمسخر نہیں اڑانا چاہیے۔
    قابل غور پہلو یہ ہے کہ کیا موجودہ دور میں عورت اپنی صلاحیتوں کا استعمال اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر رہی ہے؟ کیا اس قوت کا مثبت استعمال ہو رہا ہے یا کہ منفی۔ یاد رہنا چاہیے کہ ہمارے تمام اعمال اللہ کے ہاں ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور روز آخرت ان کی جوابدہی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر عورت اپنے خالق اور زمانے کی نظر میں عظمت پا سکتی ہے اور حکم عدولی کر کے دونوں جہانوں میں رسوا بھی ہو سکتی ہے۔ خود کو چادر چار دیواری میں محصور سمجھے تو یہ اس پر منحصر ہے اور محفوظ و مامون سمجھے تو یہ اس کی خوش بختی۔