Baaghi TV

Tag: مستقبل

  • مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    اٹھارہویں صدی عیسوی کے ریزبائیرین وزیر اور شوقیہ ریاضی دان کی بظاہر سادہ سی مساوات آج بھی موسم سے مستقبل تک بیشتر معاملات میں پیش گوئی کے حوالے سے ہماری معاونت کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ٹام شِورز کی کتاب ’ایوری تھنگ اِز پرڈیکٹیبل‘ ہمیں اس سادہ مساوات کے بارے میں حیرت انگیز باتیں بتاتی ہے یہ کتاب رواں سال رائل سوسائٹی تریویدی سائنس بک پرائز کے لیے بھی تجویز کی گئی ہے اس کتاب میں اچھی طرح سمجھایا گیا ہے کہ کس طور مستقبل کے بارے میں پیش گوئی ممکن ہے۔

    ہم فطرت کے بارے میں بہت سے معاملات کی پیش گوئی حساب کتاب کی بنیاد پر کرسکتے ہیں مثلاً یہ کہ سورج کتنے بجے طلوع ہوگا، سورج یا چاند کو گرہن کب لگے گا بالکل اِسی طور ہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی بھی واقعے کی قابلِ رشک حد تک درست پیش گوئی کرسکتے ہیں۔

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان

    ہم دستیاب اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ صدی کے وسط تک دنیا کی آبادی بڑھتی رہے گی اور یہ کہ کب گرنا شروع کرے گی ہم عالمی درجہ حرارت کے بارے میں بھی پیش گوئی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ہم مستقبل میں جھانک سکتے ہیں مستقبل میں بہت کچھ ایسا ہے جو ہم پورے یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتے تاہم کچھ نہ کچھ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ درست پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    کائنات کے دور افتادہ حصوں کے بارے میں ہزاروں سال کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے موسم کے بارے میں چند دن بعد کی بات بھی پوری درستی کے ساتھ نہیں کی جاسکتی، بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ہم کسی بھی سطح کی بصیرت کے بجائے دستیاب معلومات یا ماضی کے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اُس پر اچھی طرح نظر دوڑا کر ہم بہت حد تک درست پیش گوئی کرسکتی ہے۔

    ہم اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جتنا بھی علم ہے وہ اعداد اور علامات میں پوشیدہ ہے جدید دنیا میں ریاضی کا ایک اصول (بیز تھیوریم) میڈیکل ٹیسٹنگ سے مصنوعی ذہانت تک ہر معاملے میں راہ نمائی کر رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

  • مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذہانت کیا ہے؟

    آج ہم جن روبوٹس کو اور کمپوٹرکے پروگرامز کو مصنوعی ذہانت دے رہیں وہ دراصل کیا ہے؟ ذہانت کی تعریف پیچدہ ہے مگر اس میں سب اہم جُز پیٹرن رکگنیشن ہے۔ یہ کیا ہے؟ فرض کریں آپکے سامنے ایک تصویر ہو جس میں ایک ہی قطار میں گلاب کے، چنبیلی کے اور ٹیولپ کے پھول پڑے ہوں مگر ایک خاص ترتیب میں۔

    اگر آپ میں یہ صلاحیت ہے کہ آپ یہ جان سکیں کہ یہ تمام پھول کونسے ہیں اور کس ترتیب میں پڑے ہیں اور اگر آپ اس بنیاد پر آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قطار کو لمبا کیا جائے تو باقی پھول کس ترتیب میں آئیں گے تو آپ پیٹرن رکگنیشن کر رہے ہیں۔

    انسان، جانور اور فطرت کے تمام جانداروں میں کسی نہ کسی درجے پر کسی نہ کسی عمل میں پیٹرن رکگنیشن پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور ایک بکری کے سامنے گوشت اور گھاس رکھی جائے تو وہ یہ بتا سکتی ہے کہ گوشت کونسا ہے اور گھاس کونسی۔ یہ سب وہ کس طرح سے کرتی ہے؟ سونگھ کر یا دیکھ کر یا چکھ کر۔

    مصنوعی ذہانت بھی دراصل پیڑن رکگنیشن پر قائم ہے۔ آپ ایک روبوٹ کو اس طرح سے پروگرام کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول سے سیکھے، اس میں موجود پیڑنز کو پہچانے اور پھر اسکے مطابق کوئی فیصلہ کرے، خود کو ڈھالے، تبدیل کرے یا بہتر ہو۔ یعنی وہ اپنے اندر سیکھنے کے عمل سے خود تبدیلیاں رونما کر سکے۔ اسے مشین لرننگ کہتے ہیں۔

    بالکل ایسے ہی فیسبک یا یوٹیوب کے پیچھے کارفرما مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز آپکی کسی خاص طرح کی ویڈیوز کو دیکھنے، اُن پر وقت گزارنے یا اّن پر کمنٹس اور ری ایکشن کی بنیاد پر یہ سیکھتی ہے کہ آپ کس مزاج کے آدمی ہیں اور آپکو کونسی چیزیں متوجہ کرتی ہیں۔ لہذا ویڈیو ختم ہونے کے بعد وہ آپکے مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپکو اگلی ویڈیو وہ تجویز کرے گا جسے دیکھنے کے آپکے قوی امکانات ہوں۔ یہ پیشنگوئی بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی جب آپ زیادہ سے زیادہ وقت ان پلیٹفرمز پر گزاریں گے۔

    جتنا زیادہ ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کے پاس آپکا ہو گا، وہ اّتنا صحیح اندازہ آپکے بارے میں لگائے گا۔ یہ سب کرنے کے پیچھے ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ وقت فیسبک یا یوٹیوب پر گزار سکیں اور زیادہ سے زیادہ اشتہارات دیکھ سکیں تاکہ ان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اشتہارات کی مد میں کمائی ہو۔ جسکی بنیاد پر یہ چل رہے ہوتے ہیں۔

    گویا مصنوعی ذہانت کسی نہ کسی شکل میں آپکے اردگرد موجود ہے اور آپکی زندگی اور سوچ پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اور ایسے ہی اپ بھی اُسے انسانوں کے بارے میں سکھا رہے ہیں۔

    دنیا کا مستقبل اب مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑا ہے۔ آسکا ایک مقصد تمام شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر انہیں خودکار اور مزید موثر بنانا ہے۔ مثال کے طور پر انکی بدولت ہم آج موسم کی صورتحال، سیلاب کی یا طوفان کی پیشنگوئیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ یہ موسموں کے پیٹرنز کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔

    اسی طرح طب کے شعبے میں مختلف بیماریوں جیسے کہ کینسر می تشخیص میں بھی مریض کے اعضا کی لی گئی تصاویر کو دنیا بھر کے کینسر کے مریضوں کی تصاویر کے ڈیٹا سے موازنہ کر کے پیٹرن دیکھا جا سکتا ہے کہ کینسر ہے یا نہیں۔

    مصنوعی ذہانت کے کئی فوائد ہیں مگر اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت انسانوں سے بھی آگے نکل جائے اور ہم اسے قابو کرنے میں ناکام رہیں۔ اس حوالے سے سائنس کی کمیونٹی اور محققین میں مخلتف آرا پائی جاتی ہے مگر سب اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کی تحقیق اور استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان خدشات کو دور کیا جا سکے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس مستقبل میں دنیا پر قبضہ کر لیں ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال آپ فیسبک کی وہ ویڈیوز دیکھئے جو مصنوعی ذہانت اپکو تجویز کر رہی ہے۔

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • پاکستان کا مستقبل ملک کی برآمدات سے جڑا ہے، احسن اقبال

    پاکستان کا مستقبل ملک کی برآمدات سے جڑا ہے، احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ برآمدات کی قیادت میں ترقی ، قومی ترقی اور ملکی پیداوار کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی کلید رکھتی ہے، پاکستان کا مستقبل ملک کی برآمدات سے جڑا ہوا ہے اور ہماری برآمدات میں اضافہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے “ریوائیول آف اکانومی” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں اسلام آباد چیمبر کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت تاجر برادری کی حمایت کرے گی اور آئی سی سی آئی پر زور دیا کہ وہ رکاوٹوں اور مسائل کو اجاگر کرے تاکہ حکومت انہیں بغیر کسی تاخیر کے حل کرے۔ انہوں نے تمام چیمبر آف کامرس کو یقین دلایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ان کے مسائل 15 دنوں کے اندر حل ہوں گے جبکہ ان پر روز دیا کہ وہ مشکلات کی نشاندہی کریں۔

    انہوں نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ مارکیٹ پر مبنی نقطہ نظر کو اپنانے کے لئے عالمی مارکیٹ میں جگہ بنائیں۔ وفاقی وزیر نے ملک میں سیاسی استحکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جدوجہد کے بعد استحکام کا راستہ تلاش کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور ملک میں سیاسی استحکام کے لئے وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کا سیاسی ایجنڈا ہو سکتا ہے لیکن معاشی محاذ پر ہم سب کو متحد ہونا چاہئے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا اگر پالیسیوں میں عدم تسلسل ہو اور پاکستان نے اپنی 75 سالہ تاریخ میں بھی مثبت ترقی بھی دیکھی

  • عمران خان کا مستقبل کیسا ؟ منظور وسان کی بڑی پیشنگوئی

    عمران خان کا مستقبل کیسا ؟ منظور وسان کی بڑی پیشنگوئی

    عمران خان کا مستقبل کیسا ؟ منظور وسان کی بڑی پیشنگوئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بارے میں پیشنگوئی کی ہے

    منظور وسان کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آ چکا ہے، اس فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت تحریک انصاف کا مستقبل خطرے میں ہے، عمران خان جو کبھی دھمکیاں دیتے تھے میں این آر او نہیں دوں گا، میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا اب منتیں کرنے پر آ گئے ہیں، عمران خان پھنس چکے ہیں وہ جو مرضی اب کر لیں انہیں کہیں سے کلین چٹ نہیں ملے گی،

    منظور وسان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا جواب الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نہیں دے پائے گی عمران خان نے سیاست میں آ کر جو سہولیات لیں وہ بھی اب انہیں نہیں ملیں گی اب عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل خطرے میں ہے پنجاب حکومت جو ابھی تحریک انصاف نے بنائی وہ بھی خطرے میں ہے اور اسکا مستقبل ختم ہوتا نظر آ رہا ہے

    منظور وسان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والا خود سب سے بڑا چور نکلا، صادق و امین بننے کا خواب بھی ادھورا رہ گیا، اب عمران خان کا گنیز آف ورلڈ بک میں نام ڈال کر اسے جھوٹ کا سرٹیفکیٹ دیاجائے

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں عمران خان کو جھوٹا قرار دے کر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت متحرک ہو چکی ہے، حکومتی اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جائے گا اور کاروائی یقینی بنائی جائے گی

    گزشتہ روز اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا ،،اجلاس میں الیکشن کمیشن فیصلے پرعمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور کیا گیا پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کیخلاف کارروائی شروع ہوگی پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی ہو گی،عمران خان کی نااہلی کیلئے قانونی کارروائی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ، عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری اورقانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، پی ٹی آئی سینٹرل سیکریٹریٹ کے4 ملازمین کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کیخلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی،

  • یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
    ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

    تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

    کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

    ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
    پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے