Baaghi TV

Tag: مشن

  • چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    ناسا نے ہفتے کے روز 2 روزہ مشق کے ساتھ چاند کے اپنے نئے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی-

    کمانڈر رِیڈ وائسمین اور ان کے عملے کو پہلے ہی جراثیم سے بچاؤ کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، یہ خلا باز 1972 کے بعد چاند کی طرف روانہ ہونے والے پہلےانسان ہوں گےوہ یوسٹن میں اپنے مرکز سےاس مشق کو مانیٹر کریں گے، اور راکٹ کی پرواز کی منظوری ملنے کے بعد کینیڈی اسپیس سینٹر جائیں گے۔

    322 فٹ (98 میٹر) بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ 2 ہفتے قبل لانچ پیڈ پر پہنچایا گیا تھا، اگر پیر کے روز ایندھن بھرنے کا ٹیسٹ کامیاب ہوا تو ناسا ایک ہفتے کے اندر راکٹ کو لانچ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، ٹیمیں راکٹ کے ٹینک میں 7 لاکھ گیلن سے زائد انتہائی سرد ایندھن ڈالیں گی ،سرد موسم کی وجہ سے ا یندھن بھرنے کی مشق اور لانچ 2 دن کے لیے ملتوی ہوئی ہے، اب 8 فروری کو راکٹ کے پرواز کرنے کا امکان ہے۔

    بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں ،خواجہ آصف

    اورین کیپسول میں سوار امریکی اور کینیڈیائی خلا باز چاند کے گرد پرواز کریں گے اور پھر بغیر وقفے کے واپس آئیں گے اور آخرکار پیسفک میں واپس پہنچیں گے یہ مشن تقریباً 10 دن جاری رہے گا،ناسا نے اپالو پروگرام کے دوران 1968 سے 1972 کے درمیان 24 خلا بازوں کو چاند تک بھیجا تھا، جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔

    ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • افریقا میں ریسکیو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 غیرملکی سیاح سمیت 5 ہلاک

    افریقا میں ریسکیو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 غیرملکی سیاح سمیت 5 ہلاک

    تنزانیہ کا ریسکیو مشن کے لیے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر براعظم افریقا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کلیمنجارو پر حادثے کا شکار ہو گیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر بلند ترین پہاڑی پر پھنسے دو غیرملکی سیاحوں کو نکال کر واپس آرہا تھا اور خود حادثے کا شکار ہوگیااس حادثے میں ہیلی کاپٹر میں موجود تمام 5 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جن میں دونوں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، جن کا تعلق چیک جمہوریہ سے تھا،ہیلی کاپٹر حادثے میں غیر ملکیوں کے ساتھ ہلاک ہونے والے مقامی ڈاکٹر، ٹور گائیڈ اور پائلٹ بھی شامل ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ کلیمنجارو کے مشہور سیاحتی راستے پر بارافو کیمپ اور کیبو سمٹ کے درمیان پیش آیا جہاں بلندی 13 ہزار 100 فٹ سے زائد ہےمقامی پولیس کمانڈر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر کلیمنجارو ایوی ایشن کمپنی کا تھا جو طبی امداد کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

    لیونل میسی اکیسویں صدی کے بہترین ایتھلیٹ قرار

    تاہم اس کمپنی کی جانب سے ہیلی کاپٹر حادثے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیاتاحال ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم تنزانیہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی حفاظتی ضوابط کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ تقریباً 20 ہزار فٹ بلند ماؤنٹ کلیمنجارو پر ہر سال تقریباً 50 ہزار سیاح آتے ہیں کیوں کہ اس کی چڑھائی تکنیکی طور پر زیادہ مشکل نہیں ہےاس سے قبل نومبر 2008 میں بھی اس چوٹی پر ایک حادثے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    ترکیہ میں کرسمس کے موقع پردہشتگردی کی منصوبہ بندی ناکام بنادی گئی

  • چینی مشن نے چاند کی پوشیدہ سمت کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    چینی مشن نے چاند کی پوشیدہ سمت کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    بیجنگ: چین کے چینگز سکس مشن کے ذریعے لائے جانے والے چاند کی زمین کے نمونوں کے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ چاند کی دور افتادہ جانب اربوں سال قبل آتش فشاں تھے جو پھٹتے رہتے تھے آتش فشاں کے دھماکے اِتنے شدید ہوتے تھے کہ زمین پر سے بھی دیکھے جاسکتے تھے۔

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق چینی مون مشن اپنی نوعیت کا پہلا خلائی سفر ہے جس میں چاند کے دور افتادہ یا پچھلے حصے تک پہنچ کر مٹی اور پتھر کے نمونے لائے گئے ہیں محققین کی دو ٹیموں نے چاند کی مٹی اور پتھر کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور دیکھا کہ اُن میں کم و بیش 2 ارب 80 سال پہلے کے آتش فشاں کے ذرات موجود ہیں ایک پتھر کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ 4 ارب 20 کروڑ سال پہلے کا ہے، اس سے اندازہ ہوا کہ چاند کی سطح پر 4 ارب سال سے بھی پہلے سے آتش فشاں متحرک رہے ہیں۔

    ’نیچر‘ اور ’سائنس‘ میں شائع چین کے لائے ہوئے چاند کے نمونوں کی بنیاد پر تحقیق میں یونیورسٹی آف ایریزونا کے کرسٹوفر ہیملٹن کہتے ہیں کہ ہمیں پہلی بار چاند کے اس حصے کے نمونے ملے ہیں جس کا ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں تھا اب ہم چاند کے بارے میں زیادہ جان سکیں گے، نئی تحقیق سے چاند کی نوعیت کو سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور دیگر ممالک کے مُون مشنز کی پوری توجہ چاند کےاُس حصے پر مرکوز رہی ہے جس کا رخ زمین کی طرف ہے، خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے اپنے لیونر ریکینیژاں آربٹر کے ذریعے اس بات کی نشاندہی کردی تھی کہ چاند کے دوسری طرف آتش فشاں رہے ہیں، اب چین نے اس بات کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

  • چین کا خلائی مشن چینگ ای 6 کامیابی سے چاند کے پراسرار تاریک حصے پر لینڈ کر گیا

    چین کا خلائی مشن چینگ ای 6 کامیابی سے چاند کے پراسرار تاریک حصے پر لینڈ کر گیا

    بیجنگ: چین کا خلائی مشن چینگ ای 6 کامیابی سے چاند کے پراسرار تاریک حصے پر لینڈ کر گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق چینگ ای 6 کامیابی سے چاند پر اتر گیا ہے جہاں سے وہ نمونے اکٹھے کرکے زمین پر واپس بھیجے گا اس مشن کے لینڈر نے چاند کے قطب جنوبی کے شمال مشرقی خطے میں واقع Pole-Aitken Basin پر لینڈ کیا۔

    یہ چاند کا وہ خطہ ہے جس کے بارے میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں اسی لئے اسے اسے تاریک یا خفیہ کہا جاتا ہے اور وہاں سے یہ نمونے اکٹھے کرے گا ، 48 گھنٹوں میں لینڈر چاند کی سطح سے چٹانوں اور دیگر نمونوں کو روبوٹیک ہاتھ کے ذریعے اکٹھے کرے گا نمونے اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مشن دیگر تجربات بھی کرے گا،نمونے اکٹھے کرنے کے بعد لینڈر چاند کی سطح سے پرواز کرکے چاند کے مدار پر موجود آربٹر سے جڑ جائے گا، اس کے بعد چینگ ای مشن کا زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع ہوگا اور 5 دن کے بعد کیپسول زمین کے ماحول میں داخل ہوکر شمالی چین پر لینڈ کرے گا۔

    گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کی بے بنیاد افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ،میر …

    واضح رہے کہ 3 مئی کو چینگ ای مشن چاند کی جانب روانہ ہوا تھا اور اس کا مشن مجموعی طور پر 53 دن میں زمین پر واپسی کے بعد ختم ہوگا چینگ ای 6 مشن 2 کلوگرام کے وزن کے نمونے اکٹھے کرے گا اور اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو یہ بہت بڑی پیشرفت ہوگی۔

    چینگ ای 6 کے بعد چین کی جانب سے چینگ ای 7 روبوٹیک مشن کو چاند کے قطب جنوبی میں بھیجا جائے گا یہ مشن وہاں برف کے آثار دریافت کرے گا جبکہ خطے کے ماحول اور موسم کی جانچ پڑتال بھی کرے گا چینگ ای 8 مشن سے چینگ ای مشنز کا اختتام ہوگا جو وہاں ممکنہ طور پر ریسرچ اسٹیشن کے قیام کے لیے بھیجا جائے گاچین 2030 میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کا خواہشمند ہے جبکہ وہاں ایک بیس بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔

    گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کی بے بنیاد افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ،میر …

  • پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ مشن کی چاند پر روانگی،اسپارکو آفس میں نعرہ تکبیر کی گونج

    پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ مشن کی چاند پر روانگی،اسپارکو آفس میں نعرہ تکبیر کی گونج

    پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن چاند کےمدار کی طرف روانہ ہوگیا ہے

    چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن”آئی کیوب قمر”چین کے ہینان اسپیس لانچ سائٹ سے روانہ کیا گیا ہے، اس موقع پر اسپارکو کا آفس نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا،انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے اساتذہ و انتظامیہ کی جانب سے چانگ ای 6 کی کامیابی کے لئے دعائیں کی گئی ہیں

    دو آپٹیکل کیمروں سے لیس آئی کیوب کیو کی مدد سے چاند کی سطح کی تصاویر اور معلومات حاصل کی جائیں گی، سیٹلائٹ مشن چین کے ہینان سپیس لانچ سائٹ سے دن 12 بج کر 50 منٹ پر روانہ ہونا تھا، موسم کی خرابی کے باعث 2 بج کر 18 منٹ پر روانہ کیا گیا، سیٹلائٹ آئی کیوب کیو کی لانچ کو ویب سائٹ سے براہ راست ٹیلی کاسٹ بھی کیا گیا، آئی کیوب قمر کا ڈیزائن اور ڈیویلپمنٹ چین اور سپارکو کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے،

    مشن کی کامیابی کے بعد پاکستان ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے چاند کے مدار میں اپنے سیٹلائٹ بھیجے ہیں آئی کیوب قمر چاند تک سیٹلائٹ بھیجنے کے مشن کی تیاری میں طلباء کا مرکزی کردار ہے۔

    پاکستان چاند کے مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے والا چھٹا ملک بن گیا
    "آئی کیوب قمر”، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی، سپارکو،ایشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن اور شنگھائی جیاو ٹونگ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، پاکستان کا سیٹلائٹ مشن 3 سے 6 ماہ تک چاند کے اطراف چکر لگائے گا، سیٹلائٹ کی مدد سے چاند کی سطح کی مختلف تصاویر لی جائیں گی،مشن سیٹلائٹ چاند کے مدار پر 5 دن میں پہنچے گا،آئی کیوب قمر کے کامیاب سفر کا آغاز 2022 میں ہوا اور تقریباً 2 سال میں مکمل کیا گیا،پاکستان چاند کے مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے والا چھٹا ملک بن گیا،سیٹلائٹ کی تیاری میں مختلف شعبوں کے طلبہ بھی شامل رہے،آئی کیوب سیٹ میں 12 وولٹ کی بیٹری اور 2 سولر پینلز بھی نصب ہیں،آئی کیوب میں کمیونیکیشن کیلئے نظام بھی نصب، ڈیٹا ٹرانسفر ریٹ 1 کلو بائٹ فی سیکنڈ ہوگا،پاکستان کے پاس پہلی بار تحقیق کیلئے اپنے سیٹلائٹ سے لی جانیوالی چاند کی تصاویر ہوں گی،سیٹلائیٹ کی کامیاب آزمائش کے بعد آئی کیوب کیو کو چینگ ای 6 مشن کیساتھ جوڑ دیا گیا،آئی کیوب کیو‘ کی مدد سے تکنیکی ترقی، سائنسی و خلائی تحقیق کے منصوبوں میں آگے بڑھا جاسکے گا

    سیٹلائٹ مشن کی کامیاب لانچنگ پاکستان کے خلائی پروگرام کیلئے سنگ ِمیل ثابت ہوگی ،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے چاند پر پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ مشن کی کامیاب لانچنگ پر مبارکباد دی ہے،صدر مملکت نے انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی ، سپارکو اور چین کی قومی اسپیس انتظامیہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ سیٹلائٹ مشن کی کامیاب لانچنگ پاکستان کے خلائی پروگرام کیلئے سنگ ِمیل ثابت ہوگی ، پوری پاکستانی قوم کو اس اہم خلائی کامیابی پر فخر ہے ، صدر مملکت نے خلابازی کے شعبے میں پاکستان اور چین کے مابین تعاون کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کو خلا بازی کے شعبے میں ترقی کی مزید منازل طے کرنا ہیں،اُمید ہے کہ پاکستان کے خلائی تحقیقی ادارے ، سائنسدان مزید محنت، لگن اور منصوبہ بندی کے ساتھ ملک کا نام روشن کریں گے ،

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ بھجوانے پر قوم اور سائنسدانوں کو مبارکباد

    وزیرِ اعظم نے سیٹلائیٹ کی لانچنگ کو پاکستان ٹیلی ویژن پر براہِ راست دیکھا. وزیراعظم نے لانچنگ کے مناظر براہ راست ٹیلی ویژن پر دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ بھجوانے پر قوم اور سائنسدانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ "آئی کیوب قمر” سیٹلائٹ خلاء میں پاکستان کا پہلا قدم ہے،جوہری میدان کی طرح اس میدان میں بھی ہمارے سائنسدان، انجینئرز اور ہنرمند اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کی کور کمیٹی، اس کے رکن ڈاکٹر خرم خورشید، سپارکو سمیت تمام ٹیم خاص طور پر پراجیکٹ میں حصہ لینے والے طالب علموں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، 8 ممالک میں سے صرف پاکستان کے منصوبے کو قبول کیا جانا ہمارے سائنسدانوں اور ماہرین کی قابلیت کا اعتراف ہے، یہ تکنیکی ترقی کے سفر کا بہت تاریخی لمحہ ہے، اس اہم کامیابی سے پاکستان خلا کے با مقصد استعمال کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے، یہ کامیابی سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیتوں کو بڑھائے گی، سائنسی تحقیق، اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی، پاکستان کے بیٹوں نے ثابت کیا کہ وہ خلاﺅں کو بھی تسخیر کرنے کی صلاحیت، جذبہ اور مہارت رکھتے ہیں،اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو 28 مئی 1998 کی طرح خلاﺅں اور معاشی اوج کمال کو بھی پہنچیں گے،پوری کوشش اور توجہ ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو جدید علوم وفنون، سائنس وٹیکنالوجی میں آگے لے کر جائیں تاکہ پاکستان ایجادات کی دنیا میں بھی سب سے آگے ہو،

    چھ ممالک چاند پر اترے ایک بھی اسلامی نہیں،قرآن نے مسلمانوں کو تسخیر کائنات کی تلقین کی،احسن اقبال
    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسلام آباد میں چیئرمین سپارکو سے ملاقات کی اس موقع پر احسن اقبا ل کا کہنا تھا کہ 6 ممالک چاند پر اترے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اسلامی ملک نہیں،قرآن نے مسلمانوں کو تسخیر کائنات کی تلقین کی،خلائی تحقیق مسلم سائنسدانوں کی مہارت ہوا کرتی تھی,60 کی دہائی میں پاکستان جنوبی ایشیا میں خلائی ترقی میں سرفہرست تھا، نارووال لرننگ سنٹر میں بچوں کے لیے سائنس کی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے، ایک ہال کو سپیس میوزیم بنایا جائےگا

    چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن آئی کیوب قمرایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے،امیر جماعت اسلامی
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن آئی کیوب قمرایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے،سپارکو اور آئی ایس ٹی کے طلباء و اساتذہ مبارک باد کے مستحق ہیں، پاکستانیوں کو اگر مواقع ملیں تو وہ یہ طاہر کردیں کہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں پاکستانی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ معاشی بد حالی سے نکلنے کا واحد طریقہ آئی ٹی پر توجہ دینا ہے، جس کے لیے سازگار ماحول اور مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے،

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    پاکستان کے چاند پر بھیجے گئے کامیاب خلائی مشن پر قوم کی دلی مبارکباد،خالد مقبول صدیقی
    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پاکستان کے چاند پر بھیجے گئے کامیاب خلائی مشن پر قوم کی دلی مبارکباد پیش کی۔اپنے ایک پیغام میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج کے تاریخی دن پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے آنے والے وقت میں پاکستان عالمی برادری کے ساتھ خلائی تحقیق میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

    تاریخی خلائی مشن آئی کیوب قمر پاکستانی سائنسدانوں کی محنت کا عملی ثبوت ہے،چیئرمین سینیٹ
    چیئر مین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ مشن آئی کیوب قمر کی کامیاب لانچنگ پر قوم اور سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان نے خلائی تحقیق نے اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے جس پر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (سپارکو) تعریف کی مستحق ہے۔ چیئر مین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تاریخی خلائی مشن آئی کیوب قمر پاکستانی سائنسدانوں کی محنت کا عملی ثبوت ہے اور اس تاریخی دن پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ خلا بازی کے شعبے میں پاکستان اور چین کے مابین اس تاریخی تعاون کو سراہتے ہیں۔ سیٹلائٹ مشن کی یہ کامیابی پاکستان کے خلائی مشن کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ پاکستان چاند کے مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے والا چھٹا ملک بن گیا ہے۔ چیئر مین سینیٹ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان خلا بازی کے شعبے میں ترقی کے مزید منازل طے کرے گا۔ خلائی میدان میں ہمارے سائنسدان انجینئر اور ہنر مندوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چیئر مین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سپارکو سمیت تمام متعلقہ ٹیموں اور طلبا کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا۔ڈپٹی چیئر مین سینیٹ سیدال خان نے بھی پاکستانی سائنسدانوں،انجینئرز اور دیگر متعلقہ ٹیموں کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی کیوب قمر سیٹلائٹ خلاء میں پاکستان کا پہلا قدم ہے میں پاکستان کی پہلی سیٹلائٹ خلاء میں بھیجوانے پر قوم اور سائنسدانوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں،ہمارے سائنسدان خلا بازی کے شعبے میں مزید منازل طے کریں گے۔ پوری قوم کو اپنے سائنسدانوں پر فخر ہے۔ خلائی میدان میں ہمارے سائنسدانوں کی کامیابیاں قابل فخر ہیں۔ ڈپٹی چیئر مین سینیٹ سیدال خان نے کہا کہ اگر اچھے مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستانی سائنسدان کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں اور آئی کیوب قمر کی کامیابی پاکستان کی خلائی تحقیق کی صلاحیتوں کو آگے بڑھائے گی۔ پاکستانی سائنسدان جدید ٹیکنالوجی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائنسدان اور انجینئرز مزید محنت لگن اور موثر منصوبہ بندی کے ساتھ ملک کا نام روشن کریں گے

  • چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج دئیے

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج دئیے

    50 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ایسا امریکی خلائی مشن روانہ کیا گیا ہے جو چاند پر اترے گا یہ مشن امریکا کے سرکاری خلائی ادارے ناسا کی بجائے نجی کمپنیوں نے روانہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: 50 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ایسا امریکی خلائی مشن روانہ کیا گیا ہے جو چاند پر اترے گا یہ مشن امریکا کے سرکاری خلائی ادارے ناسا کی بجائے نجی کمپنیوں نے روانہ کیا ہے یونائیٹڈ لانچ الائنس نامی کمپنی کے راکٹ والکن کے ذریعے ایک اور کمپنی آسٹرو بائیوٹک ٹیکنالوجی کے لینڈر کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا۔

    اس راکٹ نے اسپیس کرافٹ کو چاند کی جانب روانہ کیا جو 23 فروری کو وہاں لینڈ کرنے کی کوشش کرے گا آسٹرو بائیوٹک چاند پر کامیابی سے مشن لینڈ کرانے والی پہلی نجی کمپنی بننے کی خواہشمند ہے، اب تک صرف 4 ممالک ایسا کرسکے ہیں جن میں امریکا، روس، چین اور بھارت شامل ہیں۔

    یہ 1972 کے بعد امریکا کا پہلا مشن ہے جو چاند پر اترنے کی کوشش کرے گا ناسا کی جانب سے ان دونوں کمپنیوں کو کروڑوں ڈالرز فراہم کیے گئے تھے اور اس کا مقصد چاند پر امریکی موجودگی کا احساس دلانا ہے، کیونکہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے 2023 میں کافی کام کیا گیا ہے،امریکی خلائی ادارے کو توقع ہے کہ اس مشن سے ناسا کی چاند کی کھوج کی کوششوں کو نئی زندگی ملے گی۔

    واضح رہے کہ ناسا کی جانب سے 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کے ذریعے انسانوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا والکن راکٹ کی یہ ابتدائی آزمائشی پرواز بھی ہے جو کافی عرصے سے تاخیر کا شکار تھی فروری میں اسپیس ایکس کی جانب سے ایک نجی کمپنی کے لینڈر کو ایک ہفتے کے اندر چاند پر لینڈ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

    دوسری جانب ”ناسا“ نے دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ایوریسٹ کے ٹکڑے چاند کی سطح پر رکھنے کے لیے روانہ کردئیے ہیں خلائی جہاز پر 20 پے لوڈز ہیں جن میں ناسا کے پانچ آلات بھی شامل ہیں، پے لوڈز میں مائونٹ ایوریسٹ کے ٹکڑے بھی شامل ہیں، ان تمام پے لوڈز کا مجموعی وزن 90 کلوگر ام ہے۔

    ناسا کے جدید ترین آلات مستقبل کے مون مشنز کے لیے لوکیشنز کا تعین کریں گے اس خلائی جہاز پر معروف ٹی وی سیریل اسٹار ٹریک کے خالق جین روڈنبری کی باقیات اور ڈی این اے سیمپل بھی شامل ہیں، باقیات اور ڈی این اے سیمپل جہاز پر اپ لوڈ کرنے پر متعدد تنظیموں نے شدید اعتراضات کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چاند کی سرزمین کا احترام کیا جانا چاہیے، وہاں ایسا کچھ بھی نہیں بھیجا جانا چاہے جس سے ماحول خراب ہو اور اخلاقی جواز کا سوال اٹھے۔

  • بھارتی مشن چندریان 3 آج  چاند پر اترے گا

    بھارتی مشن چندریان 3 آج چاند پر اترے گا

    نئی دہلی: چاند پر پہنچنے کا بھارتی مشن چندریان 3 آج شام 6:00 بجے کے قریب چاند پر اترے گا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سب کی نظریں اس لینڈنگ پر ہیں جو اگر کامیاب ہو جاتی ہے تو امریکا، روس اور چین کے بعد بھارت چاند پر اترنے والا چوتھا ملک بن جائے گا چندریان تھری مشن ممکنہ طور پر چاند کے جنوبی حصے پر اُترے گا،پھر ریمپ کھلے گا چاند کی سطح کی تصویر لیں گے یہ تصاویر زمین پر بھیجی جائیں گی۔

    اسرو کے چیئرمین ایس سومناتھ نے 9 اگست کو مشن کی لینڈنگ کے بارے میں کہا تھا کہ اگر سب کچھ ناکام ہو جاتا ہے، اگر تمام سینسر فیل ہو جاتے ہیں، کچھ بھی کام نہیں کرتا ہے، پھر بھی یہ (لینڈ کرے گا، بشرطیکہ الگورتھم ٹھیک سے کام کریں ہم نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ اگر اس بار اس کے دو انجن فیل ہو جائیں تب بھی یہ لینڈنگ کے قابل ہو گا بھارتی پی ایم مودی عملی طور پر لائیو پروگرام میں شامل ہوں گے-

    روس کا لیونا 25 مشن آخری لمحات میں چاند کی سطح سے ٹکرا کر …

    رپورٹ کے مطابق چندریان 3 کے لینڈر کی سافٹ لینڈنگ میں 15 سے 17 منٹ لگیں گے اس دورانیے کو ‘دہشت کے 15 منٹ’ کہا جا رہا ہے اگر چندریان 3 مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو بھارت چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے والا پہلا ملک بن جائے گا چاند پر اترنے سے دو گھنٹے پہلے، لینڈر ماڈیول کی پوزیشن اور چاند پر موجود حالات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرے گا کہ اس وقت لینڈ کرنا مناسب ہوگا یا نہیں اگر کوئی عنصر نشان زد نہیں ہوا تو 27 اگست کو لینڈنگ کی جائے گی-

    بھارتی میڈیا کے مطابق چندریان کا دوسرا اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن اتوار کی رات 1.50 بجے مکمل ہوا۔ اس کے بعد چاند سے لینڈر کا کم از کم فاصلہ 25 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ 134 کلومیٹر ہے ڈی بوسٹنگ میں، خلائی جہاز کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

    یونان کے جنگلات میں لگی آگ پر چار روز بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

    بھارتی کی جانب سے مشن صرف قطب جنوبی پر کیوں بھیجا گیا؟

    چاند کے قطبی علاقے دوسرے خطوں سے کافی مختلف ہیں۔ یہاں بہت سے حصے ہیں جہاں سورج کی روشنی کب نہیں پہنچتی اور درجہ حرارت -200 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ برف کی صورت میں اب بھی پانی موجود ہو سکتا ہے -بھارت کے 2008 کے چندریان ونمشن نے چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کا اشارہ دیا تھا چاند پر اترنے کے لیے پچھلے تمام خلائی جہازخط استوا میں اترے ہیں، چند ڈگری عرض البلد کے شمال یا جنوب میں قمری خط استوا کےاس مشن کی لینڈنگ سائٹ وہی ہے جو چندریان 2 کی ہے 70 ڈگری عرض بلد پر چاند کے جنوبی قطب کے قریب لیکن اس بار رقبہ بڑھا دیا گیا ہے-

    واضح رہے کہ چندریان تھری مشن 14 جولائی کو ریاست آندھرا پردیش سے روانہ ہوا تھا اور یہ 40 دن کے طویل سفر کے بعد اترنے کی کوشش کررہا ہے۔

    زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک انتقال کر گئے

  • یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    برسلز: یورپی خلائی یونین نے اپنا جدید ترین مشن خلا میں روانہ کردیا ہے جو آٹھ سال بعد نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر تحقیق کرے گا۔

    باغی ٹی وی :مشن کو جوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر(جوس) کا نام دیا گیا ہےجو ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز ہےاسے فرنچ گیانا کے خلائی مرکز سے بھیجا گیا ہے اور زمین چھوڑنے کے 27 اور 36 منٹ بعد اس نےاپنےتمام آلات کی درستگی اورکام کےکئی سگنل زمین پربھیجے ہیں۔

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    اگست 2024 میں یہ بالترتیب زمین، چاند اور سیارہ وینس کے قریب سے گزر کرگریویٹی فلائے بائے لے گا اور اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے 2031 میں مشتری کے قریب پہنچے گا اس کے بعد وہ مشتری کے مزید چاندوں کیلسٹو، یوروپا، جینی میڈ وغیرہ سے بھی فلائے بائے کرے گا۔ آخرکار وہ جینی میڈ کے مدار میں پہنچ کر گھومنے لگے گا ہمارے اپنے علاوہ کسی خلائی جہاز نے کبھی چاند کے گرد چکر نہیں لگایا۔

    جدید ترین جوس خلائی جہاز مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا جس کے لیے دس اہم ترین آلات نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں اسپیکٹرومیٹر، جدید کیمرے، لیزر سینسر اور مقنا پیما وغیرہ مل کر اس عظیم دنیا کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے تمام مشن کی طرح یہ بھی مشتری کے چاندوں پر پانی کی تلاش کرے گا –

    یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ تصویر میں مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر، جوس، خلائی جہاز کو گیس دیو کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    بہت سارے چاندوں کے ساتھ،ماہرین فلکیات مشتری کو اپنا ایک چھوٹا نظام شمسی سمجھتے ہیں، جس میں جوس جیسے مشن طویل عرصے سے زیر التواء ہیں یورپی خلائی ایجنسی کے پروجیکٹ سائنسدان، اولیور وِٹاس نے زور دیا کہ ہم جوس کے ساتھ زندگی کا پتہ لگانے والے نہیں ہیں لیکن چاندوں اور ان کے ممکنہ سمندروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے سائنس دانوں کو اس سوال کا جواب دینے کے قریب لے آئے گا کہ کہیں اور زندگی موجود ہے۔ "یہ واقعی مشن کا سب سے دلچسپ پہلو ہو گا-

    جوس مشتری تک ایک لمبا، چکر کاٹ رہا ہے، جو 6.6 بلین کلومیٹر (4 بلین میل) پر محیط ہے یہ کیلیسٹو کے 200 کلومیٹر (125 میل) اور یوروپا اور جینی میڈ کے 400 کلومیٹر (250 میل) کے اندر اندر جھپٹے گا، مشتری کے گرد چکر لگاتے ہوئے 35 فلائی بائی مکمل کرے گا۔ اس کے بعد یہ 1.6 بلین یورو مشن (تقریباً $1.8 بلین) کا بنیادی ہدف جینی میڈ کے مدار میں بریک لگائے گا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    جینی میڈ نہ صرف نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے بلکہ اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جس میں قطبین پر چمکتی ہوئی اورورا ہیں اس سے بھی زیادہ دلکش، یہ سوچا جاتا ہے کہ ایک زیر زمین سمندر ہے جس میں زمین سے زیادہ پانی ہے۔ کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سکاٹ شیپارڈ کے مطابق، جو جوس مشن میں شامل نہیں ہے، یوروپا اور اس کے رپورٹ کردہ گیزروں کے لیے ڈٹٹو، اور بھاری بھرکم کریسٹو، جو مشتری کی کمزور تابکاری بیلٹ سے دوری کے پیش نظر انسانوں کے لیے ایک ممکنہ منزل ہے۔

    "ہمارے نظام شمسی میں سمندری دنیاؤں میں ممکنہ زندگی کا سب سے زیادہ امکان ہے، لہذا مشتری کے یہ بڑے چاند تلاش کرنے کے لیے اہم امیدوار ہیں،” شیپارڈ نے کہا، جس نے بیرونی نظام شمسی میں 100 سے زیادہ دریافتیں کرنے میں مدد کی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    جوس مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر کے لیے مختصر تین سال کالسٹو، یوروپا اور جینی میڈ کےمدار میں گزارے گا۔ خلائی جہاز 2034 کے آخر میں گنیمیڈ کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، تقریباً ایک سال تک چاند کے گرد چکر لگائے گا، اس سے پہلے کہ فلائٹ کنٹرولرز اسے 2035 میں گر کر تباہ کر دیں، بعد میں اگر کافی ایندھن باقی رہ جائے۔

    یوروپا خاص طور پر سائنسدانوں کے لیے پرکشش ہے جو زمین سے باہر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ جوس کے حساس الیکٹرانکس کو تابکاری سے بچانے کے لیے سیسے میں بند کیا گیا ہے۔ 6,350 کلوگرام (14,000 پاؤنڈ) خلائی جہاز بھی تھرمل کمبل سے لپٹا ہوا ہے – مشتری کے قریب درجہ حرارت منفی 230 ڈگری سیلسیس (مائنس 380 ڈگری فارن ہائیٹ) کے ارد گرد منڈلاتا ہے۔ اور اس کے سولر پینلز 27 میٹر (88 فٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں سورج سے اتنا ہی دور ہو-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    یو اے ای کا چاند کی سطح پر اترنے والا روور راشد اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے امریکی ریاست فلوریڈا کے لانچ سینٹر سے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ 11 دسمبر کو فلوریڈا کے کیپ کیناورل اسپیس فورس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا، جو عربوں کے بنائے ہوئے پہلے قمری خلائی جہاز کو خلا میں لے گیا۔

    راشد روور کو دبئی کے محمد بن راشد اسپیس سینٹر (MBRSC) نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں بنایا تھا، اور اسے HAKUTO-R لینڈر کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، جسے جاپانی قمری تلاش کرنے والی کمپنی ispace نے انجنیئر کیا ہے۔ اگر لینڈنگ کامیاب ہو جاتی ہے، تو HAKUTO-R چاند پر کنٹرول لینڈنگ کرنے والا پہلا تجارتی خلائی جہاز بھی بن جائے گا۔

    یہ مشن چاند تک کم توانائی کا راستہ اختیار کر رہا ہے اور اپریل 2023 کے آس پاس پہنچنا ہے وہاں پہنچنے کے بعد، روور اپنے اہم کاموں کو انجام دیتے ہوئےسطح پر ایک قمری دن (زمین پر 14.75 دنوں کے برابر) گزارے گایہ دوسرا قمری دن ثانوی آپریشنز کرنے میں گزارے گا، یہ جانچنے کے لیے کہ آیا روور چاند کے رات کے سخت ماحول سے بچ سکے گا، اس سے پہلے کہ وہ ختم ہو جائے۔

    اس راکٹ میں روور کے ساتھ ساتھ ایک جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا لینڈر بھی موجود ہے جو چاند کی سطح سے گرد کو اکٹھا کرکے امریکی خلائی ادارے ناسا کو فروخت کرے گا اس طرح یہ پہلی بار ہوگا جب چاند کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    لانچ کے 35 منٹ بعد آئی اسپیس لینڈر راکٹ سے الگ ہوگیا جس کے اوپر یو اے ای کا روور بھی موجود تھا لینڈر کے الگ ہونے کے بعد اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ کامیابی سے واپس زمین پر لینڈ کرگیا۔

    یو اے ای اس سے قبل مریخ پر مشن کو کامیابی سے بھیج چکا ہے مگر پہلی بار وہ چاند کی سطح پر روور کو اتارنا چاہتا ہے اس روور کا وزن 10 کلوگرام ہے اور اگر یہ کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر جاتا ہے تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی مسلم ملک کا مشن وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگا۔

    اس روور میں 2 ہائی ریزولوشن کیمرے، مائیکرو اسکوپک کیمرے، تھرمل امیج کیمرے اور دیگر ڈیوائسز نصب ہیں اور اس کی مدد سے چاند کی سطح پر تحقیق کی جائے گی ویسے تو لانچ کامیاب رہا ہے مگر چاند پر اترنا بھی آسان نہیں کیونکہ ایسے ایک تہائی سے زیادہ مشنز ناکام رہتے ہیں۔

    اب تک صرف امریکا، چین اور روس کے مشن ہی چاند پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مگر جاپان اور یو اے ای کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہونے والا ہے۔

    حالیہ برسوں میں بھارت اور اسرائیل کے چاند پر بھیجے جانے والے مشنز کو ناکامی کا سامنا ہوا تھا یہ لینڈر اور روور 5 ماہ میں چاند کی سطح پر پہنچیں گے چاند پر کوئی آب و ہوا نہیں تو لینڈرز کو اترنے کے لیے پیچیدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔


    یو اے ای کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ راشد روور یو اے ای کے خلائی پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز مریخ پر پہنچنے سے ہوا۔

  • ناسا کے خلائی راکٹ کی روانگی دوسری بار بھی ملتوی

    ناسا کے خلائی راکٹ کی روانگی دوسری بار بھی ملتوی

    فلوریڈا:ناسا کے 30 منزلہ جدید مون راکٹ کی خلائی مشن پر روانگی دوسری بار ملتوی کردی گئی، راکٹ کو خلا میں بھیجے کی پہلی کوشش 30 اگست کو ناکام ہوئی تھی۔

     

    غیرملکی میڈیا کے مطابق راکٹ سے کنٹرولرز ہائیڈروجن لیکج کو روکنے میں ناکام رہے، اب ناسا پیر یا منگل کو اس راکٹ کو دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کرے گا۔

     

     

    اس سے قبل پیر کو ناسا نے انسان کو چاند پر بھجوانے کی تیاری کی لیکن آخری مراحل میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے موخر کرنا پڑا تھا۔

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔

     

     

    اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش 30 اگست کو کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

     

    اس سے قبل پہلی روانگی ملتوی ہونے پر ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے بتایا تھا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

    بل نیلسن نے بتایا تھا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا، ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

    پہلی کوشش میں خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔

    اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔