چیرامن جمعہ مسجد 629ء میں ملک ابن دینار نے تعمیر کروائی تھی ہندوستان کی پہلی اور دنیا کی دوسری مسجد سمجھی جاتی ہے جہاں نماز جمعہ شروع کی گئی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسجد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوران تعمیر کی گئی تھی۔
اسلام کی عالمگیر تاریخ کا ایک نہایت اہم اور ایمان افروز باب ہندوستان میں پہلی مسجد کی تعمیر ہے، جسے آج ”چیرامن جُمعہ مسجد“ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ مسجد ریاست کیرالہ کے تاریخی شہر کوڈُنگَلور میں واقع ہے اور اسے برصغیر میں اسلام کی آمد کی اولین اور اہم ترین نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے مسجد کئی صدیوں کے دوران متعدد بحالی اور تزئین و آرائش سے گزر چکی ہے۔مسجد کا فن تعمیر اس کے مختلف ڈیزائن اور ساخت کے لیے مشہور ہے –
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 11ویں اور 18ویں صدی کے دوران مسجد کی تزئین و آرائش کے بعد اصل شکل 1974 تک برقرار رہی جب مزید تزئین و آرائش کی گئی اس دوران اس کے پرانے اسٹرکچر کی جگہ ایک نئی عمارت بنائی گئی یہاں تک کہ جب اتنا وسیع کام کیا گیا تو مسجد کے اندرونی حصے بشمول اس کے حرم، لکڑی کی سیڑھیاں اور چھت کو برقرار رکھا گیا یہ علاقے اب بھی ماضی کی تعمیراتی عظمت کو برقرار رکھتے ہیں۔ مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت جس نے صدیوں سے عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے وہ یہاں موجود قدیم تیل کا چراغ ہے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چراغ مسجد کے آغاز سے ہی مسلسل جل رہا ہے۔
بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد جہنم واصل
کیرالہ کا پہلا اسلامی ثقافتی ورثہ میوزیم بھی مسجد کمپلیکس میں مزیرس ہیریٹیج کمپلیکس کے ایک حصے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم ریاست میں اسلام کی تاریخ کو بصری میڈیا اور معلوماتی پینلز کے ذریعے دکھاتا ہے چیرامن پیرومل کی کہانی کو دیواروں اور پینٹنگز کے ذریعے بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے سمعی و بصری پیشکشیں زائرین کو مسلم حکمرانوں کی تاریخ اور ہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں کوڈنگلور کے کردار سے آگاہ کرتی ہیں،کوڈنگلور ٹاؤن سے بمشکل 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چیرامن جمعہ مسجد قوم کی اسلامی روایات کی ایک شاندار نمائندگی کرتی ہے۔
یہ مسجد اپنی تعمیر کے بعد سے مسلسل موجود ہے اور مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی جس میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں گنبد اور مینار بھی شامل ہوئے، تاہم 2022 کی مرمت میں انہیں ہٹا کر قدیم ساخت کو زیادہ سے زیادہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اس کی اصل تاریخی حیثیت برقرار رہے حالیہ برسوں میں کیرالہ حکومت کے موزِرِس ہیریٹیج پروجیکٹ کے تحت اس مسجد کی باقاعدہ بحالی اور تحفظ کا کام کیا گیا، جس کا مقصد اس عظیم اسلامی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا تھا۔
تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی تعمیر 629 عیسوی میں ہوئی، جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مبارک دور کا زمانہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس مسجد کو عالم اسلام میں ایک منفرد اور غیر معمولی مقام حاصل ہے کیرالہ کی اسلامی روایات اور بعض تاریخی ماخذ کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کا پس منظر اس و قت کے مقامی حکمران چِرامَن پِرومَل کے قبولِ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔
روایت کے مطابق انہوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حیرت انگیز واقعہ (شق الاقمر) دیکھا، جس کے بارے میں عرب تاجروں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ معجزہ آخری نبی ﷺ کا ہے اس کے بعد وہ عرب کی طرف روانہ ہوئے اور اسلام قبول کیا واپسی سے قبل انہوں نے اپنے علاقے میں مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اس مسجد کی تعمیر اور اسلام کی دعوت کے فروغ میں مشہور تابعی اور بزرگ عالم مالک بن دینار کا نام خاص طور پر نمایاں ہے تاریخی روایات کے مطابق وہ عرب سے ہندوستان آئے اور انہوں نے کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کی اور کئی مساجد کے قیام میں کردار ادا کیا۔
بعض تاریخی روایت کے مطابق، چرمن پرومل مکہ میں قیام کے دوران وفات پا گئے تھے اپنی موت سے قبل انہوں نے خطوط لکھے اور اپنے دوستوں کے ذریعے مقامی حکمرانوں کو بھیجے خطوط میں چرمن پرومل نے کہا کہ مالِک بن دینار اور ان کے ساتھیوں کا احترام کیا جائے اور انہیں مساجد بنانے کی اجا زت دی جائے بعد میں یہ خطوط مالِک بن دینار کے ہاتھ لگے اور اسی کے نتیجے میں ہندوستان کی پہلی مسجد، چرمن جمعہ مسجد، کوڈُنگَلور میں قائم ہوئی مالِک بن دینار نے بعد میں کیرالہ کے مختلف علاقوں میں بھی مساجد قائم کیں روایت میں چرمن پرومل کے انتقال کی جگہ عمان کے علاقے ظُفار کا ذکر بھی موجود ہے۔
بنگلہ دیش: وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں
ان روایات کا ذکر متعدد تاریخی کتابوں میں ملتا ہے جن میں امام ابن حجر عسقلانی کی ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، شیخ زین الدین مخدوم کی ”تحفۃ المجاہدین“ اور برطانوی مؤرخ ولیم لوگن کی ”مالابرمینوئل“ شامل ہی۔ اگرچہ جدید مؤرخین اس روایت کو تاریخی روایت اور مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
کوڈُنگَلور کا علاقہ قدیم زمانے میں ’موزِرِس‘ نامی عظیم بندرگاہ کے قریب واقع تھا، جو اس دور میں عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ عرب تاجر صدیوں سے یہاں آتے تھے اور مقامی آبادی کے ساتھ تجارت کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ ہندوستان کا وہ خطہ بنا جہاں سب سے پہلے اسلام متعارف ہوا اور مقامی سطح پر قبول کیا گیا۔
کیرالہ کے مسلمان، جنہیں تاریخی طور پر ’مپیلا‘ کہا جاتا ہے، صدیوں سے اس خطے کی تجارت، ثقافت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی تاریخ براہ راست ان ابتدائی عرب تاجروں اور مبلغین سے جڑی ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یا اس کے فوراً بعد یہاں پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ کی اسلامی روایت کو برصغیر میں سب سے قدیم اسلامی روایات میں شمار کیا جاتا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی
چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ایک تاریخی عبادت گاہ ہے بلکہ یہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی بھی ایک خوبصورت مثال ہے۔ مقامی روایات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران اس مسجد میں افطار کے انتظام میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام نے اس خطے میں امن، احترام اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دیا۔
یہ مسجد آج بھی اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ اسلام اپنی ابتدا ہی سے ایک عالمگیر مذہب تھا اور نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک میں ہی اس کا پیغام عرب سے نکل کر دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔
چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک تاریخی اور روحانی ورثہ ہے، آج بھی یہاں باقاعدہ نمازیں ادا ہوتی ہیں اور مختلف مذاہب کے لوگ یہاں تاریخ، ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔
وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟
تاریخی حوالہ جات میں خاص طور پر ”تحفة المجاہدین، ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، ”مالابر مینوئل“، ”ہسٹری آف کیرالہ“ اور آثار قدیمہ کے سرکاری ریکارڈ شامل ہیں، جن میں اس مسجد اور کیرالہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ذکر موجود ہے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام کی جڑیں انتہائی قدیم اور نبی کریم ﷺ کے مبارک دور سے قریب تر زمانے تک پہنچتی ہیں، اگرچہ بعض جدید محققین اس کی تعمیر کے زمانے پر تحقیقی تنقید بھی کرتے ہیں۔









