Baaghi TV

Tag: مسلم ممالک

  • بھارت میں نقاب کی بے حرمتی ،حافظ نعیم کا مسلم ممالک سے بڑا مطالبہ

    بھارت میں نقاب کی بے حرمتی ،حافظ نعیم کا مسلم ممالک سے بڑا مطالبہ

    بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے مسلم خاتون کے نقاب کی بے حرمتی کرنے پر امیر جماعت اسلامی حافط نعیم الرحمان نے مسلم ممالک سے بڑا مطالبہ کر دیا۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت ایک فسطائی ریاست بن چکا ہےکسی غنڈے یا بدمعاش نے چوری چھپے نہیں بلکہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ نے پوری دنیا کے سامنے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کوشش کی، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ یہ واقعہ اسلام دشمنی، مسلم دشمنی اور ہندوتوا کی ذہنیت کا کھلا اظہار ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے تاحال اس مکروہ واقعے کی کھل کر مذمت نہیں کی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مسلم ممالک کم از کم بھارتی سفیر کو طلب کر کے اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کروائیں، پورے عالمِ اسلام کو اس معاملے پر بھرپور مذمت کرنی چاہیے اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بہار کی جانب سے نقاب کھینچنے پر مسلم خاتون ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کرلیابھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی ہراسانی کا شکار خاتون ڈاکٹر ذہنی دباؤ اور ڈر و خوف میں مبتلا ہوگئی،خاتون ڈاکٹر کے بھائی کا کہنا ہے کہ بہن نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ اس وقت ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں بی جے پی کے اتحادی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ دیا تھا بھارت میں روایتی اور دیسی طریقہ علاج کی وزارت ‘آیوش’ کی جانب سے آیوش ڈاکٹروں کو ملازمت کا تقرر نامہ(Appointment Letter) دینے کی تقریب رکھی گئی تھی جس میں وزیراعلیٰ بہار آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامہ دے رہے تھے۔

    نقاب کھینچنے کو بھارتی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور انسانی حقوق تنظیموں نے شرمناک قرار دیا جس کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریڈی کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لکھنو میں سماجی وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔

  • پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

    پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

    اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے سیکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ کر دیا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی سفیر منیر اکرم نے کہا کہ آج میں پاکستان اور او آئی سی کی مشترکہ طور پہ نمائندگی کر رہا ہوں ۔ سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں لیکن اصلاحات میں کسی قسم کی جلد بازی نہ کی جائے ۔ اصلاحاتی ترامیم میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی ضروری ہے ۔ او آئی سی اس حوالے سے پہلے ہی اپنا موقف دے چکا ہے ۔ او آئی سی اور پاکستان اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں مسلمان ممالک کی مستقل نشست چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے اسلامی ممالک کی تنظیم کا موقف بہت واضح ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے کسی بھی چارٹر یا اصلاحاتی پروگرام کو نہیں مانیں گے جب تک اس میں مسلمان ممالک کو شامل نہیں کیا جائے گا ۔ ترقی پزیر ممالک ، عرب دنیا اور دیگر چھوٹے ممالک کی نمائندگی اقوام متحدہ میں نہ ہونا ناقابل قبول ہو گا ۔ یہ میرا نہیں او آئی سی کا مطالبہ ہے جو میں پیش کر رہا ہوں ۔ہم اقوام متحدہ کی اصلاحات میں او آئی سی اور دیگر گروپس کی تجاویز شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ ہماری تجاویز کو مستقبل کی اصلاحاتی قراردادوں کے متن میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔ پاکستانی سفیر نے مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک اور گروپس کی سیکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کو یقینی بنایا جائے ۔ اس حوالے سے او آئی سی کی تجاویز پہ گزشتہ ایک سال سے بات چیت بھی ہورہی ہے ۔ تمام ممبر ممالک کے پاس ہماری تجاویز موجود ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کسی ایسی قرارداد کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں مسلمانوں کو سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کی بات نہ ہو ۔اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اتفاق رائے کے بغیر اقوام متحدہ کے چارٹر میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے ۔ اگر مستقل نشستیں بڑھانے کی بات ہوئی تو مسلمان ممالک کی نمائندگی کے بغیر کوئی ایگریمنٹ نہیں ہوسکتا ۔

    پی ٹی آئی کو کہیں نہ کہیں دشمن ملک سے سپورٹ مل رہی ہے، سعید غنی

  • غزہ جنگ: مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے،سعوی وزارت خارجہ

    غزہ جنگ: مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے،سعوی وزارت خارجہ

    ریاض: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئےعرب، مسلم ممالک کے سربراہان چین کا دورہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی: سعودی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ فیصل نے کہا کہ پہلا پڑاؤ چین میں ہوگا، پھر ہم ایک واضح پیغام دینے کے لیے دوسرے دارالحکومتوں میں جائیں گےکہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا جائےاور مدد کی جائے،ہمیں اس بحران اور غزہ پر جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہے۔
    https://x.com/KSAmofaEN/status/1725907393135964582?s=20

    مذکورہ دورہ رواں ماہ ریاض میں ہونے والی مشترکہ عرب اور اسلامی سربراہی کانفرنس میں طے پانے والے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی حمایت یافتہ عارضی معاہدہ ہوگیا

    دوسری جانب ایرانی ایکسپیڈینسی ڈسرنمنٹ کونسل کے ایک سرکردہ رکن غلام علی حداد عادل نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ سے بچنے کے لیے غزہ کی لڑائی میں شرکت سے انکار کردیااسرائیل امید کر رہا تھا کہ ایران غزہ کی جنگ میں شامل ہو جائے گا اور اس کا امریکہ کے ساتھ تصادم شروع ہوجائے گاہمیں ان لوگوں سے کہنا چاہیے جو چاہتے ہیں کہ ایران غزہ کی جنگ میں داخل ہو، شاید یہ وہی چیز ہے جو صہیونی ادارہ چاہتا ہے، صہیونی ادارہ چاہتا ہے کہ غزہ کی جنگ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دوسری جنگ میں بدل دیا جائے۔ ایران نے غزہ جنگ میں شرکت سے گریز کرنے کا درست فیصلہ کیا، اگر تہران جنگ میں شریک ہوجاتا تو صہیونی نظام محفوظ ہوجاتا ایران کا غزہ سے نکلنے کا فیصلہ فلسطینیوں کے مفاد میں ہے شاید ایران کا جنگ میں شامل ہونا فلسطینی کاز کے مفاد میں نہیں ہے۔

    فلسطینیوں کے حق میں پوسٹ شیئر کرنےپر ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا،ایلون …

  • اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    ہفتے کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد سے لڑائی اب تک جاری ہے، اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی ہے، حماس کے حملوں میں 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں تو وہیں اسرائیلی حملوں میں 450 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، اسرائیلی فوج نے 20 مقامات پر ٹینک اور بھاری توپ خانہ غزہ کے قریب پہنچا دیا ہے، اسرائیلی فوج جب غزہ کے قریب پہنچی تو اسرائیلی شہریوں نے اپنے پرچم اٹھا کر اسرائیلی فوج کا استقبال کیا،

    حماس کے حملے میں نو امریکی شہری بھی مارے گئے ہیں،نو امریکی شہریوں کی موت کی امریکہ نے تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کئی امریکی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملرکاکہنا تھا کہ تین دن بعد آج ہم نو امریکی شہریوں کے قتل کی تصدیق کر سکتے ہیں

    خواتین اور بچوں کی رہائی،قطر میدان میں آ گیا،حماس سے رابطہ
    اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے قطر میدان میں آ گیا، قطری ثالثوں نے حماس سے رابطہ کیا ہے تا کہ حماس کے ہاتھوں غزہ میں قید اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے بات چیت کی جا سکے۔رائٹر نے دعوی کیا ہے کہ حماس سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیل میں قید 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لئے بات چیت کی جائے گی،

    قطر کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کو تصدیق کی ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کر رہے ہیں،ہم مذاکرات کر رہے ہیں جس میں قیدیوں کی رہائی شامل ہے، ہماری ترجحات خونریذی کا خاتمہ بھی ہے، قطری وذارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی.

    ہلال احمر کی ایمبولینس گاڑیاں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ
    اسرائیل کی جانب سے ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہےہلال احمر سوسائٹی کی تین ایمبولینس گاڑیاں اسرائیلی حملے کی زد میں آئی ہیں، ہلال احمر کے ترجمان بشار مراد کا کہنا ہے کہ ایمبولینسوں میں سوار عملے کی بھی موت ہوئی ہے،اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کو پناہ گاہوں کی ضرورت ہے جو بے گھر ہو چکے ہیں، ہسپتال بھر چکے ہیں،زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ایک ہسپتال میں زخمی کو لے کر جاتے ہیں تو وہاں جگہ نہیں ہوتی اسلئے پھر دوسرے کی جانب جانا پڑتا ہے، اسرائیل روزانہ بیس گھنٹے سے زائد عرصے کے لیے بجلی کاٹتا ہے، "جو زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ بنتا ہے،

    حماس کے حملے میں ہزاروں اسرائیلی زخمی بھی ہو ئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ حماس کو اس کی اتنی بھاری قیمت چکانی پڑ گی جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا،امریکہ نے اسرائیل کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کاروائی ہے،

    حماس کے حملے میں دس نیپالی طلبا بھی ہلاک
    میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں‌کو یرغمال بھی بنایا ہے، حماس کے مجاہدین گھروں میں گھسے اور اسرائیلیوں پر حملے کئے، یہ ایسا پہلی بار ہوا کہ حماس نے اتنی طاقت سے حملہ کیا ،کہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی حملے سے قبل خبر تک نہ ہوئی،حماس نے اسلامی ممالک اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جنگ میں انکا ساتھ دیں،حماس کے اس حملے میں نیپال کے 10 طلبا بھی ہلاک ہوئے ہیں،یوکرین کی ایک خاتون کی بھی موت ہوئی ہے،

    میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی مدد کے بغیر حماس حملہ نہیں کر سکتا ،تا ہم ایران نے تردید کی، اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس حوالہ سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہیں تاہم ہم فلسطین کے اقدام میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ صرف فلسطین کا فیصلہ ہے،

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کاروائی کے بعد غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، غزہ میں اب تک ایک لاکھ 23 ہزار 538 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ خوف، عدم تحفظ اور گھروں کا تباہ ہونا ہے، اسرائیلی فوج نے بے گھر افراد جہاں مقیم تھے وہان بھی بمباری کی،کئی سکول تباہ ہو چکے ہیں، سکولوں میں بے گھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی ، اب انہیں کھلے آسمان تلے رہنا پڑ رہا ہے،

    ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج اور حماس کے مابین چھ مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں،ڈانس پارٹی میں جانے والے بھی حماس کے حملوں کا نشانہ بن گئے ہیں، ڈانس پارٹی پر حماس کے حملے کے وقت موجود ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ میں نے ہر طرف سے گولیوں کی آواز سنی، وہ دونوں طرف سے فائرنگ کر رہے تھے، سب بھاگ رہے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ جان بچا کر کہاں جائیں، ہر طرف افراتفری تھی،ہم ایک کار میں سوار ہو کر فرار ہوئے، کئی گھنٹے ایک ہی جگہ پر چھپے رہے،کار میں آگ لگی تو پیدل بھاگنا پڑا، اس ڈانس پارٹی کے مقام سے 260 لاشیں ملی ہیں،

    اتوار کی شب اسرائیلی وزارت صحت نے حماس کے حملوں میں ہونے والے زخمیوں کے بارے میں اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ کم ازکم 2243 افراد زخمی ہیں،

    اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟
    ایک بات حیران کن اور ابھی تک کسی کو بھی نہیں سمجھ آ رہی کہ اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ اسرائیل کو اس حملے کی خبر کیوں نہ ہو سکی، اسرائیلی دفاعی نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں ، بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں یہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور ان کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹ کرنے والے میزائل داغتا ہے۔آئرن ڈوم کی بنیاد سنہ 2006 میں اسرائیل اور جنوبی لبنان میں موجود حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے وقت رکھی گئی تھی حزب اللہ نے ہزاروں راکٹ داغے تھے جس سے اسرائیل میں کافی مالی نقصان ہوا اور درجنوں اسرائیلی بھی مارے گئے ایک سال بعد اسرائیل کی ریاستی دفاعی کمپنی رفائل ایڈوانس سسٹمز نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نیا میزائل شکن دفاعی ڈھال کا نظام تیار کریں گےاس پروجیکٹ کے لیے امریکہ نے 20 کروز ڈالر بھی دیے تھے کچھ برسوں کی تحقیق کے بعد یہ نظام سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ جنگی حالات میں ٹیسٹ کیا گیا جب اس نے جنوبی شہر بیرشیبہ پر داغا گیا ایک راکٹ مار گرایا تھا

    اب سوال اٹھتا ہے کہ سال 2011 سے اسرائیل کی راکٹوں سے حفاظت کرنے والے آئرن ڈوم کے اب ناکام ہونے کا سبب کیا ہے؟ دراصل جدید نظام ہونے کے باوجود آئرن ڈوم کی کچھ کمزوریاں بھی ہیں آئرن ڈوم غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں کو 90 فیصد تک ناکام بنا دیتا ہے لیکن اگر بہت زیادہ تعداد میں راکٹ یا میزائل داغے جائیں تو یہ حفاظت میں ناکام بھی ہو سکتا ہے، اور اس بار اسی طرح ہوا، حماس نے حکمت عملی کے تحت ایک ساتھ ہزاروں میزائل داغے جس کی وجہ سے آئرن ڈوم فیل ہو گیا، یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ موساد کو اس حملے کی کوئی اطلاع کیوں نہ مل سکی؟

    موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی اور اس کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں میں ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز کو کسی بھی قسم کی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی،

    صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں،اسرائیلی میڈیا
    حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیراعظم پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اپنے شہریوں کوبچانے میں اسرائیل بطور ریاست اوراسرائیلی فوج اور جاسوسی کے جدید ترین آلات رکھنے کے باوجود انٹیلی جنس بری طرح ناکام ہوئی تاہم لیڈر ذمہ داری لینے کے بجائے الزام فوج پر دھر رہے ہیں،اسرائیلی اخبار کے مطابق 1973 میں یوم کپور کے موقع پر 3 ہزاراسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں اور اس بار زیادہ تراموات شہریوں کی ہوئی ہیں جو شرمناک ہے،صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں جنگ ختم ہونے کے بعد انہی کواس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے قید اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے آڈیو پیغام جاری کیا ہے،حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان نے پیغام میں کہا ہے کہ زیر حراست اسرائیلیوں کی تعداد اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہےاسرائیلی قیدیوں کو غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہےآپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اسرائیلی علاقے میں داخلے اور میزائل حملے بھی سوچی سمجھی کارروائی کا حصہ تھے اس آپریشن کے بیشتر نکات ہماری منصوبہ بندی کے مطابق چل رہے ہیں

    اسرائیل سب حملوں کو بھول جائے گا، ایران
    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو اس پر چاروں اطراف سے اتنا شدید حملہ ہو گا کہ وہ سب حملوں کو بھول جائے گا،دی سپیکٹیٹر انڈکس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے کہ اسرائیل پر لبنان، یمن اور عراق سے حملہ کیا جائے گا جبکہ شام سے مجاہدین بھیجے جائیں گے

    حماس کی جانب سے تین اسرائیلی شہروں میں راکٹ حملوں کے بعد صیہونی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آئی ہے، ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے میزائل اسٹاک میں کمی کی وجہ سے موثر جواب نہیں دیا جا سکا، اسرائیلی فوج آئرن ڈوم سسٹم سے لیس کچھ یونٹوں کو گولہ بارود فراہم نہیں کر رہی، اسرائیلی فوج کے پاس گائیڈڈ اینٹی ائیر کرافٹ میزائل بھی محدود تعداد میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ سے قریب اشکلون، اشدد، سدیرات شہروں پر حماس کے راکٹ حملوں کا جواب نہ دے سکی

    حماس کے حملوں کے بعد ابھی تک اسرائیل کی جوابی کاروائی جاری ہے، حماس کے حملے بھی جاری ہیں،ایسے میں سعودی عرب نے غزہ پٹی اوراردگرد کے علاقوں میں جارحیت اور پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، سعودی وزارت خارجہ نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے ،

  • او آئی سی نے قرآن پاک کی بار بار بے حرمتی پر بات کرنے کے لیے  اجلاس طلب کر لیا ہے

    او آئی سی نے قرآن پاک کی بار بار بے حرمتی پر بات کرنے کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے

    اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) نے 31 جولائی کو رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے لیے ایک غیر معمولی ورچوئل اجلاس منعقد کرے گی جس میں سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی اور جلانے کے بار بار ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔یہ اجلاس سعودی عرب،اور جمہوریہ عراق کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔وزراء کا یہ ہنگامی اجلاس رواں سال 02 جولائی کو جدہ میں او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے جاری کردہ حتمی بیان کے جواب میں بلایا گیا ہے۔بیان میں سویڈن میں قرآن پاک کے نسخے کو نذرآتش کرنے پر توجہ دلائی گئی اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین برہم طحہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے جاری کردہ حتمی بیان پر عمل درآمد کے حوالے سے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت پر غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں بار بار کی جانے والی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں مزید اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے جو جان بوجھ کر مذہبی منافرت اور عدم برداشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
    واضح رہے انتہائی دائیں بازو کے گروپ ڈانسکے پیٹریاٹر نے پیر کو ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں ایک شخص قرآن پاک کی بے حرمتی اور جلاتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔
    جس پر مسلم دنیا میں غم و غصہ کو مزید ابھارہ گیا ہے۔ سعودی عرب، نے بھی سویڈن میں مقیم ایک عراقی پناہ گزین کے احتجاج کی مذمت کی ہے جس نے گزشتہ ماہ اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن پاک کے صفحات کو نذر آتش کیا تھا۔

  • عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان دراصل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان میں اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کہناتھا پیپلزپارٹی کے بانی رہنماء اور سابق سینیٹر سردار سلیم کا جنہوں نے باغی ٹی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: سابق وزیر اعظم عمران خان حمایت تو دور مخالفت کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔
    جب سردار سلیم سے باغی ٹی وی نے سوال کیا کہ عمران خان دعوی کرتے ہیں کہ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹوکیخلاف امریکہ نے سازش کی تھی ٹھیک اسی طرح انکے خلاف بھی بیرونی سازش ہوئی ہےتواسکے جواب میں سردار سلیم نے کہاکہ: عمران خان نے کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ ان کے خلاف امریکہ سازش کرتا؟

    سابق سینیٹر کے مطابق: جہاں تک بات ذوالفقار علی بھٹو کی ہے وہ تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی کوشش کررہے تھے اوردوسرا انہوں نے تیل پیدا کرنےوالےتمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کےوہ اپنے تیل کی پیداوار کم کردیں اور ان کے اس مشورہ پرعمل کے بعد امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے کیوں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے سے ناصرف انہیں تیل مہنگا خریدنا پڑ رہا تھا بلکہ مقدار میں بھی کم مل رہا تھا۔ اورپھریہ کہ مسلم ممالک اپنا تیل مہنگے دام بیچ کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کما رہے تھے جسکے سبب ان ممالک میں مالی خوشحالی آنا شروع ہوگئی۔

    فیٹف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنےکےعندیہ پرسردارسلیم کا کہنا تھا کہ: "بہت سارے دانشور اس بات پر موثر ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں عمران خان کا زیادہ کردارہے کیونکہ اس نے 34 کی 34 شرائط کو پورا کیا تھا۔ لیکن میرے خیال میں تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو یہ یاد نہیں کہ بات صرف شرائط پوری کرنے کی ہوتی تو پاکستان کوکب کا گرے لسٹ سے خارج کردیا گیاہوتا لیکن اصل معاملہ شرائط پوری کرنے کا نہیں تھا بلکہ امریکہ اوردوسرے یورپی ممالک جو اثررکھتے تھے پر بھارتی حکومت کا دباؤ تھا کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں نہ ڈالا جائے اور پاکستان کے اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی میں اتنی اہلیت نہیں تھی کہ وہ چین کی بھرپورحمایت کے باوجود بھی امریکہ اوریورپی ممالک کو بھارتی دباؤ سے نکال کر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرواتا ۔”
    سردارسلیم سمجھتے ہیں کہ: یہ کارنامہ بی بی شہید کے فرزند اور نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بڑے احسن طریقے سےکردکھایا۔ جسکے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے.