Baaghi TV

Tag: مسیحی برادری

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات کے بعد مسیحی خاندانوں کی گھروں میں واپسی شروع ہو گئی ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے، آئی جی پنجاب نے بھی علاقے کا دورہ کیا، تین دن بعد شہر کے حالات معمول پر آ چکے ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کرسچیئن کالونی کا دورہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی ہمراہ تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جلائے جانے والےگھر اور چرچز دیکھے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرہ میسحی برداری سے گفتگو بھی کی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے متاثرہ خواتین کو دلاسے دیئے اور انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،

    اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں،دکھ میں شریک ہونے آپ کے پاس خود آیا ہوں،انتظامیہ کو ہدایت کروں گا بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کریں آپ کو ہر قسم کا تحفظ کرنے میں مدد کروں گا، بہت دکھ تھا اسی لیے ذاتی طور پر ملنے آیا ہوں،

    مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی
    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھا ہوا بیان میڈیا نمائندگان کے حوالے کیا، تحریری بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ گمراہوں کے بے ہنگم ہجوم نے متعدد گرجا گھروں مسیحی آبادی مکانات کو جلایا، جڑانوالہ واقعے پر ایک مسلمان، پاکستانی اور انسان کی حیثیت سے نہایت گہرا صدمہ پہنچا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے بیان میں اقلیتوں کے حقوق پر قرآنی آیات اور احادیث کے متعدد حوالے دیئے، اور کہا کہ گرجا گھروں پر حملہ کرنے والے نے قرآن اور نبی پاک ﷺ کی واضح ہدایات کی سنگین خلاف ورزی کی، قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے غیر مسلم شہریوں کو دی گئی ضمانتوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی، پاکستان کے آئین اور قانون کو پامال کیا گیا ہے پاکستانی پرچم میں سفید رنگ غیر مسلم شہریوں کی عکاسی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھے ہوئے بیان میں اقلیتوں کے حوالے سے آئین میں موجود آرٹیکلز کا حوالہ بھی بیان میں دیا اورکہا کہ دفعات 295 اور 295 اے کے تحت مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانا جرم ہے، کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے، سلامتی کے مذہب کو ماننے والوں نے اپنی مذہبی تعلیمات پامال کرتے ہوئے وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا، ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جان مال اور عبادت گاہ کی حفاظت کرے،اسلامی شریعت کی اس خلاف ورزی کو کسی بدلے یا انتقام سے جواز نہیں دیا جا سکتا،

    جڑانوالہ دورے کے دوران جسٹس قاضی فائزعیسی نے سی پی او کی سرزنش کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا تحصیل کے سب سے بڑے پولیس آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، ایس پی کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا، آپ کےخیال میں درست تفتیش ہو رہی ہے؟، کیا پولیس والے خود سے کہیں گے کہ ہم غفلت میں تھے، سی پی او نے جواب دیا کہ سر میرٹ پر تفتیش ہو گی ، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ میرٹ کا کیا مطلب ہے ؟ایک دم جتھا آ جائے تو الگ بات ہے مگر اعلانات کر کے کہا جائے گھروں سے نکلو، آپ کو ان باتوں کا خیال نہیں آیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کتنے بجے کا واقعہ ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ سوا چھ بجے کا واقعہ ہے، قاضی فائز عیسی نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں چار بجے کے بعد کا واقعہ ہے، میں آپ سے الگ بات کر رہا ہوں آپ جواب کچھ اور دے رہے ہیں، آپ کو گھبراہٹ ہو رہی ہے، یہاں کا ایس پی کہاں ہے وہ یہاں کیوں نہیں موجود، قاضی فائز عیسی نے سی پی او کو ہدایت کی کہ جو بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں ان کے بیان ریکارڈ کریں، آپ قانون کے مطابق چلیں، تفتیش کریں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ یہاں کا اسسٹنٹ کمشنر کہاں پر ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ ان کو معطل کر دیا گیا ہے،

    جڑانوالہ ، تین دن بعد حالات معمول پر، کاروباری مراکز کھل گئے
    جڑانوالہ میں تین دن بعد شہر میں حالات معمول پر آگئے، تین روز بعد کاروباری مراکز کھل گئے کرسچین کالونی میں نئے میٹرز لگا کر بجلی اور گیس بحال کر دی گئی ،کرسچین کالونی اور عیسی نگری کے اجڑے گھروں کے مکینوں کی واپسی جاری ہے،جلے گھروں اور تباہی کے مناظر دیکھ کر متاثرین رنجیدہ ہیں، دانش اسکول میں متاثرہ فیملیز کے قیام و طعام کے انتظامات کئے گئے ہیں، دانش سکول میں مقیم اور کرسچین کالونی میں لوٹنے والوں کیلئے پولیس کی جانب سے ناشتے کا انتظام کیا گیا ہے، مسیحی آبادیوں کے باہر پولیس اور رینجرز تعینات ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر دانش سکول جڑانوالہ اور بستی شیروں میں پنجاب پولیس کی طرف سے قائم کئے گئے ریلیف کیمپس میں مسیحی برادری کے افراد کو کھانے کی فراہمی جاری ہے، سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل اور دیگر سینئر افسران خود کھانا فراہم کرنے کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں

    اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں،آئی جی پنجاب
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جڑانوالہ کا دورہ کیا اور متاثرہ کرسچین کالونی اور دیگر مقامات کا جائزہ لیا، اس موقع پر آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ اتوارکو جڑانوالہ میں سروسز ہوں گی اور گرجا گھروں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا واپسی کا سفر شروع ہوچکا ہے، متاثرہ افراد پہلے سے بہتر گھروں میں واپس جائیں گے جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کی ویڈیوز اور تصاویر ہیں جس پر ہرپہلو سے تفتیش ہوگی کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی کو بغیر وجہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے گا ،اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،جڑانوالہ میں ہر گھر کی ایک الگ کہانی، مظاہرین نے لوگوں کے گھروں میں سامان کو بھی لوٹ لیا سندس جس کی شادی نومبر میں ہونا تھی اس کے جہیز کا سارا سامان لوٹ لیا گیا ،کرسچن کالونی اور عیسی نگری کے متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کی جمع پونجی کو جلا دیا گیا یا لوٹ لیا گیا، سندس کا کہنا تھا کہ اسکا ساراجہیز بنا ہوا تھا، اوون، فریج، بسترے،مکمل جہیز تھا غلطی کسی کی اور سزا ہمیں ملی کیوں؟

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • دفتر خارجہ کی مسیحی برادری کو اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی یقین دہانی

    دفتر خارجہ کی مسیحی برادری کو اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی یقین دہانی

    اسلام آباد: جڑانوالہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر دفتر خارجہ کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیراعظم پاکستان نے فیصل آباد میں ہونے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسیحی برادری کو اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے، پورے ملک کے عوام مسیحی برادری سے سلوک پر دکھی ہیں،وزیراعظم نے جڑانوالا واقعہ میں ملوث مجرمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیا ہے اس واقعے میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں ہفتہ وار بریفنگ میں دفترخارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی پر بھار تی بیانات کاجواب نہیں دوں گی، ورلڈ کپ کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا بھارت کی ذمہ داری ہے پاکستانی ٹیم کو خوف اور ہراسانی سے پاک ماحول فراہم کرنابھارت کی ذمہ داری ہے، ایسا ماحول ہوجس میں تماشائی پاکستانی کھلاڑیوں کوہراساں نہ کر سکیں-

    نگران وزیراعظم سے سعودی سفیر ملنے پہنچ گئے

    ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کا پاکستان کے اندر حملے کرنے کے خلاف بیان خوش آئند ہے، جب کہ روس کی طرف سے 14 اگست کے بیان اور انتظامات کیلیے شکرگزار ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جڑانوالہ میں مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام لگا کر 4 گرجا گھروں سمیت مسیحی برادری کے درجنوں مکانات اور گاڑیاں اور مال و اسباب کو جلا دیا تھا،فیصل آباد پولیس کا ملزمان تک پہنچنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرکے دو مقدمات درج کرلیےگئےہیں، جڑانوالہ میں مساجد میں اعلانات کر کے عوام کو اشتعال دلانےوالے شخص کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی مدد سے گرفتار کر لیا ہے 37 نامزد اور 600 سے زائد نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات میں انسداد دہشت گردی اور توہین مذہب سمیت 13 سے زائد دفعات لگا دی گئی ہیں۔

    جڑانوالہ سانحہ،میرے گھر پر بھی حملہ کیا گیا،پادری،100 افراد گرفتار

    کشیدہ صورتحال کے باعث جڑانوالہ شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور رینجرز کی دو کمپنیاں مختلف مقامات پر تعینات کی گئی ہیں جبکہ فیصل آباد میں تاحکم ثانی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بروقت کارروائی کی اور مساجد سے یہ اعلان بھی کروایا گیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے اشتعال بڑھ چکا تھا اور 5 سے 6 ہزار کا مجمع مختلف ٹولیوں کی صورت میں جڑانوالہ کے مختلف علاقوں میں اکٹھا ہوا اور انہوں نے ایک اقلیت کی آبادیوں پر حملہ کیا-

    جڑانوالہ،مبینہ طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی،مشتعل افراد نے چرچ جلا دیا

    جڑانوالہ کے گرجا گھروں کے انچارج بادری خالد مختار کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے چھ گرجا گھروں کو نشانہ بنایا، ان کی اپنی رہائش گاہ پیرش پادری ہاؤس پر بھی حملہ کیا گیا مظاہرین دو گھنٹے تک ان کی رہائشگاہ کے باہر جمع رہے اور وہ بمشکل اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،پادری خالد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بار پولیس کو بلایا لیکن وہ مدد کے لیے نہیں آئے-

  • جڑانوالہ سانحہ،میرے گھر پر بھی حملہ کیا گیا،پادری،100 افراد گرفتار

    جڑانوالہ سانحہ،میرے گھر پر بھی حملہ کیا گیا،پادری،100 افراد گرفتار

    پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں گزشتہ روز افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ طور پر بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے مسیحی برادری کے املاک کو آگ لگا دی، چرچوں سے سامان باہر پھینکا، اور چرچ جلا دیئے، صلیب اتار دی، واقعات کے بعد جڑانوالہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، شہر میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے، آج عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب نے رات گئے جڑانوالہ کا دورہ کیا ہے، پنجاب کی نگراں حکومت نے واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

    پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مسیحی خاندانوں کی املاک اور چرچوں کو جلانے والے 100 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، دیگر کی گرفتاری کی کوشش جاری ہے،ترجمان پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بروقت کارروائی کی اور مساجد سے یہ اعلان بھی کروایا گیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے اشتعال بڑھ چکا تھا اور 5 سے 6 ہزار کا مجمع مختلف ٹولیوں کی صورت میں جڑانوالہ کے مختلف علاقوں میں اکٹھا ہوا اور انہوں نے ایک اقلیت کی آبادیوں پر حملہ کیا

    جڑانوالہ کے گرجا گھروں کے انچارج بادری خالد مختار کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے چھ گرجا گھروں کو نشانہ بنایا، ان کی اپنی رہائش گاہ پیرش پادری ہاؤس پر بھی حملہ کیا گیا مظاہرین دو گھنٹے تک ان کی رہائشگاہ کے باہر جمع رہے اور وہ بمشکل اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،پادری خالد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بار پولیس کو بلایا لیکن وہ مدد کے لیے نہیں آئے

    سانحہ جڑانوالہ کے ذمہ داران پر تھانہ سٹی جڑانوالہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ میں دہشت گردی، اقدام قتل، پولیس مزاحمت اور توہین مذہب سمیت 18 دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ 34 نامزد اور 600 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔مقدمہ میں نامزد 29 افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ملزم یسین نے مسجد میں اعلان کرکے لوگوں کو اکٹھا ھونے کی دعوت دی جبکہ مفتی یونس اور آصف اللہ شاہ بخاری نے پرتشدد احتجاج کی قیادت کی۔مظاہرین کے حملہ سے ایس ایچ او سمیت پولیس ملازمین بھی زخمی ھوئے۔مظاہرین نے جتھے کی شکل میں بستی عیسائیوں میں گھس کر چرچوں اور گھروں کی توڑ پھوڑ کرتے ھوئے آگ لگا دی۔ پرتشدد ہجوم کو شیلنگ کرکے کنٹرول کیا گیا۔

    پاکستان میں چرچ حملوں پرگہری تشویش ہے،امریکا
    جڑانوالہ واقعہ پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چرچ حملوں پرگہری تشویش ہے آزادی اظہار اور مذہبی آزادی ہر کسی کا حق ہے ،تشدد کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، تشدد میں ملوث افراد سے پرامن رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں

    فساد پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، آصف علی زرداری
    سابق صدر آصف علی زرداری نے جڑانوالہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں ،
    ہمارے مذہب میں عبادت گاہوں کے احترام کا درس دیا گیا ، انتشار اور فساد پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ،

    عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال رکھیں،چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہوں، املاک کو نقصان پہنچانے والے واقعات کی مذمت، فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، مرزا محمد آفریدی نے جڑانوالا میں اقلیتی عبادت گاہوں اور املاک پر حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ انھوں نے فریقین سے بھی اپیل کی کہ وہ صبرو تحمل سے کام لیں اور عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال رکھیں۔چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اسے ایک دلخراش واقعہ قرار دیا اور کہا کہ میڈیا پر اس واقعے کے مناظر دیکھ کر دل لرز اٹھا۔ انھوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ حالات کو قابو میں لانے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔انھوں نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب اپنے ماننے والوں کو امن اور محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ پرامن بقائے باہمی کے لئے برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے۔ انھوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ان تحقیقات کی روشنی میں مناسب کاروائی عمل میں لائی جائے

    تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیر اطلاعات
    پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے جڑانوالہ واقعے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گھناؤنا فعل سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے پولیس اور انتظامیہ کو قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے جڑانوالہ فیصل آباد میں پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔، انہوں نے کہا کہ مذاہب اور مذہبی عبادت گاہوں پر حملے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہیں

    دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کو جلا کر دین کی کوئی خدمت نہیں ہوتی،احسن اقبال
    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ کے دلخراش واقعات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ بعض مذہبی گروہوں نے آذادانہ طور پہ عوام میں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے جنونیت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اسلامی ریاست میں جتھہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کو جلا کر دین کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ ملک میں قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ ریاست کے اداروں کو ان گروہوں کو قابو میں لانا ہو گا چونکہ یہ مخصوص حالات میں پنپے ہیں۔ کوئی شخص قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتا چونکہ ہر جرم کے لئے قانون موجود ہے۔ ہم نے پاکستان اس لئے حاصل کیا تھا چونکہ مسلمان بحیثیت اقلیت خود کو متحدہ ہندوستان میں غیر محفوظ سمجھتے تھے۔ اگر پاکستان میں کوئی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھے تو یہ نظریہ پاکستان کی نفی ہو گی۔ 12-14 سال کے نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑ کر جس طرح ایک مذہبی جماعت کے نعرے لگاتے ہوئے فوٹیج میں نظر آ رہے ہیں یہ رجحان لمحہ فکریہ ہے اور سیالکوٹ کے دلخراش واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور علماء کو معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا۔ اس واقعہ سے پہلے بھارت میں منی پور کے واقعات دنیا کو بھارت میں اقلیتوں سے ناروا سلوک پہ متوجہ کر رہے تھے اس واقعہ نے میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ کیا یوں دین کی کوئی خدمت ہوئی یا ملک کی نیک نامی ہوئی؟
    مسیحی برادری نے پاکستان کو ووٹ دیکر تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ وہ بھی پاکستان میں اتنے حصہ دار ہیں جتنے مسلمان ہیں۔ پاکستان ایک گلدستہ ہے جس میں سب پھولوں نے ملکر اس کو حسین بنانا ہے اور ہم سب نے ہم آہنگی اور یکجہتی کیساتھ رہنا اور بسنا ہے۔ یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے۔

    جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہ پر حملے کا معاملہ ،اسلام آباد میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی سخت کر دی گئی،”منیارٹی پروٹیکشن یونٹ” میں 70 جوان تعینات کردیے گئے۔تمام ڈی پی اوز اپنے علاقہ میں اقلیتی عبادتوں گاہوں اور آبادیوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گےہر ڈویژن کی سطح پر اقلیتی کمیٹیوں سے رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔منیارٹی پروٹیکشن یونٹ ایس ایس پی آپریشنز کی زیر نگرانی فرائض سر انجام دے گا۔منیارٹی پروٹیکشن یونٹ کےلیے حالیہ بھرتی میں سے بھی جوان منتخب کیے گئے ہیں۔منیارٹی پروٹیکشن یونٹ کا قیام نیشنل منیارٹیز کمیشن کی سفارشات کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے۔

    مسیحی برادری کے گھروں اور مقدس املاک پہ حملہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے،سراج الحق
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ جڑانوالا میں توہین مذہب کے الزام میں چرچ اور مسیحی برادری کے گھروں پہ حملہ افسوسناک ہے، مسیحی برادری کے گھروں اور مقدس املاک پہ حملہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اسلام اقلیتوں کے اور انکی عبادت گاہوں کے تحفظ کا درس دیتا ہے،شرپسند عناصر اسلام اور پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں حکومت اورپولیس شرپسندوں کے خلاف کاروائی کرے،

    مسجد سے اعلان کر کے عوام کو اشتعال دینے والا ملزم گرفتار
    پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے جڑانوالہ میں مسجد سے اعلان کر کے عوام کو اشتعال دینے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے،پولیس حکام کے مطابق ملزم یاسین نے مساجد سے اعلانات کئے، جس کی ویڈیو منظر عام پر آئیں، ملزم کو ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ملزم ویڈیو میں اعلان کر رہا ہے کہ لوگ باہر جمع ہوں، قرآن مجید کی بے حرمتی ہوئی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کو جلد بھی گرفتار کر لیا جائے گا،پولیس حکام کے مطابق واقعہ کے دو مقدمے درج کئے گئے ہیں،جس میں 37 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ چھ سو سے زائد نامعلوم افراد لکھے گئے ہیں، ملزمان نے توڑ پھوڑ کی، گھروں اور گرجا گھر کو آگ لگائی، مقدمات میں دہشتگردی اور توہین مذہب سمیت 13 سے زائد دفعات شامل ہیں.

    سانحہ جڑانوالہ: مسیحی وکلا نے لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں احتجاج کیا، مسیحی وکلا کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک تھی، مسیحی وکلا نے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کردیا،وکلاء کا کہنا تھا کہ معصوم مسیحی لوگوں کے گھر جلانا گھر غیر قانونی عمل تھا،اس کی مذمت کرتے ہیں.

    جلائے جانے والے چرچ اور گھروں کی بحالی یقینی بنائی جائے،سید ناصر حسین شاہ
    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے سابق صوبائی وزیر، سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ پوری قوم کیلئے باعث افسوس و ندامت اور قابل مذمت ہے، جلائے جانے والے چرچ اور گھروں کی بحالی یقینی بنائی جائے،پنجاب حکومت واقعہ کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کو انجام تک پہنچائے، پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کا ضامن ہے، قیام پاکستان اور دفاع پاکستان میں اقلیتی برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا ،

    پیپلز پارٹی لاہور کی سیکرٹری اطلاعات اور سابق ایم پی اے فایزہ ملک نے فیصل آباد جڑانوالہ سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ھے کہ اس سانحہ کی ایک آزادانہ انکوائری کروای جائے تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آسکیں اور آئندہ کے لیے ایسے نا خوشگوار واقعات کی روک تھام بھی ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی اولین زمہ داری ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث اصل چہروں کو قوم سامنے لائے ایک مشتعل ہجوم کی طرف سے قانون ہاتھ میں لینے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ہم سب کو اس بات کا اچھی طرح سے علم ہے کہ دین اسلام تمام مذاہب اور آسمانی کتب کا مکمل

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • چارسدہ میں مسیحی برادری کی سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کی شدید مذمت

    چارسدہ میں مسیحی برادری کی سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کی شدید مذمت

    چارسدہ میں مسیحی برادری نے سویڈن میں قرآن پاک کی حالیہ بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور ذمہ دار شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ ایک اجتماع کے دوران، کمیونٹی کے ارکان نے مجرم اور سویڈش حکومت کے خلاف نعرے لگائے،اس موقع پر مسیحی برادری کے رہنماپرائم سیم یول نے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم قرآن کی توہین آمیز فعل کی مذمت میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کو دوسروں کی مذہبی حساسیت کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔ ہم سویڈش حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس گھناؤنے فعل کے ذمہ دار فرد کو سزا کا سامنا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے فوری کاروائی کرئے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ اس طرح کی بے حرمتی کی کاروائیاں مذہبی کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں اور مختلف عقائد کے درمیان باہمی احترام اور ہم آہنگی کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
    اس موقع پر چارسدہ ڈی ایس پی عدنان اعظم خان نے تعزیتی ریلی کی فل پروف سیکیورٹی کو یقینی مکمل انتظامات کئے اور امن و امان برقرار رکھنے و شرکاء کے پرامن اظہار خیال کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایس ایچ او تھانہ پڑانگ بسم اللہ جان کی قیادت میں پولیس کی اضافی نفری تعیناتکی ہوئی تھی۔ ان کی موجودگی نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے چارسدہ پولیس کے عزم کو اجاگر کیا۔

  • چیئرمین سینیٹ سے پاکستان امریکن مسیحی برادری کے وفد کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے پاکستان امریکن مسیحی برادری کے وفد کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے پاکستان امریکن مسیحی برادری کے وفد کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر گردیپ سنگھ اورسینیٹر انور لال دین کی سربراہی میں پاکستان امریکن مسیحی برادری کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم ا مور کے علاوہ بین المذاہب ہم آہنگی اور پر امن بقائے باہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    چیئرمین سینیٹ نے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں استقبال کرتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی پہلے کی نسبت اب مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کا متقاضی ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے جو دوسرے مذاہب کے احترام کا بھی درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    ڈاکٹر کرس نے چیئرمین سینیٹ کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی
    وفد جس میں کرسچن سوشل اپ لفٹ تنظیم کے صدر برونیئر بی۔ نیوٹن، آل نیبرزانٹرنیشنل کے سربراہ الیاس مسیح، ڈاکٹر کرس گناکن شامل تھے۔ وفد نے چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کیا اور کہا کہ پاکستانی امریکن کرسچن کمیونٹی پاکستان اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے اور بہتر رابطہ کاری میں بھر پور معاونت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ڈاکٹر کرس نے چیئرمین سینیٹ کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ ان کے لئے ایک تاریخ ساز موقع ہو گا جس میں وہ پاکستانی کمیونٹی سے تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان میں ایوان بالاء کے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ، مسلم مذہبی سکالز اور سینیٹرز پر مشتمل ایک فرینڈ شپ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان امریکن کرسچن کمیونٹی کے ساتھ مل کر مذہبی ہم آہنگی، مفاہمت اور رواداری کے فروغ کے لئے کام کیا جا سکے۔ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں ملک کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھیل، سیاست اور سماجی شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے اور اس کا ثقافتی تنوع اس کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے وفد پر زور دیا کہ وہ امریکن سوسائٹی کو پاکستان کے بارے میں آگاہ کریں اور معاشرتی پہلوؤں کو اُجاگر کر یں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے اور ترقی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ایوان بالا ء میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ نے قانون سازی میں ہمیشہ موثر کردار ادا کیا ہے اور اچھی روایات قائم کیں ہیں

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

     اگر دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی تو آواز اٹھائیں گے 

    شمولیت سے پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی ,سعید غنی

  • وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان سمیت دنیا بھرکی مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان سمیت دنیا بھرکی مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تعلیم،صحت اور دفاع پاکستان سمیت مختلف شعبوں میں مسیحی برادری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان سمیت دنیا بھرکی مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی اور کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم مسیحیوں اور مسلمانوں دونوں کے لیے محترم ہیں، یہ جلیل القدر ہستیاں انسانیت کے لیے راہ ہدایت ہیں۔

    یوم قائد پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کا قائداعظم کو خراج عقیدت

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان پاک ہستیوں کے کردارکی پاکیزگی اور عظمت کی گواہی اللہ تعالی نےقرآن میں دی، مسیحی برادری نے قیام پاکستان اور تعمیر پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا قیام پاکستان کےموقع پر مسیحی برادری کے قائدین نے پاکستان کےحق میں ووٹ دیا۔

    انہوں نے کہا کہ مسیحیوں کےقائم کردہ اسکول اور اسپتال آج بھی معاشرےکی خدمت کر رہے ہیں، تعلیم،صحت اور دفاع پاکستان سمیت مختلف شعبوں میں مسیحی برادری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

    شازیہ مری کا کرسمس کے تہوار پر مسیحی برادری اور یوم قائد پر قوم کو مبارکباد

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئین پاکستان میں مسیحیوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، تمام اقلیتوں کے جان ومال کی حفاظت ہماری مذہبی اور آئینی ذمہ داری ہے، اقلیتی خواتین اور بچوں سمیت تمام طبقات کی ترقی و خوشحالی اولین ترجیح ہے۔