Baaghi TV

Tag: مشترکہ اجلاس

  • صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے ،اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے مختلف ممالک کے سفیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے-

    مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی پولیس کمانڈوز تعینات، پارلیمنٹ ہاؤس کو آنے والے راستوں پر چیکنگ انتہائی سخت کی گئی ہے،اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے مختلف ممالک کے سفیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، جوائنٹ سیشن، مختلف ممالک کے سفیروں کی بڑی تعداد ایوان میں مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں،اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا، ایوان میں گو زرداری گو کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

    لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یہ منفرد اعزاز ہے کہ بطور دوبار منتخب صدرمملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے، پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور ذمہ داری کی یاد دہانی ہے قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں، قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، بے، نظیر بھٹو شہید نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

    لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے، تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا، دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا، ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا، 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔

    سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔

    پنجاب: تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے، سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی، انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی، خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔

    سی پیک 2 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا، شی جن پنگ کا شکر گزار ہوں، مسئلہ فلسطین پر پاکستان اصولی موقف رکھتا ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے کے غیر قانونی بھارتی اقدامات آبی دہشتگردی ہیں، منتخب صدر کی حیثیت سے وفاق اور پارلیمنٹ کے اتحاد کی حفاظت کا پابند ہوں، بلوچستان کی محرومیوں پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔

    15 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    انہعوں نے کہا کہ پاکستان کلین انرجی کے شعبے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، سماجی تحفظ کے فریم ورک بی آئی ایس پی کے ذریعے پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانا ہے، سلامتی، معیشت اور آئینی طرز حکمرانی ایک دوسرے سے منسلک ہیں، آئیں آزمائش کے وقت میں اتحاد برقرار رکھیں، ہمیں یقینی بنانا ہے کہ معاشی فوائد عام آدمی کو پہنچیں۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متعدد قوانین کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں دونوں ایوانوں سے رہ جانے والے بل منظور کیے جائیں گے۔مشترکہ اجلاس بلانے کی سمری وزیراعظم نے بھجوائی تھی، وزارت پارلیمانی امور کل اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا جاری کرے گی، اجلاس جمعہ کو صبح دس بجے ہوگا۔واضح رہے کہ آج وزیراعظم کی قومی اسمبلی آمد کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں- اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس پیپلزپارٹی کی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوا، پی پی کے مجبور کرنے پر وزیراعظم اجلاس میں شریک ہوئے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کی آمد کے بغیر اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، خورشید شاہ کی منتیں کرتے رہے کہ اجلاس شروع کرنے دیا جائے خورشید شاہ نے وزیرقانون کوجواب دیا کہ جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے، اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، جس پر اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی وزیراعظم تین بجے تک ایوان میں پہنچ جائیں گے۔پی پی رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم پہنچیں گے تو ہی شریک ہوں گے، بعد ازاں شہباز شریف پارلیمنٹ پہنچے تو اس کے بعد ہی اجلاس شروع ہوا۔

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ زندہ ہوگیا،عملے کی دوڑیں

    ملک میں عالمی برانڈز کی جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کا انکشاف

    اسرائیل کے آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا

    نو مئی مقدمات ،6پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت کی توثیق

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئندہ سیشن تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے بیرون ملک دورے اور اتحاد تنظیمات مدارس کے سربراہی اجلاس اور قومی اسپیکرز کانفرنس کے سبب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ری شیڈول کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس سے متعلق حتمی شیڈول اتحادی جماعتوں کے ساتھ جے یو آئی کے ساتھ مشاورت کے بعد ہوگا۔پارلیمانی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مدارس سے متعلق مشترکہ اجلاس 17 دسمبر 11 بجے طلب کئے جانے پر غور کیا جارہا تھا جسے ری شیڈول کردیا گیا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

    شہریت کی تصدیق،حمیدہ بانو 22 برس بعد بھارت روانہ

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر مملکت کا خطاب، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر مملکت کا خطاب، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے بھر پور احتجاج کیا گیا،پارلیمنٹ کے اجلاس میں صدر آصف زرداری کے خطاب کے دوران اراکین نے عمران خان کی تصاویر لہرا دیں وہیں ’وزیراعظم عمران خان‘‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کا ایوان نعروں سے گونج اٹھا،رکان سینیٹ اور قومی اسمبلی، وزیراعظم شہباز شریف ، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ ہاؤس موجود تھے، اجلاس کے دوران سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی موجود تھے، مختلف ممالک کے سفیر بھی گیلریز میں موجود تھے،

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت آصف زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پارلیمانی سال کے آغاز پر تمام معزز ممبران کو انتخاب پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیر اعظم ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انتخابی کامیابیوں ، ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں،اعتماد کرنے ، دوسری بار صدر منتخب کرنے پر اراکین ِپارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کا تہہِ دل سے مشکور ہوں،آج پارلیمانی سال کے آغاز پر مستقبل کیلئے وژن کو مختصراً بیان کروں گا،ماضی میں بطور صدر میرے اہم فیصلوں نے تاریخ رقم کی ،بطور صدرِمملکت میں نے پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات دینے کا انتخاب کیا،آج ہمارے ملک کو دانشمندی اور پختگی کی ضرورت ہے ، امیدہے اراکین ِپارلیمنٹ اختیارات کا دانشمندی سے استعمال کریں گے ، صدر کا کردار ایک متفقہ اور مضبوط وفاق کے اتحاد کی علامت ہے ، تمام لوگوں اور صوبوں کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہونا چاہیے ،میری رائے میں آج ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت ہے،آج کے دن کو ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھیں ، اپنےلوگوں پر سرمایہ کاری کرنے ، عوامی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جامع ترقی کی راہیں کھولنا ہوں گی، ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے، پولرائزیشن سے ہٹ کر عصرِ حاضر کی سیاست کی طرف بڑھنا ملکی ضرورت ہے، اس ایوان کو پارلیمانی عمل پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، اس ایوان کے ذریعے قوم کی پائیدار اور بلاتعطل ترقی کی بنیاد رکھی جانی چاہیے ،تعمیری اختلاف ، پھلتی پھولتی جمہوریت کے مفید شور کو نفع -نقصان کی سوچ کے ساتھ نہیں الجھانا چاہیے ،سوچنا ہوگا کہ اپنے مقاصد، بیانیے اور ایجنڈے میں کس چیز کو ترجیح دے رہے ہیں ،سمجھتا ہوں کہ سیاسی ماحول کی از سرِ نو ترتیب کی جا سکتی ہے ،ہم حقیقی طور پر کوشش کریں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی لا سکتے ہیں، ہم سب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کیلئے سب سے زیادہ اہم چیز کیاہے، مشکلات کو مواقع میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، مضبوط قومیں مشکلات کو مواقع میں بدلتی ہیں ، قائدِ اعظم، شہیدذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر جمہوریت ، رواداری اور سماجی انصاف کےعلمبردار تھے ، قائدین کے وژن کو اپنا کر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے ، قائدین کے وژن کے مطابق باہمی احترام ، سیاسی مفاہمت کی فضا کو فروغ دیا جا سکتا ہے ،ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا نا ممکن نہیں ،ملکی مسائل کے حل کیلئے بامعنی مذاکرات ، پارلیمانی اتفاق رائے درکارہے ،بنیادی مسائل کے حل کیلئے کڑی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، ملک کو 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ، شہریوں کے سماجی حقوق ، گڈ گورننس کیلئے اصلاحات کو فروغ دینا ہوگا، سیاسی قیادت کو پسماندہ علاقوں کی خاص ضروریات کو ترجیح دینا ہوگی،حکومت نوکریاں پیدا کرنے ، مہنگائی کم کرنے ، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کیلئے معاشی اصلاحات کرے گی،آئینی فریم ورک کے تحت وفاق اور صوبوں کے مابین مثبت تعاون اور مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے ، جامع قومی ترقی ، پالیسیوں پر عمل درآمد کیلئے صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے، عوامی فلاح کیلئے وفاقی نظام کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ، معیشت کی بحالی کیلئے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا،غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، حکومت کاروباری ماحول سازگار بنانے کیلئے جامع اصلاحات کے عمل کو تیز کرے ، مقامی ، غیرملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے پیچیدہ قوانین آسان بنانا ہوں گے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام خوش آئند ہے،برآمدات متنوع بنانے، عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی قدر بڑھانا ہوگی، ہمیں نئی منڈیوں کی تلاش کیلئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی ، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، آبی و سمندری حیات، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں موجود بے پناہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جانا چاہیے، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بالخصوص 2022 کے سیلاب سے تباہی کا سامنا کرنا پڑا ، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کم کرنے کیلئے ماحول دوست اور موسمیاتی طور پر پائیدار انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی،ماحول دوست اور صاف توانائی کو نیشنل انرجی مکس کا بنیادی حصہ بنانے کی ضرورت ہے،ماحول دوست توانائی سے اقتصادی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے توانائی سستی ہوگی ، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کی فراہمی ایک بنیادی حق ہے ،شعبہ تعلیم کی موجودہ صورتحال پر تمام حکومتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد اسکولوں سے باہر ہے،ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش ِنظراسکول نہ جاپانے والے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ،تمام صوبائی حکومتیں تعلیمی شعبے میں تبدیلی لانے کیلئے اصلاحات پر توجہ اور توانائی مرکوز کریں، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کے ساتھ معیار ِ تعلیم بھی یقینی بنانا ہوگا، شعبہ صحت کی از سر ِنو تعمیر ، بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے،پرائمری اور سیکنڈری صحت کے بنیادی ڈھانچے ، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، تمام شہریوں کی صحت کی معیاری خدمات تک رسائی یقینی بنانا ہوگی ،آمدن کے بحران اور غذائی عدم تحفظ کی کئی وجوہات ہیں ،ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت میں جارہا ہے ، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے عوام کی آمدن اور اثاثوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ،ضروریات ِزندگی کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے خاندانوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا، لوگوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے ، عوام کو زراعت، مویشیوں اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار میں سرمایہ کاری کیلئے وسائل تک رسائی دینا ہوگی ،معاشرے کے نچلے طبقات کے تحفظ ، خودمختاری کیلئے کام کرنے والے سیاسی پس منظر سے تعلق ہونے پر فخر ہے ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں ، شہید بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی اور سماجی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کیلئے کام کیا ، مجھے فخر ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک بھر میں لاکھوں خواتین کی امداد کر رہا ہے،بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مدد سے خواتین کو مالی امداد ، سماجی تحفظ اور چھوٹے کاروبار کیلئے سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے ، خوشی ہے کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ چکی ہے ،بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے نیٹ ورک کو مزید پسماندہ خواتین تک پھیلانے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ نئی حکومت سماجی اور معاشی تحفظ کیلئے فعال طور پر کام کرے گی ، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ ، صحت ، ماں اور بچے کی غذائیت ، شرح اموات کم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا،

    پڑوسی ممالک سے دہشت گرد گروہوں کا سختی سے نوٹس لینے کی توقع رکھتےہیں،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر اپنا گھناؤنا سر اٹھا رہا ہے ، دہشت گردی سے ہماری قومی سلامتی ، علاقائی امن و خوشحالی کو خطرہ ہے، پاکستان دہشت گردی کو ایک مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک سے دہشت گرد گروہوں کا سختی سے نوٹس لینے کی توقع رکھتےہیں، دہشت گرد گروہ ہماری سیکورٹی فورسز اور عوام کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں،دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے قوم کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں، میری اہلیہ اور دو بار منتخب وزیر ِاعظم بے نظیر بھٹو شہید نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اتحاد اور تحریک پیدا کرنے میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہوں گا، ہمیں اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فخر ہے ، مسلح افواج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، قومی سرحدوں کے دفاع میں بے پناہ قربانیاں دی ،

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکی اور قطر کا شکریہ،صدر مملکت
    مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے پر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ ہمارےتجارتی پارٹنر رہے ہیں،امید ہے کہ امریکہ ، یورپی یونین اور برطانیہ کےساتھ تعاون میں مزید اضافہ ہوگا ، مختلف شعبوں میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، پاک-چین پائیدار تزویراتی اور سدابہار دوستی خطے میں استحکام کی بنیاد ہے،ہم علاقائی امن ، روابط اور خوشحالی کے فروغ اور استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سمیت مشترکہ اہداف کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ کام کرتےرہیں گے، ہم دشمن عناصر کو اہم منصوبے کو خطرے میں ڈالنے ، دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، چینی بھائیوں اور بہنوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں گے،

    پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے جاری جدوجہد میں کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں ، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے کی بھارتی حکمت ِعملی کا حصہ ہے، پاکستان بھارت کے یک طرفہ اقدامات کو مسترد کرتا ہے بھارت سےمطالبہ کرتے ہیں کہ 5 اگست 2019 اور اس کے بعد لیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات واپس لے ، حق ِخودارادیت کے حصول تک پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کلید ہے ،پاکستان کو بے گناہ فلسطینیوں کے قتل ، اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر نسل کشی پر گہری تشویش ہے، پاکستان قابض اسرائیلی افواج کی کھلے عام بربریت کی شدید مذمت کرتا ہے ،

    خوشحال پاکستان کیلئے تعاون اور اتفاق رائے کے سیاسی اصولوں کاعملی مظاہرہ کریں،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ مجھے سیاسی قیادت، اداروں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے، آپ ہماری قوم کو درپیش متعدد چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹ سکتے ہیں،اپنے عوام کی استقامت پر میرا یقین غیر متزلزل ہے،جب بھی ہم مشترکہ مقصد کیلئے متحد ہوئے ، ہم نے اپنے وعدوں کو پورا کیا، جانتا ہوں کہ ملک کو پیچیدہ سماجی ، ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ہمارے مسائل پیچیدہ ضرور ہیں مگر ان کا حل ممکن ہے یقین ہے کہ اخلاقی اور سیاسی سرمایے کی بدولت ملک کو مسائل سے نکال سکتے ہیں، آئیے ، ایک مزید خوشحال پاکستان کیلئے تعاون اور اتفاق رائے کے سیاسی اصولوں کاعملی مظاہرہ کریں،یقین ہے کہ ایک نئے آغاز کے طور پر ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی منزل جانب گامزن ہو سکتے ہیں،

    جمشید دستی نے آصف زرداری کے سامنے جاکر عمران خان کی تصویر رکھ دی،صدر زرداری کی تقریر کے دوران ڈائس پر عمران خان کی تصویر لٹکانے پر عمر ایوب، جمشید دستی، عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللہ کے درمیان ہاتھا پائی، شدید تلخی ہوئی،

    پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس کی کوریج کرنے والے اسلام آباد کے صحافی محمد اویس کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نےا احتجاج کا ،صدر پاکستان آصف علی زرداری کی تقریر کے دوران اپوزیشن اور پیپلز پارٹی کے اراکین کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوئے رہ گئی ،ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا گیا سٹیاں باجے بجتے رہے اور صدر اپنی تقریر کرتے رہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا اور ساتھ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی بھی بیٹھے رہے، مشترکہ اجلاس میں 4بج کر 16منٹ پر صدر اور سپیکر اور چیئرمین ایوان میں آئے،اپوزیشن نے شدید نعرے بازی شروع کی تو خلاف معمول قومی ترانہ شروع کردیا گیا جس پر سب کھڑے ہوگئے اور اپوزیشن خاموش ہوگئی ۔اپوزیشن پلے کارڈ اور تحریک انصاف کے جھنڈے والے مفلر پہن کرآئے ۔اجلاس میں کچے کا ڈاکو پکے کا ڈاکو کے نعرے لگائے جاتے رہے،مشترکہ اجلاس میں تینوں سروس چیف اور جوائنٹ چیف آف سٹاف نے شرکت نہیں کی ۔پہلی بار مشترکہ اجلاس کی کاروائی باقاعدہ تلاوت قرآن سے شروع نہیں ہوئی ۔بلکہ اپوزیشن کا احتجاج کنٹرول کرنے کے لیے ترانہ شروع کردیا گیا ۔آصف علی زرداری کی تقریر شروع ہوتے ہیں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا،مسٹر پرسنٹ 10 پرسنٹ کے نعرے لگائے گئے، عمران کو رہا کرو رہا کرو کون بچائے گا پاکستان عمران عمران خان ،بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں،گو زرداری گو کے نعرے لگائے ۔جمشید دستی کی طرف سے صدر کے ڈائس کے سامنے عمران خان کا پینافکس رکھنے پر عبدالقادر پٹیل اور پیپلزپارٹی کے ارکان بھی سامنے آگئےسارجنٹس نے فورا جاکر پینا فلیکس ہٹا دیا جبکہ سیٹیاں بھی ایوان میں بجتی رہیں ،

    مسلم لیگ ن کے ارکان شہبازشریف کے گرد جمع ہوگئے ۔جمشید دستی ایوان میں باجا بجاتے رہے. صدر نے 4بج کر 21 منٹ پر خطاب شروع کیا اور45منٹ پر ختم کر دیا کل 24 منٹ میں صدر نے اپنا خطاب مکمل کیا۔تو اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا

    پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس، بلاول ،آصفہ خصوصی توجہ کا مرکز ،صدر کا 23 منٹ کا خطاب
    مشترکہ اجلاس میں بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو توجہ کا مرکز رہے حکومتی ارکان باربار ان کی نشست پر جاکر ان سے ملتے رہے ،بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرادری پہلی نشست پر بیٹھے رہے. 4بج کر 14منٹ پر وزیراعظم شہبازشریف ایوان میں آئے خلاف معمول ڈیسک بجاکر استقبال نہیں کیا گیا۔4بج کر 15 منٹ پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئے ،4بج کر 16منٹ پر صدر اور سپیکر اور چیئرمین ایوان میں آئے ۔4 بج کر 21منٹ پر صدر نے خطاب شروع کیا ،4 بج کر 45 منٹ پر خطاب مکمل ہوا ،صدر نے 23 منٹ ایوان سے خطاب کیا.
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • کسی فرد کی غلطی کو ادارہ پر مسلط نہ کیا جائے. غوث بخش مہر

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں سب سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت کی گئی جبکہ بعدازاں گزشتہ دنوں شہید ہونے والے پاکستان فوج کے نوجوانوں کیلئے دعا کی گئی جس کے بعد اسپیکر اسمبلی نے کچھ ممبران اسمبلی کی طرف سے مانگی گئی رخصت کی درخواستیں مشترکہ اجلاس میں شامل ممبران کو پڑھ کر سنائیں اور پھر انہوں نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان سے بات کرنے کا کہا گیا.

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت جو بحران قوم کو درپیش ہے وہ کبھی نہیں تھا کہ لیکن پی ٹی آئی کا سربراہ عمران خان پچھلے کئی سال سے ملک میں انارکی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کررہا ہے اور انہوں نے ہی ملک میں یہ سب کچھ جو آج پھیلایا ہے اور اس کا یہ خود زمہ دار ہے. وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کو سیاسی،انتظامی،عدالتی بحران درپیش ہے،حالات خراب نہیں لیکن خراب کرنےکی کوشش کی جارہی ہےملک میں عدالتی بحران پیداکیاجارہاہے جبکہ پارلیمنٹ ان3نقاط پربحث کرےاوررہنمائی دے۔حکومت،قوم اوراداروں کو3نقاط پررہنمائی کی ضرورت ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا پارلیمنٹ کسی بھی اختیارکوبڑھا اور کم کرسکتی ہے،پارلیمنٹ کوآئین میں ترمیم کابھی اختیارہے،ان اداروں کی حدودپارلیمنٹ کی مرہون منت ہے،اداروں کی اپنی حدوداوراختیارہیں،پارلیمنٹ سےافضل کوئی ادارہ نہیں جبکہ پاکستان کی افواج دہشتگردی کیخلاف کامیابیاں حاصل کررہی ہے،پاکستان آرمی کےافسران فرنٹ سےلیڈکرتےہیں،کل پاک فوج کےجوانوں نےجام شہادت نوش کیا۔

    راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سابقہ اسٹبلشمنٹ نے پچھلے انتخابات کو ڈھاندلی کرکے انہیں جتوایا تھا لیکن جب یہ شخص حکومت میں آیا تو اس نے حزب اختلاف سے بدلہ لینا شروع کردیا اسی طرح جب یہ خود اپوزیشن میں تھا اس وقت بھی حکومت کے خلاف تھا. اب جب عمران خان آئینی طریقہ سے گھر بھیجا گیا تو پھر وہ اسی انداز میں حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے کیونکہ ان کا مقصد ملک میں صرف اور انارکی پھیلانا ہے. جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل کے 90 دن میں انتخابات کرانے کی آئین میں قدغن ہے، 30 اپریل کی تاریخ 90 روز سے باہر ہے، لہٰذا 30 اپریل کو بھی انتخابات ہوئے تو آئینی شرط پوری نہیں ہوتی۔

    علاوہ ازیں وزیر داخلہ نے زور دیا کہ مسلح جتھوں اوردہشتگردوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام اختیارات دیے جائیں، گزشتہ گیارہ ماہ میں سیاسی اور انتظامی بحران پیدا کیا گیا اور افرا تفری پھیلائی گئی، یہ ایک فتنہ ہے اس کا ادارک نہ کیا تو ملک کو نقصان پہنچائے گا۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے سینیٹرز نے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور وہ شریک نہیں ہوئے ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر سمیت منحرف پی ٹی آئی اراکین کی اکثریت بھی مشترکہ اجلاس میں غیر حاضر ہے۔ تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں کے اراکین نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف احتجاج کیا ہے جبکہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ احتجاج گزشتہ روز مریم نواز کے خلاف ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو سامنے آنے پر یہ احتجاج کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ حکومتی اراکین نے ثاقب نثار مخالف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں جن پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف نعرے درج ہیں۔

    غوث بخش مہر کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے آج یہ اجلاس کیوں بلایا گیا ہے کیونکہ وزرا موجود ہیں لیکن ممبران کو بلا لیا گیا ہے جبکہ جس وزیر ان کا اشارہ وزیر داخلہ طرف تھا کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو تقریر ٹی وی پر کرتے ہیں وہ وہی بات اسمبلی میں کررہے تھے. انہوں نے مزید کہا کسی فرد کی غلطی کو ادارہ کی غلطی نہ سمجھا جائے بلکہ ہمیں اپنے تمام اداروں کی قدر کرنے چاہئے اور مل جل کر چلنا چاہئے.

    غوث مہر کا جسٹس قاضی عیسیٰ بارے کہنا تھا کہ کہ ان کے والد نے اس ملک کے بنتے وقت سب سے پہلے قائد اعظم کے ساتھ پاکستان کا نعرہ لگایا تھا مگر ایسے شخص کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی لہذا ہمیں ایسی چیزوں سے بچنا چاہئے اور ملکی مفاد کو دیکھنا چاہئے ناکہ زاتی یا علاقائی نہیں.

    اس خبر کو مزید اپڈیٹ کیا جارہا ہے.

  • پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہو رہا ہے جس کے ایجنڈے میں ملک میں دہشتگردی کی حالیہ لہر، پاکستان کی معاشی صورتحال، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور ترکیے اور شام میں آنے والا زلزلہ ہے۔

    پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے سربراہان کو فوری عہدوں سے ہٹانے کی ہدایت

    اجلاس میں کشمیری عوام سے اظہاریکجہتی کیلئے قراردادپیش کی گئی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ کشمیر یوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کشمیری 75سال سے بھارتی بربریت کاشکار ہیں-

    اسپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ ترکیہ اور شام میں ہولناک زلزلہ سے ہزاروں افرادجاں بحق ہوئے،ترکیہ نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، دکھ کی اس گھڑی میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ ہیں مشترکہ اجلاس میں ترکیہ اور شام میں زلزلہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی-

    وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس بھی شریک ہیں۔

    سوشل میڈیا پروائرل زلزلے سے متعلق پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں،ڈائریکٹر…

    جبکہ مشترکہ اجلاس میں سینیٹ اور اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ کورم بھی پورانہ ہوسکاپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کورم کی تعداد 111بنتی ہے،قومی اسمبلی کا کورم 86اورسینیٹ کا 25بنتا ہے-

    وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اورشاہدخاقان عباسی مشترکہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آصف زرداری،بلاول بھٹواورخواجہ آصف شریک نہیں ہوئے جبکہ وزیر اعظم شہبازشریف بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک نہیں ہیں-

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین چیئر مین عمران خان کی ہدایت پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے پشاور پولیس لائنز میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

    پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کو گرفتار کرلیا گیا

  • پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری

    پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری

    اسلام آباد: پارلیمنٹ کے آج کے ہونے والے مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔یہ ایجنڈا کس قدر اہم ہے کہ حکومت کی طرف سے اسے منظور کروانے کے لیے تمام ترکوششیں بروئے کارلائی جارہی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس ایجنڈے کوبہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے

    کیا یہ کورٹ پارلیمنٹ سے اختیارات واپس لے لے؟ عدالت کے ریمارکس

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق ایجنڈا کے مطابق پارلیمنٹ کے آج کے دن ہونے والے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے واپس کیے جانے والے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے واپس کیے جانے والے نیب ترمیمی بل کو بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    ایجنڈا کے مطابق سینیٹ سے منظور نہ کیے جانے والا قومی ٹیکنالوجی بورڈ اور پاک یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنسی ٹیکنالوجی بل بھی اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سینیٹ سے منظور نہ ہونے والا والدین کے تحفظ کا بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام 4 بجے ہو گا۔

    یاد رہے کہ یہ اجلاس پہلے حکومت نے 7 جون 2022 کو ہونے والے بلایا تھا۔مگر پھر اس اجلاس کو ملتوی کردیا گیا اورپھرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی تاریخ میں تبدیلی کا مراسلہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تمام ممبران پارلیمنٹ کو بھجوا دیا ۔مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کا اجلاس 7 جون 2022 کو سہ پہر 4 بجے کے بجائے اب آج 9 جون 2022 کو سہ پہر 4 بجے ہارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔

    پارلیمنٹ میں ایک آئینی تبدیلی ہوئی، آپ کو ایسے تو نہیں کہنا چاہیے تھا،عدالت

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی تاریخ میں تبدیلی قومی اسمبلی کے قواعد 1973 کے قاعدہ 4 کے تحت تفویض اختیارات کو بروئےکار لاتے ہوئے کی ہے۔

  • اپوزیشن پیکا آرڈیننس کی منسوخی کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے گی

    اپوزیشن پیکا آرڈیننس کی منسوخی کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے گی

    لاہور:اپوزیشن نے پیکا آرڈیننس کی منسوخی کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی:قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی جوائنٹ میڈیا ایکشن کمیٹی سے ہونے والی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن پیکا آرڈیننس کی منسوخی کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے گی جس کے لئے اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے،وزیراعظم

    پیکا آرڈیننس کی منسوخی کے حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے پارٹی کو ہدایات بھی جاری کردی ہیں یاں شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات میں پی بی اے، ایمینڈ، اے پی این ایس اور سی پی این ای کی قیادت شامل تھی۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے ملاقات کرنے والے وفد کے اراکین کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی کی جدوجہد پر میڈیا ایکشن کمیٹی کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

    دوسری جانب قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمتران خان کا کہنا تھا کہ آزادی صحافت پر پابندی سے متعلق گمراہ کن باتیں ہورہی ہیں، جو ملک کا سربراہ ہے اور اس نے کبھی کرپشن نہیں کی اسے کبھی بھی آزاد صحافت سے خطرہ نہیں ہوتا پیکا قانون 2016 میں بنا، ہم صرف اس میں ترمیم کر رہے ہیں پاکستان کے میڈیا میں 70 فیصد خبریں حکومت کے خلاف ہیں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایسا گند آ رہا ہے ، چائلڈ پورنوگرافی کی بھرمار ہے، ایسا مواد کسی مہذب دنیا کے سوشل میڈیا پر نہیں سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

    بلاول زرداری دباؤ کا شکار ہیں اور اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں،شہباز گل

    وزیر اعظم نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس 54 ہزار کیس رجسٹرڈ ہیں، لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں،خواتین اور بچوں سے متعلق فیک نیوز آرہی ہیں، مجھے بھی نہیں بخشا گیا اور میری اہلیہ کے گھر چھوڑنے سے متعلق غلط باتیں کی گئیں، آزادیٔ صحافت کے نام پر لوگ بلیک میل کررہے ہیں، ماضی میں جب ایک صحافی نے مسلم لیگ ن کے بارے میں لکھا تو اُسے تین روز تک کمرے میں بند کیا گیا، اب ہم ان ساری باتوں کو روکنے کے لیے قانون لارہے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ میں نے صحافی کی جھوٹی خبر کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی مگر تین سال گزر جانے کے باوجود اںصاف نہیں مل سکا، یہاں ایسے صحافی بیٹھے ہیں جوپیسےلے کرگندا چھالتے ہیں، آزاد کشمیرکا وزیراعظم نامزد کرنے پر تین اخباروں نے لکھا جادو ٹونے سے نامزد کیا گیا، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے، اچھے صحافی معاشرے کا اثاثہ ہیں، سچ لکھنے والے صحافی جعلی خبروں کے خلاف ہیں-

    منی لانڈرنگ کیس:ایف آئی اے نے شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی