Baaghi TV

Tag: مسلم خواتین

  • سوئٹزرلینڈ میں خواتین پر برقعہ پہننے کی پابندی کی تاریخ کا اعلان

    سوئٹزرلینڈ میں خواتین پر برقعہ پہننے کی پابندی کی تاریخ کا اعلان

    یورپی ملک سوئٹزر لینڈ میں خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ اور باقاعدہ تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوئس حکومت کی جانب سے بدھ کے روز اعلان کیا گیا کہ سوئٹزر لینڈ میں برقعے پر پابندی کے فیصلہ پر عمل درآمد یکم جنوری 2025 سے ہوگا حکومت نے مسلمان خواتین کے عوامی مقامات پر برقع اوڑھنے پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے،برقع پہننے کی صورت میں 900 پاؤنڈ تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا-

    سوئس حکومت کی فیڈرل کونسل نے بیان جاری کیا کہ ہم نے برقعے پر پابندی کو عملی طور پر نافذ کرنے کی تاریخ طے کر دی ہے اور جو کوئی بھی عوامی جگہ پر غیر قانونی طور پر اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے £888 (1,000 سوئس فرانک) تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا،تاہم یہ پابندی جہازوں اور سفارتی جگہوں پر نہیں ہو گی ، نیز عبادت گاہوں میں بھی مسلمان خواتین نقاب کر سکیں گی۔

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    کونسل کے جاری کردہ بیان کے مطابق چہرے کو چھپانے کی صحت اور تحفظ کی ضرورتوں کے پیش نظر بھی اجازت ہو گی رسم و رواج اور موسمی شدت سے بچنے کے لیے بھی پردے کی اجازت ہو گی اسی طرح فنکارانہ ضرورتوں کے تحت بھی چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی، کسی خاتون کو اپنی حفاظت کے لیے بھی پردے کی ضرورت ہو تو اسے اجازت ہو گی۔

    سال 2021 میں ایک محدود اکثریت کے ساتھ ایک ریفرنڈم منعقد ہوا تھا جہاں مسلمانوں کی انجمنوں نے اس کے خلاف سخت مذمت کی تھی، ملک گیر پابندی کی تجویز دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی نے کی تھی، مسلمانوں کی انجمنوں کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انہی کی طرف کیا گیا ہے جنہوں نے 2009 میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگا دی تھی-

    ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

  • فرانسیسی اسکولوں میں عبایہ پہننے پر پابندی عائد

    فرانسیسی اسکولوں میں عبایہ پہننے پر پابندی عائد

    فرانس کے سرکاری اسکولوں میں مسلمان طالبات پر عبایہ پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی وزیرِتعلیم گیبریل اٹل نے سرکاری اسکولوں میں مسلمان طالبات کےعبایہ پہننے پر پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ لباس تعلیم کے حوالے سے فرانس کے سخت سیکولر قوانین کی خلاف ورزی ہے، اب اسکولوں میں عبایہ پہننا ممکن نہیں ہو گا جب آپ کلاس روم میں جاتے ہیں، تو آپ کو طالب علموں کو ان کے مذہب کی وجہ سے نہیں پہچنانا جانا چاہیے4 ستمبر سے ملک بھرمیں اسکول سربراہان کو قومی سطح پر واضح قواعد دیں گے۔

    فرانسیسی کونسل آف مسلم فیتھ (سی ایف سی ایم) ایک قومی ادارہ جس میں بہت سی مسلم انجمنیں شامل ہیں، اس نے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے کہا لباس ہی مذہب کی علامت نہیں ہے۔

    اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب فرانسیسی اسکولوں میں عبایہ پہننے پر کئی مہینوں کی بحث کے بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے، جہاں خواتین کے حجاب پہننے پر طویل عرصے سے پابندی عائد ہے فرانس نے2004ء میں اسکولوں میں سکارف اوڑھنے اور2010میں عوامی مقامات پرمکمل چہرے کے نقاب پر پابندی لگا دی تھی-

    دوسری جانب طالبان نے افغانستان کے مقبول ترین نیشنل پارکس میں سے ایک میں خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی جس کے بعد عوامی مقامات پر خواتین کی رسائی کم کرنے کیلئے پابندیوں کی ایک طویل فہرست میں اضافہ ہوا ہے ہر سال ہزاروں افراد بند امیرنیشنل پارک کا دورہ کرتے اور ملک کے وسطی صوبے بامیان میں نیلم نیلی جھیلوں اور بلند و بالا چٹانوں کے حیرت انگیز مناظر کا لطف اٹھاتے ہیں۔

    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    اس پابندی کا اعلان تب کیا گیا جب قائم مقام وزیر برائے نائب و فضیلت نے شکایت کی کہ پارک میں آنے والی خواتین حجاب پہننے کے مناسب طریقے پر عمل نہیں کر رہی ہیں محمد خالد حنفی نے سکیورٹی فورسز سے کہا کہ وہ خواتین کو پارک میں داخل ہونے سے روکنا شروع کریں۔

  • بھارت میں ہولی کے دوران خاتون جاپانی سیاح اور مسلم خواتین پر تشدد .ویڈیو

    بھارت میں ہولی کے دوران خاتون جاپانی سیاح اور مسلم خواتین پر تشدد .ویڈیو

    بھارت کے مختلف شہروں میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے ہولی کے دوران مسلمان خواتین کو حراساں کیا گیا جبکہ نئی دلی میں خاتون جاپانی سیاح پر تشدد کیا گیا جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں-

    باغی ٹی وی:وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ہولی کھیلنے کے بہانے جاپان سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاح کو لڑکوں کے گروپ نے بالوں سے پکڑا اور زبردستی اس کے منہ پر رنگ لگایا جبکہ ایک لڑکے نے خاتون سیاح کے سر پر انڈے بھی مارے اور اسے ہراساں کیاجاپانی خاتون مسلسل بچنے کی کوشش کرتی رہی اور لڑکوں کو روکتی رہی مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
    https://twitter.com/ashoswai/status/1634191671930900480?s=20


    ایک اور ویڈیو میں دیکھا گیا کہ لڑکے ایک دوسری سیاح خاتون کو بھی پکڑ کر زبردستی رنگ لگاتے رہے جبکہ اس کا شوہر اوباش لڑکوں کو رنگ لگانے سے منع کرتا رہا تاہم لڑکے باز نہ آئے۔


    خاتون سیاح نے اپنی ویلاگ میں بتایا کہ ان کے منع کرنے اور چلانے کے باوجود بھی لڑکے ان کی حفاظت کرنے کے بہانے انہیں نازیبا انداز میں چھوتے رہے اور انہیں ہراساں کیا۔

    یہی نہیں بلکہ بھارت کے گلی محلوں میں انتہا پسند شہریوں نے ہجاب پہن کر گزرنے والی مسلمان خواتین پر بھی رنگ اُچھالے، انڈے مارے اور انہیں ہراساں کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

    متاثرہ خاتون واقعے کے بعد بھارت چھوڑ کر بنگلا دیش منتقل ہو گئی واقعے کی ویڈیو منظرِعام پر آنے کے بعد دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نوجوان سیاح خاتون کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے کوئی شکایت درج نہیں کرائی-


    دوسری جانب سوشل میڈیا پروائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہےکہ ہندو انتہاپسندوں کا ہجوم راہ چلتی برقعہ پوش مسلمان خواتین پر زبردستی رنگ پھینک کر انہیں تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    https://twitter.com/doamuslims/status/1633590094660530185?s=20
    ایک اور ویڈیو میں رکشے میں بیٹھی ہوئی خواتین کو پہلے تو حراساں کیا جاتا ہے بعد ازاں ان پر بھی زبردستی رنگ ڈال دیا جاتا ہے جس کے بعد رکشہ ڈرائیور فوری طور پر اپنا رکشہ وہاں سے نکال لیتا ہے۔
    https://twitter.com/Haseebsid234/status/1633874129186324481?s=20
    ایک ویڈیو میں بھارتی پولیس کی موجودگی میں ہندوانتہاپسندوں کا ہجوم اپنے گھر کی بالکنی میں موجود دو مسلمان خواتین پر پتھراؤ کر تارہا جبکہ وہاں موجود پولیس اہلکار انتہاپسندوں کو روکنے اور مسلمان خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے-

  • مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کے حوالہ سے ایپ بنانے والے دو ملزمان کی عدالت نے ضمانت منظور کر لی ہے اور عدالت نے ملزمان کو رہا کر نے کا حکم دے دیا ہے’

    بھارت میں آن لائن ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی نیلامی کا انکشاف ہوا تھا پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا اب انسانی بنیادوں پر عدالت نے اومکار یشور ٹھاکر اور نیرج کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے، نیرج بلی بائی کیس کا ملزم ہے جبکہ اومکار پر الزام ہے کہ اس نے سلی ڈیز ایپ بنائی تھی

    عدالت نے دوران سماعت کہا کہ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے جبکہ ایف ایس ایل کے نتائج آنا باقی ہی مقدمہ جس مرحلے پر ہے اس وقت ملزمان حقائق سے چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کر پائیں گے،عدالت میں یہ بھی دلیل دی گئیکہ ملزمان نے پہلی بار جرم کیا ہے اور انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھنا مناسب نہیں ہوگا،ملزمان کو رہا کرنے کے حکم کے ساتھ عدالت نے شرائط بھی رکھی ہیں یعنی مشروط ضمانت دی ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان ملک سے باہر نہیں جائیں گے جب بھی بلایا جائے گا حاضر ہوں گے، تفتیشی افسر کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، فون مسلسل آن ہو گا اور اپنی لوکیشن سے پولیس کو آگاہ کرتے رہیں گے

    سلی ڈیلز کا معاملہ سب سے پہلے گزشتہ سال جولائی میں اس وقت سامنے آیا جب ایک ایپ پر متعدد مسلم خواتین کی تصاویر شیئر کر کے انہیں نیلامی کے لئے پیش کیا گیا تھا اکے چند ماہ بعد بلی بائی ایپ بھی منظر عام پر آئی، جس کے ذریعے ایک مرتبہ پھر خواتین کو نیلامی کے لئے پیش کیا گیا۔ ایک خاتون صحافی کی شکایت کے بعد اس معاملہ کی تحقیقات شروع کی گئی رواں برس ماہ جنوری میں پولیس نے سب سے پہلے بلی بائی ایپ بنانے والے ملزم نیرج بشنوئی کو گرفتار کیا تھا پھر دو دن بعد 8 جنوری کو سلی ڈیلز تیار کرنے والے اومکاریشور ٹھاکر کو بھی گرفتار کر لیا گیا

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں جس کی وجہ سے بھارتی خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر ان خواتین کی ہیں جو ٹویٹر صارف ہیں اور ان کے کافی تعداد میں فالوؤرز ہیں۔ ایپ کو آن لائن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی سہولت کار کمپنی Github پر ڈیزائن کیا گیا ہے ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے،

    ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ سال میں دوسری بار ہوا ہے کہ خواتین کی آن لائن نیلامی کیلئے ایپ بنائی گئی اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں Sulli Deal نامی ایپ متعارف ہوئی تھی جس نےBulli Bai کی طرح ہی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر آئن لائن نیلامی کیلئے پوسٹ کی تھیں 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سلی ڈیل‘۔ سلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    ہندو انتہا پسندوں کی بھارت میں ہولی پر مسلم خواتین مخالف مہم

    فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں وہ بھی انسان ہیں،مسلم امریکن خواتین اراکین برس پڑیں

    تب بھی مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے دہلی اقلیتی کمیشن اورخاتون کمیشن نے نوٹس لیا تھا اس ضمن میں دہلی اقلیتی کمیشن اور خاتون کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلم خواتین کے خلاف ایسی بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ملزم کنال شرما اور کچھ دیگر ملزمان نے مسلم خواتین کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگ ہندو مت کو بدنام کر ہے ہیں بھارت میں جو لوگ دیویوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے احساسات کو بھی انہوں نے مجروح کیا ہے۔ دہلی پولیس کو ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے-

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انڈیا میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
    گائے کے تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے سخت گیر ہندوؤں کے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات نے مسلمان کمیونٹی کو خوف و مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

  • حجاب پہنے اللہ اکبر کے نعرے لگانیوالی 10 طالبات پر مقدمہ درج

    حجاب پہنے اللہ اکبر کے نعرے لگانیوالی 10 طالبات پر مقدمہ درج

    حجاب پہنے اللہ اکبر کے نعرے لگانیوالی 10 طالبات پر مقدمہ درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں حجاب پہنے اللہ اکبر کے نعرے لگانیوالی 10 طالبات پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    مقدمہ کرناٹک میں درج کیا گیا ہے، کرناٹک میں حجاب کے مسئلہ پر ابھی تک تنازعہ چل رہا ہے، 16 فروری کو تعلیمی ادارے پھر کھل گئے اور اسی دن سے طالبات کی جانب سے احتجاج کیا جا رہے،حجاب پہننے کی وجہ سے کالج سے نکالے جانے پر احتجاج کرنیوالی طالبات کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تمکور میں پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، 17 فروری کو طالبات نے ایمپریس گورنمنٹ کالج کے باہر احتجاج کی، طالبات نے حجاب پہنا ہوا تھا اور وہ اللہ اکبر کے نعرے لگا رہی تھی، طالبات نے اسکے علاوہ اور کوئی نعرے بازی نہیں کی، بدلے میں کرناٹک پولیس نے ان دس طالبات کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے،پولیس نے طالبات کے خلاف مقدمہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور آئی پی سی کی دفعات 149، 149، 145 اور 188 کے تحت درج کیا ہے

    کرناٹک ہائیکورٹ نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کیس کی سماعت مکمل ہونے تک تعلیمی اداروں میں مذہبی شناخت کا لباس نہیں پہنا جائے گا،

    بھارت میں حجاب کو لے کر اس وقت بحث عروج پر ہے، کئی ممالک نے بھی بھارت کے خلاف بیان دیئے ہیں ،دوسری جانب مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے خواتین کے ایک وفد کو یقین دلایا ہے کہ وہ مہاراشٹر میں حجاب کے خلاف کوئی بھی ایسا قانون نافذ نہیں ہونے دیں گے جس سے خواتین کے حقوق پر ضرب پڑے۔

    دوسری جانب کرناٹک کے علاقے شیو گاما کے ایک تعلیمی ادارے میں باحجاب طالبات کی جانب سے کالج میں جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر کالج نے ایکشن لیا ہے اور کالج نے حجاب پہننے والی کم از کم 58 طالبات کے نام کالج سے خارج کر دیئے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق جن طالبات کو نکالا گیا تو سرکاری کالج میں زیر تعلیم تھیں.پرنسپل کا کہنا تھا کہ ہم طالبات کو حجاب کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، طالبات سکول کے قوانین کو فالو کریں لیکن طالبات نے حجاب اتارنے سے انکار کیا اور بعد ازاں کالج کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد کالج نے انکے نام خارج کر دیئے،طالبات کا کہنا ہے کہ سکول چھوڑ دیں گی لیکن حجاب نہیں اتاریں گی

     طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف بھارتی نژاد امریکی مسلمانوں نے ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں احتجاج کیا

    پولیس نے باحجاب خواتین پر ڈنڈے برسادیے، ویڈیو وائرل:حجاب ممنوع قراردینے کی سازشیں 

     کرناٹک میں ایک اورکالج نے طالبات کوحجاب کے ساتھ کالج کے اندرداخل نہیں ہونے دیا

     حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت نہ ملنے پرکرناٹک کے سرکاری اسکول کی طالبات نے امتحانات کا بائیکاٹ کردیا

    ایک نہ ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیر اعظم بنے گی۔

    بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی، خواتین ونگ کی جانب سے کراچی پریس کلب پر احتجاج

    "میرا حجاب میرا فخر”پاکستان کی بیٹوں کا مسکان کے ساتھ اظہاریکجہتی:ایمان افروزتقریبات

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردے دیا

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

     مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں

    :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی 

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا میں پیش آنے والے واقعات نے اقلیتی برادری میں خوف پیدا کردیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔

    گرلز اسلامک آرگنائزیشن کرناٹکا کے صدر سمعیہ روشن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فطری طور پر امتیازی سلوک ہے اور حقوق کے بھی خلاف ہے جو بھارت کے آئین نے طالبات دیے ہیں پابندی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے جو طالبات کا حق ہے اور اس سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

     بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

    بھارتی سپریم کورٹ کا حجاب کیس میں مداخلت سے انکار

  • بھارت میں مسلم خواتین کو سرعام بے عزت کیا جا رہا ہے،بھارتی صحافی

    بھارت میں مسلم خواتین کو سرعام بے عزت کیا جا رہا ہے،بھارتی صحافی

    بھارتی مسلم صحافی رعنا ایوب کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلم خواتین کو سرعام بے عزت کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بھارتی مسلم صھافی رعنا ایوب نے کہا کہ بھارت میں 250 ملین مسلم آبادی ہے، مسلم خواتین کو سرعام بے عزت کیا جا رہا ہے، حجابی بیٹیوں کی تذلیل اور اُن کو ڈرایا جا رہا ہے۔

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا


    رعنا ایوب نے کہا کہ مسلم بچوں کو جھوٹے الزامات میں اٹھایا اور گرفتار کیا جارہا ہے، اس ظلم کے خلاف بہت کم لوگ ہیں جو ہمت کر کے اپنی آوازیں بلند کر رہے ہیں۔

    یاد رہے بھارتی مسلمان صحافی رعنا ایوب کو سچ بولنے پر ایک بار پھر بی جے پی کے عذاب کا سامنا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون صحافی کی ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم ضبط کرلی گئی ہے۔

    بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے مسلمان صحافی پر منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر رقم ضبط کی ہے، مودی کی ظالمانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے کی وجہ سےرعنا ایوب کو ماضی میں قتل اور ریپ کی دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں صحافی رعنا ایوب نے ’گجرات فائلز‘ نامی کتاب لکھی تھی جس میں 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کا ذمہ دا ر اس وقت کی بی جے پی حکومت کو ٹھہرایا تھا-

    مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

    واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی انتہا پسندی عروج پر ہے، مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کی جارہی ہے، اس بار انتہا پسند ہندووں نے لڑکیوں کے حجاب کو نشانہ بنایا ہے کرناٹک کے تمام اسکولوں میں باحجاب اوربرقع پہننے والی طالبات کوکلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ریاست میں باحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی گئی ہے جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے-

    کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    کرناٹک کے ضلع شیوا موگا کے سرکاری اسکول میں انتظامیہ نے امتحانات میں بیٹھنے کے لئے طالبات سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا اسکول کی 13 طالبات نے حجاب اتارنے کے بجائے احتجاجاً امتحانات کا بائیکاٹ کردیا جبکہ اترپردیش مین بھی مسلم طالبان کو ہراساں کیا جا رہاہے-

    بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

    بھارتی خاتون صحافی کو بی جے پی کارندوں کیجانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں

  • مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار
    بھارت میں مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے پولیس اب حرکت میں آئی ہے

    ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ آن لائن نیلامی میں مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی ایپ بلی بائی کے اکاؤنٹ چلانے والے ملزم کو گرفتار کیا ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ایک خاتون ہے ور بنگلورو سے گرفتار کیا گیا ہے پولیس کے مطابق ایک ملزم کو اترا کھنڈ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کی عمر 21 برس ہے اور وہ سول انجینئر ہے، اس سے جب تحقیقات کی گئیں تو اس نے انکشاف کیا تھا کہ ایک خاتون ملزم بھی اس سارے معاملے میں اس کے ساتھ ہے،

    بنگلورو سے گرفتار کئے گئے ملزم کی شناخت وشال کمار کے طور پر ہوئی، ممبئی پولیس سائبر سیل کے ڈی سی رشمی کرندیکر نے تحقیقات کے بعد ملزم کو گرفتار کیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ایپ کے تین اکاونٹس کو ہینڈل کر رہا تھا

    خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ممبئی پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ وشال کمار نے ایک سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنایا بعد میں ملتے جلتے ناموں سے تین اور اکاؤنٹ بنایا، سکھ ناموں کے اکاؤنٹ بنائے گئے تھے اور خالصہ تحریک کی بھی ان اکاونٹ سے حمایت کی جا رہی تھی ، ان اکاؤنٹ کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایسا لگے کہ اس ایپ کے پیچھے سکھ ہیں ،تا ہم ایسا نہیں ہے، پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں،

    مہاراشٹر کے وزیر اور کانگریس کے رہنما ستیج پٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی پولیس نے اس ضمن میں اہم پیشرفت کی ہے تا ہم اس کی تفصیلات نہیں بتا سکتے ، تحقیقات ہوں گی اور یقین دہانی کرواتا ہوں کہ مجرموں کا پیچھا کریں گے اور انہیں سزا ملے گی

    دوسری جئانب دہلی پولیس نے بھی یکم جنوری کو اس حوالہ سے مقدمہ درج کیا ہے، ممبئی سائبر پولیس تھانہ نے بھی ایپ کو ڈیولپ کرنے والوں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے ٹویٹر ہینڈل کے خلاف بھی مقدمے درج کر رکھے ہیں ، گزشتہ سال جولائی میں بھی دہلی پولیس کے سائبر سیل نے ایسا ایک مقدمہ درج کیا تھا

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں جس کی وجہ سے بھارتی خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر ان خواتین کی ہیں جو ٹویٹر صارف ہیں اور ان کے کافی تعداد میں فالوؤرز ہیں۔ ایپ کو آن لائن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی سہولت کار کمپنی Github پر ڈیزائن کیا گیا ہے ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے،

    ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ سال میں دوسری بار ہوا ہے کہ خواتین کی آن لائن نیلامی کیلئے ایپ بنائی گئی اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں Sulli Deal نامی ایپ متعارف ہوئی تھی جس نےBulli Bai کی طرح ہی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر آئن لائن نیلامی کیلئے پوسٹ کی تھیں 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سلی ڈیل‘۔ سلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    ہندو انتہا پسندوں کی بھارت میں ہولی پر مسلم خواتین مخالف مہم

    فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں وہ بھی انسان ہیں،مسلم امریکن خواتین اراکین برس پڑیں

    تب بھی مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے دہلی اقلیتی کمیشن اورخاتون کمیشن نے نوٹس لیا تھا اس ضمن میں دہلی اقلیتی کمیشن اور خاتون کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلم خواتین کے خلاف ایسی بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ملزم کنال شرما اور کچھ دیگر ملزمان نے مسلم خواتین کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگ ہندو مت کو بدنام کر ہے ہیں بھارت میں جو لوگ دیویوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے احساسات کو بھی انہوں نے مجروح کیا ہے۔ دہلی پولیس کو ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے-

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انڈیا میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
    گائے کے تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے سخت گیر ہندوؤں کے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات نے مسلمان کمیونٹی کو خوف و مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

     

  • بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

    بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

    نئی دہلی: بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں جس کی وجہ سے بھارتی خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    باغی ٹی وی :سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ پر اقلیتی کمیشن کا نوٹس

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر ان خواتین کی ہیں جو ٹویٹر صارف ہیں اور ان کے کافی تعداد میں فالوؤرز ہیں۔ ایپ کو آن لائن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی سہولت کار کمپنی Github پر ڈیزائن کیا گیا ہے ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے، جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال کی جانے والی توہین آمیز اصطلاح ہے۔

    ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

    دہلی کمیشن برائے خواتین نے پولیس کو فوری کارروائی نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے نوٹس بھی جاری کردیا ہے کمیشن کا کہنا ہے کہ Sulli Deal ایپ کو متعارف ہوئے مہینے ہوگئے لیکن کوئی مجرم بھی گرفتار نہیں ہوا اور ’بُلی بائی‘ کے حوالے سے بھی پولیس سستی دکھا رہی ہے۔

    دوسری جانب پولیس نے بیان دیا کہ انہوں نے Github سے ایپ سے متعلق تمام تفصیلات طلب کی ہیں جس میں ایپ کو بنانے والے کی نشاندہی کرنا بھی شامل ہے۔


    ہفتے کی رات ایک ٹویٹ میں بھارت کے وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے کہا کہ’گٹ ہب نے آج صبح ہی صارف کو بلاک کرنے کی تصدیق کی ہےسی ای آر ٹی (کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم)، جو ان کی وزارت کے تحت ایک دفتر ہے اور پولیس حکام مزید کارروائی کے لیے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔‘

    بلی بائی ایپ، ’سُلی ڈیلز‘ نامی ایک اور ویب سائٹ کے چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے جس کو گیٹ ہب پر اپ لوڈ کیا گیا تھا اس حوالے سے دو شکایات درج کروائی گئی تھیں، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی اب تک کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے بلی بائی کے ذریعے نشانہ بنائے گئے صحافیوں میں سے ایک عصمت آرا نے اتوار کو دہلی پولیس سٹیشن میں شکایت درج کروائی۔


    عصمت آرا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے آپ کو اپنے نئے سال کا آغاز خوف اور نفرت کے اس احساس سے کرنا ہوگا۔ یقیناً یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ #sullideals کے اس نئے ورژن میں میں واحد نہیں ہوں جسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    درجنوں بھارتی مسلمان خواتین کی آن لائن نیلامی ، ذمہ دار کون؟

    واضح رہے کہ یہ واقعہ سال میں دوسری بار ہوا ہے کہ خواتین کی آن لائن نیلامی کیلئے ایپ بنائی گئی اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں Sulli Deal نامی ایپ متعارف ہوئی تھی جس نےBulli Bai کی طرح ہی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر آئن لائن نیلامی کیلئے پوسٹ کی تھیں 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سلی ڈیل‘۔ سلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    ہندو انتہا پسندوں کی بھارت میں ہولی پر مسلم خواتین مخالف مہم

    فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں وہ بھی انسان ہیں،مسلم امریکن خواتین اراکین برس پڑیں

    تب بھی مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے دہلی اقلیتی کمیشن اورخاتون کمیشن نے نوٹس لیا تھا اس ضمن میں دہلی اقلیتی کمیشن اور خاتون کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلم خواتین کے خلاف ایسی بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ملزم کنال شرما اور کچھ دیگر ملزمان نے مسلم خواتین کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگ ہندو مت کو بدنام کر ہے ہیں بھارت میں جو لوگ دیویوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے احساسات کو بھی انہوں نے مجروح کیا ہے۔ دہلی پولیس کو ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے-

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انڈیا میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
    گائے کے تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے سخت گیر ہندوؤں کے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات نے مسلمان کمیونٹی کو خوف و مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے جو شخص اسلامی معاشرے کا فرد بن جاتا ہے وہ ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو معاشرتی لحاظ سے جامعیت رکھتا ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس کی تشکیل نے عورت کو پستیوں سے نکال کر آسمان کا ستارا بنا دیا اس معاشرے نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو پاکیزگی اور عزت سے مالا مال ہے اسلامی معاشرے سے پہلے جہالت کے معاشرے میں دیکھا جاۓ تو ہر قسم کے بے حیائی اور فحش کام کرنے کے لیے عورت کا انتخاب ہوتا تھا اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جاۓ تو کسی معاشرے کے مرد کو اس کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے لوگ عورت کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اسلامی معاشرے میں بھی خواتین کو ہی ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے لنڈے کے دیسی لبرلز نے عورتوں میں فحاشی اور عریانی کو رواج دیا۔ ان لبرلز نے خواہ وہ کسی کمپنی کی کمرشل ہو یا فیشن کے نام ہو مسلمان با حیاء عورتوں کے پردے اور ایمان کا جنازہ نکال دیا ہے یہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے ایجنٹوں نے میرے وطن عزیز میں بے حیائی اور عریانی پھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کافر اور ملحدوں کی شدید خواہش ہے کہ میرے وطن عزیز کو عزت اور شرم حیاء والی سوچ سے خالی کر دیں اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا پھیل جانا اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دینا ہے۔ فحاشی اور عریانی تو غیر مسلم کا شعار تھا لیکن افسوس یہ اسلامی معاشرے میں پھیل گیا۔ کبھی اے اسلامی معاشرے کی پاک بیٹیو جو تم پردے سے آزادی چاہتی ہو سوچا ہے کہ تم کس پاک نبیﷺ کی امت کی بیٹیاں ہو جس نے ایک یہودی عورت کی چادر چھن جانے سے پوری قوم یہود کو جنگ کے لیے للکارا تھا۔
    کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ماضی میں دیکھیے جہاں انہوں نے عورت کو پردے کا پابند کیا جہاں ان عورتوں نے احکام الہی کو مانا ہے وہاں ان عورتوں نے وہ کام کر کھایا ہے جو اج کی مسلمان عورت پردے سے آزادی کی بات کرتی ہے پردے کے بےغیر بھی شاید نہ کر سکے۔ اصل میں پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ وہ باعزت مواقع فراہم کرتا ہے کہ تم پردہ کر کے پہچانی جاؤ گی اور تکلیف نہ دی جاؤ گی بلکہ آرام سے اپنا کام کرو گی۔ نبی پاکﷺ کے دور میں عورتوں نے وہ کام کر دکھایا جو آج کے لبرلز کےمنہ پر طمانچہ ہے کہ پردہ داغ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں قیمتی چیز ہے۔ صحابیاتؓ نے جس جوش سے خدمت جہاد کی ہے آج کے دور میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ غزوہ احد میں جب کافروں نے عام حملہ کر دیا تو ام عمارہ سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے کندھے پہ گہرے زخم کھائے لیکن ابن قیمہ کو نبی پاکﷺ کے پاس نہیں جانے دیا غزوہ خندق میں حضرت صفیہؓ کی بہادری اور تدبیر نے یہودیوں کو حملہ نہیں کرنے دیا غزوہ حنین میں ام سلیمؓ کا خنجر لے کر نکلنا بہت مشہور ہے جنگ یرموک میں اسماء بنت ابوبکرؓ جویریہؓ ہندؓ خولہؓ نے بڑی بہادری سے قبرص کی بحری جنگ میں قبرص کی فتح میں ام حرام بنت ملحانؓ اس میں شامل تھیں اس علاوہ زحمیوں کی مرہم پٹی کرنا شہداء کی لاشوں کو اٹھانا جنگی مجاھدین کے لیے کھانا بنانا جیسی خدمات قابل حیرت ہیں۔ یرموک میں جب مسلمان ہٹنے لگے تو ہند ؓاور خولہؓ نے اشعار پڑھہ کر غیرت دلائی صحابیاتؓ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتی تھیں حضرت شفاء بنت عبداللہؓ بہت بڑی صاحب الراۓ تھیں حضرت عمرؓ نے کئی بار بازار کا انتظام ان کے سپرد کیا تھا عورت کے پاس اتنا سیاسی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قیدی کو پناہ دے سکتی تھی اسلامی علوم میں خواتین بہت ماہر تھیں حضرت عائشہؓ ام ورقہؓ اور ام سلمہؓ نے پورا قرآن پاک حفظ کیا تھا ام سعد ؓدرس قرآن دیتی تھی حضرت عائشہؓ بہت ساری احادیث کی روای ہیں فقہ میں ان کے فتاویٰ بہت مشہور ہیں۔ اسلامی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی خواتین ماہر تھں ام سلمہؓ علم الااسرار سے پوری واقفیت رکھتی تھیں خطابت میں اسماء بنت یزیدؓ بہت مشہور تھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں اسماء بنت عمیسؓ ماہر تھیں طب اور جراحی میں اسلمتہ ؓام مطاعؓ ام کبشہؓ حمنہ بنت جحشؓ ام سلیمؓ ام عطیہؓ کو مہارت حاصل تھی شاعری میں خنساءؓ ہندؓ خولہؓ ام ایمنؓ عاتکہؓ بنت زیدؓ بہت ماہر تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سی انصار عورتیں کاشتکاری اور کپڑا بننے کا کام کرتی تھیں بہت سی عورتیں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں شفاء بنت عبداللہ ؓ نے دور جاہلت میں ہی پڑھائی لکھائی جان لی تھی۔ حضرت حفصہؓ اور بنت عقبہؓ ام کلشومؓ بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ پڑھنا جانتی تھی اس کے علاوہ خواتین تجارت بھی کرتی تھیں حضرت خدیجہؓ بہت بڑی تاجر تھیں۔ خولاءؓ اور ملکیہؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں بنو امیہ میں رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ خاتون تھی عباسی دور میں پردے کا عام رواج تھا تو عورتوں نے اس دور میں بھی بہت سی خدمات سر انجام دی ملکہ خزان ملکہ زبیدہ ملکہ بوران امور حکومت میں دلچسپی لیتی تھیں خلیفہ منصور کے عہد میں دو اسلامی شہزادیوں ام عیسی اور لبانہ نے بزنطیوں کے خلاف جہاد کیا تھا ہارون کے عہد میں کئی عورتیں سپہ سالار مقرر ہوئی تھیں خلیفہ مقتدر کی والدہ عدالت عالیہ میں اپیلوں کی سماعت کرتی تھی اور غیر ملکی سفیروں سے امور مملکت پر تبادلہ خیال کر تی تھی عباسی دور کی عورتیں بہت علم پرور تھیں وہ مردوں کے دوش بدوش علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں ملکہ زبیدہ ایک بلند پایہ شاعرہ تھی ایک خاتون شیخہ ادب اور تاریخ پر لیکچر دیتی تھی ایک خاتون زینب بہت بڑی قانون دان تھی درس گاہوں میں قانون کی تعلیم دیتی تھی صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک ترک عورت درس حدیث دیتی تھی ان عورتوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم ان لبرل عورتوں کو کس طرح ان خرافات سے سمجھا سکتے یہ تو اس طرح ہے جس طرح کوڑے کے ڈھیر پورے ملک میں ہوں ان کی صفائی کے لیے چند لوگ تو نہیں درکار ہو سکتے نہ اس کام کے لیے لاکھوں لوگ درکار ہوں گے اسی طرح ان لنڈے کے لبرلز کو سمجھانے کے لیے ایسے کئی لوگ چاہئیں جن کی اپنی زندگی ایسی خرافات سے پاک ہو۔

  • حجاب اپناؤ، دین و دنیا بچاؤ ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    حجاب اپناؤ، دین و دنیا بچاؤ ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے مطابق مت پھرو۔
    اس حکم کا منشا یہ ہے کہ عورت اپنی زینت اور محاسن کو اس طرح ظاہر نہ کرے کہ اس سے دیکھنے والوں کے دلوں میں میلان اور شہوت پیدا ہو۔
    عورتوں اور مردوں کو حکم دیا گیا کہ
    غض بصر کرو عموماً ان الفاظ کا ترجمہ
    نظریں نیچی رکھو
    یا
    نظریں پست رکھو کیا جاتا ہے مگر اسکا مدعا دراصل یہ ہے کہ اس چیز سے پرہیز کیا جاۓ جس کو حدیث میں آنکھوں کا زنا کہا گیا ہے۔
    اجنبی عورتوں کے حسن اور ان کی زینت کی دید سے لذت اندوز ہونا مردوں کے لیے اور اجنبی مردوں کو مطمع نظر بنانا عورتوں کے لیے فتنے کا موجب ہے۔
    فساد اور خرابی کی ابتداء طبعاً وعادتاً یہیں سے ہوتی ہے اسی لیے اس دروازے کو بند کرنے کو کہا گیا ہے۔ فسادِ زمانہ کی بنا پر اسباب فتنہ کی روک تھام کے لیے عورتوں کا با پردہ ہونا ضروری ہے۔

    خواتین کے لباس کی چند حدود و قیود

    پردہ پورے بدن کو چھپانے کا نام ہے۔
    ایسا حجاب استعمال نہ کیا جاۓ جو بذاتِ خود زینت بن جاۓ۔
    لباس باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے بدن چھلکے۔
    کشادہ لباس ہو، تنگ نہ ہو۔
    خوشبو میں بسا ہوا نہ ہو۔
    مرد کے مشابہ نہ ہو۔
    کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔
    شہرت کا لباس نہ ہو۔
    حجاب کرنے اور باپردہ ہونے کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی مثال ہمارے سامنے ہے اور ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ انہوں نے اس بات کو بھی ناپسند کیا کہ مرنے کے بعد عورت کو ایسے کپڑے میں لپیٹا جاۓ جس سے اس عورت کا ہونا ظاہر ہو۔
    حیا مومنوں کی خاص صفت ہے حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں یا تو دونوں رہیں گے یا دونوں رخصت ہو جائیں گے۔
    بے پردگی اور اس کے لوازم اور دواعی سب کے سب اہل کفر کی دیکھا دیکھی مسلم معاشرے میں رواج پاگئے ہیں۔ جو لوگ بے پردگی کو رواج دینے کی کوشش میں ہیں اور اپنی بہو، بیٹیوں کو یورپین عورتوں کی طرح بے حیا اور بے شرم بنا چکے ہیں۔
    مادر پدر آزاد خیال اور آزاد لباس ان میں بہت سے تو ایسے ہیں جو محض نام کے مسلمان ہیں اور شرم وحیاء کے ساتھ ایمان کی دولت بھی کھو چکے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جنھیں کسی درجے یورپ کا مزاج اور بے حیائی اور بے شرمی کی طبیعت آہستہ آہستہ اسلام سے ہٹاۓ جارہی ہے۔
    مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسلامی قوانین کی پابندی کریں اور اسلام کے روشن اصولوں پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت سنواریں۔
    دعا گو ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سے راضی ہوجاۓ۔