Baaghi TV

Tag: مشروب

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن (International Tea Day) ہر سال 21 مئی کو منایا جاتا ہے ، اس دن کو منانے کا مقصد چائے کی عالمی تجارت کو فرو غ دینا، اس کی پیداوار میں پائیداری لانا اور لاکھوں کسانوں کی معاش میں بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

    چائے کا عالمی دن منانے کا مقصد بھوک اور غربت سے لڑنے کیلئے پسماندہ ممالک میں فروغ پاتی ہوئی چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقوامِ عالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے تحت ہر سال مختلف تقاریب کے ذریعے عوام الناس میں شعور اجاگر کیاجاتا ہے۔

    گرمی ہو یا سردی چائے پاکستان سمیت دنیا بھر کا ایک مقبول ترین مشرو ب ہے دن بھر کی تھکان میں چائے کی چسکیاں سارے مسائل حل کردیتی ہیں پاکستان میں تو ویسے بھی چائے پیش کرنا ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، مہمان آئیں یا بزرگوں کی سیاسی بیٹھک ہو، خوشی کا موقع ہو ہو یا دکھ کی گھڑی، چائے پیش کرنا ہماری تہذیبی روایات میں شامل ہو چکا ہےمہمانوں کے چائے بمعہ لوازمات پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    چائے کا استعمال عام طور پر صبح ناشتے میں کیا جاتاہے جبکہ کچھ افراد ایسے دن بھر کی تھکاوٹ سے چھٹکارا اور ذہن کو تروتازہ رکھنے کیلئے کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چائے ایک مقبول ترین مشروب کا درجہ اختیار کر چکی ہے، روزانہ دو ارب لوگ اپنے دن کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں۔

    اس ہر دلعزیز مشروب کا آغاز ہزاروں سال قبل قدیم چین سے ہوا، جہاں اسے آغاز میں ایک جڑی بوٹی اور دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چائے کا پودا، جسے سائنسی زبان میں کیمیلیا سائنینسز کہا جاتا ہے، سرحدیں عبور کرتا ہوا پوری دنیا میں پھیل گیا۔

    اجناس کی تاریخ میں چائے کی تجارتی اور سیاسی اہمیت اتنی زیادہ رہی ہے کہ اس نے سلطنتوں کے عروج و زوال اور مختلف تہذیبوں کے سماجی رنگ ڈھنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ آج سبز چائے کے روایتی اور پرسکون انداز سے لے کر، برصغیر کی کڑک، دودھ اور مصالحہ جات سے بھرپور ”مسالہ چائے“ تک، یہ مشروب دنیا کے ہر کونے میں اپنے الگ ذائقے، خوشبو اور پہچان کے ساتھ راج کر رہا ہے۔

    چینی روایات کے مطابق اس مشروب کی دریافت کا تعلق شین نونگ سے جوڑا جاتا ہے، جو زراعت اور جڑی بوٹیوں کے علم کے بانی مانے جاتے ہیں، تقریباً پانچ ہزار سال قبل شین نونگ ایک دن کھلے آسمان تلے گرم پانی پی رہے تھے اسی دوران قریبی درخت سے چائے کے چند پتے اڑ کر ان کے پیالے میں آ گرے۔ جب انہوں نے وہ پانی پیا تو اس کا ذائقہ، خوشبو اور جسم میں پیدا ہونے والی تازگی انہیں بہت پسند آئی۔ یوں اس روایت کے مطابق چائے کی پہلی پیالی کا تصور سامنے آیا شروع میں چائے کو موجودہ دور کی طرح ایک عام تفریحی مشروب کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ ایک قیمتی دوا سمجھی جاتی تھی۔

    قدیم چینی طبیبوں کا ماننا تھا کہ چائے کے پتوں کو ابال کر پینے سے جسمانی تھکن دور ہوتی ہے، نظر تیز ہوتی ہے اور ہاضمے کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ صدیوں تک چینی لوگ اسے صرف مختلف بیماریوں کے علاج اور ذہنی توانائی اور چستی بڑھانے کے لیے ایک ٹانک کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ بعد میں ہان خاندان کے دور میں یہ شاہی درباروں سے نکل کر عام لوگوں کے روزمرہ کے پینے کا مشروب بنی۔

    چینی تاجروں کے ذریعے چائے کا یہ سفر آگے بڑھا اور یہ یورپ تک پہنچ گئی۔ 17ویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انگریز اس مشروب کے دیوانے ہو چکے تھے لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ تھا چائے کی پوری عالمی تجارت پر چین کی اجارہ داری تھی اور برطانوی سلطنت اس اجارہ داری کو توڑنا چاہتی تھی یہی وہ ضرورت تھی جو چائے کو بڑے پیمانے پر ہندوستان میں لے کر آئی۔

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شروع میں چین سے چائے کے بیج لا کر ہندوستان میں کاشت کرنے کی کوشش کی، لیکن اصل کامیابی اس وقت ملی جب آسام کے جنگلوں میں چائے کے پودے پائے گئے اس دریافت کے بعد آسام، دارجیلنگ اور نیلگیری جیسے علاقوں میں چائے کے وسیع باغات پھیل گئے حیرت کی بات یہ ہے کہ شروع میں یہ تمام چائے صرف باہر کے ملکوں میں برآمد کرنے کے لیے اگائی جاتی تھی اور مقامی لوگ خود چائے پینے کے عادی نہیں تھے، یہ تو 20ویں صدی میں چائے کی تشہیر کے لیے چلائی جانے والی بڑی مہمات کا نتیجہ تھا کہ چائے برصغیر کے ہر گھر کی بنیادی ضرورت بن گئی۔

    جب چائے مقامی لوگوں کے ہاتھ لگی، تو انہوں نے اس کی پوری شخصیت ہی بدل دی۔ جہاں چینی لوگ چائے کو بالکل سادہ پینا پسند کرتے تھے، وہیں یہاں کے لوگوں نے اس میں دودھ، چینی، ادرک، الائچی اور مختلف مصالحہ جات شامل کر دیے۔ اس ملاپ سے ”مسالہ چائے“ نے جنم لیا، جو ذائقے میں زیادہ بھرپور، کڑک اور خوشبودار تھی۔

    چینی چائے ہلکی، دھیمی اور پھولوں یا مٹی کی خوشبو جیسی ہوتی ہے، جسے بہت سکون اور گہرائی سے محسوس کیا جاتا ہے اس کے برعکس برصغیر کی چائے کڑک، تیز اور بھرپور ہوتی ہے، جو انسان کو فوری طور پر بیدار کرنے والی کیفیت رکھتی تھی حتیٰ کہ ان کو پینے کے انداز میں بھی واضح فرق ہے چین میں چائے نوشی کا مطلب خاموشی، تامل اور فکری سوچ ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف چائے کا مطلب گفتگو، رونق اور چائے کے ساتھ کھانے کے مختلف لوازمات ہیں یہاں چائے خاندانی باتوں، دفتری وقفوں، ٹرین کے سفر اور رات دیر تک ہونے والی محفلوں کا بہانہ بنتی ہے۔

  • کافی اور چائے سر اور گردن کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار

    کافی اور چائے سر اور گردن کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار

    ایک نئی تحقیق کے مطابق کافی اور چائے کا استعمال سر اور گردن کے کینسر کے خطرات کو کم کر سکتا ہے، جس میں منہ اور گلے کے کینسر شامل ہیں۔

    سر اور گردن کا کینسر دنیا بھر میں ساتواں سب سے عام کینسر ہے، اور اس کی شرح کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بڑھ رہی ہے۔یہ نتائج 14 مختلف تحقیقات کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوا کہ غیر کافی پینے والوں کے مقابلے میں وہ افراد جو روزانہ چار یا اس سے زیادہ کپ کافی پیتے ہیں، ان میں سر اور گردن کے کینسر کا خطرہ 17 فیصد کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ منہ کے کینسر کا خطرہ 30 فیصد اور گلے کے کینسر کا خطرہ 22 فیصد کم کر دیتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص روزانہ 3 سے 4 کپ کیفینیٹڈ کافی پیتا ہے تو اس سے ہائیپو فیرنجیل کینسر (گلے کے نیچے کا کینسر) کا خطرہ 41 فیصد کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق CANCER نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

    تحقیق کی اہمیت اور نتائج:
    سینئر مصنف یوان چین ایملی لی، جو ہنٹس مین کینسر انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف یوٹاہ اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ "اگرچہ اس سے قبل بھی کافی اور چائے کے استعمال اور کینسر کے خطرے میں کمی کے حوالے سے تحقیق کی جا چکی ہے، مگر اس نئی تحقیق میں یہ دکھایا گیا کہ مختلف قسم کے سر اور گردن کے کینسر کے لیے ان مشروبات کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ ڈی کیفینیٹڈ کافی نے بھی کچھ مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "کافی اور چائے کی عادتیں کافی پیچیدہ ہیں، اور ان نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان مشروبات کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔”

    تحقیقی طریقہ کار:
    تحقیق میں 14 مختلف مطالعات کے ڈیٹا کو یکجا کیا گیا، جس میں 9,548 مریضوں کا ڈیٹا شامل تھا جنہیں سر اور گردن کا کینسر تھا۔ ان مریضوں کا موازنہ 15,783 افراد سے کیا گیا جو کینسر سے متاثر نہیں تھے۔ مطالعہ کے شرکاء نے اپنے کافی (کیفینیٹڈ اور ڈی کیفینیٹڈ)، اور چائے کے استعمال کے بارے میں سوالنامے بھرے۔

    اہم نتائج:
    ڈی کیفینیٹڈ کافی: یہ منہ کے کینسر کے خطرے کو 25 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔
    چائے کا استعمال: یہ ہائیپو فیرنجیل کینسر کے خطرے کو 29 فیصد کم کرتا ہے۔
    چائے کے ایک کپ یا کم استعمال کا اثر: روزانہ ایک کپ یا اس سے کم چائے پینے سے سر اور گردن کے کینسر کا خطرہ 9 فیصد کم ہوتا ہے، اور ہائیپو فیرنجیل کینسر کا خطرہ 27 فیصد کم ہوتا ہے۔
    چائے کے زیادہ استعمال کا اثر: تاہم، اگر روزانہ ایک کپ سے زیادہ چائے پی جائے تو اس کا تعلق لیرن جیئل کینسر (گلے کا کینسر) کے خطرے میں 38 فیصد اضافے سے تھا۔

    اس تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کافی اور چائے دونوں ہی سر اور گردن کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ڈی کیفینیٹڈ کافی بھی کینسر کے بعض اقسام کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، اس بات کی ضرورت ہے کہ ان نتائج پر مزید تحقیق کی جائے تاکہ ان مشروبات کے کینسر کے خطرے پر اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

    شادی شدہ جوڑے کی خود بنائی گئی جسمانی تعلقات کی ویڈیو موبائل چوری ہونے پر وائرل

    یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف