Baaghi TV

Tag: مسلمان

  • ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے:حملوں میں اچانک تیزی آگئی

    ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے:حملوں میں اچانک تیزی آگئی

    نئی دہلی :ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے:حملوں میں اچانک تیزی آگئی ،اطلاعات کے مطابق کرناٹک میں حجاب تنازعے کے بعد انتہا پسندوں نے اب مسلمان ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹور اینڈ ٹریول آپریٹرز اور پھل فروشوں کے بائیکاٹ کیلیے ہندوؤں پر دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔

    بھارت میں انتہا پسندی میں تمام حدود پار کررہا ہے بالخصوص مسلم دشمن اقدامات نے دنیا بھر میں اس کے نام نہاد سیکولر ازم کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    کرناٹک جہاں رواں سال کے آغاز پر اسکولوں میں حجاب تنازع نے جنم لیا تھا وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلم دشمنی میں ہندو انتہا پسند اقدامات بڑھتے جارہے ہیں اور اب انہوں نے مسلمانوں کو معاشی بدحال کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔

    کرناٹک میں دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ بھارت رکھشنا ویدیکے نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمان ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹور اور ٹریول آپریٹرز کی خدمات نہ لیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے اراکین نے بنگلورو سمیت کرناٹک کے مختلف علاقوں میں گھروں کا دورہ کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات استعمال نہ کریں، خاص طور پر ہندو مندروں یا یاترا کے لیے اور اسی کے ساتھ مسلمان ٹور اور ٹریول آپریٹرز کی خدمات بھی حاصل نہ کریں۔

    اس حوالے سے پوچھے جانے پر بھارت رکھشنا ویدیکے کے سربراہ بھرت شیٹی نے انوکھا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی عالمی وبا میں لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے ہندو ڈرائیور مالی مشکلات کے باعث اپنی ٹیکسیاں بیچنے پر مجبور ہوئے۔ اکثریتی برادری کا فرض ہے کہ وہ پہلے اپنے لوگوں کا خیال رکھیں۔

    ایک اور خبر کے مطابق کرناٹک میں شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی ہے اور ہندوؤں سے کہا ہے کہ وہ مسلمان پھل فروشوں سے خریداری نہ کریں تاکہ پھلوں کے کاروبار پر مسلمانوں کی مبینہ اجارہ داری ختم ہوسکے۔

    اس حوالے سے ہندو جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں ںے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ صرف ہندو دکانداروں سے ہی پھل خریدیں۔

    دوسری جانب حکومت نے اس اپیل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تاہم ایم آئی ایم اورجے ڈی ایس نے بومئی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسلم پھل فروشوں کا بائیکاٹ کی اپیل کو مسلمانوں کو اچھوت بنانے کی کوشش سے تعبیرکیا ہے جب کہ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے بائیکاٹ کی اپیل کو ملک سے غداری قرار دیا ہے۔

  • تامل ناڈو کےاسلام قبول کرنےوالےمسلمانوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی شکایت

    تامل ناڈو کےاسلام قبول کرنےوالےمسلمانوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی شکایت

    چنئی:بھارتی ریاست تامل ناڈو میں دیگر مذاہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں نے افسوس ظاہر کیاہے کہ تامل ناڈو پبلک سروس کمیشن انہیں مخصوص کوٹے پر سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت نہیں دے رہاہے۔

    ریٹائرڈ جسٹس اکبر علی نے کہاہے کہ اسلام قبول کرنے والوں کا مخصوص کوٹہ بحال رکھا جانا چاہیے۔کمیونٹی رہنمائوں نے کہا کہ انہیں دیگرکیٹاگری میں شامل کیاگیا ہے جو کمیشن کے مطابق سرکاری ملازمتوں کے لیے ایک عام کوٹہ ہے۔مذہب تبدیل کرنے والے عیسائیوں کو پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تصور کیا جارہا ہے۔

    بھارتی ریاست بہار کے دارلحکومت پٹنہ میں جنتا دل یونائیٹڈ کے لیڈر دیپک مہتا کو گولی مار کرقتل کر دیا گیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پٹنہ میں پیر کی شب داناپور میونسپل کونسل کے نائب صدر اور جے ڈی یو رہنما دیپک کمار مہتا کو ان کے گھر کے باہی گولی مار کرقتل کر دیا گیا۔ دیپک کمار کے قتل کے بعد لوگوں نے علاقے میں زبردست ہنگامی آرائی اور توڑ پھوڑ کی اور انہوں نےگاندھی میدان مین روڈ بلاک کر دی۔ امن و امان کی صورتحال بگڑنے پر علاقے میں بھارتی پولیس کی بڑی تعداد کو تعینات کردیاگیا ہے۔

    دیپک کمار مہتا رات کا کھانا کھانے کے بعد تقریبا ساڑھے نو بجے شب اپنی رہائش گاہ کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے جب دو موٹر سائیکلوںپر سوار چار سے پانچ حملہ آروں نے انہیں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا ۔ گولیاں دیپک کے سر اور سینے میں لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے ۔ انہیں تشویشناک حالت میں فوری طور پرقریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دیپک کو مردہ قرار دے دیا۔

  • حجاب کا دفاع : ہندوستانی مسلمان کدھرجائیں: بے بس ہیں :متحدہ مجلس علما

    حجاب کا دفاع : ہندوستانی مسلمان کدھرجائیں: بے بس ہیں :متحدہ مجلس علما

    سرینگر:حجاب :کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت،ہندوستانی مسلمان بے بس ہیں :اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںمتحدہ مجلس علما ء نے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور مسلم پرسنل لاء میں مداخلت قراردیا ہے

    متحدہ مجلس علما کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمان بے بس ہیں اور ان کی کوئی بھی نہیں سنتا

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق متحدہ مجلس علماء نے جس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق گزشتہ دوسال سے زائد عرصے سے اپنے گھر میں نظربند ہیں، سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ عدالت کا یہ یک طرفہ فیصلہ ان مسلمان خواتین کے تعلیم کے حق کو بری طرح متاثر کرے گا جو حجاب یا نقاب پہن کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں اور اس طرح ہماری بہت سی بیٹیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہو جائیں گی۔بیان میں کہاگیا ان لڑکیوں کے نقاب پہننے سے کسی بھی طرح دوسری طالبات کے حقوق مجروح نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں یا ادارے کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    مجلس علماء نے کہا کہ نقاب یاپردہ اسلام کا حصہ ہے جس کا حکم قران مجید میں دیا گیا ہے ۔وہ مسلمان طالبات جو حجاب یا نقاب پہن کر اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں انہیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کایہ اقدام اور فیصلہ قابل ستائش ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ نامور ججوں کے ذریعے اسلام اور اس کے عقائد کی مذہبی تشریح غلط اور گمراہ کن ہے، اس لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قیادت کو عدالت کے اس فیصلے کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے اور انصاف اور سچائی کی بالادستی کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔

    مجلس علماء نے کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور ان کے مذہبی معاملات میں دانستہ طور پرمداخلت اور ان کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ مجلس علماء جلد ایک اجلاس بلائے گی۔

    متحدہ مجلس علماء میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ، مسلم پرسنل لاء بورڈ، انجمن شرعی شیعیان، جمعیت اہل حدیث، جماعت اسلامی، کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام، انجمن تبلیغ الاسلام، جمعیت ہمدانیہ، انجمن علمائے احناف، دارالعلوم قاسمیہ، دارالعلوم بلالیہ، انجمن نصرت الاسلام، انجمن مظہر الحق، جمعیت الائمہ والعلمائ، انجمن آئمہ و مشائخ کشمیر، دارالعلوم نقشبندیہ، دارالعلوم رشیدیہ، اہل بیت فانڈیشن، مدرسہ کنز العلوم، پیروانِ ولایت، اوقاف اسلامیہ خرم سرہامہ، بزمِ توحید اہل حدیث ٹرسٹ، انجمن تنظیم المکاتب، محمدی ٹرسٹ، انجمن انوارالاسلام، کاروانِ ختمِ نبوت، انجمن علماء و آئمہ مساجد، فلاح دارین ٹرسٹ ویلفیئر سوسائٹی اسلام آباد اور بہت سی چھوٹی مذہبی، سماجی اور تعلیمی انجمنیں شامل ہیں۔

  • مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    یوپی :مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں،اطلاعات کےمطابق اتر پردیش میں الیکشن جیتتے ہی بی جے پی رہنما نند کشور گوجر نے افسران کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان نہیں ہونی چاہیے۔

    اترپردیش کے علاقے غازی آباد لونی سے دوبارہ منتخب ہونے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی نند کشور گوجر نے منتخب ہوتے ہی مسلم کش متعصبانہ حکم دے کر اپنی مسلم دشمنی کا اظہار کردیا ہے۔

    کشور نے لونی کے افسروں کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان دکھائی نہیں دینی چاہیے، ان کے اس بیان سے وہاں کی اقلیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نند کشور گوجر نے افسران کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لونی کے افسران سمجھ لیں، انیہں ایک بھی گوشت کی دکان علاقے میں دکھائی نہیں دینی چاہیے، لونی میں صرف رام راج چاہیے اس لیے دودھ، گھی کھاؤ اور ونڈ بیٹھک کرو‘‘۔

    نند کشور اس سے قبل بھی اپنے متنازع بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آچکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں انہوں نے لونی کے بہیتا حاجی پور گاؤں میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ علی کا نام لیتے ہیں انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’’علی کا نام لینے والوں کو لونی چھوڑنا ہوگا، اس انتخاب کے بعد لونی میں مکمل رام راج ہوگا‘‘۔

    واضح رہے کہ بی جے پی کی مسلم دشمنی کا اظہار وقتاْ فوقتاْ ہوتا رہتا ہے کبھی مودی حکومت کے کسی اقدام سے تو کبھی خود مودی یا انکے رہنماؤں کے بیانات سے۔

    بی جے پی حکومت کے اقدامات کیخلاف صرف عام مسلمان نہیں بلکہ خود بھارت میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں بی جے پی حکومت کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف معروف شاعر منور رانا نے اترپردیش چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا نے اعلان کیا تھا کہ اگر یوگی ادتیہ اترپردیش کا دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ نقل مکانی کرلیں گے۔

  • ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کبھی اذان، کبھی نماز اور کبھی حجاب کو لے کر مسلمانوں کا جینا محال کر دیا گیا ہے

    اب خبر آئی ہے کہ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے اذان پر اعتراض عائد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب اذان ہو گی تو ہم لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے،ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک ویڈیو بنائی گئی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو انتہا پسند جمع ہیں اور ان میں سے ایک لڑکا کہہ رہا ہے کہ اس نے مسجد کے بالمقابل عمارت پر لاؤڈ اسپیکر لگا رکھے ہیں جب بھی اذان ہوگی ہم لاؤڈ اسپیکر پر اونچی آواز میں گانے بجائیں گے، ہندو انتہا پسند کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو کو پورے بھارت میں وائرل کیا جائے

    دوسری جانب پولیس نے انتہا پسند ہندووں کی جانب سے نصب لاؤڈ اسپیکر کو اتار دیا لیکن کسی انتہا پسند کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ مسجد انتظامیہ کو فی الحال اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے روک دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ بھارت میں اذان پر اعتراض کا یہ پہلا کیس نہیں بلکہ اس سے قبل بھی مسلمانوں کو کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور اذان پر پابندی مقامی طور پر عائد کی جا چکی ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو انتہاپسند سوچ کے حامل وکلا نے صوتی آلودگی کو بہانہ بناتے ہوئے لاؤڈ اسپیکروں سے اذانوں کی آوازوں پرپابندی کا مطالبہ کیا اس کیلئے وکلاء نے اندور کے ڈویژن کمشنر اور وزیر داخلہ نروتم مشرا کو میمورنڈم بھی ارسال کردیا ہے وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے مسلم مذہبی رہنماؤں نے اسے مذہبی تعصب سے تعبیرکیا ہے مدھیہ پردیش کی جمعیت علماء نے بیان دیا جس میں کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنی تقریبات میں استعمال کرتے ہیں۔

    بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی طرف سے مسلمانوں پرہونے والے مظالم اس قدرزیادہ ہیں کہ ہندووں کی ہی جماعتیں اس پرخوف زدہ اورپریشان ہیں ،قبل ازیں اتر پردیش کے غازی پور کے ضلع مجسٹریٹ نے زبانی احکامات جاری کرتے ہوئے مسجدوں میں اذان دینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے خلاف بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جس پر سماعت کے بعد عدالت نے مسلمانوں کو لاؤڈ سپیکر پر اذان اور بغیر لاؤڈ سپیکر کے بھی اذان دینے کی اجازت دے دی تھی

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    لاؤڈ سپیکر پر اذان دینا جرم کر گیا، ہندو انتہا پسندوں نے مسجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور مؤذن کو ذخمی کر دیا ,واقعہ بھارت کے علاقے گورکھپور مین پیش آیا جہاں ایک مسجد میں مؤذن نے لاؤڈ سپیکر پر اذان دی تو ہندو انتہا پسند مسجد میں گھس گئے اور انہوں نے مؤذن پر حملہ کر دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا، شرپسندوں نے مسجد میں توڑ پھوڑ بھی کی، ہندو انتہا پسندوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مسجد میں اذان نہ دی جائے لیکن مؤذن نے اذان دی اور اس پر حملہ کر دیا گیا

    مؤذن کے پاس اذان دینے کا حکومتی اجازت نامہ بھی تھا اسکے باوجود ہندو انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا ،35 سالہ مؤذن عبدالرحمان اس حملے میں شدید زخمی ہوا جس کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا، انتہا پسندوں نے مسجد کی بے حرمتی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی.اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور مقامی مسلمان بھی مسجد میں پہنچ گئے ،اس دوران ہندو انتہا پسندوں نے مقامی افراد پر بھی تشدد کیا ،پولیس کے آنے سے قبل ہندو انتہا پسند مسجد سے فرار ہو گئے تھے واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے مسلمانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ انتہا پسندوں کے ساتھ صلح کر لیں

    بھارت کی ریاست کرناٹک میں حجاب کے حوالہ سے بحث جاری ہے، رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ بھارت میں حجاب پہننے کی ضرورت نہیں ہے، مدرسوں کے علاوہ اگر کسی دیگر تعلیمی ادارے میں حجاب پہنا جاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آپ کے پاس مدرسے ہیں، اگر آپ وہاں حجاب پہنتے ہیں یا خضاب لگاتے ہیں تو ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ وہاں کا ضروری لباس پہنتے ہیں اور وہاں کے نظم و نسق پر عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن اگر آپ ملک کے اسکولوں اور کالجوں میں نظم و نسق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور حجاب پہننا اور خضاب لگانا شروع کر دیتے ہیں تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا خضاب کا استعمال بالوں کی سفیدی کو چھپانے کے لئے کیا جاتا ہے لیکن حجاب کا استعمال چہرہ ٹھانپنے کے لئے کیا جاتا ہے

  • مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

    مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

    بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش میں جلسے سے خطاب کی تقریر کرنے کی بی جے پی کے رہنما کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

    بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل تقریر میں حکمراں جماعت کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر میں دوبارہ منتخب ہوگیا تو مسلمانوں سے ٹوپی اتروا کر ماتھے پر تلک کا نشان لگواؤں گا۔

    ٹیلی وژن پر ایک حالیہ انٹرویو میں رکن اسمبلی نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وائرل ویڈیو کی تصدیق کی اور اپنے ناپاک عزائم کا اعادہ کیا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

    مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے باعث الیکشن میں جیت کے لیے حکمراں جماعت کے ارکان کے پاس ہندو جذبات کو اکسانے کے علاوہ کوئی اور حربہ نہیں بچا ہے۔

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    کرناٹک میں اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ ملک گیر ہوگیا ہے بی جے پی کی حکومت میں اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے اور جنونی انتہاپسند ہندوؤں کے شر سے خود ہندو برادری کے دلت بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

  • مسلمانوں کےحلیے میں انتہاپسند یہودیوں کامسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا انکشاف

    مسلمانوں کےحلیے میں انتہاپسند یہودیوں کامسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا انکشاف

    مقبوضہ بیت المقدس: انتہاپسند یہودیوں کے مسلمانوں جیسا حلیہ بنا کرمسلمانوں کے مقدس مقام مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق انتہاپسند یہودی مسلمانوں جیسا حلیہ بنا کرمسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں اوراپنی عبادت کرتے ہیں کچھ انتہا پسند یہودیوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کا لباس زیب تن کیے ہوئے مقدس مقام، ٹیمپل ماؤنٹ یا مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کے لیے آئے ہیں۔

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    انتہاپسند یہودی تنظیم کے ایک کارندے کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد مقبوضہ بیت المقدس کوفتح کرنا ہے جس پرہمارا حق ہے۔مسجد اقصیٰ جانے کے لئے ہم اپنے کپڑے، ٹوپی اورتمام دیگرشناختی علامات مسلمانوں جیسی کرتے ہیں۔

    فلسطینیوں نے یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے پرشدید غصے کا اظہارکیا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کے مقدس مقام پرعبادت کے حق کوخطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

    روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    اسرائیل کے 1967 میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد، ایک نازک صورت حال برقرار رہی غیر مسلم مسجد اقصیٰ کمپلیکس کا دورہ کر سکتے ہیں لیکن وہاں نماز نہیں پڑھ سکتے اسرائیلی فوجی اکثرغنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں گھس کرنمازیوں کوتشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

    اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ میں نمازپرپابندی بھی عائد کرتی رہتی ہے۔

  • بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر     خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

    بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

    ممبئی : بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خاموش نہ رہ سکیں،اطلاعات ہیں کہ حجاب کی آڑ میں مسلمان طالبات کی حمایت میں بھارتی معروف اداکارائیں بھی میدان میں آگئی ہیں ، بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی بھارتی مسلم طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے جہاں شیرنی قرار دیا وہیں طالبہ کے حق میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی آواز بلند کررہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر بھارتی اداکارائیں بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اس حوالے سے بھارت کی معروف اور چوٹی کی اداکارہ پوجا بھٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروپ نے عورت کو ڈرانے کی کوشش کی۔

     

    پوجا بھٹ نے اس واقعے کو انسانیت کے لیے خوفزدہ قرار دیا اور کہا کہ شالوں کو ہتھیار بنانا اپنی کمزوری کو ظلم کے ذریعے چھپانے کے مترادف ہے۔

     

    ایسے ہی بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

     

    واضح رہےکہ کرناٹک میں کالج آنے والی باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا، انتہا پسندوں نے طالبہ کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے جس کا جواب طالبہ نے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے دیا۔

     

     

    اس سے پہلے آج اور کل مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے شیرنی قرار دے دیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد مسلمان طالبہ مسکان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں۔

    مسکان نامی بھارتی طالبہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ مسکان اور ہیش ٹیگ اللہ اکبر سے ٹرینڈ کررہی ہیں جس میں مختلف ٹوئٹس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین مسکان کے حق میں اور مسلم مخالف واقعات پر آواز بلند کررہے ہیں۔

    جہاں مسکان کو سوشل میڈیا صارفین شاندار خراج تحسین پیش کررہے ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور وزرا نے بھی ان کی دلیری کو سراہا۔

     

    وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ صورتحال ہے جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے مغرب کو خبردار کیا تھا۔زرتاج گل نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کو اقلیتوں اور خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ملک بھی قرار دیا۔

     

    https://twitter.com/AliHassan__92/status/1491231738118684675?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491231738118684675%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    علی حسن نامی صارف نے مسکان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 100 کے مقابلے میں ایک شیرنی، آپ کسی ہیرو سے بڑھ کر ہو۔

     

    https://twitter.com/SufianAyub3/status/1491265958568394755?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491265958568394755%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    ایک صارف نے مسکان اور باحجاب خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے لکھا کہ حجاب صرف ہماری مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ ہمارا وقار ہے ، یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے ۔

     

    حلیمہ نامی صارف نے مسکان سمیت فلسطین سے باہمت خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری خواتین ہی تمہارے لیے کافی ہیں۔

     

    ایک صارف نے مسکان کی تصویر شیئر کی اور ٹوئٹ کی کہ وہ آئی ، دیکھا اور فتح کرلیا ۔

     

    وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں مسکان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سلام پیش کیا۔

     

     

    بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دیا۔

  • ہندوانتہاپسندوں کی دھمکیاں : جناح ٹاورکو بھارتی پرچم کےرنگوں میں رنگ دیا گیا:مودی نوازدیکھتےرہ گئے

    ہندوانتہاپسندوں کی دھمکیاں : جناح ٹاورکو بھارتی پرچم کےرنگوں میں رنگ دیا گیا:مودی نوازدیکھتےرہ گئے

    حیدرآباد:ہندوانتہاپسندوں کی دھمکیوں کے بعدجناح ٹاورکو بھارتی پرچم کےرنگوں میں رنگ دیا گیا:مودی نوازدیکھتے رہ گئے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہری گنٹور میں قائم تاریخی جناح ٹاور کو بھارتی پرچم کے رنگوں سے رنگ دیا گیا ہے اور 3 فروری کو اس کے احاطے میں بھارتی پرچم لہرانے کا اعلان کیاگیاہے۔

    حیدرآباد دکن سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ہندوتوا قوتین جناح ٹاور کو متنازعہ بتاتے ہوئے سیاسی فائدہ ا ٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔ دراصل آندھراپردیش میں بی جے پی انتہائی کمزور ہے اوروہ فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کرکے اپنے وجود کو منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسی لئے آندھراپردیش میں بی جے پی کے صدر ایس ویرا راجو نے گنٹور کے تاریخی جناح ٹاور کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اوربابری مسجد کی طرح جناح ٹاور کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے گنٹور کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

    اسی سلسلے کی کڑی کے طورپر 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع چند شرپسندوں نے جناح ٹاور پر ترنگا لہرانے کی کوشش کی جس کوپولیس نے ناکام بنادیا۔ بی جے پی کے رہنمابھارت میں قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے موجود تمام نشانیوں کو مٹانے کی دھمکیاں رہے ہیں۔

    گنٹور میونسپل کارپوریشن نے ہندو انتہاپسندوں کے دباﺅ میں آکر اورشہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے نام پر جناح ٹاور کو بھارتی پرچم کے رنگوں سے رنگنے اور 3 فروری کو جناح ٹاور کے احاطے میں بھارتی پرچم لہرانے کا فیصلہ کیا۔

  • بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ایک اورمسلمان دشمن فیصلہ کرتے ہوئے مسلمان پولیس کیڈٹ پرحجاب کرنے پرپابندی عائد کردی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالہ کی حکومت نے مسلمان پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے اورپوری آستین کی قمیض پہننے پرپابندی لگادی۔کیرالہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاستی اسکولوں کے طلبا کے لئے شروع کئے گئے اسٹوڈنٹ پولیس کیڈٹ پروجیکٹ میں شریک طالبات کے حجاب پہننے اورپوری آستین کی قمیض پہننے پرپابندی عائد کردی۔

    کیرالہ کے ریاستی حکام کے مطابق یونیفارم میں مذہبی علامات کو استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اورنہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔حجاب پرپابندی کیخلاف ایک مسلمان طالبہ نے کیرالہ کے ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی تھی۔عدالت نے درخواست فیصلے کے لئے ریاستی حکومت کو بھیج دی تھی۔

    ممبئی کے ملاڈ میں ہندوانتہا پسندوں نے ایک مسلمان رکشہ ڈرائیور پر چور ہونے کا الزام لگا کر اس کو مار مار کرجان سے مار دیا ہے۔ پولس کے ایک افسر نے بتایاکہ شاہ رخ شیخ نامی شخص کو دامو نگر کے لوگوں نے دس دن پہلے اس وقت پکڑ لیا تھا جب وہ وہاں پہلے سے کھڑے اپنے آٹو رکشہ کی دیکھ بھال کرنے پہنچا تھا۔
    پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ان انتہا پسندوں نے قتل کرنے کے بعد شیخ کو پاس کے ایک مقام پر پھینک دیا۔ اب مہلوک کے اہل خانہ نے احتجاج کرکے واقعے میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔