Baaghi TV

Tag: مسلمان

  • کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

    کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

    نئی دہلی :بھارت:کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے گائوں اراسیناکیرے میں اونچی ذات کے ہندوئوں نے حملہ کر کے پانچ دلت نوجوانوں کو زخمی کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دلت نوجوانوں نے میسور کی جیا پورہ پولیس پردرج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ انہیں گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں داخل ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے ۔

    مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ دلت نوجوان پانی پوری کھانے کیلئے گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں گئے تھے جس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 13جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے دلت نوجوانوں میسور کے کے آر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان شخص کوجو ٹرین پر ایک شادی شدہ ہندوخاتون کے ساتھ سفر کر رہا تھاتشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کر گھنٹوں تک اجین ریلوے اسٹیشن پر روکے رکھا۔

    بجرنگ دل کے کارکنوں نے مدھیہ پردیش کے اجین ریلے اسٹیشن پر مسلمان شخص پر لوجہاد کا الزام لگاتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کرریلوے پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعدازاں دونوں کے اہلخانہ نے پولیس کے سامنے تصدیق کی وہ دونوں فیملی فرینڈز ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں جس کے بعد انہیں پولیس نے جانے دیا۔

    اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اپنی شناخت بجرنگ دل کے کارکنوں کے طور پر کرانے والے تین افراد نے آصف شیخ کو ٹرین سے گھسیٹتے ہوئے اتارااور وہ اسے زبردستی پولیس اسٹیشن لے گئے جبکہ مذکورہ ہندو خاتون بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔

    پولیس اسٹیشن کے اندر ریکارڈ کی گئی ایک اور ویڈیو میں ہندو خاتون بجرنگ دل کے کارکنوں پر چیختے ہوئے نظر آ رہی ہے۔خاتون چیختے ہوئے کہتی ہے کہ ”تمہاری ایک غلط فہمی میری زندگی خراب کر سکتی ہے، میں بالغ ہوں اور ایک اسکول میں پڑھاتی ہوں”۔ ریلوے پولیس کے مطابق یہ واقعہ 14جنوری کو پیش آیا تھا ۔

  • بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں  زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    نئی دہلی : بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے ریاست تلنگانہ میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان سے خطاب میں مغلوں، نظاموں اور مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف خوب زہر اُگلا۔

     

    بی جے پی رہنما ہمنتا بسوا شرما کا کہنا تھا کہ جیسے کشمیر کی دفعہ 370 کا خاتمہ ہوا، جیسے رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوا، اسی طرح یہاں نظام اور اویسی کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا، اس میں اب زیادہ وقت نہیں۔ بھارتی تاریخ بتاتی ہے کہ بابر، اورنگزیب اور نظام بہت دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتے۔

    ہمنتا بسوا شرما کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کرنی ہے جس میں کوئی بھی نظام کی تاریخ نہیں پڑھے گا بلکہ ہمارے اپنے رہنماؤں کی تاریخ پڑھائی جائے گی۔

     

    تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد پر تقسیم ہند سے قبل تک نظام نے برسوں حکمرانی کی تھی اور ان کا اشارہ اُنہی کی طرف تھا۔ سوشل میڈیا پر اس متنازع بیان پر کافی بحث ہوئی اور بہت سے افراد نے اسے اشعال انگیز قرار دیا۔آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بھارت کو نئی سمت دینے کے لیے وزیراعظم مودی کی تعریف اور تلنگانہ میں بے روزگاری کے مسائل پر بھی بات کی لیکن وہ اِس حقیقت سے صاف منہ موڑ گئے کہ جب سے مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں تب سے ملک میں بے روزگاری کا سنگین مسئلہ شروع ہوا اور اس وقت ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔

    چند روز قبل ہی بھارت کے معروف ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبا اور اساتذہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ملک میں نفرت انگیز تقریروں اور اقلیتوں پر حملوں کے خلاف اُن کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں جو اِنہیں مزید تقویت اور حوصلہ دے رہی ہے۔

     

    وزیراعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس خط پر 183 افراد نے دستخط کیے جن میں طلبا کے ساتھ ساتھ آئی آئی ایم بنگلور کے 13 اور آئی آئی ایم احمد آباد کے تین فیکلٹی ارکان بھی شامل ہیں۔

    خط میں مزید تحریر تھا کہ ملک میں ایک خوف کا ماحول ہے۔ بھارت میں گرجا گھروں سمیت بہت سی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف تو ہتھیار اٹھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کسی قانونی کارروائی کے ڈر کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

     

    2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں مسلم اور دیگر اقلیتوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہی ہری دوار میں انتہاپسند ہندوؤں کے ایک مذہبی اجلاس کے موقع پر متعدد ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کے قتل عام اور نسل کشی کے لیے کہا تھا۔

    اس واقعے کی کئی وڈیوز بھی وائرل ہوچکی ہیں اور تمام مقررین واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ مسلمانوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

  • بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان    نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    نئی دلی :بھارت :پولیس کی موجودگی میں ہندتوا بلوائیوں کا مسلمان نوجوانوں پر حملہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع کولار میں پولیس کی موجودگی میں لاٹھیوں اور سلاخوں سے مسلح ہندوتوا بلوائیوں کے حملے میں چھ مسلمان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کولار اسٹیشن میں واقعے کے سلسلے میں تین مقدمات درج کیے ہیںجن میں سے دو ہندوئوں اور ایک مسلمانوں کے خلاف درج کیاگیا ہے ۔زخمی ہونے والے پانچ مسلمان ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین خواتین اور دو مردوں پر مشتمل ایک مسلمان خاندان صوفی بزرگ حضرت خواجہ عثمان شا ولی کی درگاہ پر حاضری کے بعد واپس جارہے تھے کہ جب تراہلی گائوں کے قریب ہندو توا بلوائیوں نے ان سے بدتمیزی کی اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے ۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مسلمانوں کے ایک گروپ کے ہمراہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ لیکن جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچے توحملہ آور جنگل میں فرار ہو گئے ۔جنگل میں ان کا تعاقب کرنے پر لاٹھیوں اور سلاخیوں سے لیس مرد و خواتین کے ایک بڑے گروپ نے انہیں گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا جس سے چھ مسلمان افراد زخمی ہو گئے ۔

    ادھر کل وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک اجتماع میں اقلیتوں خصوصاً 20 کروڑ مسلمانوں کے قتل عام کیلئے اپیل کی گئی تھی۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے قتل عام کے لیے کی گئی اپیل پر مودی سرکار کی خاموشی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

     

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے یہ شدت پسندانہ عزائم ہمارے علاقائی امن کیلئے حقیقی خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔

  • بھارت :مسلمانوں کا معاشی اورمعاشرتی مکمل بائیکاٹ:مودی اور اس کے یاروں کا خطرناک منصوبہ شروع

    بھارت :مسلمانوں کا معاشی اورمعاشرتی مکمل بائیکاٹ:مودی اور اس کے یاروں کا خطرناک منصوبہ شروع

    نئی دہلی:بھارت :مسلمانوں کا معاشی اورمعاشرتی مکمل بائیکاٹ:مودی اور اس کے یاروں کا خطرناک منصوبہ شروع ،اطلاعات کے مطابق مودی اور اس کے یاروں کی طرف سے مسلمانوں پرعرصہ حیات مزید تنگ کرنے اورمسلمانوں کو ہندووں کے آگے جھکنے اوران کی غلامی کرنے کا خطرناک منصوبہ شروع ہوچکا ہے ، اس منصوبے کو ملک بھر میں اپلائی کیا جائے گا تاہم ابھی پہلی ترجیح اور تجرے کے طور پر بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع سرگوجا کے ایک گاو ں میں انتہا پسند ہندووں نے مسلمانوں کا سماجی اور معاشی طور پر مکمل بائیکاٹ کرنے کا حلف اٹھالیا ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اس حوالے سے وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کلپ میں انتہا پسند ہندو مسلمان دکانداروں سے کوئی بھی چیز نہ خریدنے یا مسلمانوں کو کو زمین فروخت نہ کرنے کا عہد لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ عہد کے بعدوہ ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔حلف کے دوران وہ کہہ رہے ہیں کہ آج سے ہم عہد کرتے ہیں کہ مسلمان دکاندار وںسے کوئی چیز نہیں خریدیں گے ، ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو اپنی زمینیں فروخت نہیں کریں گے یا لیز پر نہیں دیں گے۔

    ادھر مسلمانوں کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ اور مسلمانوں کی نقل وحرکت کومحدود کرنےکےلیے بھی ایک منصوبہ منظرعام پرآیا ہےجس کے تحت بھارتی ریاست اترپردیش میں انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی ہندوتوا بریگیڈ نے اوچھے ہتھکنڈوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ وشو اہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے وارانسی میں دریائے گنگا کے کناروں کے ساتھ پوسٹر لگا دیے ہیں جن میں غیر ہندووں کو دریا کے قریب جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہندی میں کچھ پوسٹرز سوشل میڈیا پر بھی گردش کررہے ہیں جن میں سے ایک میں لکھاہے کہ دریا کے نزدیک نہ جانے کی یہ درخواست نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔

    صحافیوں کی طرف سے شیئر کیے گئے ویڈیو کلپس میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے اراکین کا ایک گروپ دکھایا گیا ہے جنہوں نے اپنے گلے میں زعفرانی مفلر پہن رکھے ہیںاور کشتی پر سوار پوسٹرز کو پکڑے ہوئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پوسٹر شہر کے پنچ گنگا گھاٹ، رام گھاٹ، دشاسوامیدھ گھاٹ، آسی گھاٹ اور مانیکرنیکا گھاٹ پر دیکھے گئے۔ وشوا ہندو پریشد کے ایک مقامی رہنما راجن گپتا ایک ویڈیو کلپ میں یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ یہ کوئی پوسٹر نہیں ہے بلکہ دیگر مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والوںکے لیے ایک انتباہ ہے کہ انہیں سناتن ثقافت کی علامتوں سے دور رہنا چاہیے ۔

    انہوںنے کہا کہ گنگا کے کنارے سیر و تفریح کیلئے نہیں ہیں لہذا غیر ہندﺅں کو ان سے دور رہنا ہو گا۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے مہم چلانے والے دائیں بازو کے ہندو گروپ کھلے عام فرقہ وارانہ کارڈ کھیل رہے ہیں

    Share this:

  • بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارے اس وقت بہت پریشان دکھائی دے رہےہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں اپنی بقاکی جنگ لڑرہی ہیں‌، اس حوالے سے بہت سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک فسطائی ریاست اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک بن گیا ہے جو ملک کو مکمل طور پر ایک ہندوتوا ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی بھارت کو اقلیتوں سے صاف کرنے کے مشن کے سلسلے میں ان کے خلاف آر ایس ایس کے نظریے کو مسلسل نافذ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملے معمول بن چکے ہیں اور ملک میں مسلمان، عیسائی، سکھ اور نچلی ذات کے ہندو خوف و دہشت کی حالت میں رہ رہے ہیں کیونکہ جب سے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے ان کے ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے ہندو انتہا پسندوں کو اس قدر شہ ملی ہے کہ وہ کھلے عام اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی کی دائیں بازو کی حکومت کے تحت ملک میں مذہبی عدم رواداری بڑھ رہی ہے جس کی پالیسیاں ہندوتوا نظریے کی عکاس ہیں اور وہ سب پر ہندو برہمن ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

    بھارت میں اقلیتوں‌کے خلاف مودی ڈاکٹرائن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا فسطائی نظریہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اس خطرناک ذہنیت سے نمٹنے اور بھارت میں اقلیتوں کو بچانے کے لیے مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • بھارتی خفیہ ایجنسیوں کاخفیہ کھیل:سکھوں اورمسلمانوں کےدرمیان دوریاں بڑھانے کیلئے نیاڈرامہ

    بھارتی خفیہ ایجنسیوں کاخفیہ کھیل:سکھوں اورمسلمانوں کےدرمیان دوریاں بڑھانے کیلئے نیاڈرامہ

    ممبئی :بھارتی خفیہ ایجنسیوں کاخفیہ کھیل:سکھوں اورمسلمانوں کےدرمیان دوریاں بڑھانے کیلئے نیاڈرامہ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ممبئی پولیس کی طرف سے بلی بائی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی آن لائن فروخت کے واقعے کی تحقیقات میں انکشاف کیاگیا ہے کہ نہ صرف بلی بائی بلکہ سوشل میڈیاپر متعدد پلیٹ فارمز کو سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں بڑھانے کیلئے استعمال کیاجارہا ہے ۔اور اس کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اوردیگر معاون ایجنسیوں کی سازش ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک بلی بائی ایپ پر مسلم خواتین کو فروخت کیلئے پیش کرنے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیاگیا ہے اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پیغاما ت کو پھیلانے کیلئے دیگر پلیٹ فارمز کو بھی استعمال کیاجارہا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ گرفتار کئے گئے ملزمان میں 21سالہ وشال کمار جھا کو بنگلور، 19سالہ شویتا سنگھ اور اس کے ایک دیگر ساتھی مینک راول کو اتراکھنڈ سے گرفتار کیاگیا ہے ۔ٹویٹر پر @Bullibai_، @Sage0x11، @hmmaachaniceoki،@jatkhalsa،@jatkhalsa7،@Sikh_Khalsa11 اور @wannabesigmafاکائونٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پیغاما ت کو پھیلائے جارہے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ ان تمام ٹویٹر اکائونٹس کاتعلق بظاہر سکھ برادری کے ساتھ ظاہر کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ @Bullibai پردستیاب معلوما ت کے مطابق KSFخالصہ سکھ فورس نے یہ ایپ بنائی تھی ۔ہیمنت ناگرالے نے کہاکہ اتراکھنڈ کی 18سالہ شویتا سنگھ نے یہ ایپ بنائی ۔ ممبئی پولیس کے سائبر سیل نے اس معاملہ میں ہر پہلو پر جانچ شروع کردی ہے ابتدا میں سائبر سیل کو بلی بائی ایپ پر پانچ فالووور ہی ملے جو ایک دوسرے سے رابطے میں تھے ۔

    بلی بائی ایپ میں ملزمین نے پیج تیار کئے اور سوشل میڈیا اورمختلف شعبہ جات سے وابستہ مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کر کے انہیں فروخت کیلئے پیش کیا ۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ایپ سکھ برادری نے مسلمان خواتین کو نشانہ بنانے کیلئے بنائی ہے اور ان کا واضح مقصد دونوں برادریوں کے درمیان دوریاں بڑھانا ہے ۔

  • مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لا بورڈ

    مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لا بورڈ

    نئی دہلی:مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لاء بورڈ ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مودی کی سربراہی میں 75ویں یوم آزادی کے موقع پر سکولوں میں ” سوریہ نمسکار”کا پروگرام منعقد کرنے کے مودی حکومت کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمان طلباء سے اس پروگرام کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میں کہاہے کہ سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کرنے کے مترادف ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے مسلمان طلباء سے کہاکہ ا س پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں ۔

    مودی حکومت کی ہدایات پر 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں سوریہ نمسکار کا پروگرام بھارت بھرکے سکولوںمیں یکم سے سات جنوری تک منعقد کئے جارہے ہیں۔ خالد رحمانی نے کہا کہ مسلمان سورج کو بھگوان نہیں مانتے لہذا مسلم بچوں کو اس طرح کے پروگرام میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

    ادھربھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا سے ‘بلی بائی’نامی ایک ایپ کے ذریعے مسلمان خواتین کی آن لائن نیلامی کے گھنائونے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کنسرنڈ سٹیزنز کی طرف سے بھارت کے عوام سے اس سلسلے میں توثیق کیلئے ایک آن لائن خط جاری کیاگیا ۔ خط میں بھارتی چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ملک میں سلی ڈیلز اور بلی بائی جیسی آن لائن ایپس کے ذریعے مسلم خواتین کو غیر قانونی اور غیر آئینی طورپر بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے کا اذ خود نوٹس لیں ۔

    خط میں این وی رمنا سے مزید کہاگیا ہے کہ وہ ا ن گھنائونے واقعات کے سلسلے میں درج مقدمات کی تحقیقات کی خود نگرانی کریں اوران میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ خط میں چیف جسٹس سے متعلقہ حکام کو ٹویٹر اور گٹ حب جیسی سوشل میڈیا ایپس کا اقلیتی مسلمان خواتین کو بدنام کرنے کے مذموم مقاصد کیلئے استعمال روکنے کی ہدایت کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے ۔

    کنسرنڈ سٹیزنز نے چیف جسٹس سے متاثرہ خواتین کو مناسب معاوضے کی ادائیگی اور مناسب اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے فرقہ وارانہ نفرت کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی فرقہ وارانہ نفرت اور خواتین کو بدنام کرنے گھنائونے واقعات سے خواتین کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر خواتین کے حقوق کا تحفظ بھارتی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ۔

    واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ دنوں آن لائن ایپ ‘بلی بائی’ کے ذریعے حال ہی میں مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کر کے انہیں فروخت کیلئے پیش کیاگیا ہے جبکہ گزشتہ سال جولائی میں ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ کے ذریعہ مسلم خواتین کی بولی لگائی گئی تھی۔

  • سال 2021، بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج

    سال 2021، بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج

    سال 2021، بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج کئے گئے تا ہم کسی ایک مقدمے میں بھی غداری ثابت نہیں کی جا سکی

    بھارت میں غداری کے زیادہ مقدمے مسلمانوں پر درج کئے گئے،پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے، پاکستانی پرچم بلند کرنے، پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت کرنے یا پھر مودی سرکار کے خلاف بات کرنے پر غداری کے مقدمے درج کئے جاتے رہے، ایک برس میں جتنے بھی بھارت میں غداری کے مقدمے درج کئے گئے ان میں مودی سرکار کسی ایک بھی مقدمے میں غداری ثابت نہیں کر سکی

    بھارت میں رواں برس غداری کا مقدمہ پہلے ماہ جنوری میں ہی 2 جنوری درج کیا گیا تھا ،اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کے خلاف غداری کا رواں برس کا پہلا مقدمہ درج کیا گیا تھا ،دوسرا مقدمہ ماہ جنوری کی 28 تاریخ کو درج کیا گیا تھا اور وہ مقدمہ ایک صحافی ظفر آغا پر ایک ٹویٹ کو لے کر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

    دوسرے ماہ فروری میں ماحولیاتی تبدیلی کی رکن اور طالبہ دیشا روی کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا، بھارت میں کسان تحریک کی حمایت کا ان پر الزام لگا تھا اور ایک ٹویٹ کو غداری کا مقدمہ درج کرنے کی بنیاد بنایا گیا تھا

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    صحافیوں نے کیا پنجاب اسمبلی سمیت دیگر سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    فردوس عاشق اعوان نے سنائی صحافیوں کو بڑی خوشخبری جس کے وہ 19 برس سے تھے منتظر

    2020 میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال، فردوس عاشق اعوان نے سنائی بڑی خوشخبری،کیا قانون لایا جا رہا ہے؟ بتا دیا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    7 مئی کو بھارتی ریاست اترپردیش میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے محمد اسلم اور اسکے چار ساتھیوں پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، 14 مئی کو تقریر ٹیلی کاسٹ کرنے پر نیوز چینل TV5 اور ABN Andhrajyoti پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

    6 اپریل 2021 کو ایک فیس بک پوسٹ سامنے آنے پر آسام کے رائٹر شیکھا سرما کو غداری کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا ،27 اکتوبر کو پاکستان زندہ باد کہنے پر تین کشمیری طلبہ سمیت سات لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا

    بھارت میں غداری کے زیادہ تر مقدمات مسلمانوں پر درج کئے جاتے ہیں تا ہم ان پر الزامات ثابت نہیں ہوتے، ایک رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2019 کے درمیان بھارت میں غداری کے 326 مقدمے قائم کئے گئے جن میں سے صرف چھ مقدامت میں ملزمان پر جرم ثابت ہو سکا،

    ہم جہنم میں جی رہے ہیں، دہلی ہائیکورٹ نے حکومت بارے دیئے ریمارکس

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    حکومت کے خلاف احتجاج ،وزیراعلیٰ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا

    کسانوں کا بھارت بند، ٹرین روک دی ،احتجاج جاری

    کسانوں کے احتجاج میں شامل خاتون نے لگایا مودی پر سنگین الزام

    مودی سرکار کی تجویز نامنظور،کسانوں نے دوبارہ بڑا اعلان کر دیا

    مر جائیں گے لیکن گھر نہیں جائیں گے، بھارت میں کسانوں کا اعلان

    نہ تھکیں گے، نہ رکیں گے،بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری، بھوک ہڑتال شروع

    کسان رہنماؤں کو قتل کروانے کی مودی سرکار کی سازش بے نقاب

    کسان ٹریکٹر مارچ روکنے کیلئے فوج تعینات، کسانوں کا بھی مودی کو دبنگ پیغام

    دہلی فسادات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی، دہلی ہائیکورٹ

    غداری کے الزام میں گرفتار شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

  • بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    نیو یارک:بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسیحی برادری پر مظالم کے تہلکہ خیز انکشافات امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سامنے لے آیا، ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

     

    امریک یاخبار دی نیو یارک ٹائمز میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق ہندو انتہا پسند عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے اور ان کو عبادت سے روکتے ہیں، عیسائیوں پر بڑھتے ظلم کی وجہ ہندو انتہا پسندانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، ہندو انتہا پسند بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

     

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق موت کے خوف سے عیسائیوں خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا، عیسائیوں کے زیر تسلط چلنے والے خیراتی ادارے کو ہندو انتہا پسند وکلا نے بند کروانے کیلئے متعدد بار شکایت درج کروائیں، ہندو انتہا پسندبھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی نسل کشی پر بھی خاموش۔

     

     

    امریکی اخبار کے مطابق اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر عالمی برادری کو شدید تحفظات ہیں، ہندو انتہا پسند مودی ہندوستان کو قوم پرست ملک بنانے کے خواہ ہیں۔

  • بھارت :2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کیلئے 100 رضاکار درکار، ہندو انتہا پسند آپے سے باہر

    بھارت :2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کیلئے 100 رضاکار درکار، ہندو انتہا پسند آپے سے باہر

    نئی دہلی: 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کیلئے 100 رضاکار درکار، ہندو انتہا پسند آپے سے باہر،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہا پسندآپے سے باہر ہوگئے اور لوگوں کو مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارتے ہوئے کہنے لگے کہ 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کے لیے صرف 100 رضاکار درکار ہیں۔

    بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے تین روزہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین شرکاء کو مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارتے رہے ،کنونشن میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما بھی شریک تھے۔

    کنونشن میں ہندو انتہا پسند لیڈر دھرم داس نے کہا کہ منموہن سنگھ نے کہا تھا وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے، میں پارلیمنٹ میں ہوتا تو منموہن سنگھ کے سینے میں 6گولیاں اتار دیتا۔

    ایک اور انتہا پسند لیڈر انا پرنا نے کہا کہ 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کے لیے صرف 100 رضاکار چاہیے، اگر انہیں ختم کرنا چاہتے ہو تو انہیں قتل کردو اور جیل جاؤ۔

    آنند سواروپ کا کہنا تھا کہ اس سال ہم مسلمانوں اور مسیحیوں کو مذہبی تہوار نہیں منانے دیں گے جبکہ ساگر سندھو راج نے کہا کہ موبائل چاہے 5 ہزار کا ہو، ہتھیار ایک لاکھ روپے والا رکھ لو، مسلمانوں کی جائیدادیں خریدو اور اپنے گاؤں مسلمانوں سے پاک کردو، جو ہندو بن جائے اسے چھوڑ دو جو نہ بنے اسے پتہ ہونے چاہیے کہ وہ مارا جائے گا۔

    پربھوآنند نے کہا کہ قتل کرو یا قتل ہونے کے لیے تیار ہوجاؤ ،کوئی دوسرا راستہ نہیں، مسلمانوں کو ایسے نکالو جیسے میانمر سے روہنگیا مسلمانوں کو نکالا گیا تھا۔