Baaghi TV

Tag: مسلمان

  • ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    واشنگٹن:ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ناقص انٹیلی جنس معلومات پر فضائی کاروائیوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکا کی فضائی کاروائیاں ناقص انٹیلی جنس معلومات سے بھرپوررہیں۔

    شام میں امریکی فورسز کی فضائی کارروائی، 18 اتحادی جنگجو ہلاک امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پرکاروائیوں میں بچوں سمیت ہزاروں عام شہری قتل کر دیےگئے لیکن کسی بھی مقام پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔

    دوسری جانب رپورٹ منظرعام پر آنےکے بعد ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کیپٹن بل اربن نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر شرمندہ ہیں اور غلطیوں سے سیکھنےکی کوشش کر رہےہیں۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف چند دن پہلے امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

  • بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    نئی دہلی : بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری ،اطلاعات کے مطابق مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کے فسطائی دور حکومت میںمسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتیں خوف و دہشت کی حالت میں زندگی گزار رہی کیونکہ یہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کی بنیادی آزادیوں کو پامال کر رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی بھارت کی پالیسی کو ہندوتوا کے نظریے کے مطابق تشکیل دے رہے ہیں اور جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں ملک میں مذہبی آزادی میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلمان، عیسائی اور سکھ اپنے عقیدے کی وجہ سے بھارت میں مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں کیونکہ ہندوتوا کا فلسفہ یہ ہے کہ بھارت میں رہنے کا حق صرف ہندوو¿ں کو ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے فسطائی دور میں بھارت تیزی سے عدم برداشت کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی بھارت کو مذہبی اقلیتوں سے پاک کرنے کے مشن پر ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور عالمی برادری کو بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے اور ہندو فاشزام کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم کے لیے مودی کا محاسبہ کرنا چاہیے

  • بھارتی جیلیں مسلمان قیدیوں سے بھرگئیں :مسلمان قیدیوں کی تعداد انکی کی آبادی کے تناسب سے زیادہ

    بھارتی جیلیں مسلمان قیدیوں سے بھرگئیں :مسلمان قیدیوں کی تعداد انکی کی آبادی کے تناسب سے زیادہ

    نئی دلی: بھارتی جیلیں مسلمان قیدیوں سے بھرگئیں :جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد انکی کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی ا یک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تقریبا تمام ریاستوں کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ وہ تعداد ہے جوریکارڈ میں موجود ہیں ، خفیہ ایجنسیوں کی قید میں مسلمان قیدیوں کی تفصیلات چھپائی جاتی ہے اور یہ تعداد بھی ہزاروں میں ہے

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق غیر سرکاری بھارتی تنظیم ”مشاورت“ کے صدر نوید حامد کا کہنا ہے کہ جیلوں میں مسلمانوں قیدیوں کی زیادہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ پولیس کا جانبدارانہ رویہ ہے جو ایک خاص ذہن کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف تعصب برت رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک محکمہ پولیس سے تعصب کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک صورتحال تبدیل نہیں ہوسکتی۔بغیر کسی جرم کے 14 برس تک جیل میں سزا بھگتنے والے محمدعامر نے بتایا کہ جیلوں میں مسلمانوں کے علاوہ پسماندہ طبقات کی خاصی تعداد موجود ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ سرور مندر نے بتایا کہ گزشتہ 7 برس سے ایسے قوانین کو نافذ کیا گیا ہے جن کے تحت محض مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعداد جیلوں میں بڑھتی جا رہی ہے۔مجلس اتحادالمسلمین دہلی کے صدر کا کہنا کہ پہلے کانگریس نے ٹاڈا اور پوٹا جیسے قانون لگاکر مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالا تھا جبکہ اب موجودہ ظالم حکومت کی طرف سے” یو اے پی اے اور این ایس اے “کے تحت مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔

    خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ آسام میں مسلمان 2011 کی مردم شماری کے مطابق آبادی کا34 فیصد ہیں جبکہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد 47.5 فیصد ہے، گجرات میں مسلمانوں کی آبادی 10 فیصد ہے اور 2017 سے وہ تقریبا 27 فیصد انڈر ٹرائل ہیں،کرناٹک میں مسلمان آبادی کا 13 فیصد ہیں جبکہ جیلوں میں 2018 سے اب تک 22 فیصد ہیں،کیرالہ میں مسلمانوں کی آبادی 26.5 فیصد ہے جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب 30 فیصد ہے ،

    تازہ ترین رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مہاراشٹر میں مسلمان آبادی 11.5 فیصد ہیں اور انڈر ٹرائل میں ان کا فیصد 2012 میں 36.5 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ راجستھان میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 9 فیصد ہے جبکہ انڈر ٹرائل میں 23 فیصدی مسلمان انڈر ٹرائل میں نمائندگی کرتے ہیں۔ تمل ناڈو میں مسلمانوں کی آبادی 6 فیصد ہے جبکہ جیلوں میں مسلمان 11 فیصد ہیں۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد 19 فیصد ہے جبکہ 29 فیصد جیلوں میں انڈر ٹرائل ہے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 27 فیصد ہے لیکن جیلوں میں مسلمانوں کی بات کریں تو وہاں یہ تعداد 36 فیصد ہے۔ بہارمیں آبادی کے حساب سے 15 فیصد مسلمان ہیں جبکہ جیلوں میں 17 فیصد مسلمان ہیں۔

  • اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا

    اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا

    نئی دہلی :اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کے معروف فلم ساز علی اکبر نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا۔

    انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر نے سوشل میڈیا پر بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) بپن راوت کے خلاف نفرت انگیز پوسٹ دیکھ کر اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز علی اکبر نے مذہب تبدیل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

    علی اکبر نے بتایا کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد اس کا نیا نام ’راماسمہن‘ ہوگا کیوں کہ راما سمہن ایک ایسا شخص تھا جو اپنی ثقافت کے حق میں کھڑا ہوا تھا اور مار دیا گیا تھا۔

    راما سمہن (سابق نام علی اکبر) نے مذہب بدلنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اُس کا مذہب سے اعتماد اُٹھ گیا ہے اسی لیے وہ اپنی اہلیہ لوسیما سمیت ہندو ہوگیا۔

    فلم ساز کے مطابق وہ اپنی بیٹیوں پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے کسی قسم کی زبردستی نہیں کرے گا، اس کی بیٹیاں خود فیصلہ کرسکتی ہیں کہ وہ کس مذہب کے تحت اپنی زندگی گزاریں گی۔

    تاہم اس سے قبل بپن راوت کی موت کے بعد راما سمہن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جنرل کی موت کی خبر پر سوشل میڈیا صارفین نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ توہین آمیز تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں متنازع شخصیت وسیم رضوی جسے توہین مذہب اور گستاخی کا مرتکب ہونے پر دائرہ اسلام سے خارج کردیا گیا تھا، اب ہندو مذہب اپنا ۔

     

     

    اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے غازی آباد کے ایک مندر میں اپنے ہندو دوست نار سنگھ آنند سروسوتی کے ہاتھوں ہندو مذہب اختیار کیا اور اس کا نیا نام جتندر نارائن سنگھ تیاگی ہوگا۔

  • وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسے خطے کا حصول تھا جہاں مسلمان اپنے دین اسلام کے مطابق آزدانہ زندگی گزار سکیں اور اپنے اسلامی اصول و قوانین پر عمل کر سکیں ۔ مسلمانوں نے اس لیے بے انتہا قربانیاں دیں تا کہ ان کی آنے والی نسلیں پاکستان میں رہ کر اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں ۔ لیکن پاکستانیوں کی بدقسمتی کہ انہیں ایسے حکمران ملے جنہوں نے اس پاک دھرتی پر اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو کامیاب ہونے میں ہمیشہ مدد دی ۔ پاکستانی کی سرزمین میں عاشق رسول ﷺ تو پھانسی کے پھندے تک پہنچتے رہے لیکن پاکستان کہ غدار اور اسلام کے دشمن ہمیشہ ہمارے حکمرانوں کے تحفظ میں رہے ۔ اس پاک دھرتی میں اسلامی قوانین تو راٸج نہ کیے جاسکے البتہ میڈیا کے ذریعے پاکستان میں لبرل ازم کو فروغ ضرور دیا جاتا رہا ہے ۔ اسلام کے نام لیواٶں پر تو یہ زمین تنگ کر دی گٸی لیکن محب وطن پاکستانیوں پر غداری کے مقدمات درج کٸیے گے اور پاک فوج اور پاک وطن اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے باعزت بری ضرور ہوتے رہے ۔ پاکستان کے عوام جنہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں عملا نافذ کرنا تھا وہ روٹی کپڑا مکان ، قرض اتارو ملک سنواروں ، ایک کروڑ نوکریوں ، اور دو نہیں ایک پاکستان جیسے نعروں میں ہی الجھ کر رہ گے ۔ نعرے تو ہر الیکشن میں بدلتے رہے ۔ بلہ الیکشن سے پہلے اور نعرے ہوتے جبکہ الیکشن کے بعد مزید نٸے نعرے آجاتے ۔ لیکن ان کھوکھلے نعروں نے ہمیں دیا کیا ؟ کیا پاکستان سے قرضہ ختم ہو گیا ؟ کیا عوام کو روٹی کپڑا اور مکان مل گیا ؟ کیا دو نہیں ایک پاکستان بن گیا ؟ کیا عوام کو انصاف ان کے دروازے پر ملنا ممکن ہوگیا ؟ کیا پولیس کا نظام ، عدلیہ کا نظام ، نظام حکومت سب بدل گیا ؟ کیا یہ سب بدل کر پاکستانی عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہوگیا ؟ ہرگز نہیں اور نہ ہی ایسا تب تک ہو سکتا ہے جب تک ہم اہنا نظام نہ بدل لیں ۔ اگر ملک کو خوشحال بنانا ہے ، عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرنی ہیں تو پھر نعرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ۔ نظام بھی نچلی سطح سے لے کر اعلی سطح تک بدلنا ہوگا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام میں بدلا کیا جاٸے ۔ تو سنیں نظام بدلنا کیسے ہے اور کس طرح نظام بدلے گا ۔ ہمارا پولیس کا نظام وہی جو انگریز نے بنایا یعنی عوام کو حکمرانوں اور سیاستدانوں ، جاگیرداروں ، وڈیروں سے ڈرا کر رکھنا اور بدقسمتی سے ہمارا نظام آج بھی وہی ہے ۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کا نظام اس محکمے کے مقاصد وہی رکھیں جاٸیں جو امیر المٶمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس محکمے کو قاٸم کرتے وقت بناٸے تھے ۔ قصور میں آٸے دن بچوں کا ریپ اور پھر درد ناک قتل اس سب کا ذمہ دار موجودہ نظام اور اس نظام کو قاٸم کرنے والے ہیں ۔ اگر اسلامی شریعت کے مطابق ان بچوں کے قاتلوں کو سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تو آٸیندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کسی معصوم بچے کی طرف غلط نظر سے دیکھ سکے ۔ ہمارے ملک میں رشوت خوری جہاں عروج پر ہے جہاں چور ڈاکو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر جاٸدادیں بنا لیں یہاں اگر اسلامی شریعت نافذ ہوتی تو پہلی دفعہ ہی چر کا ہاتھ کاٹنے پر اسے عبرت مل جاتی کہ آٸیندہ ہم نے حرام پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ انہیں پتہ ہوتا کہ ہم نے اپنے کتوں کو شہزادے بنا کر نہیں رکھنا بلکہ کتے کے کاٹے کی ویکسین رکھنی ہے ۔ دو نہیں ایک پاکستان بنانے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ان وزیروں مشیروں اور وزیر اعظم کا رہن سہن رکھا جاٸے ۔ دربان یعنی سیکیورٹی گارڈ ، پروٹوکول ختم کیاجاٸے ۔ وزیر اعظم کی تنخواہ عام مزدور کے برابر لاٸی جاٸے تاکہ سب کا معیار زندگی ایک ہو ۔ وزیروں مشیروں کی شاہانہ گاڑیوں پر پابندی لگاٸی جاٸے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صوبوں کے والیوں کو ترکی گھوڑا استعمال کرنے سے منع کیا تھا ۔ اسلامی قانون کے مطابق زکوة و عشر امیروں سے لے کر غریبوں کو دینے کا حکم تھا مگر یہاں غریب کے بچے کی دو روپے کی ٹافی پر بھی ٹیکس لگا کر امیروں کو دیا جارہا ہے ۔ ٹیکس ختم کر کے زکوة و عشر کا نظام لایا جاٸے تاکہ فاٸدہ غریب کا ہو اور امیر کا بھی مال پاک ہوجاٸے ۔ یہ قانون بنایا جاٸے کہ جو حکمران قرض لے گا وہی اس قرض کو واپس بھی کرے گا نہ کہ اس ملک کی غریب عوام کو پیسا جاٸے گا ۔ ملک کی لوٹی ہوٸی رقم واپس لانے کا آسان حل ان چوروں ڈاکوٶں میں سے کسی دو کی سر عام گردنیں اتار دی جاٸیں ۔ باقی روپیہ خود واپس کریں گے ۔ اور اس قانون پر عمل میں خیال یہی رکھا جاٸے کہ اگر اپنی بہن یا بیٹی کی چوری اور زکوة کی جاٸدادیں باہر ہیں تو اسے بھی سزا دی جاٸے ۔

    پاکستان میں حکمران صرف اسی کو منتخب کیا جاٸے ، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف تک کے عہدے ان لوگوں کو دٸیے جاٸیں جن کے بزرگ پاکستان میں دفن ہیں جن کی اپنی ساری عمریں اسی پاکستان میں گزر گٸیں اور جن کے بچے بھی ہمیشہ پاکستان میں رہے ہیں ۔ ایم این اے ، ایم پی اے سے پروٹوکول ، سرکاری گاڑیاں سیکیورٹی واپس لی جاٸے اور انہیں پابند کیا جاٸے کہ یہ لوگ عام عوم کے ساتھ سفر کریں ۔ پھر دیکھیں ملک میں کوٸی ایک ادنی سی چوری بھی ہوگٸی یا دھماکہ ہوگیا تو کہنا ۔ شراب پر پابندی عاٸد کی جاٸے اور دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال پر سر عام کوڑے مارے جاٸیں تاکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں نشہ کے کاروبار ختم ہوں ۔ مزدوروں کے لیے ہسپتال الگ بناٸیں جاٸیں اور پھر ان عوامی نماٸیندوں کو پابند کیا جاٸے کہ وہ اپنا علاج انہیں ہسپتالوں سے کرواٸیں ۔ مزدور کا جیسا علاج معالجہ ہو ویسا ہی ان عوامی نماٸیندوں کا بھی ۔ بے حیاٸی کے خاتمے کے لیے بچوں کے بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروانے پر حکومتی سطح پر سختی کی جاٸے ۔ جو وزیر بے حیاٸی پھیلانے والوں کے ساتھ نظر آٸے اس کے لیے سزا مختص کی جاٸے تاکہ وہ بے حیاٸی پھیلانے والیوں کو ایوارڈ دینے کی بجاٸے شریعی سزا دے سکیں ۔ پہلی وحی ” پڑھ اپنے رب کے نام سے ” پر عمل کیاجاٸے اور اپنے رب کی دی ہوٸی تعلیم یعنی اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم دی جاٸے ۔

    لیکن یہ سبھی قوانین تب بنے گے جب لیڈر اور نماٸیندے ایمان دار ہوں گے ۔ حرمت نبی ﷺ کو بیچ دینے والے ، شراب جس نے پینی ہے پی جس نے نہیں پینی نہ پیے کہنے والے ایسا نظام نہیں لاسکتے ۔ جو اپنے حرام پن کا دفاع کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جسے خالص دودھ ویسے مل جاٸے اسے گاٸے پالنے کی کیا ضرورت ہے وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ۔ جو یہ کہے قادیانی ہمارے بہن بھاٸی ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جو یہ کہیں کہ پتنگ بازی چھوڑنی ہے تو قربانی کرنا بھی چھوڑ دیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جن کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں والدین کی عزتیں خاک میں ملا رہے ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟

    اللہ ہمارے شہدا کی قربانیاں قبول فرماٸے اور کوٸی معجزہ دکھا دے کہ ہم بھی اپنے وطن کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنتے ہوٸے دیکھ سکیں ۔ آمین

  • دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    210 ہجری کا ذکر ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے 16 سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے خراسان، عراق، مصر، شام اور دوسرے علاقوں کا سفر کیا۔ امام ابو الحسین مسلم رحمہ اللہ نے بغداد، بُصرہ اور دیگر اسلامی شہروں کے لمبے سفر کیے۔ اسی طرح دیگر آئمہ حدیث نے ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے انتہائی لمبے سفر کیے۔ اور ہمارے لیے حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا۔
    ایک طرف ہمارے اسلاف کا علمِ حدیث کے لیے پوری زندگی پر محیط لمبا اور تھکا دینے والا سفر۔
    دوسری طرف ہم جس جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں کتابیں عام ہو رہی ہیں۔ حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں نئی تزئین و تدوین کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس جدید دور میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کی آسانی کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتابیں موجود ہیں، مکتبہ الشاملہ جیسی کتب کی وسیع آن لائن لائبریری موجود ہے۔
    کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اتنی آسانیوں کے دور میں ہمارا ہر جوان قرآن کا مفسر ہوتا، حدیث کا عالم ہوتا۔
    لیکن ہم تو اتنے بے فیض لوگ ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگی سے ہی فرصت نہیں۔ دنیاوی علوم میں تو ہم نے بڑی بڑی ڈگریاں لے لیں۔ آج المیہ یہ ہے کے انگلش اتنی سیکھ لی کہ انگریز کو پڑھا سکتے ہیں اور قرآن اتنا نہیں سیکھا کے ہم اللہ کے احکام کو جان سکیں کہ رب العالمین کہہ کیا رہے ہیں۔ کبھی قرآن کے معنی ومفاہیم پر غور و فکر نہیں کیا یا احادیث رسول ﷺ کو سمجھ کر اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی۔
    اگر کبھی قرآن کریم کو کھولا بھی جاتا ہے تو صرف ثواب یا تبرک کے لیے۔ احادیث کا ذوقی انتخاب کر لیا جاتا ہے اور صرف چند ابواب پر مبنی احادیث کو ہی پڑھا جاتا ہے۔
    اُصولِ حدیث اور شرعی اصطلاحات سے ہماری نوجوان نسل کو کوئی خاص رغبت نہیں رہی ہے۔ حدیث کی سند اور راویان حدیث کے حالات زندگی کو معلوم کرنا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
    بلکہ سنی سنائی باتوں کی نسبت فوری طور پر رسول کریم ﷺ کی طرف کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ((اطلب العلم ولو بالصّین)) علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جیسی بے اصل روایات ہماری نصابی کتب میں شامل ہیں۔ سکولوں، کالجوں میں بورڈز پر آویزاں ہیں۔
    علم حدیث سے بالکل بے خبر ارسطو اور افلاطون جیسوں کے اقوال کو ہمارے دانشور حضرات حدیث شریف کا درجہ دے دیتے ہیں۔
    اگر شروع سے ہی بچے بے اصل اور من گھڑت روایات کو حدیثِ صحیح سمجھ کر پڑھنے لگیں گے تو وہ بڑے ہو کر کس طرح صحیح اور موضوع روایت میں فرق کا ذوق رکھیں گے۔
    سستی شہرت حاصل کرنے والے علماء نے ایسی ایسی باتوں کو حدیث کا درجہ دے دیا ہے جس کا حدیث نبوی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عوام بھی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے اس کو من و عن تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ جب ان سے کہا جائے کہ یہ فعل تو نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی میں نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو اگے سے وہی گھسے پِٹے جواب کہ کم از کم برائی کا کام تو نہیں کر رہے نہ، نیکی ہی کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
    باشعور اور پڑھی لکھی عوام سے ایسے جوابات سن کر حیرت ہونے لگتی ہے۔
    ان حالات کو دیکھ کر انتہائی افسوس ہونے لگتا ہے کہ کثیر تعداد میں وسائل ہونے کے باوجود ہم احادیثِ رسول ﷺ سے اتنے بے خبر ہیں کہ نماز کا نبوی طریقہ نہیں معلوم، حج و عمرہ کے فرائض صحیح سے ادا کرنے نہیں آتے، سب سے بڑھ کر غسل کا طریقہ تک نہیں معلوم۔
    ہمارے اسلاف نے احادیث کو سیکھنے کے لیے زندگیاں وقف کردی تھیں۔ آج وہی احادیث، اسناد، راویانِ حدیث کے حالات زندگی، اسماء الرجال کے ساتھ انٹرنیٹ پر ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس قرآن و حدیث کو سیکھنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت و عشق کے دعوے کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں لیکن عملی زندگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسی نبی کی حیاتِ مبارکہ کے حالات اور ان کے بتلائے ہوئے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں صحیح معنوں میں نبی کریم ﷺ کا امتی بنائے ۔ قرآن و حدیث کو کماحقّہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روزِ قیامت ہم بارگاہ ایزدی میں سرخرو ٹھہریں۔ آمین