Baaghi TV

Tag: مسلم

  • اجیت ڈوول  نے مسلم دشمنی کی انتہا کر دی

    اجیت ڈوول نے مسلم دشمنی کی انتہا کر دی

    بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے مسلمانوں کے حالیہ بیان نے خطے میں تشویش کی لہر پیداکر دی ہے۔

    اجیت ڈوول نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں تاریخ کا بدلہ لینے کی آگ ہونی چاہیے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو معمول بنانا ضروری ہے یہ بیان ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ – 2026 کے دوران سامنے آیا۔

    ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے معروف سماجی کارکن محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کے مترادف ہے اور صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کا مطالبہ محض دھوکہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈوول کا بیان بھارت میں نفرت اور مذہبی بنیاد پر فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھانے کی عکاسی کرتا ہےڈوول ڈاکٹرائن خطے میں پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے اور جنوبی ایشیا میں تنازعہ کو ہوا دینے کا ذریعہ ہے، آر ایس ایس اور ڈوول ڈاکٹرائن کا گٹھ جوڑ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

  • مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جو ماضی میں  کئی بار  دہشتگردوں کے نشانہ پر رہا اور یہاں شدت پسندی کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں وہاں مسلم، ہندو اور عیساؤں کا مشترکہ قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے۔

     ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ  ہندوؤں عسائیوں کی تدفین بھی کی گئی ہے اور صدیوں بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

      چاہ سید منور نامی اس  قبرستان میں مسلمانوں کی قبروں پر مقدس  قرآنی آیات، عیسائیوں کی قبروں پر صلیب کا نشان جبکہ ہندوؤں کی قبروں کے رنگ گلابی اور انکے مذہبی کلمات لکھے ہوئے ہیں۔
     
    ماضی میں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو برادری اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کرتی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ شمشان گھاٹ پر محمکہ اوقاف کی ملکیت بن گیا۔ تاہم اب ہندو مذہب کے پیروکار اپنے مُردے جلاتے نہیں بلکہ انھیں مجبوراً چاہ سید منور قبرستان میں دفنا دیتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی کے علاوہ  ہندو برادری کے سیکنڑوں جبکہ کرسچن برادری کے ہزاروں گھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں اور  انھیں اپنی دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے میں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں ماسوئے مردہ کو جلانے کے۔

  • اوکاڑہ، پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ کا مرکزی اجلاس، ملکی معاملات اور مشاورت کی گئی

    اوکاڑہ، پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ کا مرکزی اجلاس، ملکی معاملات اور مشاورت کی گئی

    اوکاڑہ(علی حسین) پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ(پامی) کی ویڈیو لنک میٹنگ پامی کے چیئرمین محمد اسلم زار کی صدارت میں ہوئی. میزبان اجلاس وسیم خان تھے. میٹنگ میں صدر گوگیرہ اور اوکاڑہ سمیت ملک بھر سے پامی کے عہدیداران نے شرکت کی اور ملکی صورتحال، کرونا وائرس، کشمیر ایشو اور تنظیمی معاملات پر مشاورت کی گئی. میٹنگ سے اسلم زار، غلام سرور انجم مغل، اقبال ڈار، جاوید گورائیہ، مظہر الحق، خالد کیانی، نذر مسعود شاہ، انوار احمد شاہ، محمد جہانگیر، سید مجتبیٰ بخاری، مرزا محمد اسلم بیگ اور آصف آصفی الخیری نے خطاب کیا. آئندہ میٹنگ جولائی کے وسط میں ہوگی.

  • آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آج یونیورسٹی میں ایک دوست نے بڑا ہی عجیب سوال کر ڈالا کہ "آج پوری دنیا میں مسلمان اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، مسلمانوں کو حقارت بھری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟”
    کہنے کو تو یہ ایک عام سا سوال ہے لیکن اس سوال کے پس منظر میں چھپے اسباب بہت ہی کڑوے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم اپنا مقام کھو چکے ہیں، دنیائے کفر ہم پر چڑھ دوڑی ہے اور ہم بے بسی اور بے حسی کے تصویر بن چکے ہیں، جو دین آیا ہی غالب ہونے کے لیے تھا آخر اس کے پیروکار بے یارو مددگار کیوں ہو گئے.
    شاید اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا

    شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
    ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    آخر ہم کیوں بدنام نہ ہوتے، ہر وہ کام جس سے ہمیں ہمارا دین اسلام منع کرتا ہے ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، کہلوانے کو تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن کیا ہم میں کوئی ایسی صفت موجود ہے جو ہمیں ایک کامل مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہو، اگر آج ہم اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں تو شاید ہی ہم اپنے اندر کوئی ایسی صفت تلاش کر پائیں جو ایک سچے اور کامل مسلمان کا خاصہ ہونی چاہیے، فرقہ واریت کے ناسور نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے.
    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
    ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘

    آج ہم فرقوں میں اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، اپنے اپنے فرقوں کے بنائے گئے خود ساختہ خول میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں.
    یہ دنیا فانی ہے ہر ذی روح نے اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ قبر میں جب فرشتے ہمارا حساب کتاب کرنے آئیں گے تو کیا وہ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ بتا تیرا فرقہ کیا ہے؟ تو کس فرقے کا پیروکار ہے؟
    ہر گز نہیں! فرشتے نے ہم سے یہ سوال کرنے ہیں کہ بتا تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو کیا ہم اس وقت اندھیری قبر میں فرشتے کے ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے، جس طرح ہم زندگی کے امتحانات کے لیے بھر پور تیاری کرتے ہیں اسی طرح ہمیں قبر کے امتحان کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی.
    ہمارا اللہ بھی ایک، ہمارا رسول بھی ایک اور ہمارا دین بھی ایک تو پھر آخر ہم منتشر کیوں ہیں.
    ٹرک کی بتی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں حق اور سچ کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کریں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں، دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تعمیل کرنا ہو گی، فرقہ واریت کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا، محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا.
    نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اس دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے.
    اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین