Baaghi TV

Tag: مسکان

  • اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    نئی دہلی :اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کی سابق اداکارہ زائرہ وسیم نے حال ہی میں بھارت میں ہونے والے حجاب تنازع پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    زائرہ وسیم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تحریری پیغام جاری کیا اور کہا کہ اسلام میں حجاب پہنا یا نہ پہننا اپنے ذاتی انتخاب پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک فرض ہے، جب ایک عورت حجاب کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے احکامات بجا لارہی ہے اور اس نے خود کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔

    سابقہ اداکارہ نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں بحیثیت ایک عورت کے جو شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ حجاب پہنتی ہوں، اس پورے نظام کی مخالفت کرتی ہوں جہاں خواتین کو صرف ایک مذہبی وابستگی کی وجہ سے حجاب کی وجہ سے ہراساں اور اسے پہننے سے روکا جا رہا ہے۔

    زائرہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مسلم خواتین کے خلاف تعصب کو فروغ دینا اور ایسا نظام قائم کرنا جہاں انہیں تعلیم اور حجاب میں سے ایک کو منتخب کرنا اور دوسرے سے دستبردار ہونا ہو، سراسر ناانصافی ہے۔

    انہوں نے ہندو انتہا پسندوں کے لیے کہا کہ آپ مسلم خواتین کو ایک بہت ہی محدود انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ آپ کے ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے اور جب وہ آپ کے بنائے گئے اصولوں کی پابند ہو جاتی ہیں تو آپ ان ہی پر تنقید کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم نے 2015 میں سپر ہٹ فلم دنگل سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا لیکن بعدازاں انہوں نے 2019 میں مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

  • سلمان خان اورعامرخان بھارتی طالبہ مسکان کوکروڑوں روپے انعام دیں گے؟

    سلمان خان اورعامرخان بھارتی طالبہ مسکان کوکروڑوں روپے انعام دیں گے؟

    بھارتی سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش ہیں کہ سلمان خان اور عامر خان مسلمان طالبہ مسکان کے لیے کروڑوں روپے انعام دیں گے-

    باغی ٹی وی : بھ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال…

    اب بالی وڈ سپر اسٹارز سلمان خان اور عامر خان کے حوالے سے افواہیں زیر گردش ہیں کہ دونوں اداکاروں نے حجاب کی خاطر بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے والی مسکان کے لیے 3 کروڑ بھارتی روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کی جانب سے سلمان اور عامر خان کو لے کر یہ دعویٰ سامنے آیا تھا جس کے بعد مداح اپنے تبصروں کے ذریعے دونوں اداکاروں کے اس اقدام کو سراہ رہے تھے

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    البتہ عامر اور سلمان کی جانب سے معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا تھا بھارتی میڈیا نے دونوں اداکاروں سے رابطہ کیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبریں محض افواہوں کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

    عامر خان اور سلمان خان کے مطابق انہوں نے مسکان کے لیے کسی انعام کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی وہ مستقبل میں ایسے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں پر حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس کے خلاف مسلمان طالبعلم اور ان کے والدین سراپا احتجاج ہیں۔

    حجاب پابندی معاملے پر بھارت کا امریکا کو جواب

  • یاد رکھنا ! ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی، اسد الدین اویسی

    یاد رکھنا ! ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی، اسد الدین اویسی

    کانپور: بھارت میں مسلم سیاست دان اور رکن اسمبلی اسد الدین اویسی نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری بات یاد رکھنا کہ ایک نہ ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیر اعظم بنے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو ان شااللہ، اگر وہ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ابا امی میں حجاب پہنوں گی، تو ابا امی پہلے بولیں گے بیٹا پہن، تجھے کون روکتا ہے، ہم دیکھیں گے۔

    اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ حجاب پہنیں گے، نقاب پہنیں گے، کالج بھی جائیں گے۔ ساتھ ہی کلکٹر بھی بنیں گے، ڈاکٹر بھی بنیں گے اور بزنس مین بھی کانپور کے عوام تم یاد رکھنا میں زندہ رہوں یا نہ رہوں، دیکھنا ایک دن اس ملک میں ایک بچی حجاب پہن کر وزیر اعظم بھی بنے گی۔

     

     

    حجاب پر پابندی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی پاداش میں پولیس نے اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کئی عہدیداران کو حراست میں لے لیا ہے۔

    پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے عہدیداران کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی پابندی کے خلاف گجرات کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج کی ایک باحجاب طلبہ نے ہندو انتہا پسند طلبا کے جتھوں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا جس پر دنیا بھر میں مسکان کو سراہا جا رہا ہے۔

  • "میرا حجاب میرا فخر”پاکستان کی بیٹوں کا مسکان کے ساتھ اظہاریکجہتی:ایمان افروزتقریبات

    "میرا حجاب میرا فخر”پاکستان کی بیٹوں کا مسکان کے ساتھ اظہاریکجہتی:ایمان افروزتقریبات

     

    "میرا حجاب میرا فخر”پاکستان کی بیٹوں کا مسکان کے ساتھ اظہاریکجہتی:ایمان افروزتقریبات اور ریلیوں نے پاکستان کی بیٹیوں کو بھی حجاب کی طرف مائل کیا اور اس وقت پورے ملک سے ایک ہی آواز آرہی ہے کہ "میرا حجاب میرا فخر” ہے

     

     

     

    اس سلسلے میں ویسے تو پچھلے کئی دنوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسکان کی حمایت میں مظاہرے ہورہےہیں لیکن پاکستان میں ہونے والے آج کے مظاہروں نے دنیا بھر میں ایک ٹھوس پیغام پہنچایا ہے کہ جب تک خواتین کو ان کا حق نہیں دیا جائے گا کوئی معاشرہ کامیابی سے آگے نہیں بڑھ سکتا

     

     

    اس سلسلے میں آج کراچی میں مزار جناح کے مقام پر کراچی کی خواتین نے اپنے مسکان بہن کی حمایت میں میرا حجاب میرا فخر کے نام سے آواز بلند کی اور بھارت میں ہندوتوا سوچ کے خلاف نعرے لگائے

     

     

     

     

    کراچی کی طرح لاہور میں بھی مسکان کے حق میں مظاہرے کیے گئے اور میرا حجاب میرا فخر کے نام سے مظاہرے کیے ہیں اور مودی اور مودی نواز سوچ کی شدید مذمت کی ہے

     

     

    لاہور کی طرف فیصل آباد میں بھی مسکان کے حق میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں اور میرا حجاب میرا فخر کا نعرہ لگا کر مسکان کے حق میں مظآہرے کیے گئے

     

    سکھر پریس کلب میں بھی مسکان کے حق میں مظاہرے کیے گئے اور بھارت میں مودی نواز سوچ کی مذمت کی گئی اور میرا حجاب میرا فخر پر ثابت قدم رہنے کا اعادہ کیا

     

    قصور میں بھی بھارت میں مسلمان بیٹی مسکان کے حق میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور مودی اور مودی نوازوں کے خلاف نعرے لگائے گئے

    میر پورخاص میں بھی مسکان کے حق میں مظاہرے کیے گئے اور میرا حجاب میرا فخر کے نام سے ریلیاں نکالی گئیں اور انہتا پسند ہندووں کی مذمت کی گئی

     

    چونیاں میں بھی مسکان کے حق میں مظاہرے کیے گئے اور "میرا حجاب میرا فخر” کے نام سے مظاہرے کے گئے

    ذرائع کے مطابق سندھ کے شہر حیدر آباد میں بھی مسکان کے حق میں مظاہرے کیے گئے

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

  • بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی بنت اسلام”مسکان” کیلئے اسکالر شپ کا اعلان

    بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی بنت اسلام”مسکان” کیلئے اسکالر شپ کا اعلان

    لاہور :بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی بنت اسلام”مسکان” کیلئے اسکالر شپ کا اعلان ،اطلاعات کےمطابق آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن نے بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی لڑکی مسکان کیلئے اسکالر شپ کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی لڑکی کیلئے اسکالرشپ کا اعلان کردیا گیا ، آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن کے صدر نے مسکان کیلئے تعلیمی کفالت اسکالرشپ کا اعلان کیا۔

    صدرکاشف مرزا نے کہا مسلم طالبات کوحجاب کی آڑ میں تعلیم سےمحروم کرناجرم ہے، مسلم طالبات کوپسماندہ رکھنےکی یہ کوشش روکی جانی چاہیے۔

    یاد رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی جس پر ایک مسلم لڑکی مسکان حجاب پہنے موٹر سائیکل پر کالج پہنچی اور ہندو انتہا پسندوں کے سامنے اللہ اکبر کے نعرے لگا ئے تھے۔

    مشتعل ہجوم کے آگے نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرنے والی مسکان کی دیدہ دلیری نے انہیں دنیا بھر میں ایک نئی پہنچان دے دی ہے اور دنیا کے ہر گوشے میں جہاں مسلمان بستے ہیں دل کھول کے مسکان کی ہمت کی داد دے رہے ہیں۔

  • "باپ” کی وزیراعظم کو چھوڑنے کی دھمکی،اپوزیشن نے بھی "باپ” سے امیدیں لگا لیں

    "باپ” کی وزیراعظم کو چھوڑنے کی دھمکی،اپوزیشن نے بھی "باپ” سے امیدیں لگا لیں

    "باپ” کی وزیراعظم کو چھوڑنے کی دھمکی،اپوزیشن نے بھی "باپ” سے امیدیں لگا لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا

    سینیٹ اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعت کے اراکین نے بائیکاٹ کیا اور حکومت کے ساتھ گلے شکوے کئے، حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین سینیٹر نے حکومت کو کھری کھری سنائیں ،،سینیٹر احمد عمر نے کہا کہ بلوچستان میں پوچھا جاتا ہے کہ مرکز میں آپ لوگوں کو کیا حصہ ملا ہے؟ مرکزی حکومت میں مناسب حصہ نہ ملنے پر ایوان میں بیٹھنا بے کار ہے،

    حکومتی اتحادی جماعت باپ سینیٹ میں پھٹ پڑی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور کاکڑ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو پھر ہم بھی جواب دینگے۔ بلوچستان عوامی پارٹی حکومت سے ناراض ہو کے سینیٹ سے واک آوٹ کر گئی اور کابینہ میں نمائندگی مانگ لی کہا اگر باپ پارٹی کو وفاقی کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی تو آج کے بعد پارٹی ممبران کسی اجلاس کا حصہ نہیں ہونگے۔

    سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعت کی جانب سے حکومت پر ناراضگی اور شکووں کے بعد اپوزیشن کو موقع مل گیا،اپوزیشن جماعے پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اپوزیشن بینچز پر آجائے،اپوزیشن ان کے مسائل اورمحرومیوں کا خاتمہ کرے گی، ہندوستان میں باحجاب خاتون کے خلاف رویے کی مذمت کرتے ہیں،اس وقت ملک مشکل و بحرانی کیفیت میں ہے،وزیراعظم نے گزشتہ روزامریکہ کے بارے میں پالیسی بیان دیا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کچھ اوربیان دیا ہے،لگتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کنفیوژن کا شکار ہے وزیراعظم کو اس طرح کے متنازعہ بیانات نہیں دینا چاہیے،وضاحت کی جائے کہ خارجہ پالیسی کونسی ہے،وزیراعظم یا وزیرخارجہ والی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    شہزاد وسیم نے کہا کہ بھارت میں مزاحمت کی نئی آوازیں اٹھ رہی ہیں باحجاب طالبہ کے ساتھ انتہا پسندی کی گونج دنیا میں سنی جا رہی ہے،بھارت میں مذہبی منافرت اور انتہا پسندی اپنے جنون پر ہے،کہاں ہیں وہ تنظیمیں جو ہاتھی کی تنہائی پر شور کرتی ہیں ؟انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے واقعات پر خاموش ہو جاتی ہیں اسلام و فوبیا کی لہر پوری دنیا میں چل رہی ہے قائد محمد علی جناح کے شکر گزارہیں ، جنھوں نے اس دن کو پہلے بھانپ لیا تھا

    سینیٹ اجلاس وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کاکردگی میں بھی بارہویں نمبر پر آیا ہوں، ویسے بھی بارہواں کھلاڑی ہو،جس سوال کا بھی جواب دوں، بارہواں کھلاڑی بارہواں ہی رہے گا

    سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سنتے آئے ہیں کراچی ٹیکس دینے والا بڑا شہر اور سندھ اہم صوبہ ہے؟ کراچی کی ٹیکس کلیکشن فقط 6 فیصد ہے اس کے کیا وجوہات ہیں؟ وزیر خزانہ شوکت ترین سوال کو کمیٹی میں بھیج دیں چیئرمین صادق سنجرانی نے سوال سینیٹ خزانہ کمیٹی کو بھیج دیا، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ سیلز سروسز ٹیکسز صوبے ہی وصول کرتے ہیں،سندھ حکومت پہلے6 بلین ٹیکس کلیکٹ کرتی تھی جو اب 15 بلین ہوچکا ہے،انکم ٹیکس سروسز پر سیلز ٹیکس اور دیگر سندھ خود کلیکٹ کرنا چاہتا ہے اجازت دیں گے ؟ وزیر خزانہ نے کہا کہ ساتویں این ایف سی میں نے ہی یہ چیز رکھی تھی کہ سیلز پر ٹیکس کلیکشن صوبے ہی کریں

    سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان پر سیر حاصل بحث ہونا ضروری ہے،بلوچستان کا مسئلہ صرف سیکیورٹی یا ترقیاتی منصوبے نہیں،بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں عوام کے حقوق کا ہے،لاپتہ افراد کا مسئلہ خاندانوں کے ملاقات سے یہ حل نہیں ہوگا،وزیر خزانہ نے سینڈک پروجیکٹ لیز کی دوبارہ منظوری دیکر غیر آئینی کام کیا،فیصلہ کیا گیا تھا سیڈک منصوبہ کی لیز ختم ہونے کے بعد منصوبہ بلوچستان حکومت کو دیا جائے گا گزشتہ حکومتوں نے دو بار سینڈک کی لیز کو رینیو کیا جو خلاف ورزی ہے خارجہ پالیسی پر حکومتی تضادات کا معاملہ بھی ہے،وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے مختلف بیانات اخبارات میں چھپے ہیں وزیراعظم کا بیان الیکشن مہم کے علاوہ کچھ نہیں ریاست کا پہلے دن سے جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے، ڈرونز کے استعمال کیلئے شمسی بیس امریکہ کو دی گئی،شمسی بیس امریکہ کو دینے کا ریکارڈ کسی کے پاس نہیں تھا، پاکستان کا ا سٹریٹیجک مفاد چین اور روس کے ساتھ ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ ڈاکومنٹ آف سرنڈر سائن کیا گیا،

    وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایوان بالا میں تحریری جواب جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں61 فیصد پانی پینے کے غیرمحفوظ ہے، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسزنے یہ انکشاف کیا ہے ملک کے 3شہروں میں پانی 100 فیصد پینے کیلئے غیرمحفوظ ہے میرپورخاص، بےنظیرآباد اورگلگت بلتستان کا پانی غیرمحفوظ ہے کراچی میں 93 فیصد پانی پینے کیلئے غیرمحفوظ ہے بدین 92 اورحیدرآباد میں80 غیرمحفوظ ہے ملتان 94 اورسرگودھا 83 فیصد پانی غیرمحفوظ ہے مظفرآباد 70 اورفیصل آباد میں 59 فیصد پانی غیرمحفوظ ہے 29شہروں میں قصورکا پانی سب سے زیادہ محفوظ ہے قصور میں 10 فیصد پینے کا پانی غیرمحفوظ ہے ،

    حکومتی قومی بچت بینک ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا

    دوسری جانب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2022 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا بل وزیر ریلوے اعظم سواتی کی جانب سے پیش کیا گیا،متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا

    سینیٹ کا اجلاس پیر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا، سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا،وزیراعظم عمران خان ان کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے،یہ چاہتے ہیں عمران خان مفاہمت کے ڈاکومنٹ پر دستخط کر یں،تحریک عدم اعتماد ایک ڈرامہ ہے،اگر یہ کامیاب ہو بھی گئے تو عمران خان حکومت سے باہر زیادہ خطرناک ہے،

    قبل ازیں پاکستان کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کی مذمت کی ہے، ہندوستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذکورہ اقدام پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش اور مذمت سے بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا، چارج ڈی افیئرز پر زور دیا گیا وہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کریں، معاملہ خارجی اور اکثریتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر انسانی اور شیطانی کرنا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے حجاب معاملہ پر جلد سماعت سے ا نکار کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ مناسب وقت پرکیس کی سماعت کی جائےگی کرناٹک ہائی کورٹ کےعبوری فیصلہ کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ،ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پرعبوری پابندی لگائی تھی ، کرناٹک کی طالبات نے حجاب معاملہ پر ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

    کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی کیخلاف کولکتہ میں سینکڑوں طلباء نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ حیدرآباد میں سینکڑوں باحجاب خواتین نے بھی حجاب پر پابندی کیخلاف ریلی نکالی اور احتجاجی نعرے لگائے۔ کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ بھارت میں مذہبی لباس پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں ہے۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

     مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں

    :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی 

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا میں پیش آنے والے واقعات نے اقلیتی برادری میں خوف پیدا کردیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔

    گرلز اسلامک آرگنائزیشن کرناٹکا کے صدر سمعیہ روشن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فطری طور پر امتیازی سلوک ہے اور حقوق کے بھی خلاف ہے جو بھارت کے آئین نے طالبات دیے ہیں پابندی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے جو طالبات کا حق ہے اور اس سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

     بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

  • سعد رضوی کا بھارتی مسلمان طالبہ مسکان کو خراج تحسین

    سعد رضوی کا بھارتی مسلمان طالبہ مسکان کو خراج تحسین

    ڈیرہ اسمٰعیل خان :سعد رضوی کا بھارتی مسلمان طالبہ مسکان کو خراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق آج علامہ حافظ سعد رضوی صاحب نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کی بہادر مسلم بہن شیرنی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس اللہ کی بندی نے ہمیں‌ بہت کچھ سمجھا دیا ہے

    ڈیرہ اسمٰعیل خان میں خطاب کرتے ہوئے سعد رضوی نے مزید کہا کہ 57 اسلامی مُردے ایک طرف اور جے شری رام کے مقابلے میں اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والی میری مسلمان بہن ایک طرف،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی مسلمان مسکان کے جوتوں کی خاک کے برابر بھی نہیں جو اس نے کام کردکھایا وہ بڑے بڑے دعویدار بھی نہ کرسکے

    انڈین ریاست کرناٹک میں اپنے تعلیمی ادارے کے بعد ہراساں کیے جانے کے باوجود جگہ چھوڑ کر ہٹنے کے بجائے ہجوم کے سامنے نعرے لگانے والی مسلم لڑکی مسکان سے اظہار یکجہتی کے لیے انڈیا اور پاکستان میں ’اللہ اکبر‘ ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔

    کرناٹک کے علاقے مانڈیا کے پی ای ایس کالج میں حالیہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف مسلم طالبات نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    گزشتہ چند روز کے دوران ریاست میں متعدد مقامات پر طالبات کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے حجاب پر پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

     

    https://twitter.com/fareedulhaq33/status/1491786915493777417?t=WQ51XFbhGwY3ftyaZUKD9g&s=19

    حجاب کے معاملے پر احتجاج اور اس کے حوالے سے سامنے آنے والے ردعمل کا سلسلہ اتنا بڑھا کہ منگل کے روز ریاست میں تمام سکول اور کالج تین روز کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

     

    کرناٹک کے وزیراعلی نے ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں جہاں مقامی افراد سمیت طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے امن و امان بحال رکھنے کی اپیل کی وہیں تمام ہائی سکولوں اور کالجوں کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ افراد سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

  • لاہور:جماعت اسلامی کیجانب سے بھارتی طالبہ مسکان سےاظہار یکجہتی کیلئےاللہ اکبر ریلی

    لاہور:جماعت اسلامی کیجانب سے بھارتی طالبہ مسکان سےاظہار یکجہتی کیلئےاللہ اکبر ریلی

    لاہور: جماعت اسلامی کی جانب سے بھارتی طالبہ مسکان سے اظہار یکجہتی کے طور پر اللہ اکبر ریلی نکالی گئی۔

    باغی ٹی وی :بھارتی ریاست کرناٹک کی حکومت کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کے بعد ریاست میں زبردست ہنگامہ آرائی اور احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں حال ہی میں ایک باحجاب طالبہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ہندو انتہاپسندوں کا ہجوم ایک نہتی طالبہ کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرتا ہے لیکن طالبہ ان جنونیوں سے ڈرے بغیر ان کے سامنے ڈٹ جاتی ہے اور نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔

    طالبہ کے اس اقدام کو نہ صرف سراہا جارہا ہے بلکہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے طالبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف بنیا بھر میں کئی مشہور شخصیات نے آواز بھی اٹھائی ہے اور آج جماعت اسلامی کی جانب سے اللہ اکبر ریلی نکالی گئی ریلی میں نوجوانوں اور طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ رہنما جماعت اسلامی احمد سلمان بلوچ نے ریلی کی قیادت کی۔ شرکاء نے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کیں۔

    احمد سلمان بلوچ نے کہا کہ سرحد پار اپنی ہمشیرہ مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، تاکہ خدا کی کبریائی کو بیان کر سکیں، اس واقعے میں پیغام ہے کہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار کرنے والا جب فرشی خداؤں کے سامنے ڈٹ جاتا ہے تو عرش والا اسکی توقیر کا ضامن بن جاتا ہے۔

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

    علاوہ ازیں پریس کلب سے امریکن قونصلیٹ تک عوامی رکشہ یونین نے ”ویلڈن مسکان حجاب ریلی“ نکالی جس میں سینکڑوں خواتین کارکنوں نے شرکت کی ریلی کی قیادت چئیرمین مجید غوری آور صدر وومن ونگ عائشہ غوری نے کی۔

    ریلی میں شرکت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ریاست کرناٹک کی طالبہ مسکان نے باطل کے سامنے حق کا نعرہ بلند کیا، اللہ اکبر کا نعرہ کالج میں لگا ، اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں اس کے نام کے نعرے لگوا دئیے، مسکان نے ثابت کر دیا کہ مسلمان خواتین کا بہادری میں کوئی ثانی نہیں، تمام خواتین حجاب پہن کر احکامات دین کی پیروی کریں۔

    بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر خاموش نہ رہ سکیں:انتہا…

  • یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے:مودی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتی ہوں :پرینکا گاندھی

    یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے:مودی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتی ہوں :پرینکا گاندھی

    نئی دہلی:یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے:مودی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتی ہوں :اطلاعات کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پرینکا گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ چاہے وہ بکنی ہو، ‘گھونگھٹ’ ہو، جینز کا جوڑا ہو یا حجاب یہ فیصلہ کرنا عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس حق کی ضمانت بھارت کے آئین نے دی ہے۔انہوں نے لکھا کہ خواتین کو ہراساں کرنا بند کریں۔

    یاد رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ پہلی بار جنوری میں ضلع اڈوپی کے ایک سرکاری پی یو کالج میں شروع ہوا جہاں ہیڈ اسکارف پہن کر کلاسز میں شرکت کرنے والی چھ طالبات کو کیمپس چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ بعد ازاں ریاست کے دیگر کالجوں نے بھی لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی ۔

     

    بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خاموش نہ رہ سکیں،اطلاعات ہیں کہ حجاب کی آڑ میں مسلمان طالبات کی حمایت میں بھارتی معروف اداکارائیں بھی میدان میں آگئی ہیں ، بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی بھارتی مسلم طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے جہاں شیرنی قرار دیا وہیں طالبہ کے حق میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی آواز بلند کررہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر بھارتی اداکارائیں بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اس حوالے سے بھارت کی معروف اور چوٹی کی اداکارہ پوجا بھٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروپ نے عورت کو ڈرانے کی کوشش کی۔

    پوجا بھٹ نے اس واقعے کو انسانیت کے لیے خوفزدہ قرار دیا اور کہا کہ شالوں کو ہتھیار بنانا اپنی کمزوری کو ظلم کے ذریعے چھپانے کے مترادف ہے۔

     

    ایسے ہی بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

     

    واضح رہےکہ کرناٹک میں کالج آنے والی باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا، انتہا پسندوں نے طالبہ کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے جس کا جواب طالبہ نے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے دیا۔

     

     

    اس سے پہلے آج اور کل مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے شیرنی قرار دے دیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد مسلمان طالبہ مسکان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں۔

    مسکان نامی بھارتی طالبہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ مسکان اور ہیش ٹیگ اللہ اکبر سے ٹرینڈ کررہی ہیں جس میں مختلف ٹوئٹس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین مسکان کے حق میں اور مسلم مخالف واقعات پر آواز بلند کررہے ہیں۔

    جہاں مسکان کو سوشل میڈیا صارفین شاندار خراج تحسین پیش کررہے ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور وزرا نے بھی ان کی دلیری کو سراہا۔

     

    وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ صورتحال ہے جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے مغرب کو خبردار کیا تھا۔زرتاج گل نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کو اقلیتوں اور خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ملک بھی قرار دیا۔

     

    https://twitter.com/AliHassan__92/status/1491231738118684675?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491231738118684675%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    علی حسن نامی صارف نے مسکان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 100 کے مقابلے میں ایک شیرنی، آپ کسی ہیرو سے بڑھ کر ہو۔

     

    https://twitter.com/SufianAyub3/status/1491265958568394755?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491265958568394755%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    ایک صارف نے مسکان اور باحجاب خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے لکھا کہ حجاب صرف ہماری مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ ہمارا وقار ہے ، یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے ۔

     

    حلیمہ نامی صارف نے مسکان سمیت فلسطین سے باہمت خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری خواتین ہی تمہارے لیے کافی ہیں۔

     

    ایک صارف نے مسکان کی تصویر شیئر کی اور ٹوئٹ کی کہ وہ آئی ، دیکھا اور فتح کرلیا ۔

     

    وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں مسکان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سلام پیش کیا۔

     

     

    بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دیا۔

  • بھارتی سپریم کورٹ کا حجاب کیس میں مداخلت سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ کا حجاب کیس میں مداخلت سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ کا حجاب کیس میں مداخلت سے انکار,چیف جسٹس آف انڈیا نے درخواست پر غور کرنے سے معذرت کرلی

    بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ حجاب معاملے میں کیوں کودیں ،ہائی کورٹ کو پہلے فیصلہ کرنے دیں،حجاب معاملے میں دیکھیں گے کہ آگے کیا کر سکتے ہیں ،بھارتی سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نوتھاپتی وینکٹا رامنا کے سامنے حجاب کے معاملے کا ذکر ہوا ،بھارتی سپریم کورٹ میں وکیل سبل نے بھارتی چیف جسٹس کے سامنے کہا کہ ریاست کرناٹک میں جو مسلم طالبات کے حجاب کے معاملے پر کچھ ہورہا ہے وہ ملک بھر میں پھیلتا جارہا ہے جس پر بھارتی چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتظار کریں، ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، ابھی وہ سن رہے ہیں

    گزشتہ روز کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب کے معاملے پر مسلمان طالبات کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس کرشنا ڈکشٹ نے ریاست کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کا کیس لارجر بینچ کو بھیج دیا تھا

    کرناٹک میں حجاب کا مسئلہ اسوقت سامنے آیا جب چھ مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس میں نہیں بیٹھنے دیا گیا، ان لڑکیوں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی جس میں لڑکیوں نے موقف اپنایا تھا کہ انہیں حجاب پہننے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

    قبل ازیں پاکستان کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کی مذمت کی ہے، ہندوستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذکورہ اقدام پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش اور مذمت سے بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا، چارج ڈی افیئرز پر زور دیا گیا وہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کریں، معاملہ خارجی اور اکثریتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر انسانی اور شیطانی کرنا ہے۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

     مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں

    :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی 

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا میں پیش آنے والے واقعات نے اقلیتی برادری میں خوف پیدا کردیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔

    گرلز اسلامک آرگنائزیشن کرناٹکا کے صدر سمعیہ روشن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فطری طور پر امتیازی سلوک ہے اور حقوق کے بھی خلاف ہے جو بھارت کے آئین نے طالبات دیے ہیں پابندی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے جو طالبات کا حق ہے اور اس سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

     بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین