Baaghi TV

Tag: مشترکہ مفادات کونسل

  • مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس،  کینال منصوبہ مسترد کر دیا

    مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، کینال منصوبہ مسترد کر دیا

    مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا سی آئی سی نے کینال منصوبہ مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل 6 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا، سی سی آئی میں نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کے حوالے سے حکومت سندھ کے ایجنڈا آئٹم پر غور کیا گیا۔ 8 رکنی کونسل کے ارکان میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اسحٰق ڈار، خواجہ آصف اور امیر مقام بھی شامل ہیں جبکہ کونسل کے اجلاس میں 25 افراد خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

    اعلامیے کے مطابق زرعی ترقی اور پانی کے استعمال کے لیے وفاق اور صوبوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کمیٹی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طویل المدتی تجویز کرے گی۔ نئی نہری تعمیرات کی ایکنک کی عبوری منظوری اور ارسا کا سرٹیفکیٹ واپس لے لیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ نہروں کا منصوبہ واپس لینے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا، ایکنک کا کینالز سے متعلق 7 فروری کا فیصلہ واپس لے لیا گیا.

    اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ غذائی اور ماحولیاتی سلامتی کو یقینی بنانے، وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی کے ساتھ کمیٹی تشکیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ کمیٹی کو آبی تنازعات کو باہمی اتفاق اور تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان مناسب غور و فکر کے ذریعے حل کرنے کا مینڈیٹ دے دیا گیا. پلاننگ ڈویژن اور ایرسا قومی یکجہتی کے مفاد میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنائیں اور باہمی اتفاق تک تمام خدشات کو دور کرنے کی ہدایت کی گئی.تمام صوبوں کے واٹر رائٹس واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ-1991 اور واٹر پالیسی-2018 میں درج ہیں، جو تمام سٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے طے ہوئے ہیں.

    ارسا کی جانب سے پنجاب کو جاری سرٹیفیکیٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کینالز کے معاملے پر آئندہ لائحہ عمل کے لیے ٹیکنیکل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا، نہروں کا منصوبہ واپس لینے کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا، اس معاملے پر ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں، 24 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اجلاس میں فیصلہ ہونے تک کوئی نئی نہر نہیں بنے گی، طے کیا ہے کہ سی سی آئی اجلاس 2 مئی بروز جمعہ بلایا جارہا ہے۔تاہم، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2 مئی کے بجائے آج منعقد کیا گیا۔

    تنگوانی: سندھ بلوچستان بارڈر پر بگٹی قبیلے کے دو گروپوں میں خونی تصادم، 3 قتل، 2 زخمی

    اوچ شریف: اسسٹنٹ کمشنر کا سرپرائز وزٹ، غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن

  • پیپلز پارٹی کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس  بلانےاور بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ

    پیپلز پارٹی کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانےاور بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ

    پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    پارٹی کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے کاوشوں کو سراہا گیا، وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اے پی سی کی تجاویز پر عملدرآمد کریں ۔قرارداد میں کرم کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کرم میں امن کی فوری بحالی اور راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔معاہدے کے تحت پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ بھی کیا گیا، سی ای سی قرارداد میں متنازعہ کینالوں کی تعمیر پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔قرارداد میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فی الفور بلانے اور متنازعہ کینالوں کے معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اراکین نے کہاکہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنا سندھ میں آگ لگانے کے مترادف ہے۔ اراکین نے مطالبہ کیاکہ پیپلزپارٹی کی قیادت یہ معاملہ حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اٹھائے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے حکومت کے رویے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سی ای سی اراکین نے مؤقف اختیار کیاکہ پنجاب حکومت تحریری معاہدوں کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اس کے علاوہ قومی معاملات میں پیپلزپارٹی کو مشاورت میں شریک نہ رکھنے پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔پی ڈبلیو ڈی، یوٹیلٹی اسٹور، پاسکو، جینکو اور دیگر اداروں میں مزدور دشمن اقدامات کے علاوہ حکومت کی زرعی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔کسانوں کو کسی بھی قسم کی امداد نہ ملنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ،بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے فنڈز کے فی الفور اجراء کا مطالبہ کیا گیا۔

    ننکانہ : زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا تباہ کن سلسلہ جاری

    بھتہ وصولی پر چھوٹا راجن کا قریبی ساتھی ڈی کے راؤگرفتار

    آئی سی سی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم آف دی ایئر کا اعلان

    آئی سی سی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم آف دی ایئر کا اعلان

  • مراد علی شاہ کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ

    مراد علی شاہ کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 154 (4) کے تحت ہر نوے روز میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا لازمی ہے۔ 9 ماہ ہو چکے ہیں اور مشترکہ مفادات کونسل کا ایک اجلاس بھی نہیں بلایا گیا، انہوں نے نشاندہی کی کہ آئین کی رو سے اب تک تین اجلاس ہو جانے چاہئیں تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کو ہر صورت میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا چاہیے۔ دسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے پروبیشنری آفسرز نے بھی ملاقات کی۔ مراد علی شاہ نے افسران کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطالعاتی دورے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے افسران کے مستقبل کے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا تاہم واضح کیا کہ کیریئر میں پروفیشنلزم اور ایمانداری اہم ہے۔ ہمارے ملک کو باصلاحیت آڈٹ و اکاؤنٹس افسران کی ضرورت ہے اور یقین ہے آپ اس پر پورا اتریں گے۔ ملاقات میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، ریکٹر اکیڈمی سمینا فیاض، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، پیپلز ہاؤسنگ کے سی ای او خالد شیخ اور دیگر حکام شریک تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے افسران کو حکومت سندھ کے کئی اقدامات کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کا سالانہ ترقیاتی پروگرام493.09 ارب روپے کا ہے جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ76.97 ارب روپے ہے۔ 334 ارب روپے کے بیرونی امدادی منصوبے ہیں جبکہ ضلعی ترقیاتی پروگرام کےلیے 55 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اولین ترجیحات ہیں۔ صحت کے میدان میں حکومت سندھ کی توجہ بنیادی صحت اور زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کی سہولیات پر ہے۔ مراد علی شاہ نے اپنی انتظامیہ کی ترجیحات کے اہم شعبوں پر بھی روشنی ڈالی، انہوں نے بتایا کہ سماجی تحفظ ، خواتین کو بااختیار بنانے، غربت کے خاتمے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کےلیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے کے بارے میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی 2025 تک تکمیل متوقع ہے۔ کم آمدن والے گھرانوں کو سولر ہوم سسٹم کی فراہمی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وی پی این کے متعلق اسلامی کونسل کا فتویٰ نہیں آیا،راشد سومرو

    مالی تنگدستی،نارتھ کراچی میں 2 بچوں کے باپ کی خود کشی

    اسپیکر سندھ اسمبلی سے ترکی کے سفیر کی ملاقات

  • 7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    اسلام آباد:7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 7 ویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیر اعظم عمران خان کی صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 49 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں وزرائے اعلٰیٰ، وفاقی وزراء کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، تمام صوبائی چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، چیف کمشنر اسلام اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

    وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے مطالبات کے مطابق کونسل کے اجلاسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی جبکہ کونسل نے مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ مردم شماری سے قبل خانہ شماری کرائی جائے گی، کمیٹی مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کریگی، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جی آئی ایس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس نے مالی سال 2020-21 کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی سالانہ رپورٹ کی منظوری دی، مالی سال 2020-21 کے دوران مجموعی طور پر 6 اجلاس منعقد، 21 ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا، مشترکہ مفادات کونسل سیکرٹریٹ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ کاری میں سہولت فراہم کرے گا۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں کراچی کے لیے پانی کی اضافی ضروریات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور سیاسی اور تکنیکی سطح پر صوبوں کے موقف اور پانی سے متعلق مسائل پر مفاہمت کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کمیٹی کراچی کے لیے پانی کی اضافی ضروریات کے معاملے کو دیکھے گی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت مردم شماری کا قابل اعتبار ڈیٹا رکھنا چاہتی ہے، یہ ڈیٹا شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیوں اور منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

    وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کےقیام پرکونسل کے اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ مستقل سیکرٹریٹ کا قیام وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کے جذبے کوظاہر کرتا ہے،وفاقی حکومت تمام وفاقی اکائیوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قومی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔